ایک طرف پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی ملکوں میں سورج نے ڈھانا شروع کررکھا ہے قہر، جس کا توڑ نکال رہے ہیں کئی تو ایک دوسرے پر پانی پھینکتا فیسٹول منا کر اور دوسری طرف بنے ہوئے ہیں یہ اگلوز آرکيٹک سرکل پر جبکہ ساتھ ہی بنا ہوا یہ

ہوٹل جسے کیا گیا ہے مکمل طور پر برف سے ہی تیار ہوا ہے
کیا کرسی کیا میزیں کیا دور و دیوار، سب کچھ برف برف، لیکن جب ایک بار آپ اس کے اندر چلے جائیں تو اس کا درجہ حرارت زیرو رہتا ہے۔
اس ہوٹل کو ہر سال موسم سرما میں بنایا جاتا ہے تاکہ باقی کے مہینوں میں سیاح یہاں آکر گرمی دور کرسکیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں اس ہوٹل کے خون جماتے کمرے میں اگر کوئی بھی گزار لے ایک رات، تو اسے دے دیا جاتا ہے ’’ڈپلومہ‘‘ کہ وہ دنیا میں کہیں بھی سرد راتیں گزار سکتا ہے۔