یہ ایک مسلّمہ امر ہے اور ہم اردو بولنے والے پاکستانی مہاجرین کی بد قسمتی ہے کہ ہم کو آزادی کے بعد پاکستان کی اشرافیہ کلاس نے جی بھر کرکچلا ہے ،جو بھی محترم صدارت کی کرسی پر پہنچا یا وزارت عظمٰی کے منصب پر بیٹھا اس نے سب سے پہلا کام مہاجر قوم کے افراد کا معاشی قتل عام کیا اور اس کی قابلیت اور ان حقوق کا قتل عام کیا جو وہ اپنی ا مّید گاہ پاکستان لے کر آئے تھے ،چاہے وہ فیلڈ مارشل ایّوب خان تھے یا یحییٰ خان ہوئے یا زولفقار علی بھٹّو جیسے عوامی وزیر اعظم تھے ،یہ سب مہاجروں سے خائف تھے اور ان کا مقصد حرف اوّل مہاجرین کی بیخ کنی کرکے انہیں پاکستان میں ہندوستان کی دلت قوم بنانا تھا ۔پاکستان بننے کے بعد قابل تعلیم یافتہ مہاجر سب سے پہلے بیورو کریسی کے تمام عہدوں سے ہٹائے گئے پھر حکومت کے اعلٰی عہدوں سے ہٹانے کی مذموم رسم انجام دی گئ اورپھر باقی رہی سہی کسرعوامی وزیر اعظم جناب زولفقار علی بھٹّو نے ادارے قومیانے کے بعد پوری اس طرح کی کہ کراچی کے طول و عرض میں نوجونوں پر لازم کر دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو سن آف سوائل ثابت کرنے لئے اپنے دادا کی جائے پیدائش کا خانہ بھریں کہ اس کے دادا کہاں پیدا ہوئے تھے تب ہی اس کو پاکستان کا شہری تسلیم کیا جائے گا ،اور طرفہ تماشہ تمام سندھ سے اپنی ممکنہ حد تک تمام سرکاری اداروں سے بے رحمانہ طریقے سے نکالا گیا اور پھر ممکنہ حد تک اردو داں طبقے کو دیوار سے لگایا گیا
مجھے یہ بات کہنے میں کوئ تامّل نہیں ہو سکتا ہے یہ وہی تسلسل ہے صرف نسلوں کا فرق آیا ہے اوراس بے انصافی اور ظلم کے جواب میں جو کراچی میں مہاجروں کے اوپر جاری تھا ایم کیو ایم وجود میں آئ مجھے ایم کیو ایم کے قائد سے اختلاف ہے ان کی مئَے نوشی کے سبب اور متکبّرانہ انداز کے سبب ،لیکن میں ان کی بصیرت کی مدّاح ہوں کہ انہوں مہاجرین کو اپنے ہی وطن میں فلسطینی مہاجرین بننے سے بچایا ،اپنی پہچان کے لئے جگایا آج جو آپریشن کے نام پر ہو رہا ہے وہ بھی پاکستان کی اشرافیہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے اسی کلاس کے تحفّظ کی خاطر ہو رہا ہے،جی ہاں کراچی کا ٹارگٹڈ آپریشن بہت ہی دھوم دھڑکّے سے چل رہا ہے جبکہ ہر مجرم اسی دھوم دھڑکّے سے اپنی اپنی واردات انجام دینے میں پوری پوری آزادی اور دیدہ دلیری کے ساتھ مصروف عمل ہے اسے معلوم ہے کہ ماہانہ بھتّہ دیکر یا قتل کے لئے ملنے والی سپاری میں سے کچھ نذرانہ پولیس کے ہاتھ پر رکھ کر وہ کسی گھر کا سربراہ کسی ماں کا لال کسی بہن کا بھائ کسی معصوم کا جواں سال باپ قتل کر کے آرام و اطمینان کی نیند سوئے گا کیونکہ اس کی پشت پر پولیس کی شاباشی کا ہاتھ موجود ہے ۔
ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہونے سے لے کر اب تک کتنے سنّی مارے جاچکے ہیں لاتعداد شیعوں کو موت کی نیند سلایا جاچکا ہے ،،ان گنت بنکوں سے دن دہاڑے لاکھوں روپئے لوٹے جا چکے ہیں ابھی چند روز پہلے کروڑوں روپئے کے سونے کے زیورات لاکرز توڑ کر لے جانے والے پولیس کو کہیں نہیں مل سکے ہیں کیونکہ اتنے بڑے پیمانے پر آپریشن کا مقصد چوروں ڈکیتوں کو پکڑنا نہیں فرقہ وارانہ کلنگ کرنے والوں کو مذید شاباش دینا ہے اگر دکھاوے کو دو چار پکڑ بھی لئے جائیں تو ان کی پشت پر شاباشی دیکر چھوڑ دینا ہے جبکہ کراچی کی بستیوں میں قتل عام کرنے والے بے شمار گروہ پرورش پا چکے ہیں ،کاش ہمارے ارباب اختیار کو زراسا بھی احساس ہو جائے کہ ایک ماں اپنی اولاد کوپیدا ہونے سے لے کر بڑا ہونے تک کس طرح پالتی ہے
اس آپریشن کی آڑ میں صرف اور صرف متحدہ قومی مومنٹ کو کچل دینا ہے کیونکہ کراچی کی گلیوں میں جرائم اسی طرح لہلہا رہے ہیں جیسے آپریشن سے پہلے لہلہا رہے تھے
ایسے میں متحّدہ قومی مومنٹ نے اہنے لاپتہ کارکنوں کی فہرست سندھ اسمبلی میں پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ ان کے چھ کارکنوں کی لاشیں مل چکی ہیں رکن اسبلی کا کہنا ہے کہ سادہ لباس میں پولیس اہلکار بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں کارکنوں کو اٹھا تے ہیں۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کے وزیر اطّلاعات جناب شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ کو سندھ گورنمنٹ کے بجاءے وفاقی حکومت سے احتجاج کرنا چا ہئے۔آج ہماری حکومت کا یہ انداز حاکمیت ہے کہ وہ قاتلوں کے قدموں مین ہاتھ ہاتھ جوڑ کران کے قدموں پر سر رکھ کر بیٹھی ہوء کہ خدارا ہم سے مزاکرات کر لو اور مہاجرین کی قوم کے سیاسی نوجوان صرف اس جرم میں حکو مت کے خفیہ ہرکاروں کے ہاتھوں کئ کئ دن یا کئ کئ ہفتے تک حبس بیجا میں رکھ کربہیمانہ طریقے سے صرف اس جرم میں مارے جارہے ہیں کہ وہ پاکستان کی اشرافیہ کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں ۔
یہ وہی تسلسل ہے صرف نسلوں کا فرق آیا ہے وہ بھی پاکستان کی اشرافیہ کلاس سے تھے اور آج کئ مہینے سے کراچی کا ٹارگٹڈ آپریشن بہت ہی دھوم دھڑکّے سے چل رہا ہے جبکہ
ہر مجرم اسی دھوم دھڑکّے سے اپنی اپنی واردات انجام دینے میں پوری پوری آزادی اور دیدہ دلیری کے ساتھ مصروف عمل ہے اسے معلوم ہے کہ ماہانہ بھتّہ دیکر یا قتل کے لئے ملنے والی سپاری میں سے کچھ نذرانہ پولیس کے ہاتھ پر رکھ کر وہ کسی گھر کا سربراہ کسی ماں کا لال کسی بہن کا بھائ کسی معصوم کا جواں سال باپ قتل کر کے آرام و اطمینان کی نیند سوئے گا کیونکہ اس کی پشت پر پولیس کی شاباشی کا ہاتھ موجود ہے ۔
ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہونے سے لے کر اب تک کتنے سنّی مارے جاچکے ہیں لاتعداد شیعوں کو موت کی نیند سلایا جاچکا ہے ،،ان گنت بنکوں سے دن دہاڑے لاکھوں روپئے لوٹے جا چکے ہیں ابھی چند روز پہلے کروڑوں روپئے کے سونے کے زیورات لاکرز توڑ کر لے جانے والے پولیس کو کہیں نہیں مل سکے ہیں کیونکہ اتنے بڑے پیمانے پر آپریشن کا مقصد چوروں ڈکیتوں کو پکڑنا نہیں فرقہ وارانہ کلنگ کرنے والوں کو مذید شاباش دینا ہے اگر دکھاوے کو دو چار پکڑ بھی لئے جائیں تو ان کی پشت پر شاباشی دیکر چھوڑ دینا ہے جبکہ کراچی کی بستیوں میں قتل عام کرنے والے بے شمار گروہ پرورش پا چکے ہیں ،کاش ہمارے ارباب اختیار کو زراسا بھی احساس ہو جائے کہ ایک ماں اپنی اولاد کوپیدا ہونے سے لے کر بڑا ہونے تک کس طرح پالتی ہے
ڈاکٹر حیدر رضا کی شہادت کے بعد پولیس کا ایک بیان آیا کہ فرقہ واریت کلنگ کے پہلوپر بھی غور کیا جارہا ہے کہیں بھی کو ئ مجرم پولیس کی گرفت میں نہیں آیا ہے جبکہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوّث کچھ پولیس اہلکار خود بھی گرفتار ہو ئے ہیں ۔۔تو اے مسلمان آقاؤں اپنی آنکھین کھول کر اپنی عاقبت سنوار لو کہ قران کا فرمان ہے “قیامت قریب ہے دیکھو اور عبرت پکڑوکہ کل کے بادشاہ آج دنیا کے ظالموں سے اپنی اولاد کی گردنیں چھڑانے سے مجبور ہیں ،انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے جگر گوشے زندہ بھی ہیں یا اللہ نا کرے مار دئے گئے ہیں (خدا کرے کہ وہ زندہ سلامت اپنی ماؤں کی آغوش میں آ جائیں آمین الٰہی آمین) تو کل اس جبّار قہّار کے ہاتھ میں جب تمھاری اپنی گردن ہو گی تو کون چھڑانے آئے گا ۔