ربیع الاخر بھی اپنے ہفتہ ثانی میں روان دوان ہے اورلندن ٹوٹنگ کے عزا خانے ادارہ جعفریہ کے معاملات اپنی جگہ پر موجود ہیں اور یہ خاموش لڑائی اب تک ختم نہیں ہو سکی
تمام ملا اپنی سر توڑ کوشیش کر چکے ہیں اور ملا نواز سربراہ اور ان ملاوں کے تلوے چاتنے والا شر انگیز اپنی کرسی پر موجود ہے اور اپنی ہٹ دھرمی پر قایم و دایم ہیں

افسوس تو اس بات کا ہے کہ پوری قوم اس شر انگیزی سے تنگ ہے اور کافی حد تک اس کے خلاف جو آوازیں اُٹھ رہی ہیں ۔ اب معلومات کے مطابق ایک ریفرنڈم کی تیاری کی جا رہی ہے اور بہت جلد ایک سوال نامہ سامنے آنے والا ہے کہ اس سربراہ کو اس کرسی پر رہنا چاہئے یا نہیں ۔ سولنامہ قوم کے افراد اور ممبران کو بذریعہ ڈاک روانہ کیا جانے والا ہے اور سننے میں آیا یہ کہ یہ کام مذہبی ملا کی نام نہاد ٹیم انجام دے رہی ہے ۔۔۔۔ تاکہ اس معاملے کو ختم کیا جا سکے ۔۔۔۔۔۔اور یہ چھپکلی اس سربراہ کے حلق میں پھنس گئی ہے نہ تو نگل سکتا ہے اور نہ ہی اُگل سکتا ہے ۔۔۔۔۔ ابھی تک ادارہ کے فنڈ کے حسابات بھی مطالبے کے باوجود پیش کرنے میں ناکام رہے ۔۔۔۔۔مزید معلومات کے مطابق یہ چار افراد ۔۔۔۔۔اپنی ہٹ دھرمی پر قایم ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی بات چیت کرنے کو راضی ہیں۔۔۔۔۔
لندن کی کچھ نوجوان لڑکیوں نے فیس پر کچھ مولوی لوگوں کی تصاویر اس تحریر کے ساتھ شائع کی ہے۔ اورہم لوگوں کے نام مولویوً اور انکے نمک خوار حواریوں کے اذہان میں ایسے اٹکے ہوئے ہیں کہ انہوں نے اسکو بھی عالمی اخبار اور ہمارا کام قرار دے دیا ہے۔ ان بچیوں نے بلاشبہ ہم سے مدد کے لیئے رابطہ کیا ہے لیکن ہم نے اصول کی بنیاد پر کہا ہے کہ اگر وہ تمام تر شواہد اور ثبوت کے ساتھ آئیں تو ہم بنام مولا انکی مدد کو ضرور سامنے آئیں گے اور انکے اس مسلے کو برطانوی پارلیمان تک لے کے جائیں گے۔ دوسری طرف ان مولویوں اور انکے گماشتوں نے مختلف طریقوں سے ان لڑکیوں اور انکے اہل خانہ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے
لیجئے فیس بک پر شائع شدہ اس تحریر کو ملاحظہ کیجئے

To hell with these Darbari Mullas need to expose them publically Girls join our group.Need your support Ruby Hyder as always. As in our society people are always scared to come forward & talk about these issues in public or media.And such Mullas are playing with women emotions & doing injustice
یورپ بھر میں برطانیہ کے ایک مسلکی ٹی وی کی نشریات کئی دن سے غائب ہیں اور بے بہا عطیات دینے والے اور ممبر شپ فیس ادا کرنے والے شش و پنج میں ہیں کہ انتظامیہ انکو کچھ بھی صاف نہیں بتا رہی
اسی اثنا میں اس ٹی وی کے ایک سربراہمولانا عباس عابدی کا ایم ایس ایم میں پیغام موصول ہوا جس سے معلوم ہوا کہ ٹی وی کیوں بند کیا گیا ہے اور کوئی سروس مہیا کرنے والے کمپنی کو تلا ش کیا جا رہا ہے
میں نے خود جواباً بیام دیا گیا کہ آخر یہ قوم اس سے کب تک محروم رہے گی مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا شاید معلوم ہوتا ہے کہ قوم سے جو رقم موصول ہو رہی ہے وہ ان لوگوں کے اللے تللے کے لیئےنا کافی ہے جس کی وجہ سے اس کو بند کر دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ اور ایک بار پھر قوم سے شاید دھوکہ ہو گیا ۔۔۔۔۔ کیوں اب دوسرے مسلکی ٹی وی پر جو کہ خاندانی بزنس ہے اسی قسم کی بات سننے کو ملی رہی ہیں کہ اگر قوم نے ان کی مدد نہ کی تو وہ بھی اس کو بند کرنے دیں گے اور یہ شور بھی سننسے میں آ رہا ہے کہ ہمارا فرض تھا کہ ہم نے معاملہ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ہماری زمہ داری ختم ہو چکی ہے
ان مالکان سے اگر اس ضمن میں کوئی سوال کیا جائے تو جواب ملتا ہے کہ یہ ایک نجی ٹیلی ویژن ہے اس سے اپ کو کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔۔
دنیا کے دو بڑے اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیئے متعدد مختلف طریقوں سے مختلف طبقوں کو نوازتے ہیں ۔ سعودیہ سرکاری مہمان کے طور پر عمرے کے لیئے اور حج کے لیئے دنیا بھر سے مولویوں کو بلاتا ہے اور پھر ان سے اپنی مرضی کے کام لیتا ہے اسی طرح ایران بھی شیعہ مولویوں، شعرا، لکحاریوں اور اخبار نویسوں کو مدعو کرتا ہے سرکاری طور پر
ایران ان لوگوں کو زیارات مشہد کے لیئے۔ امام خمینی کی برسی پر اور ایسے ہی مواقع پر سرکاری طور پر بلاتا ہے اور ظاہر ہے اس تجارت کی دنیا میں کوئی بھی دو پیسے کسی مقصد کے بغیر کسی پر بھی خرچ نہیں کرتا

اس ضمن کی ایک اطلاع سنتے چلیں کہ جب یہ خبر اخبار میں شائع ہو جائے گی اس وقت تک نام نہاد مولویوں کے ٨٠ افراد کو جہاز لے کر فضا میں ایران کی جانب روانہ ہو چکا ہو گا ۔۔۔۔ معلومات کے مطابق یہ ایک قافلہ اسی افراد پر مشتمل مولویوں کے خاندان کو لے کر ایران کی انقلابی سالگرہ میں شمولیت کرنے کے لئے روانہ ہوگیا ہے۔ ۔۔۔ اور اس میں خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف مولویوں جو یوکے اور یورپ سے تعلق رکتھے ہیں انکے خاندان ہیں اور یہ لوگ جمعہ کو روانہ ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔سرکاری رقوم کو استمعال کرنے والے یہ مولوی ایران کے سرکاری مہان ہو گے ۔۔۔۔۔۔گویا ایک رخ سے یہ بھی ایران کی طرف سے اپنے مفادات حاصل کرنے کی رشوت ہی ہے۔
اب آخر میں ایک بار پھر کہ جو خواتین تاجران خون حسین کی ٹیم میں شامل ہیں اس میں سے ایک سرکردہ خاتون جو اپنے اپ کو سکالر اسلامی لکھوانے کی شوقین ہیں اج کل لندن کےقومی دورے پر ہیں ۔۔۔۔ کینڈا سے واپسی پر یہ خاتون لندن میں دوران قیام اپنی مجالس کا سلسلہ شروع کیئے ہوئےہے اور کیوں کہ لندن کے تمام مذہبی ادارے ان کو ان کی فیس کی وجہ سے پڑھوانا نہیں چاہتے اور ان پرکچھ اداروں نے پابندی عائد کی ہوئی ہے کہ وہ ان اداروں میں داخل نہیں ہو سکتی تو انہوں نے نیا حربہ استمعال کیا ہے کہ انہی سربراہوں کی ازواج کو ورغلا کر انی کہ گھروں میں مجالس پڑھنا شروع کر دی ہیں
یہ بھی پروپیگنڈہ کیا گیا کہ وہ اس بار لندن کی مجالس کسی معاوضے کے بغیر فری پڑھ رہی ہیں لیکن ہماری تحقیق کے مطابق یہ فقط پروپیگنڈہ ہی ہے اصلیت یہ ہے کہ فی مجلس ومیلاد خطیر رقم وصول کی گئی ہے
پاکستان کے ایک ٹی وی پر اپنے انٹرویو میں مجالس کے پیسے لینے کے سوال کے جواب میں ان خود ساختہ سکالر نے جواب دیا کہ ماڈلنگ کرنے والی خواتین اور کیٹ واک کرنے والی لڑکیاں اگر پیسے لیتی ہیں تو ہمارے لیئے کیوں ممانعت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ کیا موازنہ ہے۔ ذکر حسین کرنے والی خاتون کجا اور کیٹ واک کرنے والی خواتین کجا؟
مجھےہمیشہ کی طرح آخر میں یہ کہنا ہے کہ یہ ساری معلومات ہمیں مقامی ذرائع اور مقامی افراد سے ہی ملی ہیں اور اگر کسی کو اس سے کوئی اختلاف ہے تو وہ اپنا موقف لکھکر مجھے براہ راست ارسال کر دے میں اسے غیر جانبدارانہ صحافت کے تقاضوں کے تحت اپنی اسی سلسلے وار تفتیشی و تحقیقی رپورٹ میں شائع کر دونگا