|
مفاد پرستی نے رشتوں کا تقدس بھی گہنا دیا ہے۔ از۔۔رافیعہ گیلانی
05.04.2016, 04:20am , منگل (GMT+1)
انسان کو اللہ تعالی نے قدرتی طور پر اس طرح سے تخلیق کیا ھے کہ اسے ضرور ہر عمر اور ہر دور میں اپنے جیسے دوسرے انسان کی ضرورت رھی ھے ، لیکن ساتھ ھی یہ بھی حقیقت ھے کہ دنیا کا پہلا قتل جو ایک انسان بلکہ بھائی نے دوسرے بھائی کا کیا وہ ہابیل کا قتل تھا جو اس کے سگے بھائی نے رقابت کی وجہ سے کیا -
قاتل کا نام قابیل تھا یوں قاتل و مقتول دونوں دنیا کے پہلے انسان کے بیٹے تھے اور آپس میں سگے بھائی تھے لیکن اب یہ سوچنا ھے کہ ھمیں آپس کے جھگڑوں اور لڑائی کو آج کے دور میں بھی انسان کی خصلت سمجھ کر نظر انداز کر دینا چاھئے ؟ یا اسے روکنے کا تدارک کرنا چاھئے تو اس کی بہترین مثال ھم قران سے لیتے ھیں کیونکہ بحیثیت مسلمان قران ھی ھماری سوچ اور عمل کو بدل سکتا ھے بشرطیکہ اگر ھم صحیح مانوں میں مسلمان ھیں اور دل و جان سے اس کتاب اللہ پر ایمان رکھتے ھیں تو ، سورت حجرات کی آیت نمبر 9 ، 10 میں ارشاد باری تعالی ھے مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ھیں سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
یہی صلح کا حکم ھمارے لئے دو گروپ جو آپس میں لڑائی پر آمادہ ھوں کے لئے بھی ھے - اور انفرادی طور پر اگر گھروں خاندانوں میں کسی جگہ لڑائی جھگڑا ھو تو بھی ایسا ھی حکم ھے ، آج کے مادی دور میں انسان آسائشوں میں گھر کر ایک دوسرے سے دور ھو رہا ھے رشتوں میں دڑاڑ پڑ رھی ھے ، سب ایک دوسرے سے بیزار نظر آتے ھیں کوئی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نھیں چھوٹے بڑوں کا احترام کرنا اپنی توھین سمجھتے ھیں بڑے چھوٹوں کی غلطیوں کو معاف نھیں کرتے نا شفقت کا رویہ اپناتے ھیں جو ایک مذہب انسان کا خاصہ ھوتی ھیں وہ سب روایات عادات کیفیات ختم ھو رھی ھیں ، اسی وجہ سے اب خون محبت اور رواداری کے رشتے بوجھ بن کر رہ گئے ھیں ھمیں اپنے معاشرے کو بچانے کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ھوگا ہر فر د ہر رشتہ ہر گروہ اپنے اپنے طور پر اٹھ کھڑا ھو گا تو ھی ھم اپنے معاشرتی نظام کو اپنی روایات کو اپنے رشتوں کے تقدس کو بچا سکیں گے ورنہ ھم احساس اور محبت والے انسانوں سے محروم ھوتے جائیں گے
اور صرف مشینی انسان بچ جائیں گے جو کسی کے لئے فائدہ مند نا ھونگے صرف اپنے مقاصد کو ھی سمجھنے والے ھونگے جیسا کہ آجکل دکھائی بھی دینے لگا ھے ، پھر مشینی انسان کے معاشرے میں سب دکھ تکلیف میں مبتلا ھوتے جوئیں گے ہر فر د اپنی اپنی جگہ تنہا ھوتا جائے گا کوئی کسی کو اپنے ھونے کا احساس نا دلا سکے گا ، سب دکھی پریشان ھونگے اور ایک بیمار معاشرہ پروان چڑھے گا جو انسانیت سے بے نیاز اور فلاح سے محروم ھوگا ، جس کا مظاہرہ اکثر و بیشتر ھونے بھی لگا ھے آج اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں ہر فرد پریشان ھے ہر گھر میں بیماریاں تکالیف ڈیرہ ڈالیں ھیں جب محبت الفت احساس سے خالی انسان گھر ملک ھونگے تو پھر ظاہری بات ھے خالی جگہوں پر کسی اور نے تو براجمان ھونا ھے وہ خواہ کسی بھی شکل میں ھو ،- ھمیں خود کو بچانا ھے انسانیت کو بچانا ھے اپنے انسانی تشخص کو بحال رکھنا ھے ، محبتوں اور آپس کے احساس کو بڑھا کر یہ انسان اور انسانیت کی بقا کے لئے اشد ضروری ھے
بہت نادم و دشوار ھوئی جاتی ھے زندگی - کدورت کے سمندر سے نکلو اور کنارا مانگو - محبت و الفت سے ھی سب کام سنور جائیں گے - مٹا دو جھوٹی انا کو ایکدوسرے کا سہارا مانگو - لمحہ بہ لمحہ گھٹ کر مٹ جائے گی زندگی - ہر پل کو غنیمت سمجھو محبت کا نظارا مانگو - تھک ہار کر بیٹھ جانا تو آدمی کو نھیں زیبا - چاند نہ مل سکے تو پھر ستارا مانگو - رشتوں کا طلسم بھی اب ٹوٹ چکا ھے - دل پھر سے ھو آباد ایسا کچھ تو اشارہ مانگو
|