اس ناول کی سب سے خوبی یہ تھی کہ اس ناول کا ہیرو جبران خود تھا جوبڑی بہادری سے سیاسی اور مذہبی نمائندوں کو چیلنج کر رہا تھا اس ناول کے شائع ہوتے ہی عربی ادب کی دنیا میں اس کی دھوم مچ گئی. جبران کا شگفتہ اسلوب، شاعرانہ نثر،تفکر آمیز فقرے. جدید موضوع نقادوں کے لئے توجہ کا مرکز بن گئے . اس کے اسلوب پر مضامین لکھے جانے لگے اس کے جملے ضرب المثال بن کر گفتگو میں شامل ہونے لگے ۔ اب وہ مختلف موضوعات پر قلمکاری کر رہا تھا اس نے مسلمان فلسفیوں پر مضامین لکھے. پہلا مضمون اس نے ابنِ سینا پر لکھا پھر ابن الفرید پر پھر امام غزالی پر. اس کے نزدیک یہ مضامین مغرب سے پوشیدہ عظیم عرب فکری خزانہ کو سامنے لانے کے لئے لکھے گئے ۔ ان مشاہیر کو پڑھتے ہوئے وہ خود ان سے اتنا متثر ہوا کہ ان فلسفیانہ خیالات کو نظم کرنے کا خیال آیا اس نے نثری نظمیں لکھنا شروع کیں یہ نظمیں اس نے ‘المہاجر’ اور ‘مراۃ المغرب’ میں شائع کرائیں پھر اس نے ان کا مجموعہ چھاپا جس کا نام ‘ ایک آنسوایک مسکراہٹ’ رکھا.
اب وہ آرٹ کی طرف سے غافل ہو چکا تھا شاعری کی دیوی اس پر مہربان تھی وہ فلسفے، تصوف، وطن سے دوری، فطرت پرستی اور سیاست کے موضوع پر نظمیں تخلیق کر رہا تھا جسے وہ اپنے نئے مجموعے ‘ پاگل ‘ میں شامل کرنا چاہتا تھا. وہ یہ ثابت کرنے کے لئے لکھ رہا تھا کہ جنہیں دنیا پاگل کہتی ہے دراصل وہی ہوشمند ہیں یہ ایک عجیب موضوع ہے بالکل میری طرح.
یہاں سے وہ پھر مصوری کی دنیا کی طرف پلٹ گیا دن رات نئی تصویریں تخلیق پانے لگیں نمائشوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا دراصل معاشی مسائل اسے یکسوئی سے ایک کام نہیں کرنے دیتے تھے کئی نمائشیں .کئی کتابیں.. اور پھر باالآخرجبران کی زندگی ایک نئے انقلاب سے دو چار ہوئی ستمبر 1923 کو ایک چھوٹی سی سیاہ جلد کا لباس پہنے ہوئے جبران کے فلسفیانہ مضامین کا مجموعہ جبران کی پہلی انگریزی زبان میں چھپنے والی ایک مختصر سی لیکن اس دور کے انگریزی ادب کا عظیم سرمایہ تخلیق ” پیغمر” نیو یارک کے کتب فروشوں کو نہال کرتی ہوئی اورقاری کی نگاہوں کو چکاچوند کرتی ہوئی رونما ہوئی اور اس بہت چھوٹی سی کتاب نے جبران کو بڑا آدمی بنا دیا۔
اس کتاب کے چھپنے کے ایک ماہ بعد Colorado Collage کے صدر نے جبران کو خط لکھا جس میں اس نے کالج کے گرجا گھر کے گھنٹے پر پیغمبر کا ایک مصرع نقش کرنے کی اجازت طلب کی تھی اور وہ مصرع تھا ” گذرا ہوا کل آج کا حافظہ ہے اور آنے والا کل آج کا خواب ”
(جاری ہے)