|
مفاد پرستی نے رشتوں کا تقدس بھی گہنا دیا ہے۔ دوسری قسط ۔ از۔۔رافیعہ گیلانی
15.04.2014, 08:30am , منگل (GMT+1)
رافیعہ گیلانی
آج انسان اپنے میں مگن رھنے کی جو روش اپنائے ھوئے ھے یہ اس کے لئے گھاٹے کا سودا ھے بے شک یہ بات درست ھے کہ انسان اکیلا آیا ھے اور اسے اکیلے ہی جانا ھے لیکن محض اسی بات کو جواز بنا کر ھم اس بات کو سچ ثابت نھیں کر سکیں گے کہ ھمیں اپنی زندگیوں میں کسی دوسرے انسان کی ضرورت نھیں رھی ھے تو ھمیں آپس میں میل ملاپ کی فضا قائم کرنے میں بھی کوئی فائدہ نھیں ھے - آج اگر مجموعی طور پر دیکھیں تو ہر انسان پریشان ھے ارر کسی نا کسی طرح زہنی دباؤ کا شکار ھے اس کی وجہ بھی یہی ھے کہ ھم اپنی اخلاقی اقدار بھول رھے ھیں وہ اخلاقی اقدار جو ھمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے پر مجبور کرتی ھیں ، جس کی چند مثالیں یہ ھیں مثال کے طور پر مہمان نوازی کی روایت ، جب ایک فرد یو گروہ دوسرے سے ملے وہ اس کی خاظر مدارت کریں تو وہ یقینا مرعوب ھو گا اور بدلے میں اس سے بڑھ کر نھیں تو اس جیسا سلوک ضرور کرے گا یوں ان دونوں کے درمیان محبت کے تعلقات جنم لیں گے اس طرح معاشرے میں استحکام ھو گا اور ایک کو دیکھ کر دوسرا فرد یا گروہ بھی ویسا ھی فعل انجام دے
پھر دوسری مثال اگر ھم سے کوئی ایک فرد یا گروہ محبت میں جھگڑا مٹانے میں پہل کرے دریا دلی کا مظاہرہ کرے تو ضرور دوسرے کے دل میں اس کی قدر اھمیت بڑھے گی ، جو کافی انسانوں کے لئے سکون و اطمینان کا باعث ھو گی ، پھر ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھنے میں بہت سے منفی رویوں کو بھی ختم کرنا پڑتا ھے جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی زندگی میں ٹھراؤ پیدا ھوگا ، آجکل سب یہ شکوہ کرتے ھیں کہ ھمارے دکھ سکھ میں رشتہ دار ھمیں کام نھیں آتے یہ بھی اسی وجہ سے ھے مشترکہ خاندانی نظام ختم ھوا ھے تو یہ مسائل پیدا ھوئے ھیں جب محبت مل کر لوگ ایک چھت تلے رھنے کے عادی ھونگے تو ان کے درمیان حسد عدم برداشت جیسی بد خصلتوں کو جنم نھیں دیا جاسکتا تو یقینا سب ساتھ رھنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ کو بھی محسوس کریں گے اور خوشی میں بھی شامل ھونگے اس کے لئے ہر فرد کو کام کرنا پڑے گا گھر کے ہر فرد کو اپنے اپنے مقام اور حیثیت کے مطابق اس میں ہر فرد اور ہر گروہ کا فائدہ ھے ، بچپن میں سب نے ایک کہانی کافی بار سنی ھوگی کہ ایک بوڑھا آدمی جو مرنے کے قریب ھوتا ھے اور اپنی اولاد کو سبق دینا چاھتا ھے کہ متحد رھیں تو لکڑیاں لانے کا کہتا ھے پھر گٹھے کو توڑنے کا کہتا ھے لیکں کوئی نھیں توڑ سکتا لیکن جب وہی لکڑیاں الگ الگ کر دی جاتی ھیں تو ایک لمحہ میں ٹوٹ جاتی ھیں یہ مثال بہت اہم ھے اور ہر دور، فر د ، اور گروہ کے لئے ھے کہ اسی طرح آپس میں جڑے رھیں محبت احساس کے ساتھ تو کوئی دکھ تکلیف بڑی نھیں لگے گی ، یہ ھمیں خود طے کرنا ھو گا کہ ھم پریشان ھو کر اپنی اپنی جگہ تنہا زندگی گزاریں یا مل کر ایک دوسرے کی تکلیف کو با نٹٰیں - بھلائی تو اسی میں ھے کہ اپنے اپنے درد کو کم کریں ،
اسی مزوں پر چند اشعار پیش کرنے کی جسارت کر رھی ھوں - تنہائی کے سمند ر میں اترے زمانہ بیتا - میرے وجود کی کشتی اب کنارہ مانگے - ضبط کے سارے آداب دل بھول چکا ھے - اب تو میرا سایہ بھی گھبرا کر سہارا مانگے - کائنات کے لاتعداد کواکب سے مجھے کیا کام - جو صرف میرے لئے چمکے دل وہ ستارہ مانگے - دنیا میں نفرت کی آگ کو دیکھا ھے سدا - اب انسان کو چاھئے اک جہان پیارا مانگے - محبت تو ایک انمول تحفہ ھے خدا کا - جہاں بھی میسر ھو دل سے کہو خدارا مانگے --
|