اس اثناء میں جبران کی ملاقات ‘ میری ہیکل ‘ سے ہوئی جو کافی صاحبِ حیثیت خاتون تھی جس نے ایک طویل عرصے تک جبران کو مالی تعاون فراہم کیا میری ہیکل ایک ایسی خاتون تھی جو جبران کی زندگی میں ایک بہترین دوست اور معاون کی حیثیت سے رہی اس سے جبران کی شادی بھی طے ہو گئی تھی جو نہیں ہوسکی یہ جبران سے آٹھ سال بڑی تھی میری کا جبران کی زندگی میں ایسا مخصوص دخل رہا کہ جبران نے اپنی کئی کتابوں کے انتساب میری ہیکل کے نام لکھے میری کی کوشش اور مالی تعاون کی وجہ سے مصوری کی اعلیٰ تعلیم کے لئے جبران پیرس بھی گیا۔
بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں پیرس اعلیٰ جمالیات پسندی کا مرکز تھا. بونارڈ. ڈیگاس، گاگین. کیلے. اور پکاسو جیسے عظیم مصوروں نے اسکول آف پیرس کو اعتبار بخشا تھا یہاں کے مرد و زن فنِ مصوری میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کرنے میں دنیا بھر میں مشہور ہو رہے تھے جبران کا خیال تھا کہ اس کے نام کے ساتھ پیرس کا اسکول آف آرٹس جبران کی تصاویر کی قیمت میں اضافے کا سبب بنے گا .
پیرس روانہ ہونے کے بعد ‘ المہاجر ‘ نے اس کی چار کہانیوں پر مشتمل کتاب باغی روحیں شائع کی. یہ چاروں کہانیاں پہلے المہاجر میں شائع ہو چکی تھیں یہ کہانیاں بھی اس کی پہلی کہانیوں کی طرح لبنان میں سماجی جبر کے موضوع پر لکھی گئی تھیں دوسری کہانی قبروں کی پُکار میں جبران نے لبنان کے بدعنوان اور استحصالی عدالتی نظام کی ناانصافیوں کو موضوع بنایا تھا قبروں کی پُکار میں جابر امیر غریبوں کی عدالت لگاتا ہے اور بغیر مقدمہ چلائے ملزموں کا مجرم قرار دیتا ہے.
باغٰی روحیں کی دیگر دو کہانیاں ” وردہ الہانی ” اور ” دلہن کا بستر ” میں مشرقِ وسطیٰ میں عورتوں کے حقوق. متعصبانہ. جابرانہ اور جاگیردارانہ نظام کو موضوع بنایا گیا تھا. ایسی باغیانہ کہانیوں نے اس روایت پسند عہد کوہلا کر رکھ دیا مصر اور شام میں اس کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا شام کی حکومت نے اس کتاب پر پابندی لگادی ہنگامہ اتنا بڑھا کہ بیروت کے ایک بازار میں مشتعل ہجوم نے اس کی کتابوں کو نظر آتش کیا پیرس میں ایک ترک نوجوان نے جبران پر گولی چلادی جس سے وہ بچ گیا.
بیروت سے میرونی چرچ کے ود نمائندے اسے باز رکھنے کے لئے پیرس پہنچے جنہیں جبران نے یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ ابھی تو آپ لوگ میری کتاب ‘ ٹوٹے ہوئے پر’ کا انتظار کیجئے جس کا مطالع آپ لوگوں کے لئے ضروری ہے۔
اکتوبر 1910 میں جبران پیرس سے بوسٹن واپس آگیا جہاں وہ بھر پور طور پر مصوری اور ساتھ ساتھ تصنیفی کاموں میں مشغول رہا اور پھر اپنی تصاریر کی بہتر قیمت پانے کے لئے نیو یارک منتقلی کا فیصلہ کیا اور اپریل 1911 میں وہ نیو یارک منتقل ہو گیا جہا ں وہ اپنی دونوں دلچسپیوں میں منہمک رہا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس دور میں وہ ایک فعال مصور تھا یا مصروف مصنف. اسکی تصاویر کی نمائشیں بھی جاری تھیں اور 1912 میں اس کی کتاب ‘ ٹوٹے ہوئے پر’ بھی شائع ہوئی
.
اس ناول کے ذریعے جبران نے جہاں مذہبی پیشواؤں کی بد عنوانیوں کی نقاب کشائی کی وہیں وہ مشرقِ وسطیٰ میں عورتوں کے حقوق کا اولین محافظ بھی بن گیا. اس ناول میں سچی محبت ایک ایسے معاشرے میں ناکام ہوتی ہے جو عورت کو جنسِ فروخت سمجھتا ہے اس ناول میں ا س نے دولت و اقتدار کے جبر تلے دبی ہوئی عورت سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے.
اس نے لکھا.
‘ انسان کی آنکھیں شمعوں کی مانند روشنی کی عادی ہوچکی ہیں
اور وہ سورج کی روشنی دیکھنے سے قاصر ہیں روحانی بیماری
ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ انکی
زندگی کاجُز بن جاتی ہے جسے وہ بیماری نہیں بلکہ نعمت سمجھتے
ہیں اگر ایسا کوئی شخص ملے جو اس بیماری سے پاک ہو تواسے
تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں ‘
(جاری ہے)