دس اپریل 1931کی صبح ملازمہ جب اسے ناشتہ دینے آئی تو وہ گنگنا رہا تھا
ہم دھندلکوں میں چلے جائیں گے
شاید ایک دوسری دنیا کی صبح میں جاگنے کے لئے
تاہم محبت موجود رہے گی
اور اس کی انگلیوں کے نشان مٹائے نہیں جا سکیں گے
ہمارے لئے بہتر یہی ہے
کہ ہم الوہیت میں راحت تلاش کریں
اور انسانوں اور کمزوروں سے محبت کریں
مستقبل پر راج کریں
پھر ملازمہ نے دیکھا کہ اس کی آواز ڈوب رہی ہے اس نے جبران کے دوستوں کو بلایا . ہسپتال لے جایا گیا . میری ہیکل اور ماریانہ کو بوسٹن تار دیا گیا وہ بہادر آدمی دن بھر موت سے لڑتا رہا لیکن 31 اپریل 1931 کو رات ساڑھے دس بجے صرف اڑتالیس سال کی عمر میں اس نے اپنی شکست تسلیم کرلی.
یہ ایسٹر کے بعد کا پہلا جمعہ تھا تابوت نیویارک سے بوسٹن لایا گیا بوسٹن کی سڑکوں پر لوگ قطار بنائے کھڑے تھے جب جنازہ بوسٹن کی گلیوں سے گزرا اور ٹریفک پولیس نے سلامی دی تو قطاروں میں کھڑے ہوئے لوگ احتراماً گھٹنوں کے بل جھک گئے جنازے کو امانتاً ًBenedcut کے قبرستان میں دفن کردیا گیا۔
تین مہینے بعد 23 جولائی 1931 کو اس کی وصیت کے مطابق اس کا تابوت بحری جہاز میں رکھا گیا بینڈ کی ماتمی دھنوں نے اس جہاز کو جس پر اس کا جسدِ خاکی رکھا گیا تھاانتہائی پُروقار انداز میں رخصت کیا اور اس طرح اس کی لبنان واپسی کی خواہش پوری ہوگئی چار ہفتے بعد جب یہ جہاز لبنان پہنچا تو سرکاری وفد اس کا تابوت وصول کرنے کے لئے کھڑا تھا تابوت کو کھولا گیا اور لبنان کے وزیر تعلیم نے جبران کے سینے پر فنونِ لطیفہ کا تمغہ لگایا (دنیا کی شاید واحد مثال) سرکاری افسران جنازے کے ساتھ روانہ ہوئے ۔
تمام راستوں پر وہاں کی رسموں کے مطابق مرد تلواروں کا رقص کررہے تھے اور عورتیں نوحے پڑھ رہی تھیں سینٹ جارج کیتھڈرل میں ایک بڑے مجمع نے عظیم شاعر. مصور دانشور فخرِ لبنان کے لئے دعائے مغفرت کی. شام کو صدر جمہوریہء لبنان نے ایک سرکاری تقریب منعقد کی جسِ میں جبران کے بچپن کے دوست امین ریحانی نے نہایت جذباتی تقریر کے ذریعے اپنے دوست کو خراجِ تحسین پیش کیا اب اس کا جنازہ بشاری کی اسی خانقاہ مارکسس لے جایا گیا تمام راستے کی بستیوں کے قریب وہاں کے مقامی لیڈر ماتمی تقریریں کررہے تھے عورتیں سینہ کوبی کر رہی تھیں اور مرد نوحے پڑھ رہے تھے۔
اس کی روح ہمیشہ بے چین رہتی تھی. لبنان جانے کے لئے . بشاری پہنچنے کے لئے… اور بالآخر اس نے اپنی زندگی دے کر ماکسس کی بچپن کی یادگار خانقاہ خرید لی……اور اس کی روح کو قرار آگیا۔