فرشتوں سے بھی افضل ہیں مکین ِ گنبد ِ خضرا
زمیں جنت کا ٹکڑا ہے زمین ِگنبد ِ خضرا
نہ ایسا حسن دنیا میں نہ یہ سیرتِ انسانی
حسینوں میں حسیں ٹھہرا ،حسین ِ گنبد خضرا
علی کو چھوڑ آئے وہ کہ پہونچا ئیں امانت کو
کوئی تم سا نہیں دیکھا امین ِ گنبد خضرا
بہت اغیار نے سوچا فنا کر دیں گے ہم دیں کو
رہا ا َدیان پر غالب ، یہ دین ِ گنبد ِ خضرا
بہت ہی وسوسے ڈالے شیاطینو ں نے جھٹلایا
دلوں سے کب نکل پایا ! یقین ِ گنبد ِ خضرا
جو پایا شمس ہے میں نے عطاہے میرے آقا کی
مری ہر ایک ہی کا وش رہین ِ گنبد ِ خضرا