انیس فروری آغا طالش کی18ہویں برسی اور صہبا اختر کی20ویں برسی ہے

انیس فروری پاکستان کے نامور فلمی اداکار آغا طالش کی سولہویں برسی منائی جارہی ہے ۔
آغا طالش کا اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا اور وہ 10 نومبر 1923ءکو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے بمبئی میں بننے والی فلم سرائے سے باہر سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا۔
قیام پاکستان کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک ہوئے اور پھرفلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔ پاکستان میں ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، دربار حبیب، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی ،فرنگی، زرقا، وطن، نیند، کنیز، لاکھوں میں ایک، زینت، امراﺅ جان ادا اور آخری مجرا کے نام سرفہرست ہیں۔
انہوں نے سات فلموں میں نگار ایوارڈ حاصل کیے تھے۔
آغا طالش نے 19 فروری 1998ءکو لاہور میں وفات پائی۔ وہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاﺅن لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیس فروری اردو کے ممتاز شاعر صہبا اختر کی 20ویں برسی ہے
صہبا اختر کا اصل نام اختر علی رحمت تھا اور وہ 30 ستمبر 1931ء کو جموں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد منشی رحمت علی، آغا حشر کاشمیری کے ہم عصر تھے اور اپنے زمانے کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے تھے۔ صہبا اختر نے بریلی

سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر اسی دوران پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آنا پڑا۔
پاکستان آنے کے بعد صہبا اختر نے بہت نامساعد حالات میں زندگی بسر کی پھر انہوں نے محکمہ خوراک میں ملازمت اختیار کی اور اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے۔ صہبا اختر کو شعر و سخن کا ذوق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا۔
وہ ایک زود گو شاعر تھے۔ انہوں نے نظم، قطعہ، گیت ، ملی نغمے، دوہے اور غزل ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام میں سرکشیدہ، اقرا، سمندر اور مشعل کے نام شامل ہیں۔
صہبا اختر 19 فروری 1996ءکو کراچی میں وفات پاگئے اور گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا
بشکریہ۔ اب تک