انتیس جنوری دو ہزار چودہ ، بدھ کے دن بارہ بج کر دس منٹ اور چالیس سیکنڈ پر مسیحائی کرتے کرتے اچانک مجھے اس کرسی پر بیٹھنا پڑگیا جس کرسی پر مریض بیٹھتے تھے ۔ یہ سانحہ ایک پل کے ہزارویں حصے میں ہوا تھا ۔ بائیں گردے کی
پتھری نے اپنی جگہ کیا چھوڑی کی دہائی مچ گئی ۔۔۔۔۔۔ درد ، پسینے کی ایک ایسی لہر آئی کہ لگا جیسے وقت آخر آ گیا تھا ۔۔ ایک ایسا وقت جس میں خدا والوں کو بھی خد ایاد نہیں رہتا پھر بھلا مجھ حقیر پر تفصیر کی اوقات ہی کیا تھی ۔۔۔ مجھے بھی یاد رہا تو بس ایمبولنس کو بلانا یاد رہا ۔۔۔ احساس ہوا خدا کو دن رات یاد کرنے سے بھی کہاں ایسےتعلق بنتے ہیں کہ اس سے ملنے کی خواہش کو پور اہوتادیکھ کر لبیک کہہ دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے احباب نے مجھ سے گلہ کیا کم از کم ایک سیکنڈ نکال کرفیس بک پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کر دیتیں یا فون ہی کر دیتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیجئے دوستو آئیندہ مرنے سے پہلے بھی ایک پل مہلت مانگ کر ضرور لکھ کر جہاں سے جانے کی کوشش کرونگی ۔ ۔۔
میری بیماری کی خبر پاتے ہی محترم المقام جناب صفدر ہمدانی نے عالمی اخبار کے ادارتی بورڈکوناصرف ہلا ڈالا بلکہ یوں پل پل با خبر رکھا کہ میرے قارئین تک نے جائے نماز بچھا لیئے ۔۔ جان عزیز بہنوں دلشاد نسیم ، نزہت نسیم کی تیماردارانہ پوسٹ ۔۔۔ بھائی بھابئیوں کے پیغامات ۔۔ ابا جی اور امی جی اور میری دوسری امی جی یعنی میری ساس کی اللہ میاں کے ہاں سفارشیں ۔۔ ۔۔ خالد ندیم شانی ۔۔ میرے ویر کی پریشانی ۔۔۔ شاہین حیدر رضوی ، نوشی عقیل ، علی جان کی منتیں مرادیں ۔۔ اور انکے اہل خانہ کے ہر فرد کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ مجھے جاننے والوں ، پڑھنے والوں کی صدق دل سے مانگی ہوئی دعاؤں ، فون کالز ، ان باکس میں دعاؤں اور پھولوں کی سوغاتوں نے مجھے بستر علالت پر جہاں بہت بہت شکر ادا کرتے ہوئے اشکبار کیا وہاں یہ سکون بھی دیا کہ اب اگر میں اس جہاں میں نہ بھی رہوں تو اپنی فانی عمرسے زیادہ حیات پا جاؤنگی ۔
میں نے اپنے مالک سے بڑے راز و نیاز کیئے ۔۔ اس کے سامنے فردا فردا سب کاشکریہ ادا کیا ۔۔ دعا کی ۔۔میرے مالک مجھے اپنے شکرگزار بندوں میں رکھنا ۔۔۔۔ مجھے نبھاہنے والوں میں اٹھا نا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بھی تیمارداروں میں رکھنا کہ تیماردار تو دلدار ہوتے ہیں ۔۔۔۔ وہ جو دلداری کی نمازیں قضا نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔ الہی آمین
کل میں جب گھرپہنچی تو نقاہت سے نڈھال تھی ۔ گردے کے زخم نے جیسے درد کے معنی نئے نئے سمجھا ئے تھے ۔ بخار بھی جیسے ابھی ایجاد ہوا تھا ۔ میں شاید بیماری کے جال میں جکڑی جا چکنے ہی والی تھی ۔۔۔ کہ فون کی گھنٹی بجی ۔۔ دوسری طرف لائق احترام امین بھایانی بھائی تھے ۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھائی مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں پر مجھے ان کا احترام کبھی آپ سے تم پر نہیں آنے دیتا ۔ انہوں نے اپنی ازلی معصومیت سے تسلی کے ایسے پاہے رکھے کہ میں واقعی مطمعن سی ہو کر دوبارہ گھٹنوں میں سر دے کر اپنے درد کو بہلانے جا ہی رہی تھی کہ ایک اور فون بجا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اف ۔۔۔۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھا لیا ۔۔۔۔۔
اب دوسری طرف امجد شیخ تھا ۔۔۔۔ہنستا کھلکھلاتا ہوا امجد شیخ ۔۔۔۔ رشتے میں میرا کچھ نہیں لگتا، لیکن یوں لگتا ہے جیسے اس سے ہر رشتہ جڑا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ امجد شیخ کے قریب جانا ۔۔ اس کی نظر میں آنا ۔۔ پھر رہنا ۔۔۔۔ اس پر پھر رہتے رہنا کچھ بھی تو آسان نہیں ہے ۔۔۔۔ پر میری قسمت ، نظر بدور ( امجد کا قہقہ سنائی دے رہا ہے کہ اسے قسمت ، خدا ، قیامت سب کچھ دل بہلاوہ لگتا ہے ) مجھے “ ڈاکٹر صاحبہ “ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھ سے اسے “ اللہ واسطے کی محبت “ ہے ۔ بلا وجہ اسے مجھ میں ہر خوبی مل جاتی ہے ۔
جب اس نے میری بیماری کا سنا تو عالمی اخبار کے بلاگ میں لکھا “
ضیا الحق قاسمی مرحوم کا شعر ہے
ایک دکھ ہو تو کوئی اس کا مداوا بھی کرے
دردِ دل، دردِ کمر، دردِ جگر تینوں ہیں
اگر یہ شعر ہم کہتے تو بیس تیس قسم کے درد نکلتے۔ یقین جانیے اس میں ہم دانت کے درد کو شامل نہیں کرتے۔ اور ان بیس تیس قسم کے الگ الگ دردوں کی مختلف ادوایات کے ساتھ ساتھ ایک تریاق مجھے ” نگہت نسیم” کی صورت میں میسر ہے۔
میں ان کو ہمیشہ مذاق مذاق میں مخاطب کرتا ہوں۔ کبھی کبھی خود کو ان کا مریض بھی کہہ دیتا ہوں، یار دوست ہنستے ہیں کہتے ہیں ، شیخ صاحب وہ تو دماغی امراض کی ڈاکٹر ہیں۔ اور میں ہنس دیتا ہوں۔
وہ خاتون جسے میں بہت پیار اور محبت سے ڈاکٹر صاحبہ کہہ کر بلاتا ہوں، جو جانے کتنے ہی عرصے سے میری بکواس سنتی رہی ہے، مجھے مشورے دیتی رہی ہے۔ آج خود بیمار ہو گئی۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ جب مسیحا بیمار ہو تومریض کیا کر سکتا ہے ؟
اگر میں ڈاکٹر صاحبہ کے لئِے دُعا کروں، تو شاید اسے وہ خود پسند نہیں فرمائیں گی، کیونکہ وہ مجھے جانتی ہے۔ ویسے بھی وہ مجھے سے اس منافقت کی توقع نہیں رکھیں گیں۔سو میں ان کے لئے نیک ترین خواہشات کا اظہار کر سکتا ہوں، اور کرتا ہوں۔ امید ہے ان کا آپریشن کامیاب ہوگا، اور وہ بہت جلد ہی اس قابل ہونگی کہ میں پھر سے ان کا سر کھا سکوں۔
ڈاکٹر صاحبہ، بس آپ جلدی سے آچھی ہو جائیں! میں تو آپ کو یہ بھی بھی نہیں کہہ سکتا کہ میری عمر آپ کو لگ جائے۔۔۔۔ " یعنی آپ کو خود ہی ہمت کرنا ہوگی
بابا صاحب ( جناب صفدر ہمدانی ) اسے میرا بلیوں والا بھائی بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے صدقے جاؤں میرے بلیوں والے بھائی امجد شیخ میں ایک سمندر بستا ہے جسے “ انسانیت “ کہتے ہیں ۔۔ انسانیت جو کسی ملا مولوی کسی منمبر مسجد کو نہیں مانتی ۔۔ اس کا مذہب “ حقوق العباد “ ہے ۔ اس کا خدا اس کے ضمیر میں رہتا ہے ۔
امجد شیخ بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے ڈاکٹر بیمار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
ہاں یار ۔۔ میں نے نقاہت سے کہا ۔۔۔
ارے ۔۔ تو ۔۔ بیماری کو پاس آنے ہی کیوں دیا ۔۔ آ ہی گئی تھی توجانے دینا تھا ۔۔ رکھ کر کیا کریں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امجد اپنی مخصوص لہجے میں بول رہا تھا ۔۔
امجد ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے تئی چیخ ہی ماری تھی جو یقیننا نقاہت کہ نذر ہوگئی تھی ۔۔ جو اب بھی وہ یسےہنس رہا تھا اچھا باجی سنو فیر ۔۔۔۔ میرے پاس ہومیو پیتھیک کا ڈاکٹر ہے تین دفعہ کی خوراک میں پتھری باہر ،، اچھا اور ایک حکیم بھی ہے ایک پھکی سے پتھر نگینے کی طرح انگوٹھی میں ۔۔ اور سن یار ایک بابا بھی ہے جس کے تعویذ کو گردے کی جگہ رکھتے ہیں پتھری اس سے چپک جاتی ہے ۔۔ ویسے ایک شاعرہ اور افسانہ نگار کے اندر کا پتھر کیسا ہوتا ہے دکھانا ضرور ۔۔ اور ڈاکٹر باجی کتنے کیرٹ کا ہے ۔۔۔۔ اس کی باتوں کے ساتھ ساتھ میرے قہقہے بلند ہورہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ امجد کو ملکہ حاصل ہے کہ وہ نقلیں بھی اتار سکتا ہے ۔۔ ایک بات کو دوسری بات سے یوں پرو سکتاہے جیسے ایک ہی تسبیح کے دانے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایک دم امجد خاموش ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور میں بھی چپ ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ آپ بہت اچھی ہیں ۔۔۔۔۔۔ مجھے بہت عزیز ہیں ۔۔۔۔ میرے ہر اچھے برے وقت میں ساتھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔ سوچتا ہوں آپ نہ ہونگی تو میں کیا کرونگا ۔۔۔۔۔بلیوں کی باتیں کسے سناونگا ۔۔۔ وہ چپ تھا ۔۔۔ اور میں ہنستی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امجد شیخ اور مجھ میں بہت کچھ ایک جیسا ہے ۔۔ ہم دونوں انسانیت کو سب سے بڑا مذہب مانتے ہیں ۔۔ منافقت سے دور اپنی بستیوں میں رہتے ہیں جہاں کبوتر ، بلیاں اور بطخیں پھول پودے درخت رہتے ہیں ۔۔ ہمیں بڑی مشکل سے کوئی شاعری اچھی لگتی ہے ۔۔ بڑی مشکل سے کوئی آواز اپنی طرف مائل کرتی ہے ۔۔ کوئی تحریر خود پر کچھ لکھواتی ہے ۔۔ ہم دونوں وہ لکھتے ہیں جو دل کہتا ہے ۔۔ دماغ کو اکثر چھٹی دیئے رکھتے ہیں ۔۔۔ ہم دونوں کو مرنے پر زندگی سے زیادہ یقین ہے اس لیے وقت کی قیمت اپنی مرضی سے لگاتے ہیں ۔۔۔ ہائے ۔۔ ایسا کیسے ۔۔۔
میں کہاں جا رہی ہوں ۔ توبہ امجد انسان بن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہنستے ہنستے سنجیدہ ہو گئی ۔۔
دیکھا یہی کہلوانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اف میرے خدایا میں تو آپ سے سیکھ سیکھ کر سائیکولوجسٹ بن گیا ۔۔ اس پل مجھے یہی لگا تھا کہ امجد کے پاس سب کچھ تھا ۔۔ مجھے بہلانے کو ۔۔ مجھے زندہ رکھنے کو ۔۔ اس کو امیدوں کو ثمربار رکھنے کا ہنر آتا تھا ۔۔ میں اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے ہنس پڑی ۔۔ میں جانتی ہوں امجد شیخ کو پتہ چل گیا تھا کہ میں نے آنسو پونچھے تھے ۔۔ بڑی محبت سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ کبھی جھیل دیکھی ہے آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ۔۔ کیوں نہیں میرے پاس دو جھیلیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا
کبھی گئی ہیں وہاں ۔۔
ہاں کئی بار ۔۔۔ میں نے جواب دیا
وہاں کبھی بطخیں دیکھی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں کھانا دیا ہے ۔۔
ہاں کئی بار ۔۔۔۔
وہاں اس بطخ کے بچے کو دیکھا تھا جو آپ کی طرف آنے کوشش کرتا رہا پر آ نہیں پایا ۔۔۔ وہ آپ کے ہاتھ سے کھانا نہیں کھا سکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
امجد شیخ نے مجھے اس منظر میں کھڑا کر دیا جہاں جھیل کے بیچوں بیچ ایک چھوٹے سے جزیرے کے کنارے کا ساتھ لگا بطخ کا ایک بچہ مجھ تک پہنچنے کی کوشش میں پروں کو پانی پر ہلکے ہلکے مارتا میری طرف حسرت سے دیکھ رہا تھا اور میں کنارے پر خالی ہاتھ کھڑی تھی ۔۔ ہم دونوں نادم سے ایک دوسرے کے سامنے تھے ۔۔۔ بطخ کا بچہ مجھے کہہ رہا تھا کہ “ معاف کر دینا ماں “ مجھے تیرنا نہیں آتا میں تجھ تک نہیں پہنچ پایا ۔۔۔ اور میں کہہ رہی تھی “ مجھے معاف کر دینا بیٹے “ میں تجھے دیکھ نہ سکی ۔۔ تیر اانتظار نہیں کر سکی “ ۔۔ ۔۔ ہم دونوں سرجھکائے نم آنکھیں لئے ایک دوسرے کے سامنے تھے ۔۔۔
آپ کو اس وقت تک اس جھیل پر آتے رہنا ہے جب تک یہ بطخ کا بچہ بڑا ہو کر آپ تک پہنچ نہ جائے اور اپنے حصے کا کھانا آپ کے ہاتھ سے کھا نہ لے ۔۔ آپ کو اس وقت تک جھیل پر آتے رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔ امجد شیخ کی آواز نے مجھے اس منظر سے باہر لا کھڑا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے اطراف میں صرف دوائیاں اور نسخے تھے یا پانی سے بھری دو لیٹر والی بوتل ۔۔ پر وہ جھیل ۔۔۔ اس کا کہیں سے اجلا کہیں سے میلا پانی ۔۔ وہ بطخیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے وہ بچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل مٹھی میں آ گیا ۔۔
ہاں میں زندہ رہونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے زندہ رہنا ہے ۔۔۔ بھلا میرا بچہ کیسے بھوکا رہ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بے اختیار کہہ رہی تھی ۔۔
امجد شیخ کا بلند قہقہ بتا رہا تھا کہ میرا بلیوں والا بھائی حیات کو ایک بار پھر اپنی مسیحائی سے زیربار کر چکا تھا اور اب اپنی فتح کاجشن یوں منا رہا تھا کہ بڑی محبت اور انہماک سے مجھے بیماری کے "اس وقت " کو اچھا گزارنے کے سارے گر سکھا رہا تھا جسے میں خاموشی سے ایسے سن رہی تھی جیسے پہلی بار ایسا کچھ سنا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔