16.10.2026, 01:49am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

پاکستان میں خواتین پر تشدد میں اضافہ باعث تشویش بنتا جا رہا ہے
17.04.2016, 09:02am , اتوار (GMT+1)

 پاکستان میں حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے سال کے پہلے تین ماہ میں خواتین کے خلاف تشدد بشمول جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کے مطابق ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں رواں سال یکم جنوری سے 31 مارچ تک خواتین پر تشدد کے 1400 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں قتل، اغوا، خودکشی اور جنسی زیادتی کے واقعات شامل ہیں۔

تنظیم کے پنجاب میں ایک عہدیدارعابد علی نے وائس آف امریکہ کو اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد و زیادتی کے سب سے زیادہ کیسز ضلع فیصل آباد میں ہوئے جن کی تعداد 282 رہی جب کہ صوبائی دارالحکومت لاہور اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔
انھوں نے بتایا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے ضمن میں جنوری سے مارچ تک سب سے زیادہ اغوا کے کیس رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 378 بنتی ہے۔

"جنسی زیادتی کے 265، قتل کے 207، خودکشی کے 110، غیرت کے نام پر قتل کے 67 کیسز سامنے آئے جب کہ خواتین کو ونی کرنے کے سات اور تیزاب سے ان پر حملہ کرنے کے 16 واقعات پہلے تین ماہ میں رپورٹ ہوئے۔"

عابد علی نے بتایا کہ محرم کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور سال کی پہلی سہ ماہی میں چھ خواتین اپنے ہی رشتے داروں کے ہاتھوں عصمت دری کا شکار ہوئیں۔
  

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات تو ہوتے رہے ہیں لیکن اب متحرک ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ایسے واقعات منظر عام پر بھی آنا شروع ہوئے ہیں اور لوگوں کو ان کی بابت معلوم ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بھی مثبت اور منفی پہلو ہیں جن پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

"لوگوں میں شعور آرہا ہے کہ جب پولیس اسٹیشن یا عدالت میں ان کی شنوائی نہیں ہوتی تو وہ میڈیا کا رخ کرتے ہیں اور اب جو آمنہ کا کیس ہوا اس میں اس لڑکی کو اپنا کیس آگے لانے کے لیے خودسوزی کرنا پڑی۔۔۔ تو اس کے اچھے اور برے پہلو ہیں کہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو کوئی ہماری بات نہیں سنے گا کوئی وزیراعلیٰ ہمارے ہاں نہیں آئے گا۔"

گزشتہ ماہ مظفرگڑھ میں جنسی زیادتی کی شکار لڑکی آمنہ نے پولیس کی طرف سے مبینہ جانبدارانہ سلوک کی وجہ سے خودسوزی کرلی تھی اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔

اس واقعے کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا اور وزیراعلیٰ پنجاب نے غفلت برتنے پر پولیس اہلکاروں کی معطلی اور سرزنش جیسے اقدامات بھی کیے۔

حقوق نسواں کی غیر سرکاری تنظیمیں ملک میں موجود قوانین پر عملدرآمد پر زور دیتی آئی ہیں کیونکہ ان کے بقول قانون کے موثر نفاذ کے بغیر اس کی حیثیت صرف ایک دستاویز سے زیادہ کچھ نہیں رہتی۔

خواتین پر تشدد کے خلاف سرگرم تنظیموں کی طرف سے اسلام آباد میں ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا جس میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد میں درپیش مشکلات اور ان کے ازالے پر بحث کی گئی۔

مباحثے میں خصوصاً جنسی زیادتی کا شکار خواتین کے مقدمات میں قانونی کارروائی اور نظام انصاف میں سقم کا تذکرہ بھی کیا گیا۔

یہاں موجود اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محسن کیانی کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں واقعاتی شہادت کی بجائے صرف گواہی پر توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے جس سے اکثر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوپاتے۔

"ہمیں جو بنیادی مسئلہ آتا ہے کریمنل جسٹس میں ہم گواہی پر توجہ دیتے ہیں اور جج بھی آخری وقت تک اس سے باہر نہیں جاتا، دنیا میں واقعاتی شہادت پر بات ہوتی ہے اگر واقعاتی شہادت اور گواہی میں کوئی ربط ہو تو پھر اس پر یقین کر لیا جاتا ہے۔" 

ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر پولیس اسٹیشن میں موجود عملے کا اس بارے میں قوانین سے مکمل آگاہ ہونا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تحصیل اور ضلع کی سطح پر خاص طور پر ایسے استغاثہ کا تقرر کیا جائے جو صرف اور صرف جنسی زیادتی کے مقدمات پر کام کرے۔

شرکا کی طرف سے ایک اور مسئلے کی جانب بھی توجہ مبذول کروائی گئی اور وہ تھی ملک میں خواتین پولیس کی ناکافی تعداد۔ خواتین پولیس افسران اور اہلکاروں کی شرح کل پولیس فورس کا ایک فیصد سے بھی کم بنتی ہے۔

وزارت داخلہ کے عہدیداروں کے مطابق ملک میں خواتین پولیس کی تعداد بڑھانے سمیت ان کے کردار کو بڑھانے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ حکام کے بقول خواتین سے متعلق قوانین کی فہرست خاص طور پر تیار کروا کر پولیس اسٹیشنز میں مہیا کی جائیں گی تاکہ ایسے واقعات کے رپورٹ ہونے پر قانون کے مطابق اس پر کارروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

بشکریہ۔وائس آف امریکہ

:دیگر مضامین
(16.04.2016) نئی ڈرامہ سیریل ’اڈاری‘ نام ہی نہیں، موضوع بھی منفرد
(13.04.2016) خلا میں انسانی سفر کے آغاز کو 56 برس مکمل
(10.04.2016) بچوں کے لیئے ادب تحریر کرنے پر سمیں لالیکا قابل تحسین ہیں
(08.04.2016) پانامہ پیپرز نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، صفائیوں اور تردید کا سلسلہ جاری
(05.04.2016) ’کیا بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی؟‘ماہ پارہ صفدر
(04.04.2016) سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی۔ اس دن کی صبح کسقدر اداس تھی۔از۔صفدر ھمدانی
(03.04.2016) تازہ پھولوں کی جگہ سلک کے پھولوں نے لے لی
(01.04.2016) غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں ۔۔۔۔۔ از ۔۔۔۔۔ صفدر ھمدانی
(29.03.2016) ایسٹر عیسائی مذہب کا تہوار جب حضرت عیسٰی کو صلیب پر چڑھایا گیا
(28.03.2016) صوبہ پنجاب میں شامل کوٹ مٹھن خاص کر پیر غلام فرید کی وجہ سے مشہور ھے
(24.03.2016) مارچ کی 23 تاریخ۔ پاکستان کی تاریخ میں یوم پاکستان تجدید عہد کا دن ہے
(21.03.2016) نوروز عالم افروز کا تہوار کیا ہے؟
(20.03.2016) دماغ کو ریموٹ کنٹرول بنانے والا حیرت انگیز آلہ جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت
(15.03.2016) بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟۔۔۔۔۔۔۔از ۔۔۔۔۔۔. ابوزین الہاشمی
(13.03.2016) نوبل انعام یافتہ بنگالی شاعر، موسیقار اور مصور رابندر ناتھ ٹیگور
(10.03.2016) دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے
(06.03.2016) کیا سلفی گروہوں کا جہاد شیعہ نسل کشی ہے؟ ایک فکر انگیز تجزیہ
(03.03.2016) پاکستان2018تک بھی نونہالوں کو معذوری سے بچانے میں ناکام رہیگا
(02.03.2016) ایک برطانوی کمپنی کے پالتو کتوں کیلئے لگژری گھر تیار 
(27.02.2016) نوے برس پُرانے بحری جہاز کو گھر میں ڈھال دیا گیا۔ ایک رپورٹ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں