مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیو ختم کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ نیویارک میں غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں بل گیٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور نائجیریا میں پرتشدد واقعات ان کے مشن میں رکاوٹ بن

سکتے ہیں جس کے باعث دوہزار اٹھارہ تک دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کا مشن پورا نہیں ہوسکے گا۔
بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن نے دوہزار تیرہ میں یہ مشن شروع کیا تھا کہ آئندہ چھ سال میں دنیا سے پولیو کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ بل گیٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پرتشدد کارروائیاں انسداد پولیو مہم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ میڈیکل ریسرچ اور وبائی بیماریوں کے لیے ویکسین کی فراہمی کے لیے امداد فراہم کرنے والے ادارے بل گیٹس اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ بل گیٹس نے 2013ء میں اگلے چھ سالوں کے دوران پولیو کا خاتمہ اپنی پہلی ترجیح قرار دیا تھا۔
مائیکرو سوفٹ کے چیئرمین اور سماجی کارکن بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ2018 تک پاکستان کوپولیو فری کرنے کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کے حوالے سے صورت حال سنگین ہے، پولیو ویکسین کامقصد بچوں کی مدد کرنا ہے، جب کہ پولیو ورکرز پر حملہ غیرمنصفانہ عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا پولیو ورکرز پر حملوں سے بیماری پر قابو پانے میں ایک سے دو سال کی تاخیر ہوسکتی ہے۔
بل گیٹس نے ناصرف پولیو کے خاتمے کے لیے ویکسین کی فراہمی میں اپنی دولت کا خطیر حصہ دیا تھا بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی اس میں حصہ ڈالنے پر ان حوصلہ افزائی کی تھی، انڈیا جہاں بچوں کو لاحق ہونے والی بیماری جس میں ان کی ٹانگیں معذور ہوجاتی ہیں، بُری طرح پھیلی ہوئی تھی، اب وہاں تین سال سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔
تاہم پولیو کی بیماری افغانستان، نائجیریا اور پاکستان میں عام ہے۔ صومالیہ اور شام جو پہلے اس وبا سے پاک ہوچکے تھے، اب وہاں جاری خانہ جنگی نے ان ملکوں کو بھی دوبارہ اس وبائی مرض کی جانب دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ یہ ویکسین بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھتی ہے، اور اس کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں اور پولیو ویکسین پلانے والے ہیلتھ ورکروں پر حملے ، ان لوگوں کو انصاف اور سچائی کی ضرورت نہیں ہے، اس طرح ہم اپنے اہداف سے دور ہو جائیں گے، اس کیلئے پاکستان میں حکومتی قیادت، مذہبی رہنماؤں اور حمایتوں کی بڑی تعداد حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش میں مدد کرے۔
مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ نونہالوں کو معذوری سے بچانا جرم بن گیا ہو، واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں دو خواتین سمیت انسداد پولیو ٹیم کے تین رضاکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، جب کہ مانسہرہ اور پنجگور میں بھی پولیو ٹیموں پر حملے کیے گئے، جس کے بعد ضاکاروں نے احتجاجامہم بند کردی۔ یہ تمام حملے پاکستان میں جاری انسداد پولیو مہم روکنے کیلئے کیے گئے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اس قبل ہی عالمی تنظیم برائے ڈبلیو ایچ او نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ پشاور پولیو کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شہر بن چکا ہے۔ کالعدم طالبان اور شمالی نائجیریا میں اسلامی باغی گروہ کی جانب سے پولیو ویکسین کی مخالفت بہت زیادہ سخت ہوچکی ہے،اس کی وجہ سے پاکستان اور نائجیریا حقیقی معنوں میں زوال کی طرف جارہے ہیں۔“
پولیو کے خاتمے کے عالمی ادارے نے گزشتہ سال نومبر میں کہا تھا کہ نائجیریا میں 2013ء کے دوران پولیو کے دنیا بھر میں 328 کیسز میں سے اکیاون کیسز رپورٹ ہوئے، جب کہ 2012ء میں دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد 223 تھی، جس میں سے 121 نائجیریا میں رپورٹ ہوئے۔
تاہم نائجیریا میں پولیو کیسز کی تعداد میں کمی آئی تھی، پاکستان میں اس کے برعکس اس کی تعداد میں اضافہ ہوا، ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں پچھلے سال پولیو کے 91 کیسز ریکارڈ ہوئے، جب کہ 2012ء میں یہ تعداد 58 تک جا پہنچی۔ اپنے انٹریوی میں بل گیٹس کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ تعداد بہت کم ہے، اور اگر اس پر سنجیندگی سے غور کیا جائے تو اس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
گیٹس فاؤنڈیشن ہر سال پولیو کے خاتمے کے پروگرام پر تیس کروڑ ڈالرز سے زیادہ کی رقم خرچ کرتی ہے، اور امریکی کانگریس نے مزید رقم بھی مختص کررکھی ہے