15.10.2026, 07:34pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار44ویں قسط ۔سید اکمل حسین
30.04.2014, 04:01am , بدھ (GMT+1)

سید اکمل حسین لندن

صحت کی خرابی کے باعث تسلسل سے ان تحقیقاتی رپورٹوں کو لکھ نہیں پا رہا جسکی وجہ سے ملاں ،مولویوں اور عبادت خانوں کے منتظمین کو خوشی رہتی ہے کہ شاید میں نے اس مشن سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ ان دین دشمنوں کی تمام تر مخالفت کے باوجود شکر ہے مالک لوح و قلم کا جس ے اتنی ہمت عطا کی ہے کہ مجھ جیسے بے زر اور فقیر انسان کو سچ کہتے ہوئے صرف اللہ،رسول ور آل رسول کی خوشنودی کا خیال ہوتا ہے کسی دین فروش کی ناراضگی اور مخالفت کا نہیں۔

گزشتہ رپورٹ کی اشاعت سے اب تک اتنے موضوعات جمع ہو چکے ہیں کہ ایک ضخیم کتاب ترتیب پا سکتی ہے

آیئے آج ابتدا اس ہوشربا انکشاف سے کرتے ہیں کہ برطانیہ میں مقیم ملاوں اور مولویوں کی لگ بھگ سترفیصد سے زیادہ اکثریت اس ملک میں سوشل بینفٹ حاصل کرتی ہے۔ عجب صورت حال ہے کہ منبروں سے رزق حلال کا شور مچانے والے یہ لوگ خودنجات کی کشتی کی بجائے عذاب کی کشتی میں سوار ہیں اور مساجد و عزا خانوں میں نماز پڑھانے اور دیگر دینی امور کے معاوضے طلب کرنے کے باوجود سرکاری بینفٹ بھی حاصل کر رہے ہیں

اس امر کا انکشاف مجھ سے اس سرکاری ادارے میں کام کرنے والے ایک اہل کار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کیا۔ اس فرد نے یہ بھی کہا کہ وہ ہمیں ایسے لوگوں کے ناموں کی فہرست بھی مہیا کر سکتا ہے جو اس غیر شرعی دھندے میں ملوث ہیں۔ میں نے ان سے ذاتی معلومات کے لیئے یہ فہرست مہیا کرنے کی درخواست کی ہے تا کہ اگر کسی وقت ضرورت پڑے تو ان میں سے کچھ نام شائع کیئے جا سکیں

لندن کے عزا خانے ٹوٹنگ کے ادارہ جعفریہ کا قضیہ ابھی تک تصفیہ طلب ہے اور فریقین کے درمیان رسہ کشی اور جنگ جاری ہے اور عوام کی خون پسینے کی کمائی عدالتوں اور وکیلوں پر خرچ کی جا رہی ہے۔ مصالحت کروانے والے لوگوں میں سے کچھ احباب نے گزشتہ دنوں ٹوٹنہیم کورٹ روڈ پر مولویوں کی ایک خودساختہ تنظیم کے خودساختہ سربراہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ وہ اس مسلے کے حل میں مدد دیں لیکن مولوی موصوف نے یہ کہہ کر اس مسلے میں پڑنے سے انکار کر دیا کہ عزا خانے کی متنازعے انتظامیہکا مخالف گروپ ایسے لوگوں کو مجالس پڑھنے کے لیئے مدعو کرتا رہا ہے جو انکے نا پسندیدہ افراد کی فہرست میں ہیں۔ گویا خوشنودی پروردگار سے زیادہ ضروری اب ملاں مولوی کی خوشنودی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ بہت سے نادیدہ ہاتھ ادارہ جعفریہ کے اس تنازعے کو حل کروانا ہی نہیں چاہتے ہیں

آج صبح بعد نماز فراغت ملی تو ٹیلی ویژن پر تلاوت سننے کے لئے موا صلاتی چینل تلا ش کرنے لگا ۔۔۔۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مقرر تقریر کر رہے تھے اور یہ صاحب تو مولوی کہلانےکے قابل بھی نہیں اور صاحب تقریر جس بات پر روز دے رہے تھے وہ قران اور حدیث کے حوالے سے اس بات کر ثابت کرنے کی کوششں میں لگے ہوئے تھے کہ علما کی عزت کرنا واجب ہے۔ اپنی من پسند آیات اور احادیث کو اپنی بے معانی گفتگو میں شامل کر کے اخبارات میں لکھنے والے اور مضامین پر ایک لعن طعن کی بوچھاڑ کر رہے تھے اور اپنے مطلب کے معنی اور تفسیر فرما رہے تھے ۔۔۔۔۔ شاعر یا ادیب جو باتیں ان کے بیان کے مطابق کرتے ہیں وہ سب جھوٹ ہیں اور جو افراد علما کی عزت نہیں کرتے وہ ان کے بیان کے مطابق مومن بھی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ افسوس کہ جو وہ باتیں بیان میں شامل کر رہےتھے شاید ان کو اس کا معاوضہ ادا کیا گیا تھا کہ اس موضوع پر آپ نے گفتگو کرنی ہے اور یہ نام نہاد مقرر نمک خواری کا اس ٹیلی ویژن پر مظاہرہ فرما رہے تھے ۔۔۔۔۔ ریکارڈنگ بھی موجو د ہے بار بار سنا بھی جا سکتا ہے مگر سوائے اس بات کے کہ جس اصحاب پر کیچڑ اچھالا جا رہا تھا وہ اس میں خود ہی ملوث ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔۔

برطانیہ میں مسلکی ٹی وی چینلوں نے دین میں منافرت کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ گزشتہ ہفتہ ایک اور پروگرام دیکھنے کو ملا جو براہ راست نشر کیا جا رہا تھا اور اس میں جو افراد شامل تھے اس میں ہندوستان کی ایک نامی گرامی شخصیت بھی مواصلاتی ذرائع ابلاغ کو استمعال کرتے ہوئے شامل کی گئی تھے اور یہ تو خیر سے مشرقی لندن کے ایک دنیی عبادت گاہ کے پرانے نمک خوار ہیں اور ایک عرصہ دراز سے اس ادارے میں ایام عزا میں آتے ہیں اور سالانہ چودہ پندرہ ہزار پونڈ کما کر لے جاتے ہیں یہ صاحب اس پروگرام میں شامل دو افراد کی تعریف کے پل باندھے رہے تھے جن میں ایک نام نہاد مولوی اور دوسرا ادارے کا سربراہ تھا جو دنیا جہاں کا جھوٹا اور مکار اور عیاش شخص ہے

 صرف ایک خاندان کے سر پر سہرا باندھ کر سرخرو ہونا چاہ رہا تھا جبکہ اس ادار ے میں قوم نے جو مالی امداد خطیر رقم کی شکل میں کی ہے اس کا کوئی ذکر تک نہیں کیا اور آج بھی انہی افراد سے مالی امداد کے لئے درخواست کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور بلکہ جس نمک خوار کو اپنے ساتھ لے کر بیٹھے ہوئے اس نے اس بات پر زور دیا کہ ایک کبیر تعمراتی کام شروع ہو چکا ہے جس کے لئے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے اس لئے ان کے مدد کی جائے مگر شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ اب قوم کا ان پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ 

گزشتہ دونوں میرے ذاتی صفحہ پر ہمارے ایک بزرگ دوست نے ایک تصویر چسپاں کی کچھ روز وہ عکس وہاں موجود رہا۔ وہ  تصویر یہ ظاہر کر رہی تھی کہ جو خواتین نظر آ رہی تھی اپنی قد اونچا کرنے کی کوشیں میں پاکستان سے آئی ہوئی ایک  مقررہ کے ساتھ عکس بنوا کر شاید ان کا قد اونچا ہو جائے گا مگر افسوس کہ شاید ان کو یہ معلوم نہیں کہ وہ جس کے ساتھ کھڑی ہیں وہ تو بھاری رقوم وصول کرکے اپنی قد اونچا کرتی ہیں اور زکر محمد و آل محمد کا سہاار لے کر اور منبر پر پیٹھ کر اپنی قد اونچا کئے ہوئے ہیں اور اب زبان درازی کی یہ حالت ہے کہ یہ بونے قد کی خاتون میری تحریروں پر انگلی اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور جگہ جگہ کہتی پھرتی ہیں کہ صاحب قلم مولوی کے خلاف جھوٹی باتییں لکھتے ہیں

میں جو کچھ دین فروشوں کے خلاف لکھتا ہوں وہ کسی جعلی نام سے نہیں لکھتا اور جو لکھتا ہوں وہ ثبوت اور دلیل کے ساتھ لکھتا ہوں۔ بس اتنا بتا دیجئے کہ جو کچھ میں لکھتا ہوں کیا وہ جھوٹ پر مبنی ہے یا سچ پر؟

 شاید آپکو کو یہ معلوم نہیں کہ اگر آپ کو عکس بنوانے کا اتنا شوق ہے وہ اپنا شوق پوار ضرور کریں مگر سوشل میڈیا پر انے سے پہلے اس کو اپنی مخصوص فہرست میں شامل کر لیں جو کہ اس سوشل میڈیا نے ان کو اجازت مرحمت کی ہوئی ہے کہ وہ ایسا عمل کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لکھنے کو تو میں اور بھی بہت کچھ لکھ سکتا ہوں مگر ۔۔۔۔جو کچھ انہوں نے اپنے پیام میں مجھے مخصوص خانہ میں لکھا ہے جس کا جواب میں نے دینا مناسب نہیں جانا اور ان کی اس تصویر کو اپنے ذاتی صفحہ سے حزف کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

حال ہی میں عسیایت کا ایک تہوارایسٹر گزرا ہے اور یورپ میں اس پر عام طور پر کاروبار اور سرکاری دفاتر میں تعطیل ہوتی ہے اب شاید ہمارے یہ نام نہاد مولوی اس سے بھی مالی فائدہ حاصل کرنے لگے ہیں ابھی چار روز تعطیل کے دوران  مذہب کے نام پر ایک کیمپ لگایا گیا جس میں فی کس ٩٩ پونڈ وصول کیے گئے 

اس بارے میں ایک مفصل تحریر کروں گا کہ کس طرح مزہب کے نام پر لڑکوں اور لڑکیوں کو جنسی تعلیمات دی جاتی ہیں اور ایک دوسرے کے قریب لا کر ان کو جس طرح سے بے راہ روی کی طرف گامزن کیا جا رہا ہے اس پر ایک مکمل تحریر آپ احباب کے لئے پیش کروں گا جس سے آپ کی معلومات میں اضافہ ہو گا۔۔۔۔۔۔۔

بات ہے عقیدے کی اس پر یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام رضا علیہ السلام کا ایک نوکر تھا  جس کا نام تھا عبداللہ کافی دن مولا کی غلام میں رہا، وطن واپس جانے لگاتو مولا نے کہا 'کچھ مانگ' ؛ کہنے لگا؛سرکار رزق کم ہے، مولا نے کہا:بڑھا دوں؟ کہنے لگا؛سرکارکی مرضی! مولا نے فرمایا دروازے پر میری جوتی پڑی ہے اٹھا کے لے جا'تیری سات نسلوں سے رزق ختم نہیں ہوگا' اس نے جوتی سر پہ رکھی  چونکہ حجت کی تھی،اپنے وطن کی طرف روانہ ہوا، عین جنگل کے وسط میں پہنچا تو سامنے سے معروف نامی بندہ جس کے ہاتھوں میں 100اونٹوں کی مہار تھی، جناب عبداللہ سے کہنے لگا ' جوتی سر پہ رکھی ہوئی ہے پہنتا کیوں نہیں؟' جناب عبداللہ نے فرمایا؛اپنی ہو تو پہنوں نا،یہ جوتی مولارضا کی ہے، مولا کا نام سنا، معروف نے اسی وقت عبداللہ سے کہا 'بیچنی ہے؟' عبداللہ نے کہا؛ہاں اگر مناسب قیمت مل جائے تو'  معروف نے 100اونٹوں کی مہار عبداللہ کے ہاتھ میں دی اور کہا'تیری سات نسلوں کے لیے بہت ہے' عبداللہ نے سوچا کہ مولا نے بھی سات نسلوں کا کہا تھا،اس نے جوتی معروف کے حوالے کی اور 100اونٹ مال سے بھرے ہوئے وطن کی طرف چل پڑا! معروف مولا کی جوتی سر پہ رکھ کر خراساں مولا کے دربار میں پہنچا، مولا نے فرمایا جوتی کہاں سے لی ہے؟معروف نے کہا عبداللہ سے،مولا نے پوچھا اسے کیا دیا؟معروف نے کہا؛مال سے بھرے 100اونٹ! مولا نے کہا؛سودا کہاں ہوا؟معروف نے کہا؛جنگل میں! مولا نے فرمایا؛تو نے لوٹ لیا غریب کو جنگل میں! ساری زندگی جوتی سر پہ رکھ کے مولا رضا کی دربانی کی معروف نے، حضرت علامہ آیت اللہ تقی محمد بہجت مرحوم،پورے ایران میں جتنی اس مجتہد کی تقلید تھی اتنی کسی کی نہیں تھی!استخارے کے بغیر سوال کا جواب نہیں دیتے تھے،ملاقات کاشرف ہوا،  میں نے کہا ایک سوال کا جواب پوچھنا تھا ،فرمایا پوچھ!میں نے کہا : جب معروف نے ساری زندگی مولا رضا کی جوتی سر پہ رکھ کے دربانی کی،توکیا جب وہ نماز پڑھتا تھا تو جوتی سر پہ ہی ہوتی تھی؟ 'جھوٹے پہ اللہ کی لعنت' استخارہ آیا تو اس مجتہد نے کہا  اب میرا جواب دینا واجب ہوگیا ہے، فرمانے لگے ہاں جب وہ نماز پڑھتا تھا تو مولا کی جوتی اس کے سر پہ ہی ہوتی تھی! قیام کیا'جوتی سر پہ' رکوع کے وقت'جوتی سر پہ'سجدے کے وقت'جوتی سر پہ'  تشہد کے دوران 'جوتی سر پہ' بازاری چٹائی پر بیٹھ کر علی کا نمک کھا کر علی کو بھونکنے والے بازاری مولویو!! جس علی کے بیٹے کی جوتی نماز میں آسکتی ہے اس علی کا نام لوں تو نماز باطل-


گزشتہ دنوں ایک مسلکی ٹیلی ویژن پر ایک صبح کے پروگرام میں ایک خاتون اپنا وعظ فرما رہی تھی کہ بی بی زینب کے امتحان کا واسطہ دے کر دعائیں کر رہی تھیں کہ ان کے اس امتحان جو انہوں نے دربار یزید اور بازار شام میں بازار شام میں دیا اس کے صدقے میں ان کی مشکلات کا آسان فرما دے 

افسوس تو اس بات کا ہے کہ جب ہم اس قسم کی باتین سنتے ہیں ایک طرف تو ہم بیان کرتے ہیں کہ زرا سا مقنہ سر سے سرکانہ اور دوسری طرف بی بی کا بازار و دربار میں جانا کیا یہ رونے کے لئے کافی نہیں جبکہ بی بی کا رتبہ تو ایک عالمہ محدثہ کا ہے اور یزید جیسے ناپاک اور نطفہ حرام کی کیا جرات کے وہ بی بی کا امحتان لے سکے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر منزلت کو کم کرنے  اور توہین کرنے پر آئیں تو اس قسم کی باتیں ہم ٹی وی پر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس انداز سے توہین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ان خاتون کو چاہئے کہ اپنے مطالعے میں اضافہ کریں تو بہتر ہے ۔۔۔۔۔۔۔نہ کہ اس قسم کی بے مقصد باتیں کر کے ان پاک ہستوں کی توہین کرنے سے باز رہیں ۔۔۔۔۔۔

مفت کام کروانے والے ان مسلکی ٹی وی چینلوں نے جہالت کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے اور ایسے میں دین علما کی بجائے ایک بار پھر جہلا کے ہاتھ میں آ چکا ہے

اور اب لندن کے ایک عبادت خانے کی تصویر جہاں ایک مرد مولوی لڑکیوں کو نماز عبادت گاہ میں نماز پڑھوا رہا ہے۔ ہم اپنا کوئی فیصلہ دینے کی بجائے یہ فیصلہ صاحبان علم حقیقی پر چھوڑتے ہیں کہ کیا شرعی نکتہ نظر سے ایسا واجب ہے اور کیا ایسی صورت میں محرم نا محرم کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا

آخر میں کسی موضوع اور عنوان کے بغیر ایک کارٹون آپ سب کے لیئے
نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی شخص یا مسلکی ادارہ یا  مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے


:دیگر مضامین
(25.04.2014) صفدر ہمدانی سڈنی سفر کی مختصر یادیں۔۔۔۔۔ از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔ آسٹریلیا
(19.04.2014) ایران: تختہ دار پر مجرم کو ایک ماں نے معاف کر دیا
(16.04.2014) تین جمادی الثانی خاتون جنت،دختر رسول سیدہ فاطمہ سلام اللہ کا یوم شہادت
(12.04.2014) مولوی کی اولاد عموماً نیک نہیں ہوتی ۔۔۔ نیک اولاد کیلئے رزقِ حلال کی شرط
(10.04.2014) فرینکفورٹ میں شریف اکیڈمی کی پانچویں سالگرہ منائی گئی
(08.04.2014)  اپریل 8کو لکھنؤ میں آیت اﷲسید علی نقی عرف نقّن صاحب پر عظیم سیمینار
(03.04.2014) دوستی کا بھرم اور ایک شاعر۔فرحت شہزاد ۔۔۔۔از ۔۔۔۔۔۔اکمل سید لندن
(02.04.2014) اپریل فول کی تاریخی حقیقت۔ یہ فول بنانا کب سے جاری ہے؟
(30.03.2014) ظالم یک بار پھر سے ہار گیا اور باب کرو حق کی آواز بلند کر کے جیت گیا
(24.03.2014) قرار داد پاکستان سے قیام پاکستان تک کا سفر ایک حقیقت
(22.03.2014) خشونت سنگھ ننانوے برس کی عمر میں دہلی میں انتقال کرگئے۔
(16.03.2014) پاکستان میں اکسیس ہزار سے زیاد اہل تشیع کو قتل کیا جا چکا ہے
(08.03.2014) ڈاکٹر نگہت نسیم کا سڈنی پار لیمنٹ میں خواتین کے عالمی دن پر خطاب۔۔۔۔
(08.03.2014) برلن میں مقیم قلمکار جناب عارف نقوی کی عالمی اخبار سے خصوصی گفتگو
(06.03.2014) تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کی غیر قانونی تجارت اور قدرتی ماحول کو بچایا جائے۔
(06.03.2014) جس ملک میں دولت کی تقسیم غلط ہوگی، اس ملک میں غربت جنم لے گی
(02.03.2014) کیا ہمارا تلفظ درست ہے ؟ ان الفاط کوہم کیسے ادا کرتے ہیں ۔سید اکمل حسین
(26.02.2014) یوسف عزیز زاہد کے افسانوی مجموعہ "روشندان میں اندھیرا" کی تقریب رونمائی
(21.02.2014) بی بی رقیہ بنت الحسین علیہما السلام کے بارے میں ایک تحقیق مقالہ۔سید اکمل حسین
(18.02.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار43ویں قسط ۔سید اکمل حسین



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں