
عالمی اخبار کا بلاگ ''برطانوی ہائیڈ پارک'' کی طرح ہے جہاں ہر کوئی کسی سنسر یا کسی پابندی کے خلاف تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے خیالات و نظریات کااظہار کر سکتا ہے اور دیگر احباب بھی بلا کم وکاست اپنی رائے کسی بلاگ پر دیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک بلاگ جرمنی کے شہر برلن کے بھائی انور ظہیر (افسانہ نگار ،شاعر اور کالم نگار) کا شائع ہوا ہے جسے پڑھ کر میرے جسم میں بجلی سی کوند گئی اور ہاتھوں میں ایک لرزہ سا طاری ہو گیا اور اسی بلاگ نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا۔
پہلے بھائی انور ظہیر رہبر کے بلاگ کو پڑھ لیجئے۔ بر سر تذکرہ جی چاہتا ہے کہ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ بھائی ظہیر آپ کے نام کے ساتھ ''رہبر'' لا لفظ دیکھ کر کیسا عجیب سا لگتا ہے کہ اس لفظ نے اپنے معانی بھی ایسے ہی قائدین اور رہبروں کے ہاتھوں کھو دیئے ہیں جنکا آپ نے اپنے بلاگ میں ذکر کیا ہے۔
بھائی انور ظہیر لکھتے ہیں“ ملک پھر سے سیاسی اکھاڑہ بن گیا ہے۔ سنہء2009 میں بھی ہم 18 ویں صدی میں ہی کھڑے ہیں، ہر کسی کو اپنی اپنی گدی بچانے کی پڑی ہے، عوام جائیں بھاڑ میں۔ اور یہ بھی کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ایک مرتبہ پھرایک متنازعہ فیصلہ سنا کر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے خود اپنی جگ ہنسائی کی ھے ۔ پھر اس کے بعد سب جانتے ھیں کہ احتجاج اور گورنر راج کا بول بالا ھے'' ۔۔۔
آئیے ذرا اس تحریر کی روشنی میں بات کریں لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ ایسے موضوعات پر تبادلہ خیال بہت ضروری ہے۔ 
دراصل ہمارے ملک کی جو یہ حالت ہے اور ہم پر عذاب کی صورت میں ایسے ناعاقبت اندیش حکمران مسلط ہیں تو اسکی دیگر بہت سی وجوہات تو ہیں ہی لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سارے ملکی نظام میں سے دانشور کو نکال باہر کر دیا گیا ہے۔نہ کوئی سید محمد تقی ہے،نہ رئیس امروہوی اور پروفیسر کرار حسین۔ آ جا کر ایک دم پروفیسر منظور کا غنیمت ہے لیکن وہ ریڈیو ٹی وی سے اس لیئے غائب ہیں کہ کہیں بصیرت کی کوئی بات نہ کردیں۔
سچ پوچھیں تو یہ مسلہ صرف پاکستان کا ہی نہیں ننانوے فیصد سے زائد مسلم ممالک کا ہے اور جہاں جہاں آمریت،بادشاہت یا ملوکیت موجود ہے وہاں زر خرید اور خودساختہ نام نہاد دانشور ”شاہ” کے کاسہ لیس اور درباری تاریخ نویس کی طرح ہیں۔
پاکستان کو جس نہج پر یہ حکمران اور انکے حواری لے آئے ہیں اس جگہ پر شاید کوئی معجزہ بھی کچھ نہ کر سکے۔ الطاف ح
سین،نواز شریف،آصف زرداری،قاضی حسین احمد۔ مولانا فضل الرحمٰن اور اسی قماش کے دوسرے تمام سیاست دان ضمیر فروش تو تھے ہی لیکن اب قوم فروخت بن چکے ہیں اور یہ سب ایک جیسے،ایک ہی ماں کی اولاد،ایک ہی قماش کے لوگ اور ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ جسکو جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے ہی عوام پر وار کرتا اور انکا خون چوستا ہے۔
پاکستان میں اگر آپ غور کریں تو قلم کار طبقہ لکھنے کے حوالے سے جیسے ناپید ہو چکا ہے یا پھر لمبی تان کر سو گیا ہے۔ پچھلے کئی برس سے مجھے کسی بڑے لکھنے والے شاعر ادیب کی کوئی تحریر دکھا دیجئے جس میں موجودہ حالات کا تذ کرہ ہو یا پھر عوام دشمن حاکموں کی ناپاک حاکمیت کا پردہ چاک کیا گیا ہو اور یا پھر عوام کی بے بسی کی کوئی بات کی گئی ہو۔ یہ فخر بھی ہم آپ جیسے لکھنے والوں کو حاصل ہے کہ وطن سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی ہم ہی ان حالات پر لکھتے ہیں۔
بے شرمی کوئی برہنہ ہونا نہیں ہے بلکہ یہ بھی بے شرمی ہے جو اس وطن عزیز کے سیاستدانوں اور حکمرانوں
سے لیکر ہر طبقے اور شعبے میں آ گئی۔
حکمران بے شرم،حکومتی نظام بے شرم،عدالت بے شرم،ججوں کی اکثریت بے شرم، قاتلوں کو حمایت کرنے والے کتنے ہی وکلا بے شرم، اسمبلیاں بے شرم،الیکشن کمیشن بے شرم،ابلاغ کے ادارے بے شرم، بکاؤ مال قلم کار بے شرم ،صاحبان جبہ و دستار بے شرم، سیاستدانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت بے شرم، وعظ و نصیحت کرنے والے بے عمل ملاں بے شرم اور حتیٰ کہ عوام کی ایک بڑی تعداد بھی بے شرم ہو چکی ہے۔ عوام اس لیئے کہ ظلم سہنے والا بھی ظلم کرنے والے کا بھائی ہے۔
یہی عوام ہیں جو بار بار اپنے اور اپنے بچوں کے قاتلوں کو ووٹ دیکر اسمبلیوں میں لاتے ہیں۔ ہمارے عوام سے تو نیپال کے بھوکے ننگے عوام ہزارہا درجے بہتر ہیں جنہوں نے صدیوں کی بادشاہت کا جنازہ اس طرح نکالا کہ کوئی کندھا دینے والا نہیں تھا۔
جس ملک میں انٹر پول کو مطلوب شخص ملکی سیکیورٹی کا ذمیدار بن جائے،جہاں سزا یافتہ لوگ ملک کے بڑے بڑے اداروں کے نگراں ہوں اور جہاں دودھ کی رکھوالی کو بلی کو بٹھا یا گیا ہو وہاں اب ہم کس سورہء احزاب یا سورہ ء فیل کے نزول کے انتظار میں ہیں۔
آپ 18 ویں صدی کی بات کرتے ہیں ہم تو 14 ویں صدی سے بھی پیچھے چلے گئے ہیں۔یاد ہے نا ایک آمر مطلق جنرل مشرف کے زمانے میں انہی امریکیوں نے کہا تھا کہ وہ ہمیں واپس پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔ امریکہ تو یہ نہ کر سکا لیکن امریکہ کا یہ کام ہمارے حاکموں نے خود سرانجام دے دیا۔
انور ظہیر رہبر کے اس بلاگ پر ایک تبصرہ عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلی ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کا بھی ہے جو توجہ طلب ہے'' یہ قصور پاکستانی عوام کا بھی ہے جو بار بار ایسے ہی لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کے حصار سے باہر ہی نہیں نکلتے جمہوریت کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ لیتے ہیں یہ بھی داستان نہیں حقیقت ھی ھے کہ نیپال کی غریب عوام نے اپنا مقدمہ اپنی فکر اور
عوامی طاقت کے احساس یکجہتی پر جیتا تھا ۔۔ پاکستان میں تو ھر خاص و عام ایک دوسرے کو بیوروکریسی کے نام پر فروخت کررھا ھے ۔۔ اور جوباقی رہ جاتی ھے وہ ھے خاموش عوام ۔جو چپ چاپ اپنی خاموشی سے ایک دوسرے کو بکنے پر مجبور کر رھے ھیں ۔۔خاموشی اب جرم نہیں بے شرمی ھو گئی ھے ۔
دیکھئے کب جا کر اور کہاں جا کر یہ بے شرمی کا تماشہ رکتا ھے ۔۔کاش سپریم کورٹ نے خاموش رھنے والی بے شرم قوموں پر بھی نااہلی کا مقدمہ چلایا ھوتا اور انہیں ملک بدری کی سزا بھی دی ھوتی''۔
ڈاکٹر نگہت صاحبہ مجھے معلوم نہیں کہ آپ کس سپرہم کورٹ کی بات کر رہی ہیں۔ کیایہ اسی سپریم کورٹ کی بات ہے جسکے ایک سیاسی فیصلے نے ملک میں ایک بار پھر آگ لگا دی ہے؟
کیا یہ وہی سپریم کورٹ ہے جس کا ایک چیف جسٹس اپنے ہی ملک کی سڑکوں پر اپنے ہی حاکموں سے انصاف منگتا پھر رہا ہے؟
کیا یہ اسی سپرہم کورٹ کا تذکرہ ہے جسکے موجودہ سربراہ نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی کے نمبروں کے اضافے کا سارا کیس کیسے چابکدستی سے داخل دفتر کروا دیا ہے؟
بس اب مزید نہیں لکھ سکتا کہ میرا اور قلم کا دم گھُٹ رہا ہے
کچھ عرصہ قبل اپنی لکھی ہوئی ایک نظم یاد آ گئی ہے آپ بھی سُن لیجئے
مت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرؤ!
مرے وطن میں قلم کی قَسَم اٹھاتا ہوںکہ جب تلک مری سانسوں کا آنا جانا ہےقلم رہے گا یہ شمشیر بن کےگردن پرترے ہر ایک ستم آشنا عدو کے لیئےترے عدو کو نہیں ہے
مرے قلم کے شکوہ کا ابھی بھی اندازہ
بکھیر دوں گا بساطِ ستم کا شیرازہ
ترے عدو کو بھگتنا پڑے گا خمیازہ
یہ کیا کہ ہر کوئی اک مردہ خور گدھ کی طرح
ترے وجود پہ نظریں جمائے بیٹھا ہے
یہ کیا کہ تیرے وجودِ حیات کو ظالم
نگاہِ بد سے نشانہ بنائے بیٹھا ہے
سروں پہ کوہِ ملامت اُٹھائے بیٹھا ہے
ترے عدو کو خبر ہی نہیں ہے کہ تاریخہر ایک عہد میں اپنا سبق سکھاتی ہے ہر ایک آمرِ مطلق کا سر اڑاتی ہےترے عدو کو یہ ادراک ہی نہیں ہے کہ وہ
کسی بھی شکل میں آئے
وہ چھُپ نہیں سکتا
ترے عدو کو خبر ہی نہیں کہ اسکا وجودقبا سجائے ہوئے ہے بدن پہ اپنے مگریہ زرنگار قبا سر تا پا ملامت ہےیہ سر پہ رکھی جو دستار ہے ندامت ہےفصیل شہر کے باہر کھڑی قیامت ہےکسے یہ زعم کہ جمہوریت کے پردے میںوہ اپنی ساری سیاہ کاریاں حلال کرےغریب کے لیئے اک سانس بھی وبال کرےپھر ایک بار یہ دھرتی مری عذاب میں ہے
پھر عدل اہلِ ہوس کے لکھے نصاب میں ہے
وفا کا درس بھی زردار کی کتاب میں ہے
وہ فکرِ شمرِ لعیں عرصئہ شباب میں ہے
پھر حاکموں نے لگایا ہے مصر کا بازارپھر اقتدار کا نشہ ہے تخت کا ہے خمارپھر ایک مجمعء اہلِ ہوس ہے اور دربارپھر اہلِ حکمت و دانش کی جہل ہے سردارغریبِ شہر کا مختار پھر ہوا زردارمنافقت کی ہوا ہے سنو چمن میں مرےاُتر گیا ہے جوں خنجر کوئی بدن میں مرےپھر آمروں نے اٹھایا ہے سر وطن میں مرےمگر یہ کیا ہے کہ اس بار یہ حصارِ ستم
بنا رہے ہیں وہی جو
جنہیں ہے دعویٰء جمہوریت زمانے سے
جنہیں ہے فخر کہ اعزاز یہ شہادت کا
انہیں کے گھر کے لیئے جسطرح وراثت ہے
انہیں کے واسطے لکھی گئی قیادت ہے
میں کیا کرؤں کہ قَلَم کی قَسَم اٹھائی تھی
تو اس قَسَم کی مجھے اب بھی لاج رکھنی ہے
تو پھر سنو کہ نہ غاصب کو اب وکیل کرؤخود اپنے سر کو بچانے کی بھی سبیل کرؤتم اقتدار کی خواہش مگر قلیل کرؤجو کرنا چاہو تو پھر بیعتِ عدیل کرؤمت اس طرح سے یہ جمہوریت ذلیل کرؤ