15.10.2026, 12:41am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

جرمنی میں ہر سال جل جانے والے پندرہ سال سے کم عمر کے تیس ہزار بچوں کا علاج
24.08.2016, 08:05am , بدھ (GMT+1)

کشور مصطفیٰ
کہتے ہیں کہ بُرا وقت کہہ کر نہیں آتا، نہ ہی کوئی لمحہ خطرے سے خالی ہوتا ہے۔ کم عمر بچوں کے جلنے کے حادثات پلک جھپکتے رونما ہو جاتے ہیں۔ بس وہ ایک لمحہ ہی ہوتا ہے، جس میں روا رکھی جانے والی غفلت والدین اور بچے دونوں کے  عمر کا روگ بن جاتی ہے اور بچے کو قابل علاج مگر نہایت تکلیف دہ صورتحال سے دو چار کر دیتی ہے۔
چائے یا کافی کا ایک کھولتا ہوا کپ میز پر رکھا ہو اور والدین ایک لمحے کے لیے کسی دوسری طرف متوجہ ہوں اور بچے کے میز پوش کھینچنے پر گرم گرم چائے بچے پر آن گرے۔ اس طرح سے جلنے کے سبب جو زخم آئیں، وہ اکثر خطرناک بھی ثابت ہوتے ہیں، یا پھر بچے کے جسم کے متاثرہ حصے پر بد نما نشان چھوڑ جاتے ہیں۔
ٹوم کی دوسری سالگرہ میں ایک ماہ باقی رہ گیا تھا۔ وہ 10 نومبر 2008ء کو اپنی ماں کے ساتھ کچن کی میز پر بیٹھا اپنی نازک انگلیوں سے ڈرائنگ کر رہا تھا۔ اُس کی ماں زانڈرا اشٹرپل بتاتی ہے کہ اُس نے بوائلر میں پانی اُبالا، نہ جانے ماں کی نظر سے بچتے ہوئے کس طرح ٹوم نے بوائلر کو تار سے پکڑ کر کھینچ لیا۔ پانی کھولتا ہوا نہیں تھا تب بھی ننھے سے جسم کی جلد کو جلا دینے کے لیے کافی تھا۔ سارا گرم پانی ٹوم کے گلے، بازوؤں اور کمر تک پہنچ گیا۔ ٹوم کو پانچ روز تک ہسپتال میں مصنوعی کوما میں رکھا گیا، جس کے بعد اُسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اُس کی جلد کو دوسرے درجے کا نقصان پہنچا ہے، جس میں جلد پر موٹے موٹے آبلے بن جاتے ہیں، جو خود ہی پھٹتے جاتے ہیں اور یہ جلد کی دوسری تہہ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ جلد کی اس دوسری لیئر یا تہہ کے نیچے پٹھے اور نسیں ہوتی ہیں۔


بچوں اور والدین کی امداد کرنے والی ایک انجمن

جل جانے والے بچوں کی طبی امداد میں سب سے پہلے ان کے زخموں کو صاف کیا جاتا ہے، اُن کے آبلوں کو پھوڑ کر ان کی مرہم پٹی کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ بچوں کو بے ہوش کر کے کیا جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹروں کو یہ اندازہ ہو کہ زخم گہرے ہیں تو وہ جلد کا ٹرانسپلانٹ یا پیوند کاری کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ بچے کے جسم کے کسی دوسرے حصے سے جلد نکالتے ہیں، مثال کے طور پر سر یا ران سے۔ اس جلد کے ٹُکڑے سے وہ جھلسی ہوئی جلد اور زخمی حصے کو ڈھانپ دیتے ہیں۔ اس عمل جراحی میں ٹانکے لگائے جاتے ہیں، جن پر ہر روز مرہم لگایا جاتا ہے تاکہ یہ سخت نہ ہو جائیں۔ اس سارے عمل میں Paulinchen نامی جرمن انجمن والدین اور بچوں کا ہر طرح سے ساتھ دیتی ہے۔

اس انجمن کا نام کوئی فرضی نام نہیں ہے بلکہ اس کی ایک پرانی تاریخ موجود ہے۔ اس انجمن کی ایک رکن سوزانے فالک کے مطابق 1845ء میں جرمن شہر فرینکفرٹ سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ایک ڈاکٹر ہائنرش ہوفمن نے بچوں کی کہانیوں کی ایک کتاب شائع کی تھی۔ اس تصویری تصنیف میں ہوفمن نے بچوں کی متعدد کہانیاں قلم بند کیں اور ان کہانیوں میں کسی نہ کسی ایسے غلط طرزعمل کا ذکر آتا ہے، جو بچوں کو شدید جسمانی یا روحانی نقصان پہنچانے کا سبب بنتا یا بن سکتا ہے۔ یہاں تک کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ ان کہانیوں میں سے ایک کا مرکزی کردار ایک چھوٹی سی بچی Paulinchen بھی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ وہ گھر پر بالکل تنہا ہوتی ہے اور ماچس کی تیلی سے کھیلنے لگتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گھر میں آگ لگ جاتی ہے اور بچی سمیت پورا گھر جل جاتا ہے۔ اسی نام سے 1993ء میں اس انجمن کی بنیاد رکھی گئی۔ اس انجمن کی ایک ہاٹ لائن ہے، جس پر جل کر زخمی ہو جانے والے بچوں کے والدین فون کر کے فوری مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ والدین کو صلاح و مشورے بھی دیے جاتے ہیں۔ اس تنظیم کے آٹھ سو ممبرز ہیں۔ یہ ان کی ممبرشپ فیس اور چندوں کی مدد سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔

شفا یابی کا طویل عمل
جل کر زخمی ہو جانے والے چھوٹے بچوں کو فوری طبی امداد جتنی بھی جلدی میسر کیوں نہ ہو، اس علاج میں کافی وقت اور دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کو لگنے والے ٹانکے اکثر دیر تک مسائل کا سبب بنے رہتے ہیں۔ بچوں کو یہ ٹانکے ایسی عمر میں لگتے ہیں، جب ان کے جسمانی اعضاء نشو و نما پا رہے ہوتے ہیں، اگر کوئی ٹانکا غلط لگ جائے تو جسمانی اعضاء غلط سمت ہی میں بڑھنے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حرکت میں ہمیشہ کے لیے نقص پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں فیزیو تھراپی یا پھر دوبارہ جراحی کار آمد ثابت ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کے حساس حصوں جیسے کہ چہرے وغیرہ پر آنے والے ٹانکوں کو زیادہ تر بچوں کے بڑے ہونے کے بعد جراحی کے ذریعے درست کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس کے علاوہ اکثر بچوں کے اذہان پر جلنے کے بھیانک واقعات کے صدمات گہرے اور دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں۔

مجھے ایسا کچھ نہیں ہوگا

بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے خطرناک عمر ایک سے تین سال کی ہوتی ہے۔ اس دوران بچے دنیا کی ہر چیز کی تسخیر کرنا چاہتے ہیں اور ان کے لیے ہر چیز نئی ہوتی ہے، اس لیے وہ بہت زیادہ متجسس ہوتے ہیں۔ اسی عمر میں جلنے کے حادثات سب سے زیادہ رونما ہوتے ہیں۔ مغربی دنیا میں یہ خوفناک واقعات سب سے زیادہ کرسمس کے موقع پر ہوتے ہیں کیونکہ اس موقع پر ہر گھر میں موم بتیوں کی سجاوٹ کا رواج عام ہے۔ اس کے علاوہ آتش بازی وغیرہ بھی اکثر بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں والدین کو بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ بچے تو ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ ’مجھے ایسا کچھ نہیں ہو سکتا‘۔


:دیگر مضامین
(23.08.2016) اردو غزل کی معروف شاعرہ ادا جعفری کا 22 اگست یومِ پیدائش ھے
(21.08.2016) چینی بادشاہ کا 2100 سال پرانا مقبرہ دریافت، خزانہ اور نوادرات برآمد
(18.08.2016) کویت میں یوم آزادی کے سلسلے کی اہم کامیاب تقریبات
(16.08.2016) دنیا ئے موسیقی کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کی 19 ویں برسی
(15.08.2016) تیرہ اور چودہ ۔اگست 1947 کی رات قیام پاکستان کی نوید سنانے والی آواز، مصطفیٰ علی ھمٰدانی
(12.08.2016) ایک اور آخری دن ۔۔۔۔۔۔۔۔  شہناز پروین سحر  کی کتاب ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(11.08.2016) چودھری رحمت علی !کوئے یار کو ترستا مسافر باعث افتخار
(11.08.2016) کویت میں آسیان کے  قیام کی 49 ویں سالگرہ کی تقریب
(08.08.2016) کویت میں پاکستان ایر فورس کے سربراہ  سہیل امان کی آمد پر اہم تقریبات
(07.08.2016) میں تو زندانی ہوں زنداں میں دریچہ کیسا ۔۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم 
(05.08.2016) چھ اگست 1945 کو امريکا نے جاپان کے شہر ہيروشيما پر ايٹم بم گرايا تھا
(05.08.2016) امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور علمی ترقی اور پیشرفت کا دورتھا
(03.08.2016) دو اگست انیس سو نوے کو کویت پر عراق کا حملہ آج بھی میرے زہن میں تازہ ہے۔
(03.08.2016) برطانیہ کے شہر ریڈنگ کی اُردو سوسائٹی کے تحت پاک و ہند مشاعرہ
(01.08.2016) واٹس ایپ،میسنجراوراسکائپ ایک ساتھ استعمال کرنا اب ہوا آسان
(30.07.2016) زیادہ دیر ٹی وی دیکھنا زندگی کے دنوں کو کم کرسکتا ہے: تحقیق
(28.07.2016) برطانوی مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ نوجوانوں نے خطوط نویسی کا فن کھو دیا ہے
(25.07.2016) چین: ایک ہی تنے پر بنے فن پارے نے ریکارڈ توڑ دیا
(23.07.2016) بھٹو صاحب کے جانشین اول – معراج محمد خان۔۔۔ضیا شاہد
(21.07.2016) برطانوی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کا نیا سحر انگیز مومی مجسمہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں