ہر سال کی طرح اس سال بھی عورتوں کے عالمی دن پر قلم اٹھایا جائے گا بہت کچھ لکھا جائے گا جس میں عورت کی مظلومیت اس کے حق کے نہ ملنے کا رونا اور بہت کچھ بیان کیا جائے گا
میں بھی مظلومی نسواں سے ہوں غمناک بہت
نہیں ممکن مگر اس عقدہ ِمشکل کی کشود
مجھے اس موقع پر مجھےاپنے بچپن میں سنی ہوئی رٹو طوطا نامی کہانی یاد آ رہی ہے ۔
کہانی کچھ یوں تھی کہ ایک جنگل سے ایک شخص کا گذر ہوا تو اس نے دیکھا کہ کچھ طوطے ایک شکاری کے جال میں پھنسے ہوئےہیں اور بے چینی سے پھڑ پھڑا رہے ہیں اس شخص کو ان طوطوں پر بڑا رحم آیا۔ اس نے ان پر احسان کیا ،اپنے گھر لایا ، ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا اور ساتھ ہی ساتھ ان کو سکھاتا رہا کہ شکاری جال لائےگا ،اس میں اچھا اچھا کھانا ہوگا، ہمیں جال میں نہیں پھنسنا، شکاری سے ہوشیار رہنا ہے ۔طوطے چونکہ جلدی رٹا لگالیتے ہیں لہذا دن رات ایک ہی سبق پڑھنے پر طوطوں نے یہ رٹا لگا لیا ۔جب اس شخص کو یہ یقین ہو گیا کہ اب طوطے ہوشیار ہو ئے ہیں اب یہ جال میں نہیں پھنسیں گے تو اس نے طوطوں کوجنگل میں لے جا کر آزاد کردیا۔کچھ عرصے بعد اس بھلے آدمی کا پھر اس جنگل سے گذر ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہی طوطے شکاری کے جال میں پھرپھنس گئےہیں اور رٹا لگا رہے ہیں اور رٹا لگا رہے ہیں شکاری آئےگا،جال لائے گا ہمیں جال میں نہیں پھنسنا۔
بالکل یہی حال آج کے مسلمانوں کا ہے۔ہم روز قران پڑھتے ہیں عربی کو رٹو طوطے کی طرح پڑھتے ہیں مگر سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اسلام نے عورت کو اسلامی معاشرے میں سب سے اعلیٰ درجے پر بٹھایا ۔لیکن شرط یہ رکھی کہ وہ عورت بھی کوئی عام عورت نہ ہو بلکہ مریم جیسی ہو۔ تاکہ دی ہوئی عزت کے ساتھ انصاف ہو سکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت اگر اپنی عزت میں مریم ہو تو معاشرے کے مردوں میں اسکا سامنا کرنے کی طاقت نہیں ۔ سورہ مریم میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مریم کو ذکر کرنے کا حکم دیا ۔ عورت کے حقوق پر بات جب ہوگی جب عورت مریم کے روپ میں نظر آئے گی ہمیں معاشرے میں عورت کے مختلف روپ نظر آرہے ہیں ۔ اگر اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو فیشن کے نام پر عورت اپنے آپ کو عریاں کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔خود کو تفریح کا سامان بنا کر یہ شکوہ کرنا کہ ہر نظر پارسا نظر آئےکہاں کی عقلمندی ہے ؟
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں معذور ہیں مردانِ خرد مند
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ؟
آزادیءِ نسواں کہ زمرد کا گلوبند؟
شاعرِ مشرق ایک اور جگہ فرماتے ہیں
بنت حوا ذرا اپنی حرمت کو سمجھ لے
مجھ سے دیکھا نہیں جاتا تیرا عریا ں ہونا !
کیا یہ وہی عوت ہے؟ جس کے بارے میں ساربانوں کو ہدایت دیتے ہوئے رحمت اللعالمین نے فرمایا تھا
آہستہ اونٹ دوڑاؤ یہ نازک آبگینے ہیں۔یہ نازک آبگینے آپ کو آج کہاں نظر آتے ہیں؟ لب سڑک قد آدم اشتہارات میں دعوت نظارہ دیتی، شاپنگ سینٹر پر خندا ں گاہکو ں کی منتظر ، ٹی وی اسکرین پر جھومتی گاتی ، لہراتی جلوہ گر،مساج گاہوں میں لطف و تسکین کی گھڑیا بہم پہنچاتی، ردی پیپر کے ریڑھے پر لدے ہوئےرسائل کے سرورق کی زینت۔۔۔۔۔۔کہیں جان محفل۔ ۔۔کہیں جان غزل۔۔۔۔۔کہیں جان کلی۔۔۔ ۔ کہیں جان ادا۔۔۔۔۔۔۔
علامہ اقبال فرماتے تھے
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے ہوجائے گی
لیکن اس کے باوجود وہ کہیں کہیں اس حقیقت کو بیان فرمادیا کرتے تھے۔
یہ کوئی دن کی بات ہے اے مردِ ہوش مند۔
غیرت نہ تجھ میں ہوگی ، نہ زن اوٹ چاہے گی
آتا ہے وہ دور کہ اولاد کے عوض۔ ۔ ۔ ۔
کونسل کی ممبری کے لئے ووٹ چاہے گی
جب کسی گھر کو تباہ کرنا ہو تو اس گھر کی عورت کو کمزور کر دو اسے اپنے گھر اس گھر کی روایات کے خلاف کر دو ،گھر تباہ ہو جائے گا ۔بس کسی طرح مغرب نے یہ بات سمجھ لی کہ مسلم معاشرے میں عورت ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔اسے گرا دو تو معاشرہ خود بہ خود تباہ ہو جائے گا۔ کیونکہ عورت یا مرد کی تخلیق کا عمل عورت کی کوکھ سے ہی ہوتا ہے۔مرد کے تمام روپ عورت کی کوکھ میں ہی جنم لیتے ہیں اور وہیں پرورش پاتے ہیں۔یہی کمزوری پکڑ کر دشمن نے ہماری عورت کی لگالم پکڑی اور اسے معصومیت سے ہٹا کر مظلومیت کی راہ پر ڈال دیا۔عورت میں یہ بے معنی احساس پیدا کر دیا کہ عورتوں تم مظلوم ہو، تمھیں چادر اور چار دیواری میں قید کر کے تمھاری صلا حیتوں کو دبایا جا رہا ہے۔
بس اسی احساس نے ہماری پردے میں پابند ، مریم کی صورت کو آزاد ی نسواں کے نام پر سڑک پر لا کھڑا کیا ۔ وہ چادر جو اس کی حرمت کی حفاظت کے لئے تھی اسے اپنے گلے کا پھندا محسوس ہونے لگی ۔نتیجتاً پہلے وہ دوپٹے کی صورت گلے کا ہار بنی ، پھر آہستہ آہستہ اس ہار کو بھی اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئےاتار پھینکا مغربی تہذیب کا یہ نعرہ کہ "عورت کو گھر سے باہر نکالو آدھی آبادی گھر میں بیکار پڑی ہے ۔" اس نعرے نے عورت کو گھر سے نکال کر سامان آسائش بنا چھوڑا ۔میڈیا کی چکاچوند زندگی لہراتے رنگوں نے ہر عورت کو آزادی کا رٹا لگوانا شروع کیا اور چمک دمک اور عیش و عشرت کی زندگی کے گرد جال بننا شروع کردیا اس حسین جال کے فریب میں نادان اور کم عقل والدین با آسانی آگئے اور انہوں نے اپنی بیٹیوں کو سب کچھ دیا سوائےنسوانیت کے ۔
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے "نازن"
کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت
بچیوں کو ہر آسائش مہیا کر کے ہم انھیں اس درخت کی مانند چھوڑ دیتے ہیں جس کو کبھی تراشا نہ گیا ہو۔ جو اپنی مرضی سے بڑھتا ہے اور جہاں چاہے جس رخ میں چاہے اپنی شاخیں بڑھا لیتا ہے ۔ آج کی عورت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت صرف مرد کی خوشنودی کےلئے نہیں پیدا کیگئی بلکہ اس کی زندگی کا مقصد بھی اپنے رب کی اطاعت اور اسلامی اقدار کی پابندی ہے۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عورت قرآن و حدیث سے مکمل رہنمائی لے کر اپنے نسوانی پندار و حیا کی حفاظت اسلامی قوانین کے ذریعےکرے ۔
اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
کیا سمجھے وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد