انیس سال پہلہے 15 جنوری کو اردو کے ممتاز شاعر اور ذاکر اہل بیت محسن نقوی لاہور میں نامعلوم قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
محسن نقوی کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947ءکو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے اردو میں ایم اے کیااور کم و بیش اسی زمانے میں ان کی شاعری اور ذاکری کا آغاز

ہوا۔
ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
بندِ قبا۔ 1969ء
برگِ صحرا۔ 1978ء
ریزہ حرف۔ 1985ء
عذابِ دید۔ 1990ء
طلوعِ اشک۔ 1992ء
رختِ شب۔ 1994ء
خیمہ جاں۔ 1996ء
موجِ ادراک
فراتِ فکر
31 minutes ago · Like
۔ 1994ءمیں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی !!!!!! : محسن نقوی
میں کہ اس شہر کا سیماب صفت شاعر ہوں
میری تخلیق میرے فکر کی پہچان بھی ہے
میرے حرفوں ، میرے لفظوں میں ہے چہرہ میرا
میرا فن اب میرا مذہب ، میرا ایمان بھی ہے
میر و غالب نہ سہی ، پھر بھی غنیمت جانو
میرے یاروں کے سِرہانے میرا دیوان بھی ہے
مجھ سے پوچھو کہ شکستِ دل و جاں سے پہلے
میرے احساس پہ گزری ہے قیامت کیا کیا
سایۂ دار و شبِ غم کی سخاوت سے الگ
میں نے سوچی قد و گیسو کی علامت کیا کیا
میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے خرابوں سے پرے
میرے بکھرے ہوئے جذبے تھے سلامت کیا کیا
طنزِ اغیار سے احباب کے اخلاص تلک
میں نے ہر نعمتِ عظمیٰ کا لبادہ پہنا
دستِ قاتل کی کشش آپ گواہی دے گی
میں نے ہر زخم قبا سے بھی زیادہ پہنا
میری آنکھوں میں خراشیں تھیں دھنک کی لیکن
میری تصویر نے ملبوس تو سادہ پہنا
ضربتِ سنگِ ملامت میرے سینے پہ سجی
تمغۂ جرّات و اعزازِ حکومت کی طرح
کھُل کے برسی میری سوچوں پہ عداوت کی گھٹا
آسمانوں سے اُترتی ہوئی دولت کی طرح
قریہ قریہ ہوئی رسوا میرے فن کی چاہت
کونے کونے میں بکھرتی ہوئی شہرت کی طرح
میرے آنگن میں حوادث کی سواری اُتری
میرا دل وجہِ عذابِ در و دیوار ہوا
عشق میں عزّتِ سعادت بھلا کر اکثر
میر صاحب کی طرح میں بھی گناہ گار ہوا
اپنی اُجڑی ہوئی آنکھوں سے شعاعیں لے کر
میں نے بجھتی ہوئی سوچوں کو جوانی دی ہے
اپنی غزلوں کے سُخن تاب ستارے چُن کر
سنگریزوں کو بھی آشفتہ بیانی دی ہے
حسنِ خاکِ رہِ یاراں سے محبت کر کے
میں نے ہر موڑ کو اِک تازہ کہانی دی ہے
مجھ سے روٹھے ہیں میرے اپنے قبیلے والے
میرے سینے میں ہر اِک تیرِ ستم ٹوٹا ہے
کربِ نا قدریِ یاراں کے بھنور میں گھِر کر
بارہا دل کی طرح شوق کا دم ٹوٹا ہے
میں کہ اس شہر کا سیماب صفت شاعر ہوں
میں نے اس شہر کی چاہت سے شرف پایا ہے
میرے اعدا کا غضب ابرِ کرم ہے مجھ کو
میرے احباب کی نفرت میرا سرمایہ ہے
مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
جب بھی اس شہر کی تاریخِ وفا لکھے گی
میرے گھر کے در و دیوار مجھے سوچیں گے
وسعتِ دشت مجھے آبلہ پا لکھے گی
میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی!!!!