حال دل ہم سے حسن جب بھی کوئی پوچھتا
ہے۔۔۔ہم اسے نعت کے اشعار سُنا دیتے ہیں

سید حسن عباس زیدی کا تعلق سادات باہرہ ضلع مظفر نگر یو پی سے تھا اور انکے بزرگوں کا قصبہ بڈولی ضلع میں مظفر نگر سے جو کافی مدت سے دریائے جمنا کے مشرقی کنارے پر آباد تھا. 1918کے بعد انکے دادا سید محمود حسن اور دیگر قریبی اعزا نےبرست پنجاب ضلح کرنال میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یہیں
انکی پیدائش 1922میں ہوئی تھی. والد سید ظفر عباس پولیس میں ملازم تھے اور والدہ رضیہ سلطان پابند صوم و صلواۃ خاتون تھیں اور وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے ۔1947 میں جب پاکستان بن گیا تو مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جانے لگی تو برست پر بھی حملے کی
تیاریاں شروع ہو گئیں اور اب بزرگوں نے اس بستی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔پانی پت سے پھر سب لوگ آہستہ آہستہ پاکستان منتقل ہونے لگے اور کئی شہروں میں آباد ہوئے لیکن خاصی بڑی تعداد چنیوٹ میں آباد ہوئی اور سید حسن عباس لا کنبہ جون 1950 میں ہجرت کر کے پاکستان پہنچا اور منزل لاہور ٹھہری. پانچ برس بعد سرگودھا آ گیا1986 لاہور منتقل ہوگئے,
سید حسن عباس زیدی کی دینی۔مذہبی اور غزل کی شاعری کو سرگودھا میں قیام کے دوران مسلسل مشاعروں میں شرکت سے جلا ملی لیکن لاہور میں اس ادبی ذوق نے فروغ پایااور یہاں خاص طور پر سید وحید الحسن ہاشمی،قیصر بارھوی ،ڈاکٹر آغا سہیل،پروفیسر حسن عسکری کاظمی،مشکور حسین یاد اور متعدد دیگر دوستوں نے انکے کلام کو سراہا
سید حسن عباس کا پہلا مجموعہ ’’ خلش دل‘‘ 1986 میں سرگودھا سے شائع ہوا تھااوردوسرا مجموعہ ’’ندائے کربلا‘‘ ستمبر 1992 میں لاہور سے اور تیسرا ’’ تجلیاتِ حسن‘‘ 1997 میں لاہور سے ہی شائع ہوا.سید حسن عباس زیدی کا جون 1999 بمطابق 6 ربیع الاول کو گھر میں ہی اچانک اتفاقی طورپر گرے جسکی وجہ سے انکے دماغ میں خون جم گیا جس کے لیئے فوری آپریشن کرنا پڑا لیکن کامیاب آپریشن کے باوجود چندروز وہ بے ہوشی کی حالت میںرہے اور 17 جولائی 199 کی صبح سرکارِ وفا کی سرکار میں پہنچ گئے.انہیں لاہور میں ہی فردوسیہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا.

سید حسن عباس زیدی کی شاعری کا خاصہ حصہ دینی اور مذہبی شاعری پر مشتمل ہے جن میں حمد،نعت،منقبت،سلام اور سوز شامل ہیں۔
انکی چمد منتخب نعتیں۔
السلام اے رحمت اللعالمیںالسلام اے قلب شاعر کے مکیں۔۔۔السلام اے مخزن روحانیتالسلام اے پاسبانِ حُریت۔۔۔السلام اے پاک و اطہر السلاممالک و مختار کوثر السلام۔۔۔السلام اے مظہرِ خُلقِ عظیمالسلام اے میرے آقا اور کریم۔۔۔السلام اے روحِ عالم السلامالسلام اے فخر آدم السلام۔۔۔نور سے تیرے منور یہ جہاںروشنی تیری زمیں یا آسماں۔۔۔السلام اے مہرباں حق کے رسولمنفرد ہے باغِ عالم کا تو پھول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دردر مندوں کو جو یثرب سے ہوا آتی ہےوہ سمجھتے ہیں کہ خالق کی رضا آتی ہے۔۔۔منظرِ روضہ ء محبوب جو آتا ہے نظرقلب میں ہوک سی اٹھتی ہے ندا آتی ہے۔۔۔دولتِ دین ملی آپکے قدموں سے مجھےمیرے الفاظ سے خوشبوئے وفا آتی ہے۔۔۔جالیاں روضہ ء اقدس کی جو آتی ہیں ہیں نظرمحو ہو جاتا ہوں اور لب پہ دعا آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو بھی دربار رسالت میں صدا دیتے ہیںانکو مولا مرے بھرپور صلہ دیتے ہیں۔۔۔جب بھی ا جاتا ہے اس شہرِ مدینہ کا خیالمیرے اشعار محبت کا مزا دیتے ہیں۔۔۔دل سے جو بھیجتے ہیں آلِ محمد پر دروددل کے آئینے کووہ اپنے جلا دیتے ہیں۔۔۔جس سے خوش ہوتے ہیں مولا تو خدا بھی اسکونعت گوئی کا پھر انداز سکھا دیتے ہیں۔۔۔حال دل ہم سے حسن جب بھی کوئی پوچھتا ہےہم اسے نعت کے اشعار سُنا دیتے ہیں