اتوار 29 دسمبر 2013 کو ماربل آرچ لندن میں ایک قدیمی جلوس اربعین جو عرصہ پیتنس سال سے لندن کی سڑکوں پر 20 صفر کے بعد جو اتوار ہوتا ہے اس میں گشت کرتا ہے
پہلے یہ جلوس ماربل آرچ سے برآمد ہو کر امام بارگاہ ہالینڈ پارک پر اختتام پزیر ہوتا تھا مگر اب اس کا حلقہ ماربل آرچ سے پارک لین پر ہوکر ہائیڈ پارک کارنر پر اختتام ہوتا ہے
اس جلوس کو 1980 میں شروع کیا گیا تھا اس کے بانیان سید عاشور کاظمی مصطفی گوگل ادارہ جعفریہ اور حسینی مشن کے کچھ سینیر ارکان کے علاوہ محترم اظہار خان صاحب ہیں جو اس جلوس کے آج کل بانی اور سرگرم رکن ہیں اور اس جلوس کی کامیابی اور انتھنک محنت کے بعد اس جلوس کو تمام سال محنت کر کے کامیاب کیا جاتا ہے اور جو شخص بھی آل رسول اور شہدائے کربلا سے محبت کرتا ہے اس میں بلا تمیز شرکت کرتا ہے اور اپنے محب ہونے کا ثبوت اور بی بی فاطمہ کے چاند کا چہلم مناتا ہے
امسال یہ جلوس حسب سابق بعد نماز ظہرین ماربل آرچ سے ہی برامد ہوا اور اپنے مقررہ راستے سے ہوتا ہوا ہائیڈ پارک کارنر پر جا کر بعد زیارت اربعین اپنے اختتام کو پہنچا
جلوس کے دوران چند افراد جو کہ گنتی کے آٹھ دس افراد تھے اپنے کو حزب اللہ کی کارکن ظاہر کر رہے تھے اور ان چند افراد نے حزب اللہ کی جھنٹد ے بھی اُٹھائے ہوئے تھے اور لبیک حزب اللہ کے نعرہ سے تمام کے تمام جلوس کو بے ہنگم بنانے کی کوشیں کر رہے تھے

ان افراد نے جلوس میں شرکت نہیں کی بلکہ جلوس کے راستے میں الگ کھڑے ہو کر تمام شرکا جلوس کی توجہ اپنی جانب کروانا چاہی۔۔ شاید یہ افراد اپنے آپ کو خاص طور پر نمایاں کرنا چاہ رہے تھے اور جو بات شرکا جلوس اور انتظامیہ نے محسوس کی کہ شاید اس قسم کی نعرہ بازی سے اگلے برس کے لئے رکاوٹ ثابت ہواور جلوس کے اجازت نامے حاصل کرنے میں برطانیہ کی انتظامیہ سے دشورای پیش آسکتی ہے کیوں کہ برطانیہ میں یا عالمی طور پر مسلمان تو پہلے ہی تخریب کار کے طور پر جانے جاتے ہیں اور پھر حزب اللہ کے یہ منچلے جو جھنڈے پر اسحلہ کا نشان اٹھائے ہوئے تھے اس پر اسلحہ کی تصویر کیا ثابت کرتی ہے افسو س کی بات ہے کہ یہ منچلے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ان کا استاد آج کل ملک سے باہر ہے پھر نہ جانے کس کے ایما پر انہوں نے یہ حرکت کی ہے۔ اور جلوس میں بد نظمی کرنے کی کوشیش کی ہے یاد رہے کہ یہ وہی افراد ہیں جہنوں نے ادارہ جعفریہ لندن کو دوران محرم الحرام بند ہونے کے بعد کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا بلکہ جس افراد نے ادارہ کو بند کر رکھا تھا ان کے ساتھ مل کر ٹیلی ویژن پر پروگرام کر کے قوم کو غلط اور گمراہی کی طرف لے جانے کی کوشسش میں مصروف رہے۔۔۔۔۔۔۔۔
قوم کو اس قسم کے افراد سے محتاط رہنا ہو گا اور جلوس کی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ ان کو تحریری طور پر ان افراد سےجواب طلبی کرے کے دوران جلوس انہوں نے اس قسم کی حرکت کیوں کی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ مجھے ان افرا د کے نام لکھنے کو کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی مگر تمام جلوس کے شرکا نے ان کو دیکھا ہے اور شرکا جلوس نے دعوت دی کہ وہ جلوس کے ساتھ شامل ہو کر یک جہتی کا مظاہرہ کریں ۔۔۔۔ مگر یہ آٹے میں نمک کے برابر افراد نے مسلسل اپنی ہٹ دھرمی دکھائی اور اپنی نعرے بازی جاری رکھی یا رہے کہ ایک نام نہاد مولوی بھی ان کی سرپرستی کر رہا تھا جو ماتم اور زنجیر زنی کی شدت سے اختلاف رکھتا ہے۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
جلوس بہت ہی بارونق تھا اس میں عزادارن حسین علیہ السلام شروع سے لے کر آخر تک شامل رہے اور شہدا کربلا کو نوحہ سلام کی صورت میں پرسہ پیش کرتے رہے۔ خواتین بچے مرد پوڑھے عزادارن نے شرکت کی جلوس میں خواتیں اور مرد انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ جلوس میں شریک تھے اور اختتام تک جلوس تک شامل رہے۔۔۔۔۔۔
جلوس میں نوحہ خوان حضرت جو پاکستان سے تشریف لائے ہوئے تھے نے نوحہ خوانی کی۔ کاشف رضا، ابرار حسین ، صفدر عسکری، عمران زیدی،، عباس بلتی ، اشتیاق دائیک، عامرقومی ، انجمن رب وفا ،غمخوارن سکینہ، کے علاوہ مانچسٹر ، بریڈ فورڈ ، برمھنگم، پیٹر بارو، لوٹن، سلائو، کی عزاردارن اور ،ماتمی حلقوں نے شرکت نے بھی شرکت کی اور جلوس کو بارونق بنایا۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت کی کمی کے باعث عزادان ماتمی تشنگی محسوس کر رہے تھے موسم بھی خوب تھا مگر شدید سردی کے باعث تمام ماتمی حضرات نے پرسہ داری کی۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام جلوس پر شرکا کو نذر امام عالی مقام اور چائے تقسیم کی گئی ۔جلوس میں نزر تقسیم کرنے کا اعلی انتظام کیاگیا تھا کسی قسم کی کئی بےقاعدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔
جلوس کی سربرستی مختلف علما جو عراق اور ایران کے علاوہ پاکستان اور بھارت سے تشریف لائے ہوئے تھے انہوں نے کی اس کی علاوہ معززین لندن نے بھی جلوس کی سرپرستی کر رہے۔۔۔ عزادارن اور جلوس سے تعاون کرنے والے تمام کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جناب اظہار خان صاحب ان کے فرزند وقار حیدر ، کلیم حیدر اسد خان، رضا، ڈاکٹر عاصم نے کہا کے تمام ساتھیوں نے جس جانفشنانی سے کام انجام دیا اسکا اجر بی بی سیدہ زہرا سلام اللہ ہی عطا کریں گی
ان کی جانب سے دعا بھی گی گئی کہ رب کریم ان کی ہمتوں میں اضافہ فرمائیں۔ اور امید ظاہر کی کہ اگلے برس بھی اس طرح جلوس میں شرکت کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔