لفظ مزدور کہیتے ہوئے اکثر لوگوں کے یا (بڑے لوگوں) کے چہرے پر بڑائی کے تاثرات یا یوں کہوں کہ غرور کے سایے نمو دار ہو جاتے ہیں لہجے میں تکبر کھنکتا ہے ان تمام لوگوں کو مزدور کے لغوی معنی پتہ ہیں اسکے لغوی معنی ہیں بوجھ اٹھانے

والا کتنی بڑئ بات ہے ۔ بوجھ اٹھانا اور جو لوگ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ مزدور انکا بوجھ اٹھا رہا ہے تو انکی اطلاع کے لے عرض ہے کہ دراصل وہ اپنا بوجھ کم کرہا ہوتا ہے ۔ جیسے اس دنیا کا ہر انسان کر رہا ہے۔ کیا آفیس میں بیٹھے لوگ مزدور نہیں کیا؟ ایوانوں میں بیٹھے لوگ مزدور نہیں کیا؟ ملک کا وزیر اعظم اور صدر مزدور نہیں؟ اگر نہیں تو پھر کون ہیں ؟اور کیوں ہیں؟ کیا ہم نے بے بس کو مزدور سمجھ لیا ہے؟ یا ہم اسکو مزدور کہتے ہیں ۔ جو کام کر کے مزدوری لے؟۔ تو کیا ہم سب مزدور نہیں ؟ہم کام کرکے مزدوری نہیں لیتے ؟ نام اس مزدوری کا کچھ بھی ہو۔ تنخواہ کہیں، سیلری کہیں ، لیکن ہے وہ مزدوری اور جب سب مزدور ہیں تو تکبرکیوں ؟اجرت کم ہو یا زیادہ ہیں تو مزدورہی۔
دراصل یہ لوگ منافق ہوگۓ ہیں ۔باتیں کرتے ہوئے یہ کچھ اور ہوتے ہیں اور عمل کے وقت کچھ اور، انہیں مذاہب کا سہارا چاہے ہوتا ہے گفتگو کے دوران تاکہ لوگوں کی داد وصول کر سکیں ۔ برابری کی باتیں سب کے بارے میں سوچنے کے دعویے خاص کر ہمارے سیاستدان جب بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ انکی زندگی کا مطلب صرف اس ملک کے کام انا ہے صرف عوام کے بارے میں سوچنا ہے مگر انکے اعمال سب کے سامنے ہیں ۔ خیر اگر سچائ سے دیکھا جاے تو ہمارے ملک میں یوم مزدور نہیں منایا جانا چاہے، کیوںکہ بڑے بڑے ہوٹلوں میں ائرکنڈییشن ہالوں میں بیٹھ کر مزدورں کے مسا ئل کا حل سوچا جا رہا ہوتا ہے۔ اور اسی ہوٹل یا ہال کے باہر ان غریب مزدوروں کا کھڑا ہونا بھی منع ہوتا ہے ۔ اپس میں سبقت لے جانے کے چکر میں یا کیمرے کی وجہ سے انکھوں میں ان مزدوروں کے لے درد لایا جاتا ہے لہجہ غم زدہ کیا جا تا ہے یہ ڈھونگ کیوں ؟ یہ دکھاوا کس کے لے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نفرت ہوتی ہے یہ سب باتیں سن کر کہ انسان اتنا منافق بھی ہوتا ہے؟ انہی لوگوں کے اپ کبھی دربار دیکھیں یہ بے تاج بادشاہ کی طرح اپنی ہزاروں لاکھوں کی کرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں اور انکے خاص غلام بلکہ انکے بے دماغ غلام اپنے بھائیوں کو، اپنے جیسے غریبوں کو، ایک ایک کر کے اندر بھیجتے ہیں اور وہ لوگ جو اصل میں عزت کے قابل ہوتے ہیں جو چاہے پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھتے خیر خیرات نہیں کرتے۔ لیکن انکی زندگی اسلام کے مطابق ہوتی ہے ۔وہ لوگ نیچے انکے پاوں میں بٹھتے ہیں کیوں کے انکو مجبور کیا جاتا ہے اسیا کرنے پر انکے حق سلف کر کے انکے راستے روک کر انکو پریشانیاں دے کر یہ بڑے لوگ انکے دماغ ماءوف کر دیتے ہیں اور پھر نہ صرف انکے دماغ بلکہ انکے انکی نسلوں کے جسم کے بھی مالک بن جاتے ہیں اور یہ غریب ننگے بھوکے لوگ۔ اسکو انکا حق سمھجتے ہیں
کیوں؟ کیونکہ یہ خاندانی شاطر اور دھوکے باز لوگ جن کو حرف عام میں بڑے لوگ کہا جاتا ہےیہ انکی شہ رگ پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں اور جب شہہ رگ کسی کے قبصے میں ہو تو پھر کچھ نہیں ہو سکتا ۔
یہ جو لوگ ہیں جن کو ہم ووٹ دیتے ہیں جو پوری دنیا میں ہمارے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں انکو یہ بھوکے بے بس لوگ نظر نہیں اتے اگر نہیں نظر اتےتو ٹھیک ہے۔۔۔۔ ہم نے ٹھیکہ تو نہیں لیا ان کی جڑیں مضبوط کرنے کا ان کے بچوں کو دنیا کے بڑے بڑے اداروں میں پڑھانے کا انکا باہر ملکوں میں علاج کرانے کا انکے زیورات اور ہینڈ بیگ کی قیمت سے متاثر ہونے کا یا انکے آجکے اور کل کے بیانات کاموازنہ کرنے کا ۔ ہم انکے زرخرید تو نہیں اور اگر کسی کے خیال میں ہیں تو یہ انکی خام خیالی ہے
اصل پاکستانی ۔جنکو ہم مزدور کہتے ہیں ۔جو اس ملک کے لوگ ہیں اس غریب ملک کے جو ادھار پر چلتا ہے۔ جنکے بچے پورا دن انتظار کرتے ہیں کہ باپ شام کو مزدوری لائے گا تو آٹا آئے گا پھر ماں سو شکرانے کے ساتھ پکائے گی اور ہم سنت پر عمل کرتے ہوے شکم سیر کر کے نہیں کھائیں گے اور پھرزمین کے بستر پر سو جائیں گے ہمارے ادھے ننگے جسموں کو رات بھر مچھر کاٹتے رہیں گے انکو یہ حق ہے کہ ان ملک کے دشمن لوگوں کو جن کو نہ اس ملک کاکپڑا اچھا لگے نہ پڑھائ نہ علاج انکو صرف اس ملک کے نام پر لیا گیا پیسہ اچھا لگتا ہے یا ہم بے دام غلام ۔۔۔۔۔تو پھر کیوں نہ 1886 کے مزدوروں کی پیروی کریں مر تو ایسے بھی رہیے ہیں ہم ویسے بھی تو اپنا حق مانگ کے کیوں نہ مریں ہمارے خون سے دوسروں کے محل میں روشنی کیوں ہو آو آج عہد کریں۔