|
اور پھر نابو ڈارلنگ چلے گئے۔۔۔۔۔۔از۔۔۔۔۔۔۔ ماہ پارہ صفدر
04.04.2014, 08:47am , جمہ (GMT+1)
ماہ پارہ صفدر
اور پھر آج نایاب بھائی چلے گئےکہ جانے والے کو کہاں روک سکا ہے کوئی۔ تین مہینے پہلے قدرت نے ان کے جانے کا اعلان کردیا تھا۔ ہم سب جانتے تھے کہ ہر گزرتا ہوا لمحہ انھیں ابدی جدا ئی کی جانب دہکیل رہا ہے۔
، ہم سب کو جانا ہے، بقول میر انیس ’ برسوں جو رہیں ساتھ تو ایک دن ہے جدائی’ امام جعفر صادق علیہ السلام کہتے ہیں کہ موت زندگی کی طرح ایک اٹل حقیقت اور زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے، اگر یہ نہ ہوتی تو انسان اس کے لیے اللہ کے سامنے گڑگڑایا کرتا۔ امام کی بات کی تردید کی تو کیا مجال ، مگر جی چاہتا ہے کہ یہ ضرور کہوں کہ موت حیققت سہی، مگرموت کے ساتھ جڑی ابدی جدائی پر صبر بمشکل ہی آتا ہے، بہرحال مشیعت ایزدی کے سامنے بھلا سوال کرنے کی گنجائش کہاں۔
نایاب بھائی نے جانے کے لیے بھی بھلا کیا دن چنا۔ آج سے ٹھیک پانچ برس قبل آج کے ہی دن یعنی تین اپریل کو ہماری بیٹی زہرہ کی شادی لاہور میں ان کے گھر سے ہورہی تھی۔ آج ( تین اپریل 2009 ) بعد عصراس کا نکاح ہوا تھا، ابھی ابھی زہرہ نے مجھے بتایا کہ میرے نکاح کے بعد نایاب خالو نے مجھے گلے لگا کر کہا کہ زہرہ میری بیٹی ہے اسی لیے میرے گھر سے رخصت ہورہی ہے۔’
واہ نایاب بھا ئی ٹھیک پانچ برس بعد عین اسی دن (تین اپریل 2014) آپ تودنیا سے ہی رخصت ہوگئے۔
جب مڑ کے گزرے ہوئے زمانوں پر نظر دوڑاتی ہوں، تو کہیں کبھی کوئی لمحہ ایسا نہیں ملا جہاں میری نایاب بھائی سے کوئی تلخی ہوئی ہو۔
نایاب بھائی کو شائد معلوم ہی نہیں ان کی چھوٹی سالیاں آپس میں گفتگو کرتے ہوئے انھیں نابو ڈار لنگ کہتی ہیں، بس یوں ہی پیار میں۔ ، نایاب بھائی تھے ہی ایسے، کہ ان سے محبت کی جائے، وہ کہتے ہیں نا کہ رشتے آسمان پر بنتے ہیں۔ بلکل ایسا ہی ہماری بجیا طلعت کے ساتھ ہوا۔ بجیا کی بات خاندان میں ہماری والدہ کی سگی اور اکلوتی خالہ کے گھر بڑے بزرگوں کے درمیان ٹھہری ہوئی تھی۔ اس زمانے میں بچوں سے پوچھ کر رشتے ہونے کا رواج بہت کم کم تھا۔ بڑے بزرگ چاہتے تھے کہ خاندان آپس میں جڑے رہیں۔ اور بچوں کو بچپن میں مانگ لینے کا خاصا رواج تھا، جسے ٹھیکرے کی مانگ کہا جاتا ہے۔ بہت خوبصورت سوچ تھی یہ ہمارے بزرگوں کی اور شائد کچھ خاندانوں میں اب بھی موجود ہو۔ بہت بچے اپنے بزرگوں کی خواہشوں کا احترام کرتے تھے، مگر بہت سے رشتے کبھی بے سبب تو کبھی کسی دنیاوی ریشہ دوانیوں کے باعث ٹوٹ بھی جاتے تھے۔ ہماری بجیا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ اچانک نایاب بھائی ان کی زندگی میں آ گئے۔ اچانک میں نے اس لیے کہا کہ نایاب بھائی ہزاروں میل دور کراچی شہر میں رہتے تھے اور بجیا سرگودھے میں۔ دونوں نے پہلے کبھی ایک دوسرے کو دیکھا نہ کہیں ملا قات ہوئی۔ نہ آجکل کا زمانہ جب آپ کو ٹیلی فون اس قدر باآسانی میسر تھا اور نہ ہی ای میلز اور فیس بک جیسے برق رفتار ذرائع موجود تھے۔ ہمارے اور نایاب بھائی کے خاندان میں قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں کا تعلق سادات بارہ سے ہے۔ مگر رشتہ بننے کی یہ وجہ نہیں تھی۔ ہمارے والد کی پھوپی زاد بہن مرحومہ صفدر پھوپھی ( اللہ انھیں جنت نصیب کرے) نے کراچی میں نایاب بھائی سے تعا رف کروایا۔ رشتہ تو آسمان پر بنا ہوا تھا۔ انسان تو بس سبب ہی بنتا ہے، شادی ہوگئی۔
نایاب بھائئ پی آئی اے میں ملازم تھے کراچی سے پنجاب آکر ہمارے خاندان میں بالکل ایسے گھل مل گئے جیسے اپنے اپنے سے ہوں۔ میں نےاب سے چند ماہ قبل اپنی والدہ کی وفات پر لکھا تھا کہ ’ ہماری ماں نے کبھی بیٹا نہ ہونے کو اپنی زندگی کا روگ نہیں بنایا، اور اللہ نے بھی کیا خوب صلہ دیا میری ماں کو، ایسے داماد دیئے جو قا بل رشک تھے، جنھوں نے ہماری ماں کو ساس نہیں، ہم سے بڑھ کر ماں کا درجہ دیا، میں نے ہم سے بڑھ کر اس لیے کہا کہ کسی دوسری ماں کو عزت و محبت دینا کچھ آسان نہیں، یقیناً صاحب اوصاف لوگوں کا عمل ہے۔ قابل ستائش ہیں ان سب کے والدین جنھوں نے اپنی اولاد کو محبت اور اخلاق کے زیور سے آراستہ کیا۔’
ہماری بجیا طلعت بہت دھیمے مزاج کی ہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی نایاب بھائی اور بجیا کے درمیان کوئی بدمزگی دیکھی ہو۔ پھر ماشاءللہ دنوں کے صاحبزادے شایان مہدی کی آمد ہوئی اور بس زندگی جیسے برق کی سی تیزی سے آگے بڑھنے لگی۔
وقت جیسی بے مہر شے اور کوئی نہیں ہوسکتی، خصوصاً اپنوں کے ساتھ گزرا اچھا وقت تو جیسے برسوں اور دنوں میں نہیں لمحوں میں گزرتا ہے۔
نوے کے عشرے میں بی بی سی سے منسلک ہوکرمیں دونوں بچوں کے ساتھ لندن آ گئی، صفدر ریڈیو جاپان سے منسلک ہو کر ٹوکیو چلے گئے اور نایاب بھائی کی ممبئی میں کارگو میجر کی حیثیت میں تقرری ہوگئی، کچھ ہی برسوں بعد شایان مہدی اعلیٰ تعلیم کے لیے شکاگو چلے گئے، یوں ہمارا خاندان بکھر سا گیا۔ وہ گھر کی محفلوں، عیدوں اور بقریدوں پر ملنا خواب ہوا،
مگر فاصلے کبھی ہما ری محبتوں میں حائل نہ ہوسکے۔
میں اور بچے زہرہ اور محمد جب صفدر سے ملنے جاپان جانے لگے تو ہم لوگ لندن سے جاپان کے سفر میں آتے اور جاتے ہوئے ممبئی میں ناباب بھائی کے پاس رکے۔ اف کیا خوبصورت دن تھے۔ اس مختصر وقت میں نایاب بھائی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ہمیں پورا ممبئی دکھادیں اور دنیا جہان کی شاپنگ کرادیں۔
بعد میں ہمیشہ یہ احساس ہوتا رہا کہ کاش ہم کچھ اور وقت وہاں گزار سکتے۔ بس یہ بالکل سچ ہے کہ محبتوں کا قرض کبھی ادا نہیں ہو سکتا۔ مگرمحبتیں چکا ئے جانے کے لیے نہیں بلکہ آگے بانٹنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ اب ہماری محبتیں ہمارے بچوں میں منتقل ہوچکی ہیں۔ شائد یہ ہی وجہ تھی کہ ہماری بیٹی زہرہ کی یہ شدید خواہش تھی کہ وہ پاکستان میں سب خاندان والوں کی دعاؤں میں رخصت ہو۔ جب اس کا تزکرہ میں نے نایاب بھائی اور بجیا سے کہا تو انھوں انتہائی خوش دلی سے اپنا گھر پیش کردیا۔
مگر یہ کیا: نایاب بھائی جانے کی اتنی جلدی، کیوں آخر، ابھی صرف چند ماہ قبل اکتوبر میں ما شاءللہ سے آپ کے ہونہار سپوت شایان مہدی کی شادی کی گہما گہمی تھی، آپ کا گھر روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا، ڈھولک کی تھاپ تھی، شادیانے تھے، اور آپ نایاب بھائی اور بجیا اپنے بیٹے کی خوشیوں سے نہال۔ ، یہ آپ کی اور بجیا کی دعاؤں کا ثمر تھا، آپ کی نیکیاں تھیں جن کا اجر آپ کو بہو فاطمہ جیسی خوش شکل، خوش اخلاق اور خوب سیرت ملی۔ نہ صرف ہم سب لوگ لاہور میں آپ کے گھر میں جمع تھے، بلکہ شادی پر ماشاء للہ پورا خاندان جمع تھا، ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ نایاب بھائی اور بجیا کی خوشیوں میں شریک ہو، یہ آپ کی ہی دی ہوئی محبتیں تھیں۔ اور پھر شادی کا اہتمام بھی آپ کے اور آپ کی بہو فاطمہ کے گھر والوں کی جانب سے ایسا ہوا کہ مدتوں یاد رہے،
نایاب بھائی آپ کی عزیز اہلیہ، بہو، بیٹا، آپ کی غم زدہ والدہ ، دور اور قریب سے آپ کے سب ہی محبت کرنے والے عزیز رشتے دار اب بھی آپ کے گھر میں جمع ہیں، لیکن اس مرتبہ آپ کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے نہیں آپ کو ہمیشہ کے لیئے الوداع کہنے کے لیے۔
ایک عجب قلق یہ نہ جانے کب تک لہو کی طرح زخمی دل سے رستا رہے کہ آپ کو الوداع کہنے والوں میں مجھ سمیت لندن سے کوئی بھی تو موجود نہیں تھا۔
|