جبران کی قابل داد ذہانت مسٹر ڈے کا اس کو شیلے کیٹس اور بلیک کے مطالعے سے متعارف کرانا اور جوزمین کی صحبت نے جبران کی فلسفیانہ گفتگو میں حیرت انگیز اضافہ کیا. اس کی پینٹنگز بک بھی رہی تھیں لیکن معاشی حالات بے حد خراب تھے کہ ایک دن تارکین وطن کے ایک اخبار ” المہاجر ” کے مدیر سے اس کی ملاقات ہوئی جو جبران کی عالمانہ گفتگو سے بے حد متاثر ہوا اور اس نے جبران کو اپنے اخبار کے لئے کالم لکھنے کی پیش کش کی جس کا معاوضہ دو ڈالر فی ہفتہ طے ہوا اس طرح جبران قلم کی دنیا میں داخل ہوا۔
جبرا ن کا پہلا مضمون “وژن” تھا اس مضمون میں اس نے پنجرے میں بند ایک پرندے کا احوال بیان کیا جو دانہ اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے مر گیا تھا ایک شاعر ہونے کی حیثیت سے اس نے پنجرے کو ڈھانچا بن جانے والے انسان سے اور پرندے کو دل سے تشبیہ دی تھی. یہ اس کی دائمی افسردگی کا دل دوز اظہار تھا. میں انسانی قلب ہوں جو لوگوں کی باتوں کی تاریکی میں مقید اور اوہام کی زنجیروں سے بندھا ہوا ہے یہاں تک کہ میں لبِ مرگ پہنچ چکا ہوں تہذیب اور ان کی ترغیبات میں مجھے بھلایا جا چکاہے انسانیت کی زبان بند ہے اور اس کی آنکھیں خشک ہیں اور وہ مسکرا رہی ہے.
اس اخبار کے چند ہی مضامین شائع ہوئے تھے کہ اس کے سادہ عربی اسلوب نے تارکینِ وطن کے دل موہ لئے اس نے شاعری کی زبان کو نثر میں داخل کرکے ایک ایسا نیا اسلوب وضع کیا جو بالکل نیا تھا.عربی لٹریچر اس قسم کی نثر سے خالی تھا اس کی نثر میں حقیقت بھی تھی خواب بھی تھے زندگی کا ماورائی تصور جسے وہ پیش کررہا تھا وہ کیٹس، شیلے اور بلیک کے وہ تصورات تھے جن سے جبران متاثر ہوا تھا ان انگریزی شعراء کے تصورات کو وہ عربی نثر میں پیش کررہا تھا جو ایک نئی چیز تھا.
اُداسی کے ان دنوں میں جبران اپنا تمامتر وقت لکھنے لکھانے میں گذارنے لگا اس کا کالم عربی ادیبوں میں بے حد مقبول ہو رہا تھا اس کا رومانی طرزِ تحریر اور فطرت سے اس کی دلچسپی عربی ادیبوں کے لئے متاثرکن تھی اس نے اپنے کالموں سے جن موضوعات کو اٹھایا وہ بھی انقلاب آفرین اور جدید تھے وہ اپنے کالموں میں چرچ اور ریاست کے جبر و استبداد کی مذمت بلا خوف وخطر کررہا تھا اور مشرقی وسطیٰ میں عورتوں کی مجبوریوں کی تصویر کشی کر رہا تھا جو عرب لٹریچر میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی.
(جاری)