14.10.2026, 07:43pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

اپریل 8کو لکھنؤ میں آیت اﷲسید علی نقی عرف نقّن صاحب پر عظیم سیمینار
08.04.2014, 08:40am , منگل (GMT+1)

عالمی اخبار شعبہ خبر
’سید العلمأ : حیات اور کارنامے‘ کے عنوان پر۶ سے ۸ اپریل کو لکھنؤ میں منعقد ہوگا عظیم الشان بین الاقوامی سیمینار
تنظیم ’یادگار حسینی‘ کے سرپرست و ارکان نے پریس کانفرنس میں اطلاع دی
۵ اپریل، ۲۰۱۴، لکھنؤ:
عالمی شہرت یافتہ اور برّے صغیر کے۲۰ویں صدی کے ممتازتریم عالم، دانشور اور محقق آیت اﷲسید علی نقی عرف نقّن صاحب بالمعروف سید العلماء کی رحلت کی ۲۵ ویں برسی کے موقع پر ۷۵سے بھی زائد برس پرانی تنظیم یادگار حسینی۶ سے ۸ اپریل کے درمیان ایک عظیم الشان بین الاقوامی سیمینار لکھنؤ میں منعقد کرنے جا رہی ہے جس میں مختلف اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے محققین اور ہندوستان کے اطراف سے تشریف لائے علماء و دانشور سید العلماء کی شخصیت اور ان کے کارناموں پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ معلومات یادگار حسینی کی جانب سے منعقعد کردہ ایک پریس کانفرنس میں فراہم کی گئی جس کو یادگار حسینی کے سرپرست مولانا کلب جواد نقوی، ڈاکٹر علی محمد نقوی، ڈاکٹر کلب صادق اور پروفیسر کمال الدین اکبر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر یادگار حسینی کے صدر حسن یوصف، سیکریٹری عزیز حیدر اور ارکان سینیئر صحافی حسین افسر، سید عرفان آغا، شاداب حسین وغیرہ بھی موجود تھے۔ 
یادگار حسینی سید العلماء کی ہی قائم کردہ تنظیم ہے جس کو ۷۵ سے بھی زائد برس پہلے سید العماء نے تشکیل کیا تھا تاکہ امام حسین کی شہادت کے ۱۳۰۰ سال اس طرح منائے جائیں کہ جس میں ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگوں کو شریک کیا جائے ۔ 
سید العلماء سید علی نقی ۲۶ رجب ۱۳۲۳ ھ/۱۹۰۵ کو لکھنؤ کے سب سے ممتاز علمی گھرانے میں متولد ہوئے۔ آپ کی ابتدائی تربیت والد نے کی۔ ۹ سال کی عمر تک عراق میں رہنے کے بعد آپ ہندوستان تشریف لائے اور یہاں کے دینی مدارس کی اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرنے کے بعد دوبارہ عراق تشریف لے گئے جہاں آپ نے فقہ و اصول میں وہ ملکہ پیدا کیا کہ اس دور کے تین مجتہدین آیت اﷲاصفہانی، آیت اﷲ نائینی اور آیت اﷲ ضیائالدین عراقی نے آپ کے علم کا لوہا مانا۔ وہیں علم کلام اور دفاع مذہب میں آپ کی مہارت کا لوہا سید محسن امین عاملی، شیخ جواد بلاغی محمد حسین کاشف الغطاء اور سید عبد الحسین شرف الدین موسوی نے مان لیا۔ عربی شعر و ادب میں آپ کی مہارت ان فی البدیہ قصائد و مراثی میں دیکھی جا سکتی ہے جن پر آج بھی ادبی حلقوں میں ادب کے ساتھ چرچہ ہوتی ہے۔ عربی شعر و ادب میں آپ کے اقتدار کو شام و مصر و عراق کے علماء نے قبول کیا۔ 
سید العلماء کی عربی تصانیف کو عراق وایران کے مشہور اہل علم نے شاہکار قرار دیا ہے۔ ۱۳۵۰ ھ میں ہندوستان واپس آکر آپ نے تحریر و تقریر کے ذریعہ غیر منقسم ہندوستان میں عوامی فکر کو عروج بخشنے اور دین حقیقی کی تعلیمات کو روشناس کرانے کی کوشش شروع کی۔ اردو میں آپ نے کئی سو کتابیں اور اس سے کہیں زیادہ کتابچہ تحریر کئے جو مختلف موضوعات پر اپنا جواب آپ ہیں۔ آپ کو تقریر میں خداداد قدرت حاصل تھی۔ اس دور کے تمام مقررین میں آپ افضل سمجھے جاتے تھے۔ سید العلماء کی خطابت کا ایک خاص رنگ تھا جو عبارت آرائی و سستی نکتہ آفرینی کے بجائے علم اور تحقیق پر مبنی تھا۔ 
۱۹۳۲ ء سے سن ۱۹۵۹ تک آپ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ عربی سے وابستہ رہے اور اس کے بعد ۱۹۵۹ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ شیعہ دینیات سے وابستہ ہو گئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی علی گڑھ میں ہی سکونت اختیار کئے رہے۔ 
رحلت کے بعد کے ۲۵ برسوں میں سید العلماء کی حیات اور کارناموں پر امریکہ اوربرطانیہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں ریسرچ ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران، عراق، پاکستان اور مصر میں آپ پر خاصہ کام ہوا ہے۔ ایران و عراق میں آج بھی کتنے علماء سید العماء کے اثاثے سنبھال کر رکھے ہیں۔ 

یادگار حسینی کا تعارف
۱۳۶۱ھ میں امام حسین کی شہادت کو ۱۳۰۰ سال پورے ہو رہے تھے۔ اس مناسبت سے دو، تین سال قبل سے سید العلماء نے ہندوستان کے گوشے کوشے میں یہ تحریک پھیلائی کہ ۱۳۶۱ ھ میں یادگار حسینی اس طرح منائی جائے کہ جس میں ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگوں کو شریک کیا جائے۔ اس مقصد سے تنظیم یادگار حسینی کا قیام کیا گیا جس کے ممبر غیر منقسم ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے تھے۔ شہر شہر گاؤں گاؤں پروگرام مرتب کئے گئے تاکہ حسینی پیغام حریت کو پیش کیا جائے۔ 
ہر شہر میں بڑے بڑے جلسے منعقد کئے گئے۔ اس سلسلہ کا سب سے پہلا جلسہ قصبہ زیدپور ضلع بارہ بنکی میں منعقد کیا گیا، جس میں ملک سے کافی حضرات نے شرکت کی اور علماء کرام، دانشور، وکلاء حضرات نے اور ماتمی انجمنوں اوردیگر قومی تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس جلسہ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس میں مختلف مذاہب کے لوگوں نے بھی حصہ لیا اور سید الشہدہ کی عظیم قربانی جو انھوں نے اﷲ کے دین اور پیغمبر خدا کی شریعت کے بچانے کے لئے پیش کی تھی ان کو بھر پور انداز میں پیش کیا۔ یہ جلسہ سید العلماء سید علی نقی کی صدارت میں ہوئے۔ ان جلسوں نے تحریک آزادی ہند کے لئے بڑے موئثر انداز میں کام کیا۔ 
یادگار حسینی کا ایک سب سے بڑا منصوبہ واقعہ کربلا پر ایک مبسوط کتاب شایع کرنا تھا جو غیر مسلم افراد کو کربلا کے اسباب اور اس کے مشن سے آگاہ کرے۔ اس کتاب کی تدوین کے لئے ایک ایڈیٹوریل بورڈ کی تشکیل کی گئی۔ لیکن غیر منقسم ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ممبران بورڈ کا اجتماع عملاٌ غیر ممکن ثابت ہوا اس لئے یہ تجویز رکھی گئی کہ کتاب لکھ کر بورڈ کی میٹنگ میں استصواب کے لئے پیش کی جائے۔ ۱۳۶۴ھ (۱۹۴۵ ء) میں اس کتاب کا مسودہ طبع کراکے بورڈ کے ممبران کے پاس بغرض استصواب بھیجا گیا۔ لیکن کچھ ایسے مسائل درپیش آئے کہ یہ کتاب شایع نہ ہو سکی۔ آج یہ کتاب منظر عام پر موجود ہے اور اردو (اور دوسری زبانوں میں جن میں اس کا ترجمہ ہوا ہے) واقعہ کربلا کے رونما ہونے کے اسباب و حالات اور اس کے پیغام پر سب سے موئثر اور واضح طور پر روشنی ڈالنے والی کتاب ہے۔سید العلماء نے کتاب شہید انسانیت کے علاوہ کربلا کے مقاصد کو سمجھانے اور عام کرنے کے لئے کئی دیگر کتابیں لکھیں۔ کربلا کے مقاصد کو واضح کرنے میں جو کام سید العلماء نے کیا ہے وہ تمام دیگر ہندوستانی مصنفین اور ذاکرین نے مل کر نہیں کیا۔ 

وہ کچھ افراد قلم جو یادگار حسینی کی پیغام کربلا کو نشر کرنے کی مہم میں شامل ہوئے اور جن کے نتائج قلمی اور دماغی کتاب ’شہید انسانیت‘ کی تالیف میں شریک ہوئے
مسٹر جان پونگ؛ سوامی شنکراچاریہ؛ ریورینڈ فادر پیلاشس (سابق پرنسپل، سینٹ ایکسویرس کالج، بمبئی)؛ ہز ہائنس ناصر الملک آف چترال؛ کارلائل؛ ہز ہائینس نواب صاحب خنجرہ؛ قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح (صدر آل انڈیا مسلم لیگ، بمبئی)؛ خواجہ محمد لطیف صاحب انصاری (موگا کالج)؛ سر بہرام جی جی جی بھائی (بمبئی)؛ بابو راجندر پرشاد (سابق صدر آل انڈیا نیشنل کاگریس پٹنہ جو بعد میں بھارت کے صدر بنے)؛ پیشوائے اعظم فرقہ پارسی؛ مولانا اختر علی صاحب تلہری(شاہجہانپور)؛ ہز ہائنس محمد عثمان علی خاں نظام حیدرآباد دکن؛ مصور فطرت خواجہ حسن نظامی (درگاہ حضرت نظام الدین، دہلی)؛ ہز ہائنس مہاراجہ ہلکر آف اندور؛ مہاتمہ موہن داس کرمچند گاندھی؛ مسٹر براؤن (مصنف تاریخ ادبیات ایران)؛ سر رادھا کرشنن (وائس چانسلر ہندو یونیورسٹی، بنارس، جو بعد میں ہندوستان کے صدر بنے)؛ سر فریڈرک جیمس گولڈ؛ مولانا شبلی نعمانی (مصنف سیرۃ النبی)؛ ڈاکٹر رادھا مکرجی (صدر شعبہ تاریخ، لکھنؤ یونیورسٹی)؛ مسٹر بی.جی. کھیر(سابق وزیر اعظم، بمبئی)؛ مولانا محمد عبد الحامد صاحب بدایونی؛ مولانا سید آغا مہدی صاحب رضوی (لکھنؤ)؛ جسٹس سر شاہ محمد سلیمان؛ مہاتما شانتی پرکاش (صدر شری رام تیرتھ پبلیکیشن، لکھنؤ)؛ ہز ہائنس مہاراجہ جیواجی راؤ سیندھیا آف گوالیار؛ سیکریٹری سید واڑہ حسینی بلگرام (مصنف حسین بیتی)؛ سید ارشاد حسین صاحب (رائے بریلی)؛ پروفیسر رکھوپتی سہائے فراق گورکھپوری (الہ آباد یونیورسٹی)؛ ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور (شانتی نکیتن)؛ ذاکر حسین صاحب فاروقی (بمبئی)؛ سید عابد حسین صاحب کھجوئی (ایڈیٹر مسلم ریویو، لکھنؤ/سیوان)؛ سید نواب علی صاحب سفیر سنڈیلوی؛ ڈاکٹر سر سید سلطان احمد (پٹنہ)؛ منشی پریم چند ورما؛ مسٹر کے ایل رلیا رام (لاہور)؛ نواب محمد ظہیرالدین خاں بہادر (حیدرآباد، دکن)؛ ڈاکٹر سو کمار بنرجی (لکھنؤ یونیورسٹی)؛ سید مصور حسین صاحب نجم امروہوی)؛ پنڈت جواہر لال نہرو (سابق صدر آل انڈیا نیشنل کانگریس جو بعد میں ہندوستان کے وزیر اعظم ہوئے)؛ سید سبط محمد صاحب نقوی؛ مسز سروجنی نائیڈو(حیدرآباد، دکن)؛ ہز اکسیلنسی مہاراجہ سر کشن پرشاد (سابق دستور اعظم، حیدرآباد، دکن)؛ مسٹر سی.ایس.رنگا ایر (سابق ایم.ایل.اے. سنٹرل مدراس)؛ مولانا سید مبارک علی صاحب عالم (آگرہ)؛ پنڈت برج ناتھ صاحب شرغا ایڈووکیٹ (لکھنؤ)؛ مولانا سید ابن حسن صاحب رضوی جارچوی (لکھنؤ)؛ مولانا ابوالکلام آزاد (صدر آل انڈیا نیشنل کانگریس)؛ سید خورشید حسین صاحب نقوی (کانپور)؛ سید احتشام حسین صاحب رضوی (لکھنؤ یونیورسٹی)؛ آیت اﷲ سید محسن امین عاملی (مصنف اعیان الشیعہ، دمشق)؛ پنڈت بودھا شنکر (لکھنؤ)؛ سید غضنفر علی صاحب زیدی (مصنف دور استبداد)؛ سید ریاض علی صاحب ریاض بنارسی (مصنف شہید اعظم)؛ شاعر انقلاب شبیر حسن خاں جوش ملیح آبادی؛ مولانا سید ظفر حسن صاحب امروہوی(مرادآباد)؛ مولانا عینی شاہ صاحب نظامی (حیدرآباد، دکن)؛ سید مسعود حسن صاحب رضوی ادیب (صدر شعبہ فارسی و اردو لکھنؤ یونیورسٹی)؛ مرزا محمد عسکری صاحب (لکھنؤ)؛ علامہ سید نہبتہ الدین شہرستانی (بغداد)؛ مولانا سید محمد سبطین صاحب سرسوی (سرپرست رسالہ البرہان لدھیانہ)؛ نواب سید محمد عباس صاحب طالب صفوی (شمس آباد)؛ سید کلب مصطفی صاحب (لکھنؤ)؛ مولانا سید مجتبیٰ حسن صاحب کامون پوری (ناظمیہ کالج لکھنؤ)؛ مولانا محمد نعمت امام صاحب پھلواڑی؛ پنڈت چندر پرشاد جگیاسو (لکھنؤ)؛ محمد صادق حسین صاحب علیگ (ہردوئی)؛ علامہ شیخ محمد حسین آل کاشف الغطا (نجف اشرف، عراق)؛ مولانا سبظ الحسن صاحب ہنسوی (لکھنؤ)؛ خواجہ غلام السیدین صاحب (ڈائریکٹر آف ایجوکیشن، کشمیر)؛ سید اشفاق حسین صاحب (بار ایٹ لا، سیتاپور)؛ ڈاکٹر محمد وحید مرزا صاحب (صدر شعبہ عربی، لکھنؤ یونیورسٹی)؛ علامہ ہندی مولانا سید احمد صاحب (لکھنؤ)؛ سید محمد ہاشم صاحب (مصنف ناموس اسلام، پٹیالہ)؛ سید امتیاز حسین صاحب ترمذی (پٹنہ)؛ مرتب و مولف کتاب ’شہید انسانیت‘ ناظم ادارہ یادگار حسینی علی نقی انقوی (لکھنؤ)۔

سیمینار کے بارے میں
’سید العلماء : حیات اور کارنامے‘ کے عنوان سے منعقد ہونے ہونے والے اس تین روزہ سیمینار کا افتتاحی اجلاس ۶ اپریل بروز اطوار ڈیڑھ بجے دن سے شاہ نجف (نزد سہارا گنج، شاہ نجف روڈ، لکھنؤ) میں ہوگاجس میں ملک و بیرون ملک کی کئی نامور شخصیتیں سید العلماء کی حیات اور کارناموں پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ اجلاس شام چھ بجے تک چلیگا۔ افتتاحی اجلاس کا دوسرا دور رات آٹھ بجے شروع ہوگا۔ 
۷ اپریل کوصبح ساڑھے نو بجے سے دن بھر مقالات کا دور رہے گا جو شام ۶ بجے تک چلے گا۔ ۷ اپریل کو رات ۸ بجے سے تقاریر کا ایک اور پروگرام رکھا گیا ہے۔۸ اپریل کو بھی صبح ساڑھے نو بجے سے دانشور اور محقق حضرات مقالات پڑھیں گے جو ۶ بجے شام تک جاری رہیگا۔ اس روز آٹھ بجے شب میں اختتامی اجلاس منعقد ہوگا جو گیارہ بجے تک چلیگا۔
سیمینار کی استقبالیہ کمیٹی میں جو حضرات موجود ہیں وہ درجہ ذیل ہیں: جناب علی طاہر رضوی، جناب نیر مسعود، جناب انیس اشفاق، پروفیسر فضل امام، جناب ممنون جعفری، جناب باقر ادیب، جناب احمد سجاد، جناب عباس نگار، جناب شاہد منظرعباس رضوی، جناب محمد زماں،جناب حسین افسر، جناب عالم نقوی، جناب عاصف رضا، جنام م.ر.عابد، مولانا سید رضا حیدر، ڈاکٹر امانت حسین، مولانا سید تقی نقوی، مولانا اسیف جائسی، مولانا استفا رضا، جناب صادق حیدر زیدی، جناب عارف عباس، جناب شبیہ الحسن۔

مزید معلومات کے لئے ۹۵۶۵۷۷۲۴۹۲ پر رابطہ کریں۔ گزارش ہے کہ سیمینار کا تینوں دن کفریج کرائیں۔

Program:
Inaugural Session Part I: 6th April, 1.30 p.m. to 6.20 p.m.
Inaugural Session Part II: 6th April, 8 p.m. to 11 p.m.
Papers Session Part I: 7th April, 9.30 a.m. to 1.30 p.m.
Papers Session II: 7th April, 3 p.m. to 6.20 p.m.
Speech Session: 7th April, 8 p.m. to 11 p.m.
Papers Session Part III: 8th April, 9.30 a.m. to 1.30 p.m.
Papers Session Part IV: 8th April: 3.00 p.m. to 6.20 p.m.
Valedictory Session: 8th April: 8 p.m. to 11 p.m.


:دیگر مضامین
(03.04.2014) دوستی کا بھرم اور ایک شاعر۔فرحت شہزاد ۔۔۔۔از ۔۔۔۔۔۔اکمل سید لندن
(02.04.2014) اپریل فول کی تاریخی حقیقت۔ یہ فول بنانا کب سے جاری ہے؟
(30.03.2014) ظالم یک بار پھر سے ہار گیا اور باب کرو حق کی آواز بلند کر کے جیت گیا
(24.03.2014) قرار داد پاکستان سے قیام پاکستان تک کا سفر ایک حقیقت
(22.03.2014) خشونت سنگھ ننانوے برس کی عمر میں دہلی میں انتقال کرگئے۔
(16.03.2014) پاکستان میں اکسیس ہزار سے زیاد اہل تشیع کو قتل کیا جا چکا ہے
(08.03.2014) ڈاکٹر نگہت نسیم کا سڈنی پار لیمنٹ میں خواتین کے عالمی دن پر خطاب۔۔۔۔
(08.03.2014) برلن میں مقیم قلمکار جناب عارف نقوی کی عالمی اخبار سے خصوصی گفتگو
(06.03.2014) تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کی غیر قانونی تجارت اور قدرتی ماحول کو بچایا جائے۔
(06.03.2014) جس ملک میں دولت کی تقسیم غلط ہوگی، اس ملک میں غربت جنم لے گی
(02.03.2014) کیا ہمارا تلفظ درست ہے ؟ ان الفاط کوہم کیسے ادا کرتے ہیں ۔سید اکمل حسین
(26.02.2014) یوسف عزیز زاہد کے افسانوی مجموعہ "روشندان میں اندھیرا" کی تقریب رونمائی
(21.02.2014) بی بی رقیہ بنت الحسین علیہما السلام کے بارے میں ایک تحقیق مقالہ۔سید اکمل حسین
(18.02.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار43ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(15.02.2014) پاکستان پریس کلب پیرس فرانس ۔ فرانس میں مقیم پاکستانی صحافیوں کے اعزاز میں ڈنر
(10.02.2014) بچوں میں جھوٹ کارجحان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(07.02.2014) فرانس میں ”یوم یکجہتی کشمیر“روائتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا
(05.02.2014) ایڈیلیڈ کے چڑیا گھر میں دنیا کا معمر ترین پرندہ فلیمنگو چل بسا
(24.01.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار42ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(22.01.2014) جرمنی کے شہر بون میں سکینہ بنت الحسین سے موسوم مجلس عزا کی چند تصاویر



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں