15.10.2026, 08:43pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

جاوید قریشی صاحب آپ نے فیض احمد فیض کا وہ قیمتی خط یقیناً سنبھال کر رکھا ھوگا
18.01.2014, 01:05am , ہفتہ (GMT+1)

عصمت طاہرہ
  
پیارے جاوید قریشی
  کچھ خاص لوگ آپ کو سابق چیف سکیرٹری کی حثیت سے جانتے ہیں اور بہت سے لوگ آپکو شاعر کی حیثیت سےبھی جانتے ہیں۔ اور زیادہ تر لوگ آپکو نور جہاں کی اس غزل سے جانتے ھیں جو آپکی لکھی ھوئ تھی۔ " دل جلانے کی بات کرتے ھو آشیانے کی بات کرتے ھو"

 ہمیں پتہ ھے کہ آپ  ہم سےچند سالوں  سےکچھ ناراض ھیں ، مگر آپ کو پتہ نہیں کہ ھم آپ سے کہیں زیادہ ناراض ہیں۔مگر ناراضگی کا یہ مطلب تھوڑی ھے کہ ھم آپ سے محبت اور احترام کا رشتہ گنوا بیٹھے ہیں۔آپ تو ھمارے اس زمانے کے دوست ہیں جب ہم  ریواز گارڈن کے ڈربے میں رہتے تھے۔اور آپ ھمارے ساتھ قالین پر بیٹھ کر نہیں ایک دری پر بیٹھ کر گول پیالے میں چائے پیا کرتے تھے۔۔تو جناب اب آیئے۔۔۔ 
                     ہم ہنسانے کی بات کرتے ہیں
                     گئیےزمانے کی بات کرتے ہیں

 جاوید قریشی صاحب یوں تو ہم آپ کے ماتحت زرعی ترقیاتی کارپوریشن جہاں آپ مینجنگ ڈرائریکٹر تھےاور ھم وہاں ایک معمولی سےسکرپٹ رائٹرتھےاور آپکےریڈیو پبلسٹی پروگرام  پیش کیا کرتے تھے۔۔ مگر آپ سے ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی( ویسے یہ الگ بات ھے کہ ھمارے لکھے اور پیش کیئے پروگراموں سےزرعی ترقیاتی کارپوریشن کی کروڑوں روپے کی ڈی اے پی کھاد چند ماہ میں فروخت ھو گئی اور زرعئی ترقیاتی ڈیپارٹمنٹ میں ھماری ترقی ھونے کے بجائے ہمارے افسر کی ترقی ھوگئی۔ 

خیر چھوڑئیے آپ اُن دنوں مینجنگ ڈرائریکٹر نہیں تھے  اپ کی جگہ ایک خوشامد پسند کیپٹن فاروق تھے

زرعی ترقیاتی کارپوریشن میں آپ کے تشریف لانے کے کچھ عرصہ بعد ھی  ھم وہاں سے رخصت ھو کر پنجاب پاپولیشن پلاننگ آفس میں ریڈیو پروگرام" وقت کی آواز"  پیش کرنے کے لئےبھرتی ھو گئے۔۔ حالانکہ ھم نے خود کبھی وقت کی آواز  سنی  ھی نہیں  تھی کمبخت چپ چپیتے آیا اور جوانی اغوا کرکے چلتا بنا

 یاد داشتیں حسبِ معمول ہم اپنے فیس بک دوستوں سے شئیر کرتے رہتے ہیں، تو میرے سبھی دوستو جیسا کہ ھم پہلے لکھ چکے ہیں کے نیشنل بک سنٹر میں  مختار مسعود کی کتاب آوازِ دوست کی تقریب کے دوران ہم اشفاق احمد کی کہنی کے نیچے سے کتاب چرا رھے تھے کہ فیض احمد فیض صاحب نے ہمیں دیکھ لیا۔۔ اس چوری نے ہمیں تھانے کے قریب تو نہیں تھوڑا سا فیض صاحب کے قریب کر دیا۔۔

                                      جاوید قریشی صاحب ! آپکو بہت اچھی طرح یاد ھوگا کہ جب ہمارے سابق شوہرِ نام دار کم اور نام نہاد زیادہ زاہد حمیدی کو زرعی ترقیاتی کارپوریشن سے کسی بد عنوانی کی وجہ سے آپ نے نوکری سے نکال دیا تو زاہد حمیدی نے ھماری منتیں کرتے ھوئے ہمیں یاد دلایا اور کہا کہ "میں نے نے فلیٹیز  ھوٹل میں فیض صاحب کی سالگرہ پر دیکھا کہ فیض صاحب تمہاری اور ثروت عتیق کی پلیٹوں میں بڑی شفقت سے کھانے پینے کی اشیاء ڈال رھے تھے۔۔ عصمت طاہرہ مجھے فیض صاحب نوکری پر بحال کروا سکتے ہیں، اور تم میری سفارش کروا سکتی ھو۔۔۔ کیونکہ بدعنوانی کا لیبل لگنے کے بعد مجھے کہیں ملازمت نہیں ملےگی۔

 تھی تو بڑی فضول بات مگر فضول بات پر جی نہ چاہنے کےباوجود ہمیں اسقدر تنگ کیا گیا کہ ھمیں اس گھٹیا کام کے لئیے فیض صاحب کے پاس جانا ہی پڑا۔۔

 قربان جائیے فیض صآحب کے ، میں تھی تو اس وقت 24 25 یا 26 برس کی مگر 6 سات سال کی بچی کی طرح رو پڑی اور کہا "فیض صاحب ھم  اتنے تھرڈ کلاس کام کےآپ کے پاس اپنی مرضی سےہرگز نہیں آئے ہمیں اس گھٹیا کام کے لئیے مجبور کیا گیا ھے۔ آپ جاوید قریشی سےپلیز سفارش کر دیجئیے۔

 فیض صاحب اپنی فرشتوں والی ھنسی میں مسکرائے ہم سے کہا "آنکھیں پونچھو اور مسکراؤ، اپنی بیگم سے کہا لڑکی کو چائے پلاؤ اور پھر اپنے تازہ شعروں کے ساتھ جاوید قریشی صاحب آپکے نام فیض صاحب نے ایک خوبصورت سا خط لکھا۔۔ جب وہ خط لیکرہم آپکے پاس پہنچے تو آپ نے کہا کہ "فیض صاحب کو بھی ہم انکار نہیں کرسکتے مگر ایک شرط پر بحال کریں گے زاہد حمیدی استعفیٰ دے دیں۔ فون پر زاہد حمیدی سے وعدہ لینے کے بعد آپ نے ذاہد حمیدی کو بحال کردیا اور وہ زرعی ترقیاتی سے ترقی پزیر ھو کر گھی کارپوریشن میں ڈپٹی ڈایریکٹربن گیا


 جاوید قریشی صاحب  آپ نے فیض احمد فیض کا وہ قیمتی خط یقیناً سنبھال کر رکھا ھوگا مگر میں نے انکی اپنی لکھائی میں لکھی کچھ نظمیں  گم کر دی ہیں۔۔۔میری اور ثروت عتیق کی فیض صاحب کے ساتھ نایاب فوٹوز فوٹو گرافر نے ہی گم کر دی ہیں۔۔میں نے یادیں تو سنبھال رکھی ھیں ۔۔ مگرپھر بھی آپ اس خط کی فوٹو کاپی مجھے ضرور دے دیجئیے۔۔۔ 

                                            میں یادوں کےبہاؤ میں دور تک بہہ آئی اور بھول گئی کہ میں نے کہا تھا۔۔۔ ھم ھنسانے کی بات کرتے ہیں ، گئے زمانے کی بات کرتے ہیں


  جی دوستو۔۔۔۔آپ میں سے جو حضرات کبھی ریڈیو پاکستان لاہور کے ادبی اور معیاری پروگرام سننے کے عادی ھونگے وہ ایک صداکارہ خالدہ ارجمند کا نام ضرور جانتے ھونگے ھماری پرانی دوست ھے،،بلکہ یوں سمجھئیے کہ پھٹی پرانی دوست ھے۔۔ پھٹی پرانی اس لیئے کہ وہ ھماری ہر بات میں  اختلاف رکھتی ھےبس آج پہلی بار اس نے اختلاف نہیں کیا بلکہ ھم رائے ھوئی ھے کہ عشق زورو شور کے ساتھ ہر عمر میں ھو سکتا ھے اور دل تو بچہ ھے بلکہ بہرا بچہ ھے جو وقت کی آواز  تو کمبخت سنتا ھی نہیں۔۔


خالدہ ارجمند دوبئی سے
 آئیں ہیں مجھے لمبا سا فون کیا ھم نے فون پر ھی یادوں کی دھونی رمائی۔۔ اور بہت قہقہے لگائے۔ پھر خالدہ نے کہا جاوید قریشی ایک بار ریڈیو پر آئے میں نے بوتھ میں سے ان کو دیکھ کر مائک پر ان کا ایک شعر پڑھا اور جب اناؤنسمنٹ کے بعد باھر آئی تو دیکھا جاوید قریشی صاحب موجود ھیں عصمت انہوں نے مجھے اپنی دو تین غزلیں سننے کی سزا دے ڈالی۔عصمت یہ شاعر اپنی غزلیں زبردستی کیوں سناتے ہیں؟

 پھر یادوں کی اسی دھونی سے ایک اور یاد نکل آئی۔۔ جب جاوید قریشی پنجاب کے چیف سیکرٹری تھے اور بہت ھی اچھے اور پرانے دوست تھے۔ لوگ ان سے ملنے کو بےتاب رہتے تھے توھم نےبھی ان کو اتوار والے دن اپنے گھر  اقبال ٹاؤن میں دوپہر کھانے کی دعوت دے ڈالی۔

اس اتوار کی صبح ھم سجری سویر پروگرام پیش کرنے کے لیئے ریڈیو پاکستان پہنچے۔۔ خالدہ ارجمند بھی پروگرام سے فارغ ھو کر ڈیوٹی روم میں آگئی خالدہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔۔ ھم نے وی سی آر پر کئی فلمیں دیکھیں مجھے ایک تو فلم کا نام بھی یاد ھے " اجازت" فلموں کے چکر میں خالدہ نے دوپہر کا کھانا مجھے بہت ھی لیٹ کھلایا۔۔ کھانا کھانے کے دوران جب خالدہ نے خود ھی اپنے بنائے ھوے کریلے گوشت کی تعریف کی تو ھمارا لقمہ ھمارے ھاتھ سے گر گیا ۔۔ ھمیں یاد آگیا کہ اوہ ھم نے تو قریشی صاحب کو کھانے پر بُلا رکھا ھے۔۔ بھاگم بھاگ رکشہ لے کر گھر پہنچے تو بچوں نے بتایا کے قریشی انکل کئی گھنٹے انتظار کر کے چلے گئے ہیں۔۔ اور کہہ گئے ہیں کہ عصمت سے کہنا خبردار آئیندہ جو ھمیں چائے پر بھی بلایا تو۔۔۔

                                                            دوستو عشق کتنی طاقت ور بلا ھے، ھوش مت تو بھلا دیتا ھےمگر محبوب سے ملنا نہیں بھلاتا۔۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری  کی جگہ ھم نےاگر  اپنے کسی کلرک محبوب صاحب کی دعوت کی ھوتی تو پل پل بیقراری سے گنتے۔ ایڑھیاں اٹھا کر راہ دیکھتے۔ کبھی ھم بھول سکتے تھے کہ ھم نےکسی کو دعوت پر بلا رکھا ھے۔۔

قریشی صاحب اُس وقت تو ھم نے آپ سے کوئی تگڑا جھوٹ  ھی بولا ھو گا۔۔اور وہ جھوٹ تو ھمیں بلکل یاد نہیں  نہ ھی جھوٹ یاد رہتا ھے۔۔ مگر یہ یاد داشت اس لئیے یاد ھے کہ حرف بحرف درست ھے۔۔ آپ تک اگر ھمارا کوئی دوست یہ اطلاع پہنچا دے کہ عصمت طاہرہ آپ سے ناراض ھے مگر آپ کو یاد کرتی ھے تو مجھے یقین ھے آپ  معزرت کرنے چلے آئیں گے کہ کیوں کہ ھم دونوں یہ بات بھول گئےکہ زندگی ناپائیدار ھے مگر زندگی کا حسین تحفہ دوستی بہت پائیدار ھوتی ھے۔۔۔


:دیگر مضامین
(03.01.2014) تاریخ نےاپنےآپ کو دوہرادیا2014کا کلینڈر1947جیسا ہے
(02.01.2014) عالمی اخبار کی طرف سے دنیا بھر میں اپنے قارئین کو نئے سال کی مبارکباد
(31.12.2013) ماربل آرچ لندن کا قدیمی جلوس اربعین جو عرصہ پینتس سال سے برآمد ہو رہا ہے
(27.12.2013) کربلائے معلیٰ اور دنیا بھر میں چہلم امام حسین علیہ السلام
(26.12.2013) دسمبر 26....آج معروف شاعرہ پروین شاکر کی انیسویں برسی ہے
(24.12.2013) ڈاکٹر سید حسین کے گھر پر چہلم امام حسین کی مناسبت سے مجلس عزا
(16.12.2013) لندن کا قدیم اور تاریخی عزا خانہ ادارہ جعفریہ کھلنے سے پہلے کی آخری مجلس عزا
(15.12.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار41ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(10.12.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار40ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(09.12.2013) ادارہ جعفریہ لندن کی انتظامیہ کی تالہ بندی جاری۔ اور کھلے آسمان تلے مجالس عزا جاری
(07.12.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔39ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(04.12.2013) بچوں میں جھوٹ بولنے کا رجحان خطرناک حد بڑھ رہا ہے ۔۔ از: ڈاکٹر نگہت نسیم ۔ سڈنی
(01.12.2013) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار۔38ویں قسط ۔ سید اکمل حسین
(28.11.2013)  دبئی کو 2020ء میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش کا میزبان منتخب کر لیا گیا
(27.11.2013) خانہ کعبہ کا آہنی قفل سنہری تالے میں تبدیل، کلید "سدانہ" کے سپرد
(20.11.2013) بیس نومبر فیض احمد فیض کی انتسویں برسی ہے۔ عالمی اخبار ملٹی میڈیا
(19.11.2013) دنیا میں ہو معروف سدا اپنے ہنر میں ۔۔ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(19.11.2013) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں طوفانی بارش کے بعد سڑکیں زیرآب
(18.11.2013) اسلامی و ہجری سال 1435کاآغاز ہو چکا . محرم الحرام۔
(17.11.2013) یوم عاشور پر راولپنڈی کا سانحہ، چند حقائق!۔۔۔از۔۔۔۔۔۔۔قمر رضوی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں