بھرپور زندگی حق کی آواز بلند کرنے والے کو سیاسی خراج پیش کیا گیا۔۔۔۔۔
باب کرو شیڈ ویل میں جون ١٩٦١ کو پیدا ہوا اور اپنے والدین کے ہمراہ ہنلٹ میں کم عمری میں رہائش پذیر ہوا ۔۔۔۔ باب کرو نے نے اپنی تعلیم گنگزووڈ اپر سکول سے مکمل کی ۔۔۔۔ فارسٹ اکیڈٹ میں سولہ سال کی عمر یونین کی سیاسی کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔اور جلد لائوٹن سے لندن آمد و رفت کے محکمہ میں اپنے زندگی کے کاموں میں مشغول ہو گئے تھے۔۔۔۔۔ ١٩٨٣ میں وہ ایک مقامی تنظیم میں بطور نمائیدہ شرکت کی اور بہت کم عرصہ دو برس میں قومی یونین میں بحیثت ریلوے مین کی شمولیت اختیار کی اور جو بعد میں آر ایم ٹی کے نام سے مشہور ہوئی۔۔۔۔
اپنی موت سے ایک ہفتہ قبل وہ معتمد اعلی کے چنائو میں شریک ہوئے اور انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اس عہدے پر فائز ہوے ۔۔۔اس کامیابی کے بعد ان کی رہائش گاہ کے باہر جو ووڈ فورڈ میں واقع ہے ۔۔۔ جہاں پر وہ اپنی اہلیہ تین دختران اور ایک بیٹے کے ہمراہ اپنی موت واقع ہونے تک رہائش پذیر تھے ۔۔۔۔۔ یہ گھر ان کی خود کی پسند تھا جو انہوں نے نہ خریدنے کی خواہش پر ریڈ برج کونسل سے حاصل کیا تھا ۔۔۔۔ وہ خود یہ بات اکثر دہراتے تھے کہ وہ ایک کونسل کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں اور کونسل کے گھر میں ان کی موت ہو گی۔۔۔۔۔ اور گزشتہ ہفتہ ان کا انتقال اسی گھر میں الصبح ہوا وہ اپنے دفتر جانے کے تیارے ہورہے تھے کہ اچانک ان کے سینے میں درد اٹھا اور خالق حقیقی کو لبیک کہہ گئے۔۔۔۔۔۔
باب کرو کو مختلف تنظیموں کی جانب سے جو خراج پیش کیا گیا اور جنازے میں مختلف تنظیموں کے افراد نے اپنی اپنے نشان اور جھنڈے اُٹھا رکھے تھے اور جب جنازہ ان کی رہائش گا سے ان کی آخری منزل کی جانب روانہ ہوا راستہ میں دونوں جانب ہزارہا افراد اپنی اپنی تنظیموں کے جھنڈے اُٹھا کر ان کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے ۔۔۔۔ یہ تنظیمں اپنے لیڈر جو ان کے لئے حق کی آواز بلند کرتے ہوے اپنی جان آفریں نثار کر کے اپنی منزل کی جانب رواں تھے اشکبار آنکھوں سے خراج پیش کرتے تھے جلوس میں شرکاء نے نیلے اور سفید رنگ جو کہ باب کرو کا پسندیدہ رنگ تھا اور فٹ بال کی ٹیم مل وال کے تمام ممبران نے ان کے جنازہ کے ہمراہ مارچ بھی کیا اور ہزاروں بینر اور جھنڈے اُٹھا کر جنازہ کے ساتھ شامل رہے ۔۔۔۔فرسٹ گریڈ ویسٹرن ترین جو لندن سے کرونوال اور ویلز کےلیڈروں نے بھی شرکت کی اور کہا کہ باب کرون جس بلندی پر اُڑنا چاہتا تھا وہ ان کے دلوں میں اس طرح بس گیا کہ جس کو ہم ہمشیہ یاد رکھیں گے ۔۔۔۔۔ جس نے انسانیت کے لئے کام کیا اور ان کے حق کو حاصل کرنے کے لئے اپنی جان نچھاور کر دی ۔۔۔۔۔باب کرو کا نعم البدل ملنا مشکل ہے اور
ہم ایک ایسا سچا کھلاڑی گنوا دیا جس کو صدیوں تک یاد رکھا جانے گا۔۔۔۔۔
باب کرو کے سفر آخرت کی چند مناظر
باب کرو محنت کشوں کا دوست تھا اس نے اپنے انسانیت کے حق کو حاصل کرنے کے لئے تنظیم میں دل کی گہرایوں سے خدمات انجام دیں اس کو کئی بار دھمکیاں بھی دی گئی اور حق کی آواز بلند کرنے سے روکاوٹیں بھی ڈالی گئیں ۔۔۔۔آر ای ٹی کے لیڈر کی حثیت سے باب کرو نے حالیہ ہڑتال کو کامیاب کروا کے اپنے مطابات کو تسلیم کروا اور ظلم کو اپنے حق پر جھکنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔مگر سیاست دانوں کو شاید یہ بات پسند نہیں آئی اور وہ ان کے ظلم کا نشان بن کر قربان ہو گئے۔۔۔۔ مرحوم کا جنازہ انتہائی طور پر پراویٹ طور پر کیا گیا ۔۔۔۔۔۔