16.10.2026, 11:38am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

غیروں کی سازشوں میں گھرا ہوا بلوچستان ۔۔۔ از۔۔۔۔ سحر صدیقی
13.02.2014, 01:01am , جعمرات (GMT+1)

سحر صدیقی ۔ پاکستان

یہ حقیقت اب کوئی راز نہیں رہی کہ رقبہ کے اعتبار سے وطن عزیز کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان غیروں کی سازشوں میں گھرا ہوا مشاہدہ کیا جاتا ہے ۔ قدرت نے بلوچستان کو معدنی دولت سے خوب نواز رکھا ہے اور اس کا جغرافیائی محل وقوع خطہ میں رونما ہونے والے سیاسی و تذویراتی حالات کے تناظر میں عالمی طاقتوں کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس کا اندازہ صرف اس ایک حقیقت سے ہی کیا جا سکتا ہے کہ گوادر کی بندر گاہ تک رسائی کے لئے ایک طرف تو چین ایسی عظیم طاقت متحرک اور سرگرم ہے لیکن اس کے ساتھ دوسری طرف امریکہ کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ چین کو یہاں اپنے قدم نہ جمانے دے ۔ امریکہ کو افغانستان سے اپنی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے حوالہ سے بھی محفوظ راستہ درکار ہے جس کے لئے وہ ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بناتے ہوئے چاہ بہار کی بندر گاہ سے استفادہ کرنے کا متمنی ہے ۔ روس کی بھی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جائے تا کہ امریکی اثر و نفوذ کو ایک حد سے آگے بڑھنے کا موقع میسر نہ آئے۔ یہ نشاندہی بھی ضروری ہے کہ بھارت اپنی بے پناہ غربت اور افلاس کو نظر انداز کرتے ہوئے محض واشنگٹن کے سیاسی ایماء اور سفارتی حوصلہ افزائی کے بل بوتے پر علاقہ کا تھانیدار بننے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔اس کے علاوہ یورپی یونین بھی ان بین الاقوامی اداروں میں شامل ہے جو اس خطہ کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے تصور کئے جاتے ہیں ۔ اسی بناء پر بین الاقوامی امور کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ بلوچستان ایک ایسی ’’گریٹ گیم‘‘ میں مرکزی حیثیت حاصل کر چکا ہے جو مستقبل کی سیاست اور عالمی حالات کے باب میں نتیجہ خیز ثابت ہو گی۔ 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ غیر ملکی طاقتیں بلوچستان کے سیاسی حالات ، معاشی احوال اور تذویراتی اہمیت پر اثر انداز ہونے یعنی اپنے مفادات کے حصول کا راستہ ہموا ر کرنے کی خاطر اب ماضی کے مقابلہ میں زیادہ متحرک (بلکہ بے نقاب) ہو چکی ہیں۔ ایسی خبریں عام ہیں کہ خان آف قلات میر سلیمان خان داؤد،ہربیارمری اور دیگر نمایاں بلوچ شخصیات امریکہ اور یورپ میں ان کوششوں میں مصرو ف ہیں کہ بلوچستان کے احوال کو ایک گھمبیر مسئلہ بنا کر بین الاقوامی سفارتی حلقوں اور میڈیا میں اجاگر کیا جائے۔ حال ہی میں امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے جن میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سٹیو کنگ، لوئی گوم ہرٹ ، ڈانا ٹیرون روہابارچر اور دو ارکان سینیٹ شامل تھے لندن میں خان آف قلات اور ہربیار مری سے ملاقاتیں اور مذاکرات کئے ۔ امریکی وفد میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے دو اعلیٰ اہلکار بھی شامل تھے جن کی موجودگی میں امریکی کانگریس کے ارکان نے بلوچ رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ بلوچستان اور بیرون ملک ان کی سرگرمیوں کے ضمن میں خفیہ اور کھلم کھلا طور پر حمایت اور مدد فراہم کریں گے ۔ اگرچہ مذکورہ امریکی نمائندگان ماضی میں بھی بلوچ قائدین سے ملاقات کر تے رہے ہیں لیکن امریکی حکومت کے اہلکاروں کا حالیہ ملاقاتوں میں شامل اور موجود ہونا پاکستان کے لئے بجا طور پر تشویش کا باعث ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستان کے داخلی معاملات (یعنی بلوچستان) میں مداخلت کر رہی ہے ۔ اس واقعہ کی روشنی میں ان افواہوں کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ امریکی انتظامیہ بلوچستان میں بعض مسلح گروپوں کو بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر مدد فراہم کرتی رہی ہے ۔

اہل وطن کو ہنوز یاد ہے کہ ماضی میں بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور خان آف قلات نے بلوچستان کا مسئلہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کی منصوبہ بندی کی تھی ۔ موصوف کو توقع رہی کہ بھارت اس مقدمہ کو عدالت میں پیش کرنے والے وکلاء کی فیس کے طور پر 24لاکھ امریکی ڈالر کی رقم فراہم کرے گا لیکن جب نئی دہلی کی طرف سے کوئی گھاس نہ ڈالی گئی تو انہوں نے امریکی قیادت سے رجوع کیا ۔ فروری 2012ء میں ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے 3امریکی ارکان کانگریس (سٹیو کنگ، لوئی گوم ہرٹ ، ڈانا ٹیرون روہابارچر)نے امریکی کانگریس میں ایک بل پیش کیاجس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت بلوچستان تین ممالک یعنی پاکستان، ایران اور افغانستان میں تقسیم ہے اور اس کے پاس اپنے خود مختاری کے حقوق نہیں ہیں۔ اس بل میں بلوچوں کے لئے حق خود ارادیت اور ایک آزاد ریاست کی حمایت کی گئی اور کہا گیا کہ بلوچ عوام کو یہ موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنی حیثیت کے بارے میں خود فیصلہ کر سکیں ۔ اسی طرح جب سینیٹر روہابارچراور کرنل (ر) رالف پیٹرز کی طرف سے بلائی گئی خارجہ امور بارے امریکی ہاؤس کمیٹی کی کارروائی منظر عام پر آئی تو اس پر پاکستان کی حکومت اور عوام حیران و ششدر رہ گئے کیونکہ اس کمیٹی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے امور پر بحث کی تھی ۔

اگرچہ امریکی حکومت نے خود کو فوری طور پر کمیٹی کی اس کارروائی سے الگ اور لاتعلق ہونے کا اعلان کیا لیکن امریکہ کے متعدد تھنک ٹینک ، این جی اوز اور سوشل میڈیا پر موجود ویب سائٹس نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ۔ امریکہ کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ان دو اداروں یعنی نیشنل انڈومنٹ فار ڈیموکریسی (NED) اور وائس آف بلوچستان (VOB) کو فنڈز فراہم کرتا ہے جو بلوچستان میں علیحدگی پسندی او رقوم پرستی کے جذبات کو ابھارنے میں سرگرم ہیں۔ دریں اثناء واشنگٹن کی طرف سے اسلام آباد سے مسلسل اصرار کیا جا رہا ہے کہ کوئٹہ میں امریکی قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دی جائے ۔ ہر محب وطن اور باخبر پاکستانی بخوبی جانتا ہے کہ ایسی اجازت طلب اور حاصل کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سہولت حاصل کی جائے ۔چند تجزیہ کاروں کی طرف سے یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بعض امریکی ارکان کانگریس (خاص طور پر مذکورہ بالا ارکان ) بلوچستان میں انتشار ، بد امنی اور افراتفری پھیلا کر نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ اس کی آڑ میں پاکستان کو اس ’’جرم‘‘ کی سزا دینا چاہتے ہیں کہ اس نے اسامہ بن لادن کو اپنے یہاں پناہ کیوں دی تھی ۔ یہ خبریں بھی عام ہیں کہ امریکی ارکان کانگریس نے لندن میں بعض بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران انہیں یہ یقین دہانی کرائی کہ برسراقتدار آنے کی صورت میں اس بلوچ قیادت کو مزید سرمایہ فراہم کیا جائے گا تا کہ وہ بلوچستان میں قتل و غارت اور تشدد کا بازار مزید گرم رکھ سکیں ۔ یہ امریکی ارکان کانگریس ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان اور جند اللہ سے تعلق رکھنے والی بعض بلوچ شخصیات کے ساتھ روابط بڑھانے کے لئے بھی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ 

اس حقیقت سے انکار یا انحراف نہیں کیا جا سکتا کہ بعض عالمی طاقتوں نے بلوچستان کے خطہ پر اپنی حریصانہ نگاہیں مرکوز کر رکھی ہیں تا کہ وہ تذویراتی اور جغرافیائی بالادستی ہی نہیں بلکہ اس سرزمین میں چھپے ہوئے ان معدنی خزانوں کو حاصل کر سکیں جو قدرت نے اس علاقہ کو عطاء کئے ہیں ۔ بلوچستان میں پائے جانے والے دھاتی منرلز میں ایلومینیم ، کرومائٹ ، تانبا ، سیسہ اور جست ، لوہا ، سونا، پلاٹینم ، ٹائٹینم وغیرہ شامل ہیں جبکہ غیر دھاتی منرلز میں ایلم ، بے رائٹ ، فلورائٹ ، جپسم ، چونے کا پتھر، ڈولومائٹ وغیرہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ سجاوٹی پتھر (ماربل،آنکس، سرپینائٹ ، گرینائٹ ، ڈائیورائٹ، گیبرو ، بسالٹ ، رائیولائٹ اور کرونٹائز بھی پائے جاتے ہیں ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایبروسیویز وہ سخت قسم کے منرلز ہوتے ہیں جن کی مدد سے دوسرے منرلز کو جو نسبتاً نرم ہوتے ہیں ، کاٹا جاتا ہے اور پالش کیا جاتا ہے اور اس کے وسیع ذخائر بھی بلوچستان میں موجود ہیں۔ نمکیات کی اقسام میں بوراٹس ، سلفائٹ اور کاربونیٹس شامل ہیں جو چاغی ، لسبیلہ ، پنجگور اور مکران کے علاقہ میں عام طور پر دستیاب ہیں۔ اس خطہ میں گندھک ، میگنیسائڈ اور سینسیائڈ بھی پائے جاتے ہیں ۔ اس اجمالی جائزہ سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ بعض عالمی طاقتیں بلوچستان کے معدنی ذخائر پر قابض ہونے کے لئے بے تاب ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بلوچ عوام کی شکایات کا ازالہ کیا جائے جو ایک عرصہ سے معاشی استحصال ، سماجی نا انصافی اور احساس محرومی کا شکار ہیں۔ سول سوسائٹی ، میڈیا اور سیاسی اکابرین ہی نہیں بلکہ مذہبی قیادت کو بھی اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے تا کہ قومی اتحاد اور باہمی افہام و تفہیم کے راستہ پر چلتے ہوئے ہم ایک قوم کی حیثیت سے اپنی تعمیر و ترقی کا سفر جاری رکھ سکیں ۔ ہم بلاشبہ اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں اور اسی موڑ پر ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہم غیروں کی سازشوں میں گھرے ہوئے بلوچستان کی سلامتی ، تحفظ ، ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا اپنا فرض ادا کریں گے ۔
***

:دیگر مضامین
(11.02.2014) جبران خلیل جبران 6جنوری 1813 سے 10 اپریل 1931‎ از؛ امین ترمذی ۔ڈیلس
(07.02.2014) جبران خلیل جبران 6جنوری 1813 سے 10 اپریل 1931‎ از؛ امین ترمذی ۔ڈیلس
(06.02.2014) کشمیر کی عوام خود فیصلہ کریں پاکستان یا بھارت کس کے ساتھ جانا ہے
(05.02.2014) مائیکرو سافٹ نے ستیہ ندیلہ کو اپنانیاچیف ایگزیکٹیو آفیسرمقررکرنے کا فیصلہ کیا
(04.02.2014) لندن کے صحافی،شاعروکالم نگار سہیل لون کے سسر انتقال کر گئے۔
(04.02.2014) جبران خلیل جبران 6جنوری 1813 سے 10 اپریل 1931‎ از؛ امین ترمذی ۔ڈیلس
(31.01.2014) جبران خلیل جبران 6جنوری 1813 سے 10 اپریل 1931‎ از؛ امین ترمذی ۔ڈی
(31.01.2014) برطانیہ میں اردو صحافت کے معمار صحافی اور ادیب جناب محمود ہاشمی کا انتقال
(29.01.2014)  پیر صاحبزاده فیض الحسن کے اعزاز میں عشائیہ کی تصویری جھلکیاں
(26.01.2014) سید غیور عباس جعفری کو سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا
(24.01.2014) اناللہ و انا علیہ و راجعون جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا
(22.01.2014) فرینکفرٹ میں مقیم محمد سلیم بٹ کی والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت
(19.01.2014) Pakistani student Javeria Jamal- Achieved ATAR of 99.85 in HSC Exams
(18.01.2014) مفکر اہلبیت اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی تین روزہ دورہ بون پہنچ گئے ہیں
(17.01.2014) ڈان ڈاٹ کام کے مدیر اور بی بی سی ارود کے سابق رکن مصدق سانول انتقال کر گئے
(11.01.2014) اس کی ثنا میں نعت کا نزرانہ جسکی نعت اللہ اور اسکے فرشتے کہتے ہیں۔
(10.01.2014) رببیع الاول کا مہینہ اللہ کی رحمتوں کا مہینہ اور بارہ ربیع الاول اللہ کے حبیب کا یوم ولادت
(08.01.2014) امریکاپام اسپرنگ فیسٹول کامیلہ جولیارابرٹس،ٹاہم ہینکس،مرلی اسٹرپ نےلوٹ لیا
(06.01.2014) انقلابی اور عوامی شاعرحبیب جالب کی بیوہ ممتاز بی بی انتقال کر گئیں
(04.01.2014) شاعر،کالم نگار اور صحافی سہیل لون کی خوش دامن کا انتقال



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں