15.10.2026, 12:45pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

سیرت امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ
01.03.2009, 01:30am , اتوار (GMT+1)

عالمی اخبار۔رسیرچ یونٹ

سوانح حیات
 
سوانح حیات امام المسلمین، قدوہ الموحدین ، امیرالمحدثین حضرت امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ علیہ اسلام کے ان مایہ ناز فرزندوں میں سے ہیں جن کا نام نامی اسلام اور قرآن کے ساتھہ ساتھہ دنیا میں زندہ رہے گا۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانچ پڑتال، پھر ان کی جمع و ترتیب پر آپ کی مساعی جمیلہ کو آنے والی تمام مسلمان نسلیں خراج تحسین پیش کرتی رہیں گی۔

آپ کا ظہور پر سرور عین اس قرآنی پیش گوئی کے مطابق ہوا جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمائی تھی۔ واخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم (سورہ الجمعہ 3) یعنی زمانہ رسالت کے بعد کچھہ اور لوگ بھی وجود میں آئیں گے جو علوم کتاب وحکمت کے حامل ہوں گے ۔حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ یقینا ان ہی پاک نفوس کے سرخیل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آل فارس میں سے کچھہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ اگر دینی علوم ثریا ستارے پر ہوں گے تو وہاں سے بھی وہ ان کو ڈھونڈ نکالیں گے۔
 

نام و نسب و پیدائش
 
آپ کے والد ماجد حضرت العلام مولانا اسماعیل صاحب رحمہ اللہ اکابر محدثین میں سے ہیں۔ کنیت ابوالحسن ہے۔ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے اخص تلامذہ میں سے ہیں۔ اور حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے علاوہ حماد بن زید رحمہ اللہ اور ابو معاویہ ”عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ “ وغیرہ سے آپ نے احادیث روایت کی ہیں۔ احمد بن حفص رحمہ اللہ ، نصر بن حسین رحمہ اللہ وغیرہ آپ کے شاگرد ہیں۔ اس قدر پاکباز ، متدین ، محتاط تھے خاص طور پر اکل حلال میں کہ آپ کے مال میں ایک درم بھی ایسا نہ تھا جسے مشکوک یا حرام قرار دیا جا سکے۔ ان کے شاگرد احمد بن حفص کا بیان ہے کہ میں حضرت مولانا اسماعیل کی وفات کے وقت حاضر تھا۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میں اپنے کمائے ہوئے مال میں ایک درم بھی مشتبہ چھوڑ کر نہیں چلا ہوں۔

امام بخاری قدس سرہ شہر بخارا میں بتاریخ 13شوال 194ھ نماز جمعہ کے بعد پیدا ہوئے۔ یہ فخر امت میں کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہے کہ باپ بھی محدث ہو اور بیٹا بھی محدث بلکہ سیدالمحدثین۔ اللہ تعالیٰ نے یہ شرف حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو نصیب فرمایا جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ”کریم ابن الکریم ابن کریم“ کہا گیا ہے اسی طرح حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بھی محدث ابن المحدث قرار پائے۔ مگر صد افسوس کہ والد ماجد نے اپنے ہونہاز فرزند کا علمی زمانہ نہیں دیکھا اورآپ کو بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی تربیت کی پوری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آگئی جو نہایت ہی خدا رسیدہ عبادت گزار شب بیدار خاتون تھیں۔ والدین کی علمی شان و دینداری کے پیش نظر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت امام کی تعلیم وتربیت کس انداز کے ساتھہ ہوئی ہو گی۔
 
اولین کرامت 

 فنجار نے تاریخ بخارا میں اور لاسکائی نے شرح السنہ باب کرامات الاولیاء میں نقل کیا ہے کہ بچپن میں حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کی بصارت جاتی رہی تھی۔ والدہ ماجدہ کے لئے اپنی بیوگی ہی کا صدمہ کم نہ تھا کہ اچانک یہ سانحہ پیش آیا ۔ اطباء علاج سے عاجز آ گئے ۔ والدہ ماجدہ اپنے یتیم بچے کی اس حالت پر رات دن روتیں اور دعا کرتیں۔ آخر ایک رات بعد عشاء مصلی ہی پر روتے اور دعا کرتے ہوئے آپ کو نیند آگئی۔ خواب میں خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور بشارت دی کہ ”تمہارے رونے اور دعا کرنے سے اللہ پاک نے تمہارے بچے کی بینائی درست کر دی ہے“ صبح ہوئی تو فی الواقع آپ کی آنکھیں درست تھیں۔ بعد میں اللہ پاک نے آپ کو اس قدر روشنی عطا فرمائی کہ ”تاریخ کبیر“ کا پورا مسودہ آپ نے چاندنی راتوں میں تحریر فرمایا۔

تاج الدین سبکی نے طبقات کبریٰ میں لکھا ہے کہ دھوپ اور گرمی کی شدت میں حضرت امام نے طلب علم کے لئے سفر فرمایا تو دوبارہ آپ کی بینائی ختم ہو گئی ۔ خراساں پہنچنے پر آپ نے کسی حکیم حاذق کے مشورہ سے سر کے بال صاف کرائے اور گل خطمی کا ضماد کیا۔ اس سے اللہ پاک نے آپ کو شفائے کامل عطا فرمائی۔ دس سال کی عمر تھی کہ آپ مکتبی تعلیم سے فارغ ہوگئے۔ اور اسی ننھی عمر سے ہی آپ کو احادیث نبوی یاد کرنے کا شوق دامن گیر ہو گیا اور آپ مختلف حلقہ ہائے درس میں شرکت فرمانے لگے۔
 
ستر ہزار احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ ایک ہونہار نوجوان
 
 ان دنوں شہر بخارا میں علوم قرآن و حدیث کے بہت سے مراکز تھے۔ جہاں قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ حضرت امام ان مراکز سے استفادہ فرمانے لگے۔ ایک دن محدث بخارا حضرت امام داخلی رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں شریک تھے کہ امام داخلی نے ایک حدیث کی سند بیان کرتے وقت سفیان عن ابی الزبیر عن ابراھیم فرما دیا۔ امام بخاری بولے کہ حضرت یہ سند اس طرح نہیں ہے کیونکہ ابو الزبیر نے ابراہیم سے روایت نہیں کی ہے۔

ایک نو عمر شاگرد کی اس گرفت سے محدث بخارا چونک پڑے اور خفگی کے لہجے میں آپ سے مخاطب ہوئے۔ آپ نے استاد محترم کا پورا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے بڑی آہستگی سے فرمایا کہ اگر آپ کے پاس اصل کتاب ہو تو اس کی طرف مراجعت فرما لیجئے۔ علامہ نے گھر جا کر اصل کتاب کو ملاحظہ فرمایا تو امام بخاری کی گرفت کو تسلیم فرما لیا اور واپسی پر اس سند کی تصحیح کے بارے میں آپ سے سوال کیا۔ امام بخاری نے برجستہ جواب دیا کہ صحیح سند یوں سے سفیان عن الزبیر وھوابن عدی عن ابراھیم۔ اس وقت حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی عمر صرف گیارہ سال کی تھی۔

 انہی ایام میں آپ نے بخارا کے اٹھارہ محدثین سے فیوض حاصل کرتے ہوئے بیشتر ذخیرہ احادیث محفوظ فرما لیا تھا۔ امام وکیع اور امام عبداللہ بن مبارک کی کتابیں آپ کو برنوک زبان یاد تھیں ۔ علامہ داخلی کے ساتھہ واقعہ مذکورہ سے بخارا کے ہر علمی مرکز میں آپ کا چرچا ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ بڑے بڑے اساتذہ کرام آپ کے حفظ و ذہانت کے قائل ہونے لگے۔ علامہ بیکندی علیہ الرحمہ جو ایک مشہور محدث بخار ہیں۔

 فرمایا کرتے تھے کہ میرے حلقہ درس میں جب بھی محمد بن اسماعیل آجاتے ہیں مجھہ پر عالم تحیر طاری ہو جاتا ہے۔ ایک دن ان علامہ کی خدمت میں ایک بزرگ سلیم بن مجاہد حاضر ہوئے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ذرا پہلے آجاتے تو ایک ایسا ہونہار نوجوان دیکھتے جسے ستر ہزار حدیثیں حفظ ہیں۔ سلیم بن مجاہد یہ سن کر حیرت زدہ ہوگئے۔ اور حضرت امام کی ملاقات کے اشتیاق میں نکلے ۔ ملاقات ہوئی تو حضرت امام بخاری نے فرمایا کہ نہ صرف ستر ہزار بلکہ ان سے بھی زائد احادیث مجھے یاد ہیں۔ بلکہ سلسلہ سند ، حالات رجال سے جیسا بھی سوال کریں گے جواب دوں گا حتی کہ اقوال صحابہ و تابعین کے بارے میں بھی بتلا سکتا ہوں کہ وہ کن کن آیات قرآنی و احادیث نبوی سے ماخوذ ہیں۔ (مقدمہ فتح الباری)
 
صحابہ و تابعین ہی کے بابرکت زمانوں سے اکابرامت میں یہ شوق پیدا ہو گیا تھا کہ وہ علوم کی تحصیل کے لئے دور دور تک کا سفر کرنے لگے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے مسلمانوں کا ایک گروہ ضرور دینی علوم کی تحصیل و فقاہت کے لئے گھر سے باہر نکلنا چاہیے۔ اسی کی تعمیل کے لئے محدثین کرام رحم اللہ اجمعین کمر بستہ ہوئے اور انہوں نے اس پاکیزہ مقصد کے لئے ایسے ایسے کٹھن سفر اختیار کئے کہ وہ دنیا کی تاریخ میں بے مثال بن گئے۔

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے سفر کے سلسلہ میں مرو ، بلخ، ہرات ، نیشا پور، رئے وغیرہ بہت سے دور دراز شہروں کے نام آئے ہیں۔ آپ نے طلب حدیث کے لئے تقریبا تمام ہی اسلامی ممالک کا سفر فرمایا ۔

جعفر بن محمد خطان کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ میں نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے احادیث سنی ہیں۔ اور میرے پاس جس قدر بھی احادیث ہیں ان کی سندیں اور رواہ کے جمیع احوال مجھے محفوظ ہیں۔
 
سفر حج 

سید المحدثین امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ علیہ اپنی عمر کے سولہویں سال 210ھ میں اپنی والدہ محترمہ اور محترم بھائی احمد کے ساتھہ سفر حج پر روانہ ہوئے اور مکہ المکرمہ پہنچے۔ آپ نے اس مرکز اسلام میں بڑے بڑے علمائے کرام و محدثین سے ملاقات فرمائی،

اور حج کے بعد والدہ محترمہ کی اجازت سے تحصیل علوم حدیث کے لئے مکہ ہی میں سکونت اختیار کی۔ اس وقت مکہ شریف کے ارباب علم و فضل میں عبداللہ بن یزید ، ابوبکر عبداللہ بن الزبیر، ابوالولید احمد بن الارزقی اور علامہ حمیدی وغیرہ ممتاز شخصیتوں کے مالک تھے۔

آپ نے پورے دو سال مکہ المکرمہ میں رہ کر ظاہری و باطنی کمالات حاصل فرمائے اور 212ھ میں مدینہ المنورہ کا سفر اختیار فرمایا اور وہاں کے مشاہیر محدثین کرام مطرف بن عبداللہ، ابراہیم بن منذر ، ابو ثابت محمد بن عبیداللہ ، ابراہیم بن حمزہ وغیرہ وغیرہ بزرگوں سے اکتساب فیض فرمایا۔

بلاد حجاز میں آپ کی اقامت چھ سال رہی ۔ پھر آپ نے بصرہ کا رخ فرمایا۔ اس کے بعد کوفہ کا قصد کیا۔ حضرت وراق بخاری نے کوفہ اور بغداد کے بارے میں آپ کا یہ قول نقل کیا ہے ”میں شمار نہیں کر سکتا کہ کوفہ اور بغداد میں محدثین کے ہمراہ کتنی مرتبہ داخل ہوا ہوں۔

بغداد چونکہ عباسی حکومت کا پایہ تخت رہا ہے اس لئے وہ علوم و فنون کا مرکز بن گیا تھا۔ بڑے بڑے اکابر عصر بغداد میں جمع تھے۔ اسی لئے امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے بار بار بغداد کا سفر فرمایا۔ وہاں کے مشائخ حدیث میں حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ کا نام نامی خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔

آٹھویں مرتبہ جب حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بغداد سے آخری سفر کرنے لگے تو حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے بڑے پر درد لہجے میں فرمایا ”کیا آپ لوگوں کو اوربغداد کے اس زمانہ کو اور یہاں کے علوم و فنون کے مراکز کو چھوڑ کر خراسان چلے جائیں گے؟“ بخارا کے ابتلائی دور میں جب کہ وہاں کا حاکم آپ سے ناراض ہو گیا تھا، آپ حضرت امام احمد رحمہ اللہ کے اس مقولہ کو بہت یاد فرمایا کرتے تھے۔
 
اٹھارہ سال کی عمر میں تصانیف اور حافظہ
 
امام بخاری رحمہ اللہ خود فرماتے ہیں کہ جب میری عمر 18 سال کی تھی تو میں نے کتاب قضایائے صحابہ و تابعین نامی تصنیف کی ، پھر میں نے مدینہ منورہ میں روضہ منورہ کے پاس بیٹھہ کر تاریخ تصنیف کی جسے میں چاندنی راتوں میں لکھا کرتا تھا۔ پھر میں نے شام اور مصر اور جزیرہ اور بغداد و بصرہ کا سفر کیا۔

حاشد بن اسماعیل آپ کے ہم عصر کہتے ہیں کہ آپ بصرہ میں ہمارے ساتھہ حاضر درس ہوا کرتے تھے۔ محض سماعت فرماتے اور کچھہ نہ لکھتے ۔ آخر سولہ دن اسی طرح گزر گئے ایک دن میں نے آپ کو نہ لکھنے پر ملامت کی تو آپ بولے کہ اس عرصہ میں جو کچھہ تم نے لکھا ہے اسے حاضر کرو اور مجھہ سے ان سب کو برزبان سن لو۔۔

چنانچہ پندرہ ہزار احادیث سے زیادہ تھیں جن کو امام بخاری نے صرف اپنی یادداشت سے اس اہتمام سے سنایا کہ بہت سے مقامات پر ہم کو اپنی کتابت میں تصحیح کرنے کا موقعہ ملا۔ابوبکر بن ابی عتاب ایک بزرگ محدث فرماتے ہیں کہ ہم سے امام بخاری نے حدیث لکھی اوراس وقت تک ان کی داڑھی مونچھہ کے بال نہیں نکلے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن یوسف فریابی نے 212ھ میں انتقال فرمایا اس وقت امام بخاری کا سن اٹھارہ برس یا کم تھا۔

محمد بن ازہر سختیانی نے کہا کہ میں سلمان بن حرب کی مجلس میں تھا اور امام بخاری ہمارے شریک درس تھے مگر احادیث کو قلمبند نہیں کرتے تھے ۔ لوگوں نے اس پر استعجاب کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بخارا جا کر اپنی یاد سے ان سب احادیث کو ضبط کر لیں گے۔
یوسف بن موسیٰ مروزی کہتے ہیں کہ میں بصرہ کی جامع مسجد میں تھا کہ حضرت امام المحدثین کی تشریف آوری کا اعلان کیا گیا۔ لوگ جوق در جوق آپ کے لائق شان استقبال کو جانے لگے جن میں مَیں بھی شامل ہوا۔

 اس وقت حضرت امام بخاری عالم شباب میں تھے۔ بے حد حسین ، سیاہ ریش۔ آپ نے پہلے مسجد میں نماز ادا فرمائی پھر لوگوں نے ان کو درس حدیث کے لئے گھیر لیا۔ آپ نے دوسرے روز کے لئے درخواست منظور فرمالی۔ چنانچہ دوسرے دن بصرہ کے محدثین و حفاظ جمع ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ بصرہ والو! آج کی مجلس میں تم کو اہل بصرہ ہی کی روایت پیش کروں گا جو تمہارے ہاں نہیں ہیں۔

 پھر آپ نے اس حدیث کا املاء کرا دیا ۔ حدثنا عبداللہ بن عثمان بن جبلہ بن ابی رواد العقلی ببلدکم قال حدثنی ابی عن شعبہ عن منصور وغیرہ عن سالم بن ابی الجعد عن انس بن مالک ان اعرابیا جآءالی النبی صی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ الرجل یحب القوم ۔۔۔ الحدیث حدیث املاء کرا کر ارشاد فرمایا کہ اے اہل بصرہ یہ حدیث تمہارے پاس منصور کے واسطہ نہیں۔ اور اسی شان کے ساتھہ آپ نے گھنٹوں اس مجلس کو بہت سی احادیث املاء کرائیں ۔ آپ کی قوت حافظ سے متعلق بہت سے واقعات مورخین نے نقل کئے ہیں۔ جن کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل کتاب تیار ہو سکتی ہے۔
 

خانگی پاکیزہ زندگی ، اخلاص واتباع سنت
 

سید المحدثین امام المتقین فدائے سنن سید المرسلین حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کو اپنے والد ماجد مولانا محمد اسماعیل رحمہ اللہ علیہ کے ترکہ سے کافی دولت حاصل ہوئی تھی۔ آپ نے اس پاکیزہ مال کو بصورت مضاربت تجارت میں لگا دیا تھا۔ تاکہ خود تجارتی جھمیلوں سے آزاد رہ کر بہ سکون قلب خدمت حدیث نبوی علیہ فداہ ابی وامی کر سکیں۔

اللہ پاک نے اس تجارت کے ذریعہ آپ کو فارغ البالی عطا فرمائی تھی۔ باوجود اس کے ایام طالب علمی میں آپ نے بے انتہا فقر کیشی برداشت کیں۔ اور کسی مرحلہ پر بھی صبر و شکر کو ہاتھہ سے نہ جانے دیا۔ وراق بخاری کے بیان کے مطابق ایک دفعہ حضرت امام اپنے استاد آدم بن ابی ایاس کے پاس طلب حدیث کے لئے تشریف لے گئے مگر توشہ ختم ہو گیا۔ اور سفر میں تین دن متواتر گھاس اور پتوں پر گزارہ کیا۔ آخر ایک اجنبی انسان ملا اور اس نے ایک تھیلی دی جس میں دینار تھے۔

حفص بن عمر الاشقر آپ کے بصرہ کے ہم سبق بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ کئی روز تک شریک درس نہ ہوئے۔ معلوم ہوا کہ خرچ ختم ہو گیا تھا اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ آپ کو بدن کے کپڑے بھی فروخت کرنے پڑ گئے۔ چنانچہ ہم نے آپ کے لئے امدادی چندہ کر کے کپڑے تیار کرائے تب آپ درس میں حاضر ہوئے۔

ابوالحسن یوسف بن ابی ذربخاری کہتے ہیں کہ اسی فقر کیشی کی وجہ سے ایک دفعہ حضرت امام علیل ہوگئے۔ طبیبوں نے آپ کا قارورہ دیکھ کر فیصلہ کیا کہ کہ یہ قارورہ ایسے درویشوں کے قارورے سے مشابہت رکھتا ہے جو روٹیوں کے ساتھہ سالن کا استعمال نہیں کرتے۔ جو صرف سوکھی روٹیاں کھا کر گزارہ کیا کرتے ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ چالیس سال سے آپ کا یہی عمل ہے کہ صرف سوکھی روٹی کھا کر گزارہ کرتے رہے ہیں۔ عرض کیا گیا کہ اطباء نے آپ کے علاج میں سالن کھانا تجویز کیا ہے۔ آپ نے یہ سن کر علاج سے انکار کر دیا ۔ جب آپ کے شیوخ نے بہت مجبور کیا تو روٹیوں کے ساتھہ شکر کھانی منظور فرمائی۔

ابو حفص نامی بزرگ آپ کے والد ماجد کے خاص تلامذہ میں سے ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ کچھہ مال آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ اتفاق حسنہ کہ شام کو بعض تاجروں نے اسی مال پر پانچ ہزار منافع دے کر اسے خریدنا چاہا۔ آپ نے فرمایا کہ صبح بات پختہ کروں گا۔ صبح ہوئی تو دوسرے تاجر پہنچے اور انہوں نے دس ہزار منافع دے کر وہ مال خریدنا چاہا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے شام کو آنے والے اور صرف پانچ ہزار دینے والے تاجر کو یہ مال دے دینے کی نیت کر لی تھی۔ اب میں اپنی نیت کو توڑنا پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ آپ نے دس ہزار کے نفع کو چھوڑ دیا اور پہلے تاجر ہی کے مال حوالہ فرما دیا۔
 

اخلاص
 

مزاج میں انتہا درجہ کی رحمدلی اور نرمی اللہ نے بخشی تھی۔ ایک دفعہ آپ کا ایک مضارب (شریک تجارت، پارٹنر) آپ کے 25 ہزار درہم دبا بیٹھا ۔ آپ کے بعض شاگردوں(محمد بن ابی حاتم وغیرہ) نے کہا کہ وہ قرضدار شہر آمل میں آگیا ہے اب اس سے روپیہ وصول کرنے میں آسانی ہو گی۔ آپ نے فرمایا کہ میں قرض دار کو پریشانی میں ڈالنا نہیں چاہتا ۔

قرض دار خوف سے خوارزم چلا گیا۔ آپ سے کہا گیا کہ گورنر کی طرف سے ایک خط حاکم خوارزم کو لکھوا کر اسے گرفتار کرا دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں حکومت سے ایک خط کے لئے طمع کروں گا اس کے عوض حکومت کل میرے دین میں طمع کرے گی میں یہ بوجھہ برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بالآخر امام نے مقروض سے اس بات پر مصالحت کر لی کہ وہ ہر ماہ ایک مخصوص رقم حضرت کو ادا کیا کرے گا۔ لیکن وہ تمام روپیہ ضائع ہو گیا اور وہ امام کا ایک پیسہ بھی نہ واپس کر سکا۔ مگر آپ نے حلم و عفو کا دامن ہاتھہ سے نہیں چھوڑا ۔

امام کرمانی کا بیان ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کئی کئی دن مسلسل بغیر کھائے پئے گزار دیا کرتے تھے۔ اور کبھی صرف دو تین بادام کھا لینا ہی ان کے لئے کافی ہو جاتا تھا۔ لیکن اس کے ساتھہ وہ بہت ہی سخی اور غرباء نواز و مساکین دوست انسان تھے۔ اپنی تجارت سے حاصل شدہ نفع طلبہ و محدثین پر صرف فرما دیتے تھے۔

 ہر ماہ فقراء و مساکین و طلبہ و محدثین کے لئے پانچ سو درہم تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ بے نفسی کا یہ عالم کہ ایک دفعہ آپ کی ایک لونڈی گھر میں اس طرف سے گزری جہاں آپ کاغذ ، دوات ، قلم وغیرہ رکھا کرتے تھے۔ اس باندی کی ٹھوکر سے آپ کی دوات کی ساری روشنائی فرش پر پھیل گئی۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حرکت پر باندی کو ٹوکا تو اس نے جواب دیا کہ جب کسی جانب راستہ ہی نہ ہو تو کیا کیا جائے۔ حضرت امام بخاری اس نامعقول جواب سے برانگیختہ نہیں ہوئے بلکہ ہاتھہ دراز کر کے فرمایا کہہ جاؤ میں نے تم کو آزاد کر دیا۔ اس پر آپ سے پوچھا گیا کہ اس نے تو ناراضگی کا کام کیا تھا آپ نے اسے آزاد کیوں فرما دیا آپ نے کہا اس کے اس کام سے میں نے اپنے نفس کی اصلاح کر لی اور اسی خوشی میں اسے پروانہ آزادی دے دیا۔

ایک مرتبہ آپ نے ابومعشر ایک نابینا بزرگ سے فرمایا کہ اے ابو معشر تم مجھے معاف کر دو۔ انہوں نے حیرت واستعجاب کے ساتھہ کہا کہ حضرت یہ معافی کس بات کی ہے؟ آپ نے بتلایا کہ آپ ایک مرتبہ حدیث بیان کرتے ہوئے فرط مسرت میں انوکھے انداز سے اپنے سر اور ہاتھوں کو حرکت دے رہے تھے۔ جس پر مجھہ کو ہنسی آگئی۔ میں آپ کی شان میں اسی گستاخی کے لئے آپ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ ابومعشر نے جواب میں عرض کیا کہ اے حضرت امام آپ سے کسی قسم کی باز پرس نہیں ہے۔

خالد بن احمد ذہلی حاکم بخارا نے ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ آپ دربار شاہی میں تشریف لا کر مجھے اور میرے شہزادوں کو صحیح بخاری اور تاریخ کا درس دیا کریں۔ آپ نے قاصد کی زبانی کہلا بھیجا کہ میں آپ کے دربار میں آکر شاہی خوشامدیوں کی فہرست میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ مجھے علم کی بے قدری گوارا ہے۔ حاکم نے دوبارہ کہلوایا کہ پھرشاہزادوں کے لئے کوئی وقت مخصوص فرما دیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ میراث نبوت میں کسی امیر غریب کا امتیاز نہیں ہے۔ اس لئے میں اس سے بھی معذور ہوں۔ اگر حاکم بخارا کو میرا یہ جواب ناگوار خاطر ہو تو جبرا میرا درس حدیث روک سکتے ہیں تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار یں عذر خواہی کر سکوں۔ ان جوابات سے حاکم بخارا سخت برہم ہوئے اور اس نے حضرت امام کو بخارا سے نکالنے کی سازش کی۔
 

اتباع سنت
 
عبادت میں آپ کا استغراق اس درجہ تھا کہ امام کو ایک باغ میں مدعو کیا گیا۔ جب امام ظہر کی نماز سے فارغ ہوگئے تو نوافل کی نیت باندھ لی۔ نماز سے فراغت کے بعد قمیص کا دامن اٹھا کر کسی سے فرمایا کہ دیکھنا قمیض میں کوئی موذی جانور محسوس ہو رہا ہے۔ دیکھا گیا تو ایک زنبور نے سترہ جگہ ڈنگ لگائے تھے۔ اور جسم کے نیش زدہ حصوں پر ورم آرہا تھا۔ کہا گیا کہ آپ نے پہلی ہی بار کیوں نہ نماز چھوڑ دی۔ امام نے فرمایا کہ میں نے ایک ایسی سورہ شروع کر رکھی تھی کہ درمیان میں اس کا قطع کرنا گوارا نہ ہوا۔

 آخر رات میں تیرہ رکعتوں کا آپ ہمیشہ معمول رکھتے تھے۔ اسوہ حسنہ کی پیروی میں تہجد کی نماز کبھی ترک نہ فرماتے۔ رمضان شریف میں نماز تراویح سے فارغ ہو کر نصف شب سے لے کر سحر تک خلوت میں تلاوت قرآن پاک فرماتے اور ہر تیسرے دن ایک قرآن کریم ختم فرما دیتے اور دعا کرتے اور فرماتے کہ ہر ختم پر ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔

اتباع سنت کا اس قدر جذبہ تھا کہ خالص اسوہ حسنہ کے پیش نظر تیر اندازی کی مشق فرمائی۔ اس قدر کہ آپ کا نشانہ کبھی چوکتا نہیں دیکھا گیا ایک دفعہ آپ کا تیر ایک پل کی میخ پر جا لگا جس سے پل کا نقصان ہو گیا۔ آپ نے پل کے مالک سے درخواست کی کہ یا تو پل کی مرمت کے لئے اجازت دی جائے یا اس کا تاوان لے لیا جائے تاکہ ہماری غلطی کی تلافی ہوسکے۔ پل کے مالک حمید بن الاخضر نے جواب میں آپ کو بہت بہت سلام کہلا بھیجا اور کہا کہ آپ بہر حال صورت بے قصور ہیں۔ میری تمام دولت آپ پر قربان ہے۔ پیغام پہنچنے پر آپ نے پانچ سواحادیث بیان فرمائی اور تین سو درہم بطور صدقہ فقراء و مساکین میں تقسیم فرمائے ۔ مقدمہ فتح الباری
 

امیرا لمومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بغداد میں
 
عباسی حکومت کا پایہ تخت بغداد کبھی دنیائے اسلام کا مرکز اور اسلامی علوم و فنون کا بیش بہا مخزن رہ چکا ہے۔ یہی حضرت سید المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ کی شہرت و علمی قبولیت کا زمانہ ہے۔ متکلمین و محدثین فقہاء ومفسرین اطراف عالم سے سمٹ سمٹ کر بغداد میں جمع ہو چکے تھے۔ اس دور میں حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بغداد میں تشریف لائے۔ پورا بغداد آپ کی شہرت سے گونج اٹھا ۔

ہر مسجد ہر مدرسہ ہر خانقاہ میں آپ کے ذہن و حفظ و ذہانت و مہارت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ آخر دارالخلافہ کے بعض محدثین نے آپ کے امتحان کی ایک ترکیب سوچی وہ یہ کہ سو احادیث نبوی میں سے ہر حدیث کی سند دوسری حدیث کے متن میں ملا دی اوران کو دس آدمیوں پر برابر تقسیم کر دیا اور مقررہ تاریخ پر مجمع عام میں آپ کے امتحان کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ مقررہ وقت پر سارا شہر امنڈ آیا۔

ان دس آدمیوں نے نمبروار اختلاط کی ہوئی احادیث امام صاحب کے سامنے پڑھنی شروع کیں۔ اور آپ سے استصواب چاہا۔ مگر آپ ہر شخص اور ہر حدیث کے بارے میں یہی فرماتے رہے کہ لا اعرفہ (میں اس حدیث کو نہیں جانتا) اس طرح جب سو احادیث ختم ہو چکیں تو لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں۔ کسی کا خیال تھا کہ امام حقیقت حال کو پہچان چکے ہیں۔ اور کسی کا خیال تھا کہ آپ نے محدثین بغداد کے سامنے سپر ڈال دی ہے۔

امام المحدثین اسی وقت کھڑے ہوکر پہلے سائل کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ اما حدیثک الاول فبھذا الاسناد خطاءو صوابہ کذا یعنی تم نے پہلی حدیث جس سند سے بیان کی تھی وہ غلط تھی اس کی اصل سند یہ ہے۔ اسی طرح آپ نے دسوں اشخاص کی سنائی ہوئی احادیث کو بالکل صحیح درست کر کے بہ ترتیب سوالات پڑھ کر سنا دیا۔ اس خداداد حافظہ و مہارت فن حدیث کو دیکھہ کر اہل بغداد حیرت زدہ ہوگئے۔ اور بالا تفاق تسلیم کر لیا کہ فن حدیث میں عصر حاضر میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
 
علم الاسناد میں امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کی مہارت تامہ
 
مشہور مقولہ ہے الا سناد من الدین ولو لا الاسناد لقال من شآءماشآءیعنی اسناد کا علم بھی دینی علوم میں داخل ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتی تو جو شخص جو کچھہ چاہتا کہہ ڈالتا ۔ اسی لئے محدث کامل کے لئے ضروری ہے کہ وہ متون احادیث کے ساتھہ تمام رواہ حدیث کے بارے میں ان کی پیدائش اور وفات کے اوقات کی خبر رکھتا ہو۔ ان کے باہمی ملاقات کے سنین یاد ہوں۔ ان کے القاب اور کنیتیں یاد ہوں۔ اور جملہ راویوں کے الفاظ حدیث بھی پوری طرح ضبط ہوں۔ امام بخاری رحمہ اللہ علیہ اس فن میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔

حافظ احمد بن حمدون کا بیان ہے کہ میں عثمان بن ابوسعید بن مروان کے جنازہ میں حاضر ہوا۔ امام بخاری بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ اس موقع پر امام محمد بن یحیٰی ذہلی نے امام بخاری سے اسمائے رواہ اور علل احادیث کے سلسلہ میں کچھ پوچھا۔ امام بخاری نے اس قدر برجستگی سے جوابات عنایت فرمائے جیسے کوئی قل ھو اللہ احد تلاوت کرتا ہو۔

اصطلاح حدیث میں علت قادحہ اس پوشیدہ سبب کا نام ہے جس سے حدیث کی صحت مشکوک اور مجروح ہو جاتی ہے۔ علم حدیث میں کمال حاصل کرنے کے لئے صرف یہی ایک چیز ایسی اہم ہے جس کے لئے بے پناہ قوت حافظہ، ذہن رسا اور نقد و انتقاد کی کامل مہارت درکار ہے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کو باری تعالیٰ نے ان جملہ علوم میں مہارت تامہ عطافرمائی تھی۔

حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نیشاپور میں مقیم تھے۔ اس زمانہ کا واقعہ ابو احمد اعمش بیان کرتے ہیں کہ میں امام بخاری کی مجلس میں حاضر ہوا ۔ امام مسلم تشریف لائے۔ اور ایک معلق حدیث کا درمیانی حصہ سنا کر پوچھا کہ یہ حدیث آپ کے پاس ہو تو اسے متصل فرما دیجئے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی وقت حدیث کو متصل السند پڑھ کر سنا دیا۔

اسی مجلس کا قصہ ہے کہ کسی نے یہ حدیث مع سند پڑھی ۔ حجاج بن محمد عن ۔ بن جریج عن موسی بن عقبہ عن سھیل ابن ابی صالح عن ابیہ عن ابی ھریرہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کفارہ المجلس اذا قام العبد ان یقول سبحنک اللھم وبحمدک استغفرک واتوب الیک۔ سن کر امام مسلم بولے کہ اس حدیث کی اس سے اونچی سند ساری دنیا میں نہیں ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر اس کی سند معلول ہے۔ یہ سن کر امام مسلم رحمہ اللہ علیہ حیرت میں رہ گئے اور فرمانے لگے کہ علت سے آگاہی فرمائیے۔ حضرت امام نے فرمایا کہ رہنے دیجئے جس پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ آپ کو بھی اس پر پردہ ڈالنا چاہیے۔ مگر امام مسلم نے اصرار فرمایا تو آپ نے فرمایا ۔ اچھا سنو غیر معلول سلسلہ سند یوں ہے۔ حدثنا موسٰی بن اسمٰعیل حدثنا وھیب حدثنا موسی بن عقبہ عن عون بن عبداللہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفارہ المجلس ۔۔۔ اذا الحدیث ۔ حدیث کی علت کے سلسلہ میں حضرت امام نے بتلایا کہ موسیٰ بن عقبہ کی کوئی حدیث سہیل سے مرفوع نہیں ہے۔ پھر اس کے لئے حضرت امام نے ثبوت پیش فرمایا۔ جسے سب حاضرین مجلس علمائے حدیث نے تسلیم کیا۔فتح الباری
 
امام بخاری قدس سرہ کی بے نظیر ثقاہت 

علامہ عجلونی نے آپ کی ثقاہت کے بارے میں یہ عجیب واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ دریا کا سفر کر رہے تھے اور آپ کے پاس ایک ہزار اشرفیاں تھیں۔ ایک رفیق سفر نے عقیدت مندانہ راہ و رسم بڑھا کر اپنا اعتماد قائم کر لیا۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی اشرفیوں کی اسے اطلاع دے دی۔ ایک روز آپ کا یہ رفیق سوکر اٹھا تو اس نے با آواز بلند رونا شروع کر دیا۔

 اور کہنے لگا کہ میری ایک ہزار اشرفیاں گم ہو گئی ہیں۔ چنانچہ تمام مسافروں کی تلاشی شروع ہوئی۔ حضرت امام نے یہ دیکھہ کر کہ اشرفیاں میرے پاس ہیں اور وہ ایک ہزار ہیں۔ تلاشی میں ضرور مجھہ پر چوری کا الزام لگایا جائے گا۔ اور یہی اس کا مقصد تھا۔ امام نے یہ دیکھہ کر وہ تھیلی سمندر کے حوالہ کر دی۔

 امام کی بھی تلاشی لی گئی۔ مگر وہ اشرفیاں ہاتھہ نہ آئیں اور جہاز والوں نے خود اسی مکار رفیق کو ملامت کی۔ سفر ختم ہونے پر اس نے حضرت امام سے اشرفیوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے ان کو سمندر میں ڈال دیا۔ وہ بولا کہ اتنی بڑی رقم کا نقصان آپ نے کیسے برداشت فرمالیا۔ آپ نے جواب دیا کہ جس دولت ثقاہت کو میں نے تمام عمر عزیز گنوا کر حاصل کیا ہے۔ اور میری ثقاہت جو تمام دنیا میں مشہور ہے کیا میں اس کو چوری کا اشتباہ اپنے اوپر لے کر ضائع کر دیتا۔ اور ان اشرفیوں کے عوض اپنی دیانت وامانت و ثقاہت کا سودا کر لیتا میرے لئے ہرگز یہ مناسب نہ تھا۔
 
وجہ تالیف الجامع الصحیح البخاری
 
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقدمہ فتح الباری میں تفصیلا لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ و تابعین کے پاکیزہ زمانوں میں احادیث کی جمع و ترتیب کا سلسلہ کماحقہ نہ تھا۔ ایک تو اس لئے کہ شروع زمانہ میں اس کی ممانعت تھی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے ثابت ہے۔ محض اس ڈر سے کہ کہیں قرآن مجید اور احادیث کے متون باہمی طور پر گڈمڈ نہ ہوجائیں۔

دوسرے یہ کہ ان لوگوں کے حافظے وسیع تھے۔ ذہن صاف تھے۔ کتابت سے زیادہ ان کو اپنے حافظہ پر اعتماد تھا اور اکثر لوگ فن کتابت سے واقف نہ تھے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کتابت احادیث کا سلسلہ زمانہ رسالت میں بالکل نہ تھا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وجوہ بالا کی بنا پر کما حقہ نہ تھا۔ پھر تابعین کے آخر زمانہ میں احادیث کی ترتیب وتبویب شروع ہوئی۔ خلیفہ خامس حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے حدیث کو ایک فن کی حیثیت سے جمع کرانے کا اہتمام فرمایا۔ تاریخ میں ربیع بن صبیح اور سعید بن عروبہ وغیرہ وغیرہ حضرات کے نام آتے ہیں جنہوں نے اس فن شریف پر باضابطہ قلم اٹھایا ۔

 اب وہ دور ہو چلا تھا جس میں اہل بدعت نے من گھڑت احادیث کا ایک خطرناک سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ان حالات کے پیش نظر طبقہ ثالثہ کے لوگ اٹھے اور انہوں نے احکام کو جمع کیا۔ حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے موطا تصنیف کی جس میں اہل حجاز کی قوی روایتیں جمع کیں، اور اقوال صحابہ فتاوی و تابعین کو بھی شریک کیا۔ ابو محمد عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مکہ المکرمہ میں اور ابو عمرو عبدالرحمن بن عمر اوزاعی نے شام میں اور عبداللہ سفیان بن سعدی ثوری نے کوفہ میں اور ابو سلمہ حماد بن سلمہ دینار نے بصرہ میں حدیث کی جمع ترتیب و تالیف پر توجہ فرمائی ۔

 ان کے بعد بہت سے لوگوں نے جمع احادیث کی خدمت انجام دی اور دوسری صدی کے آخر میں بہت سی مسندات وجود پذیز ہو گئیں جیسے مسند امام احمد بن حنبل، مسند امام اسحق بن راہویہ، مسند امام عثمان بن ابی شیبہ، مسند امام ابوبکر بن ابی شیبہ وغیرہ وغیرہ۔ ان حالات میں سید المحدثین امام الائمہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کا دور آیا۔ آپ نے ان جملہ تصانیف کو دیکھا ، ان کو روایت کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کتابوں میں صحیح اور حسن ضعیف سب قسم کی احادیث موجود ہیں۔
 
ایک مبارک خواب 

حدیث رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ کے قلب مبارک میں ایک خاص الخاص جذبہ تھا۔ ایک رات آپ خواب دیکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں اور آپ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہو کر پنکھا جھل رہے ہیں اور مکھی وغیرہ موذی جانوروں کو آپ سے دور کر رہے ہیں۔ بیدار ہو کر معبرین سے تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے بتلایا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پاک کی عظیم خدمت انجام دیں گے۔ اور جھوٹے لوگوں نے جو احادیث خود وضع کر لی ہیں، صحیح احادیث کو آپ ان سے بالکل علیحدہ چھانٹ دیں گے۔

 اسی دوران آپ کے بزرگ ترین استاد حضرت اسحق بن راہویہ نے ایک روز فرمایا کاش آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح صحیح احادیث پر مشتمل ایک جامع مختصر کتاب تصنیف کر دیتے۔حضرت امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے دل میں یہ بات بیٹھہ گئی اور میں نے اسی دن سے جامع صحیح کی تدوین کا عزم بالجزم کر لیا۔ اسی سلسلہ میں نجم بن فضیل اور وراق بخاری کا خواب بھی قابل لحاظ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر شریف سے باہر تشریف لائے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدم مبارک اٹھاتے ہیں، امام بخاری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کی جگہ پر اپنا قدم رکھہ دیتے ہیں۔

ابو زید مروزی کا خواب حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ میں رکن اور مقام کے درمیان بیت اللہ کے قریب سورہا تھا۔ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ابوزید! کب تک شافعی کی کتاب کا درس دیتے رہو گے اور ہماری کتاب کا درس نہ دو گے۔ عرض کیا حضور فداک ابی وامی آپ کی کتاب کونسی ہے؟ فرمایا جسے محمد بن اسماعیل بخاری نے جمع کیا ہے۔ 

طریقہ تالیف الجامع الصحیح البخاری
 
اس بارے میں خود امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حدیث اس کتاب میں اس وقت تک داخل نہیں کی جب تک غسل کر کے دو رکعت نماز ادا نہ کر لی ہو۔ بیت اللہ شریف میں اسے میں نے تالیف کیا اور دو رکعت نماز پڑھ کر ہر حدیث کے لئے استخارہ کیا۔ مجھے جب ہر طرح اس حدیث کی صحت کا یقین ہوا، تب میں نے اس کے اندارج کے لئے قلم اٹھایا۔ اس کو میں نے اپنی نجات کے لئے جحت بنایا ہے۔ اور چھہ لاکھہ حدیثوں سے چھانٹ چھانٹ کر میں نے اسے جمع کیا ہے۔

علامہ ابن عدی اپنے شیوخ کی ایک جماعت سے ناقل ہیں کہ امام بخاری الجامع الصحیح کے تمام تراجم ابواب کو حجرہ نبوی اور منبر کے درمیان بیٹھہ کر اور ہر ترجمہ الباب کو دو رکعت نماز پڑھ کر اور استخارہ کر کے کامل اطمینان قلب حاصل ہونے پر صاف کرتے۔ وراق نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ میں امام بخاری کے ساتھہ تھا۔ میں نے آپ کو کتاب التفسیر لکھنے میں دیکھا کہ رات میں پندرہ بیس مرتبہ اٹھتے چقماق سے آگ روشن کرتے اور چراغ جلاتے اور حدیثون پر نشان دے کر سو رہتے ۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام صاحب سفر و حضر میں ہر جگہ تالیف کتاب میں مشغول رہا کرتے تھے اور جب بھی جہاں بھی کسی حدیث کے صحیح ہونے کا یقین ہو جاتا اس پر نشان لگا دیتے اس طرح تین مرتبہ آپ نے اپنے ذخیرہ پر نظر فرمائی۔ آخر تراجم ابواب کی ترتیب اور تہذیب اور ہر باب کے تحت حدیثوں کا درج کرنا۔

اس کو امام صاحب نے ایک بار حرم محترم میں اور دوسری بار مدینہ منورہ مسجد نبوی منبر اور محراب نبوی کے درمیان بیٹھہ کر انجام دیا۔ اسی تراجم ابواب کی تہذیب و تبویب کے وقت جو حدیثیں ابواب کے تحت لکھتے پہلے غسل کر کے استخارہ کر لیتے۔ اس طرح پورے سولہ سال کی مدت میں اس عظیم کتاب کی تالیف سے فارغ ہوئے۔
  

 


:دیگر مضامین
(28.02.2009) اُن کی مدحت خُدا کی مدحت ہے
(27.02.2009) ہجرت کا پہلا سال.۔از۔آغا سید عبدالحسین بڈگامی
(27.02.2009)  بيمارستان رضوي بہ زائران پيادہ خدمات پزشكي ارايہ مي‌دہد
(27.02.2009) پاکستانی سیاست اور لوٹا کریسی
(25.02.2009) پاکستان پھر ایک بار سنگین سیاسی بحران کی کھائی میں
(24.02.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں(پانچویں قسط)
(23.02.2009) زائران غيرايراني و سوگواري شہادت حضرت رضاعلیہ السلام
(23.02.2009) نمايندہ مقام معظم رہبري در لبنان
(23.02.2009) مراسم عزاداري دهه آخر صفر در حسينيه و كتابخانه امام رضا
(23.02.2009)  مديركل روابط عمومي آستان قدس رضوي
(23.02.2009) اسرائیلی عربوں کا غصہ اور ووٹ
(22.02.2009) در نگارخانہ رضوان افتتاح شد
(22.02.2009) تأليف 50 عنوان کتاب با موضوع علوم طبيعي و رياضي
(20.02.2009) سوگواري زائران غيرايراني حرم مطهر رضوي در دهه آخر ماه صفر
(20.02.2009) تاریخ مشہد الرضا
(20.02.2009) بچے سقے کو کون نہیں جانتا
(20.02.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں(چوتھی قسط)
(18.02.2009) مغربی میڈیا پاکستان کا وقار اور اسلام کا تشخص تباہ کرنا بند کرے۔
(18.02.2009) پتنگ بازی، بسنت رت کا ایک اہم جزو
(18.02.2009) ایسے ویسے کیسے کیسے ہو گئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں