15.10.2026, 06:42am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

ساڑھی اب بھی انڈین فیشن انڈسٹری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے
05.02.2016, 09:05am , جمہ (GMT+1)

ہندوستان میں ساڑھی کا رواج عام ہو رہا ہے  چاہے وہ رشیمی ہو یا سوتی  تمام خواتین میں شوق پایا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔
 میں تقریباً ہر خاتون کی الماری میں کم از کم ایک ساڑھی تو ضرور پڑی ہوگی، چاہے وہ قیمتی ریشم کی ہو یا عام سُوتی کپڑے کی۔
گزشتہ برسوں میں بھارت کے شہروں میں ساڑھی اپنی اہمیت کھوتی رہی ہے اور عورتیں مغربی لباس کو زیادہ ترجیح دے رہی ہیں۔

پچھلے پورے سال کے دوران میں نے خود ساڑھی صرف دو مرتبہ پہنی۔ اس کے باوجود میں کہہ سکتی ہوں کہ اپنی دوستوں کے مقابلے میں، میں نے زیادہ مرتبہ ہی پہنی۔ لگتا ہے کہ اب ساڑھی روز مرہ کا پہناوا نہیں رہی اور خواتین صرف شادی بیاہ اور دوسری روایتی تہواروں پر ہی اسے پہنے نظر آتی ہیں۔
ایسا بھی نہیں کہ آپ روز مرہ کام کے دوران ساڑھی نہیں پہن سکتے۔ میری والدہ ہر روز ساڑھی پہنتی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ تو ساڑھی میں ہمالیہ کے پہاڑوں میں ٹریکنگ سمیت راجستھان میں اونٹ کی سواری اور کیرالا میں کشتی رانی بھی کر چکی ہیں۔
امی کے پاس پانچ سو سے زیادہ ساڑھیاں ہیں اور وہ اکثر مجھے کہتی ہیں کہ میں ان کی طرح ساڑھی پہنے ہوئے ہر کام کر کے دکھاؤں۔
چابرا555 نامی روایتی ساڑھی کی ایک دوکان جنوبی دہلی کے بازار کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ دن کے وقت یہ گاہکوں سے کچھا کھچ بھری پڑی ہے۔
ایک ہونے والی دلہن اپنی والدہ اور سہیلیوں کے جھرمٹ میں شادی کا جوڑا خرید رہی ہے۔
"
دلہن اپنا جوڑا دیکھنے میں مصروف ہے اور اس کی سہیلیاں روایتی لال اور نارنجی ساڑھیاں دیکھ رہی ہیں۔
بھارت میں ساڑھی باندھنے کے سینکڑوں طریقے ہیں۔ ہر برادری، علاقے اور نسل نے اسے مختلف انداز میں اپنایا ہے۔
حنا ملہوترا کا خاندان اس کاروبار میں دہائیوں سے ہے۔ ان کے دادا نے پرانی دہلی کے چاندنی چوک میں ایک چھوٹی سی دوکان سے کاروبار شروع کیا۔ اور اب ملک بھر میں ان کے 50 شو رومز ہیں۔
حنا ملہوترا کہتی ہیں کہ ایسے ساڑھی دوبارہ اسٹائل کا حصہ بن رہی ہے۔
’ہم چار نسلوں سے یہ کام کر رہے ہیں، ہم اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ لیکن اب کچھ حیران کن تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔‘
حنا ملہوترا کہتی ہیں کہ ’اب اچانک سے کافی نوجوان لڑکیاں، مجھ سے بھی کم عمر لڑکیاں ساڑھیاں خریدنے لگی ہیں۔ وہ انہیں پارٹیوں اور باہر گھومنے جاتے ہوئے پہنتی ہیں۔ ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘
میں بعض ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو ساڑھے پانچ میٹر لمبی ساڑھی کے ان سِلے کپڑے کو باندھ سکتی ہیں۔
کئی بیوٹی سلیون ڈیڑھ سو روپوں کے عوض ساڑھی باندھنے کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
حنا ملہوترا کے اصرار پر میں نے وہاں دکان پر ہی ساڑھی باندھنے کی کوشش کی۔

پہلے میں نے کمر کے ساتھ ایک بیلٹ باندھی اس کے بعد ایک معاون نے ساڑھی کی پرتیں بنانے میں میری مدد کی۔ یوں میں نے چند منٹوں میں ایک خوبصورت سبز ساڑھی باندھ لی۔
چونکہ یہ خوبصورت کپڑا میری پسند کے برعکس بہت بھڑکیلا اور روایتی تھا، اس لیے میری والدہ نے مشورہ دیا کہ میں خود اپنی لیے ایک ساڑھی بناؤں۔
"ساڑھی اب بھی انڈین فیشن انڈسٹری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ہمہ وقت ارتقاء کے لیے تیار ہے۔ ساڑھی میں بھارت کے سیاحوں اور چھٹیوں پر جانے والے افراد کی سوچ کے مطابق جدت لائی جا رہی۔"
نریش کُکریجا
میں فیشن ڈیزائنرز شیوان بھاٹیا اور کُکریجا سے ملی جنہوں نے ایک نایاب ساڑھی ڈیزائن کی ہے یعنی ’بکینی ساڑھی‘ جسے پانی میں یا ساحل سمندر پر بھی پہنا جا سکتا ہے۔
تیراکی کے کپڑے بنانے والے ان ڈیزائنر کو اس کا خیال اس لیے آیا کے کئی خواتین ان سے کہا کرتی تھیں کہ ایسا لباس ہو جو شائستہ بھی ہو اور ساحل پر پہننے کے لیے بھی مناسب ہو۔
چھ سو ڈالر سے شروع ہونے والی قیمتیں یقیناً سستی نہیں ہیں۔ لیکن نریش کُکریجا کہتے ہیں کہ ساڑھی اب بھی انڈین فیشن انڈسٹری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ہمہ وقت ارتقاء کے لیے تیار ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ساڑھی میں بھارت کے سیاحوں اور چھٹیوں پر جانے والے افراد کی سوچ کے مطابق جدت لائی جا رہی۔‘
میں نے بھی اپنی ساڑھی خود بنانے کا ارادہ ترک نہیں کیا اور ایک کپڑا اور لیس خریدی اور مقامی درزی سے اگلے چند گھنٹوں میں اسے سِلوا لیا۔
لیکن اس ساڑھی کی قیمت صرف پچیس ڈالر تھی اور یہ اپنی طرز کی دنیا میں واحد ساڑھی تھی۔

:دیگر مضامین
(03.02.2016) چین بھارت سرحد کے قریب پرندے کی ایک نایاب قسم دریافت کی گئی ہے۔
(31.01.2016) ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر کے آڈیٹوریم میں مرحوم ساتھیوں کے لیئے ریفرنس
(28.01.2016) باب العلم علی علیہ السلام کے علم کی بابت ارشادات
(27.01.2016) عالمی اخبار کے لیئے معروف شاعر اشفاق حسین کی خصوصی شاعری
(25.01.2016) برطانیہ' طلبہ کے لیے دنیا کا مہنگا ترین ملک بتایا جاتا ہے
(21.01.2016) مسلمان اور اسلام ۔از؛ مشہود رضا ۔جے این یو ۔ نئی دہلی
(19.01.2016) قومی اُمنگوں کو اُجاگر کرنے والے ملی وقومی نغمات 
(17.01.2016) پاکستان چین کا پہلا دوست ملک تھا۔از: ڈاکٹر نگہت نسیم 
(16.01.2016) دنیا کی سب سے اعلٰی کھجور عجوہ ہے ۔ از۔ شاہین حیدر رضوی ۔کویت
(14.01.2016) زیتون کے تیل کے استعمال سے بلند فشار خون سے حفاظت ممکن ہے
(10.01.2016) پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا خودکش حملہ 19 نومبر 1995 میں ہوا
(08.01.2016) تھائی لینڈ میں مقابلہ حسن جیتنے والی خاکروب والدین کی بیٹی
(06.01.2016) ذوالفقار علی بھٹو نے 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔
(05.01.2016) سال 2016ء میں ’ورچوئل حقیقت‘ شعبہ طب کا حصہ بن جائے گی
(04.01.2016) شیخ باقرالنمر: آمریت کیخلاف جدوجہد اور آزادی کی راہ کا مجاہد عالم دین
(02.01.2016) برج الخلیفہ پر نئے سال کی آتش بازی کی تیاریاں 6 ماہ قبل شروع کی گئیں
(31.12.2015) عالم باعمل اور استاد الساتذہ  آیت اللہ طیب الموسوی الجزائری کا انتقال
(29.12.2015) بچوں میں اپینڈیکس کے علاج کے لیے ’اینٹی بائیوٹک‘ کا انتخاب
(28.12.2015) بے نظیربھٹو کو آخری غسل دینے والی صفیہ کہتی ہے ۔ ملٹی میڈیا
(27.12.2015) قائد اعظم محمد علی جناحؒ مختلف مشاہیر کرام کی نظر میں ۔از۔رانا عبدالرزاق خاں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں