
کیا شام اور عراق میں شعیوں اورسلفی جہادیوں کےمابین لڑی جانے والی جنگ یوں ہی جاری رہیگی
کیا پہلے عراق میں ال قاعدہ اور اب شام
میں ال ’نصرا نامی’ سلفی جہادی گروہ
صرف
شعیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟
اہل مغرب اور امریکہ کو جب یہ اندازہ ہوا کہ یہ آگ
ان کے دامن تک پہنچ سکتی ہے، تو انھوں نے شام میں سخت گیر جہادیوں کو مالی اور
فوجی امداد سے ہاتھ کھینچ لیا۔
لیکن سعودی عرب، کویت، قطر ، متحدہ امارات اور کچھ
حد تک ترکی صرف شعیہ دشمنی میں دامے درمے سخنے اپنی امداد جاری رکھے ہوئے ہیں، اور
پاکستان ان سب کا قریبی حلیف تصور کیا جاتا ہے
سعوی عرب اور نواز شریف کے دور اقتدار
میں پاکستان کی قربت کے منظر تو حال میں سعودی عرب کی جانب سے
مالی تحفہ کی صورت میں دیکھے اور سمجھے بھی
جاسکتے ہیں۔ اسی کی دہائی میں امریکہ سعودی عرب اور پاکستان کے تخلیق کردہ جہادی
تحریک امریکی حملوں کا سبب بنی
لیکن اب عراق اور شام میں القاعدہ جہادی افغانستان
اور پاکستان سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ اور اس تحریک سے اب صرف اہل تشعیح نہیں کوئی
غیر سلفی ذی روح محفوظ نہیں رہا۔
نامہ
نگار نے
ماضر قریب کی مثالیں دیکر اس منظر
نامے کا بہت جامع انداز میں تـجزیہ کیا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے