پیارے جاوید قریشی
کچھ خاص لوگ آپ کو سابق چیف سکیرٹری کی حثیت سے جانتے ہیں اور بہت سے لوگ آپکو شاعر کی حیثیت سےبھی جانتے ہیں۔ اور زیادہ تر لوگ آپکو نور جہاں کی اس غزل سے جانتے ھیں جو آپکی لکھی ھوئ تھی۔ " دل جلانے کی بات کرتے ھو آشیانے کی بات کرتے ھو"
ہمیں پتہ ھے کہ آپ ہم سےچند سالوں سےکچھ ناراض ھیں ، مگر آپ کو پتہ نہیں کہ ھم آپ سے کہیں زیادہ ناراض ہیں۔مگر ناراضگی کا یہ مطلب تھوڑی ھے کہ ھم آپ سے محبت اور احترام کا رشتہ گنوا بیٹھے ہیں۔آپ تو ھمارے اس زمانے کے دوست ہیں جب ہم ریواز گارڈن کے ڈربے میں رہتے تھے۔اور آپ ھمارے ساتھ قالین پر بیٹھ کر نہیں ایک دری پر بیٹھ کر گول پیالے میں چائے پیا کرتے تھے۔۔تو جناب اب آیئے۔۔۔
ہم ہنسانے کی بات کرتے ہیں
گئیےزمانے کی بات کرتے ہیں
جاوید قریشی صاحب یوں تو ہم آپ کے ماتحت زرعی ترقیاتی کارپوریشن جہاں آپ مینجنگ ڈرائریکٹر تھےاور ھم وہاں ایک معمولی سےسکرپٹ رائٹرتھےاور آپکےریڈیو پبلسٹی پروگرام پیش کیا کرتے تھے۔۔ مگر آپ سے ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوئی

تھی( ویسے یہ الگ بات ھے کہ ھمارے لکھے اور پیش کیئے پروگراموں سےزرعی ترقیاتی کارپوریشن کی کروڑوں روپے کی ڈی اے پی کھاد چند ماہ میں فروخت ھو گئی اور زرعئی ترقیاتی ڈیپارٹمنٹ میں ھماری ترقی ھونے کے بجائے ہمارے افسر کی ترقی ھوگئی۔
خیر چھوڑئیے آپ اُن دنوں مینجنگ ڈرائریکٹر نہیں تھے اپ کی جگہ ایک خوشامد پسند کیپٹن فاروق تھے
زرعی ترقیاتی کارپوریشن میں آپ کے تشریف لانے کے کچھ عرصہ بعد ھی ھم وہاں سے رخصت ھو کر پنجاب پاپولیشن پلاننگ آفس میں ریڈیو پروگرام" وقت کی آواز" پیش کرنے کے لئےبھرتی ھو گئے۔۔ حالانکہ ھم نے خود کبھی وقت کی آواز سنی ھی نہیں تھی کمبخت چپ چپیتے آیا اور جوانی اغوا کرکے چلتا بنا
یاد داشتیں حسبِ معمول ہم اپنے فیس بک دوستوں سے شئیر کرتے رہتے ہیں، تو میرے سبھی دوستو جیسا کہ ھم پہلے لکھ چکے ہیں کے نیشنل بک سنٹر میں مختار مسعود کی کتاب آوازِ دوست کی تقریب کے دوران ہم اشفاق احمد کی کہنی کے نیچے سے کتاب چرا رھے تھے کہ فیض احمد فیض صاحب نے ہمیں دیکھ لیا۔۔ اس چوری نے ہمیں تھانے کے قریب تو نہیں تھوڑا سا فیض صاحب کے قریب کر دیا۔۔
جاوید قریشی صاحب ! آپکو بہت اچھی طرح یاد ھوگا کہ جب ہمارے سابق شوہرِ نام دار کم اور نام نہاد زیادہ زاہد حمیدی کو زرعی ترقیاتی کارپوریشن سے کسی بد عنوانی کی وجہ سے آپ نے نوکری سے نکال دیا تو زاہد حمیدی نے ھماری منتیں کرتے ھوئے ہمیں یاد دلایا اور کہا کہ "میں نے نے فلیٹیز ھوٹل میں فیض صاحب کی سالگرہ پر دیکھا کہ فیض صاحب تمہاری اور ثروت عتیق کی پلیٹوں میں بڑی شفقت سے کھانے پینے کی اشیاء ڈال رھے تھے۔۔ عصمت طاہرہ مجھے فیض صاحب نوکری پر بحال کروا سکتے ہیں، اور تم میری سفارش کروا سکتی ھو۔۔۔ کیونکہ بدعنوانی کا لیبل لگنے کے بعد مجھے کہیں ملازمت نہیں ملےگی۔
تھی تو بڑی فضول بات مگر فضول بات پر جی نہ چاہنے کےباوجود ہمیں اسقدر تنگ کیا گیا کہ ھمیں اس گھٹیا کام کے لئیے فیض صاحب کے پاس جانا ہی پڑا۔۔
قربان جائیے فیض صآحب کے ، میں تھی تو اس وقت 24 25 یا 26 برس کی مگر 6 سات سال کی بچی کی طرح رو پڑی اور کہا "فیض صاحب ھم اتنے تھرڈ کلاس کام کےآپ کے پاس اپنی مرضی سےہرگز نہیں آئے ہمیں اس گھٹیا کام کے لئیے مجبور کیا

گیا ھے۔ آپ جاوید قریشی سےپلیز سفارش کر دیجئیے۔
فیض صاحب اپنی فرشتوں والی ھنسی میں مسکرائے ہم سے کہا "آنکھیں پونچھو اور مسکراؤ، اپنی بیگم سے کہا لڑکی کو چائے پلاؤ اور پھر اپنے تازہ شعروں کے ساتھ جاوید قریشی صاحب آپکے نام فیض صاحب نے ایک خوبصورت سا خط لکھا۔۔ جب وہ خط لیکرہم آپکے پاس پہنچے تو آپ نے کہا کہ "فیض صاحب کو بھی ہم انکار نہیں کرسکتے مگر ایک شرط پر بحال کریں گے زاہد حمیدی استعفیٰ دے دیں۔ فون پر زاہد حمیدی سے وعدہ لینے کے بعد آپ نے ذاہد حمیدی کو بحال کردیا اور وہ زرعی ترقیاتی سے ترقی پزیر ھو کر گھی کارپوریشن میں ڈپٹی ڈایریکٹربن گیا
جاوید قریشی صاحب آپ نے فیض احمد فیض کا وہ قیمتی خط یقیناً سنبھال کر رکھا ھوگا مگر میں نے انکی اپنی لکھائی میں لکھی کچھ نظمیں گم کر دی ہیں۔۔۔میری اور ثروت عتیق کی فیض صاحب کے ساتھ نایاب فوٹوز فوٹو گرافر نے ہی گم کر دی ہیں۔۔میں نے یادیں تو سنبھال رکھی ھیں ۔۔ مگرپھر بھی آپ اس خط کی فوٹو کاپی مجھے ضرور دے دیجئیے۔۔۔
میں یادوں کےبہاؤ میں دور تک بہہ آئی اور بھول گئی کہ میں نے کہا تھا۔۔۔ ھم ھنسانے کی بات کرتے ہیں ، گئے زمانے کی بات کرتے ہیں
جی دوستو۔۔۔۔آپ میں سے جو حضرات کبھی ریڈیو پاکستان لاہور کے ادبی اور معیاری پروگرام سننے کے عادی ھونگے وہ ایک صداکارہ خالدہ ارجمند کا نام ضرور جانتے ھونگے ھماری پرانی دوست ھے،،بلکہ یوں سمجھئیے کہ پھٹی پرانی دوست ھے۔۔ پھٹی پرانی اس لیئے کہ وہ ھماری ہر بات میں اختلاف رکھتی ھےبس آج پہلی بار اس نے اختلاف نہیں کیا بلکہ ھم رائے ھوئی ھے کہ عشق زورو شور کے ساتھ ہر عمر میں ھو سکتا ھے اور دل تو بچہ ھے بلکہ بہرا بچہ ھے جو وقت کی آواز تو کمبخت سنتا ھی نہیں۔۔
خالدہ ارجمند دوبئی سے
آئیں ہیں مجھے لمبا سا فون کیا ھم نے فون پر ھی یادوں کی دھونی رمائی۔۔ اور بہت قہقہے لگائے۔ پھر خالدہ نے کہا جاوید قریشی ایک بار ریڈیو پر آئے میں نے بوتھ میں سے ان کو دیکھ کر مائک پر ان کا ایک شعر پڑھا اور جب اناؤنسمنٹ کے بعد باھر آئی تو دیکھا جاوید قریشی صاحب موجود ھیں عصمت انہوں نے مجھے اپنی دو تین غزلیں سننے کی سزا دے ڈالی۔عصمت یہ شاعر اپنی غزلیں زبردستی کیوں سناتے ہیں؟
پھر یادوں کی اسی دھونی سے ایک اور یاد نکل آئی۔۔ جب جاوید قریشی پنجاب کے چیف سیکرٹری تھے اور بہت ھی اچھے اور پرانے دوست تھے۔ لوگ ان سے ملنے کو بےتاب رہتے تھے توھم نےبھی ان کو اتوار والے دن اپنے گھر اقبال ٹاؤن میں دوپہر کھانے کی دعوت دے ڈالی۔
اس اتوار کی صبح ھم سجری سویر پروگرام پیش کرنے کے لیئے ریڈیو پاکستان پہنچے۔۔ خالدہ ارجمند بھی پروگرام سے فارغ ھو کر ڈیوٹی روم میں آگئی خالدہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔۔ ھم نے وی سی آر پر کئی فلمیں دیکھیں مجھے ایک تو فلم کا نام بھی یاد ھے " اجازت" فلموں کے چکر میں خالدہ نے دوپہر کا کھانا مجھے بہت ھی لیٹ کھلایا۔۔ کھانا کھانے کے دوران جب خالدہ نے خود ھی اپنے بنائے ھوے کریلے گوشت کی تعریف کی تو ھمارا لقمہ ھمارے ھاتھ سے گر گیا ۔۔ ھمیں یاد آگیا کہ اوہ ھم نے تو قریشی صاحب کو کھانے پر بُلا رکھا ھے۔۔ بھاگم بھاگ رکشہ لے کر گھر پہنچے تو بچوں نے بتایا کے قریشی انکل کئی گھنٹے انتظار کر کے چلے گئے ہیں۔۔ اور کہہ گئے ہیں کہ عصمت سے کہنا خبردار آئیندہ جو ھمیں چائے پر بھی بلایا تو۔۔۔
دوستو عشق کتنی طاقت ور بلا ھے، ھوش مت تو بھلا دیتا ھےمگر محبوب سے ملنا نہیں بھلاتا۔۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری کی جگہ ھم نےاگر اپنے کسی کلرک محبوب صاحب کی دعوت کی ھوتی تو پل پل بیقراری سے گنتے۔ ایڑھیاں اٹھا کر راہ دیکھتے۔ کبھی ھم بھول سکتے تھے کہ ھم نےکسی کو دعوت پر بلا رکھا ھے۔۔
قریشی صاحب اُس وقت تو ھم نے آپ سے کوئی تگڑا جھوٹ ھی بولا ھو گا۔۔اور وہ جھوٹ تو ھمیں بلکل یاد نہیں نہ ھی جھوٹ یاد رہتا ھے۔۔ مگر یہ یاد داشت اس لئیے یاد ھے کہ حرف بحرف درست ھے۔۔ آپ تک اگر ھمارا کوئی دوست یہ اطلاع پہنچا دے کہ عصمت طاہرہ آپ سے ناراض ھے مگر آپ کو یاد کرتی ھے تو مجھے یقین ھے آپ معزرت کرنے چلے آئیں گے کہ کیوں کہ ھم دونوں یہ بات بھول گئےکہ زندگی ناپائیدار ھے مگر زندگی کا حسین تحفہ دوستی بہت پائیدار ھوتی ھے۔۔۔