 |
| لندن کی عبادت گاہ میں ہونے والے جشن تکلیف کی جھلکیاں |
جب تک ہمیں اپنی كمزوریوں كا علم نہیں ہوگا ہم ترقی نہیں كرسكتے ہیں اس طرح كے مضامیں كا اخبار میں شائع ہو نا ضروری ہے
آج کا مضمون اس مشہور واقعے سے کرتا ہوں کہ ایک استاد کلاس طلبا کومیں پڑھا رہے تھے کہ اچانک استاد نے محسوس کیا کہ کلاس روم میں سناٹا طاری ہے۔طلباء کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں ہیں کبھی تختہ سیاہ کی طرف۔استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔سوال تھا ہی ایسا۔استاد اپنی کرسی سے اٹھے اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی پھر اپنا رخ طلباء کی طرف کرتے ہوئے پوچھا۔"تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟"
کلاس کے سب سے ذہین طالبِ علم نے آخر کار گہری نظروں سے طلباء کو دیکھا اورکچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر بنی ہوئی لکیر کے بالکل متوازی مگر اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی ۔اور پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔
کسی کو نقصان پہنچائے بغیر، کسی کے نام کو بدنام کئے بغیر، کسی سے حسد کئے بغیر، کسی سے الجھے بغیر، کسی سے آگے نکل جانے کا یہی ہنر فرد اور قوم کے نام نہاد ملا نے اٹھایا ہوا ہے جو دونوں کیلئے دیر پا اور مستقبل کی تابناکی کاواحد راستہ ہرگز نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں مشرقی لندن کے ایک اسلامی ادارہ میں ایک ایسی رسم ادا کی گئی جس نے اہل اسلام اور فرقہ امامیہ کو خاص طور پر بدنام بھی کیا اور حیرت میں بھی ڈال دیا ۔۔۔۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہر کام کو ایران سے منسوب کر کے اسلامی اداروں میں رائج کیا جا رہا ہے ویسے تو اہل اسلام اور خاص کر اہل تشیح کی جو رسومات رائج ہیں ان کو اگر زیر بحث لایا جائے تو یہ نام نہاد جاہل مسجد کے امام فورا غیر مسلم ہونے کا فتوا جاری کردیتے ہیں ۔۔۔۔ مگر حیرانی تو اس بات کی ہے کہ ہندو، سری لنکا ، برما اور ایران میں زرتشت(آگر پرست) اس کو باقاعدہ جشن تکلیف کے نام سے مناتے ہیں اور اسی نام سے منسوب کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر اب ملسمانوں نے بھی اس کا اپنانا شروع کر دیا ہے جس کا چند روز قبل مشرقی لندن کی ایک مذہبی عبادت گاہ میں کیا گی ثبوت کے
طور پر تصاویر حاضر ہیں ۔۔۔۔۔۔
اگر مغرب میں جنسی تعلیمات سکول میں دی جاتی ہے اور طرح طرح کی جنسی بیماریوں بے راہ روی سے بچنے کے لئے یہ تعلیمات دی جائیں تو وہ اسلام کی رو سے غلط ہیں اور یہ نام نہاد جاہل مولوی فورا شور مچا دیتے ہیں کہ اسلام اس عمل کی اجازت نہیں دیتا مگر یہ جو کچھ مشرقی لندن کی عبادت گاہ میں ہوا اس عمل کی اجازت صرف اس بنا پر دیتا ہے کہ یہ ایران میں زرتشت(آتش پرست) اپنے کلچر کے طور پر مناتے ہیں یہاں لندن بھارت اور یورپ کے ممالک میں بسنے والےمیں بھی اس عمل کو ہندو سری لنکا اور برما سے تعلعق رکھنے والوں افراد مناتے ہیں اور بہت بہت بڑی دعوتیں کرتے ہیں ۔ کہ ان کی بیٹی سنِ بلوغت کو پہنچ گئی ہے۔۔۔۔۔۔
ان بچیوں کے والدین کے لئے کیا کہوں جن کے پاس اتنا بھی وقت نہیں کہ اپنی بچوں کی دیکھ بھال کر سکیں
دین کی تعلیمات سے یہ بہے بہرہ والدین نہ صرف خود ان مسائل سے نا واقف ہیں جو اپنے بچوں کو دوسروں کے رحم کرم پر چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور خود

صرف دنیا کی دولت کے چکر میں لگے ہوئے ہیں چاہے ان کے کام یہ دولت آئے نہ آئے اور ان کا بچہ جس عبادت گاہ میں بغرض دین تعلیم کے لئے جا رہا ہے اس کو کیا تعلیم دی جا رہی ہے ۔۔۔۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس قسم کے مسائل کو در پردہ حل کیا جاتا ہے اور بچیوں کی مائیں یا بزرگ خواتین بچیوں کو اس قسم کے مسائل بتاتی ہیں۔۔۔۔ اور اب تو ان مسائل کےحل کیلئے ایران کی فارغ التحصیل خواتین بھی موجود ہیں اور اس ترقی یافتہ دور میں جہاں گھر گھر میں مواصلاتی نظام موجود ہے اور ہر کسی کی ہتھیلی میں یہ مواصلاتی نظام ہے اور وہ ہر وقت اس پر مصروف نظر آتا ہے۔ ۔۔۔۔ نہ کہ مساجد اور امام بارگاہ اور عبادت گاہ میں بچیوں کو بلا کر ایک مرد ان مسائل کو بتاتا ہے
مجھےیہاں پر لکھنے میں کوئی آر محسوس ہو رہی کہ جیس طرح ہندو ، بدھ مت اور آتش پرست جشن تکلیف مناتے ہیں اسی طرح مسلمان بھی اس رسم کو اپنے مذہب میں داخل کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
میری اپنی تحقیق کے مطابق اگر دوران نماز ضریح اقدس یا علم سامنے آ جائے تو نماز کا سجدہ جائزنہیں رہتا۔ بقول مولوی جو کہ مسجد ےکے پیش امام بھی ہے اور اس بات سے متفق بھی ہو گا کہ ایسا ہی ہے درج ذیل میں ایک تصویر نظر آرہی ہے جیسا کہ میں گزشتہ قسط میں ایک تصویر جاری کی تھی اور اس میں سوال اپنے قارئیں کے سامنے ایک سوال رکھا تھا کہ یہ بچیاں جو بالغ ہو چکی ہیں ان کو ایک غیر محرم نماز پڑھا سکتا ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مگر صاحبان علم دانش نے جواب میں اتنا ہی عرض کی کہ نہیں یہ نماز جائز نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نے تو لعن طن کی گردان بھی جاری کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں سامنے ایک خاتوں کا مجسمہ رکھا ہوا ہے اور مولانا صاحب عبا و قباء بچیوں کی امامت کروا رہے ہیں
گو کہ مولوی کے سامنے یہ مجسمہ نہیں ہے جو ان کی مقتدی مولانا کے دائیں جانب ہیں ان کے سامنے تو ہے کیا یہ نماز جائزہ ہے ۔۔۔۔۔ دوسری جانب بہت سے

افراد سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ یہ جشن تکلیف کیا ہے جس پر کیک بھی کاٹا گیا ۔زیادہ تر افراد نے یہ ہی جواب دیا کہ ہمیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ۔۔۔۔ جب ان کو تفصیلات سے آگاہ کیا گیا تو حیران اور پریشان بھی ہوئے کہ کس قسم کی بدعت کو عبادت گاہہوں میں جاری کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
ویسے تو یہ ملاں جو دین پر ایک بد نما داغ بھی ہیں اور عزاداری جس سے ان کا تمام سال کا رزق اور کاروبار چلتا ہے اپنی پیٹوں کو جہیز میں چاندی کے پائے والے چارپائی بھی دیتے ہیں عزاداری کی مخالفت میں صف اول میں نظر آتے ہیں مگر جہاں ان کو پونڈ یا امریکی ڈالر نظر آئے فورا جائز کا فتوی جاری کرتے ہیں کہ عزاداری کے لئے سودے بازی اور ہر قسم کا ہدیہ لینا جائزہے ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ علم اور ذوالجناح کے سخت خلاف ہیں اور بھارت سے تعلق رکھنے والے مولوی کو تو میں نے یہ خود کہتے سنا ہے کہ ایک ڈنڈے پر لنگوٹ (نقل کفر کفر نہ باشد) نما کپڑا باندھ لیتے ہیں اور بھر اس کی عبادت شروع کرتے ہیں ایسے ہی ذوالجناح کے لئے بھی الفاظ استمعال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔ مہندی جناب قاسم پر شدید قسم کا اعتراض کیا جاتا ہے اور مشرقی لندن کی ایک عبادت گاہ میں تو باقاعدہ اس بات پر لڑائی ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
میں پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مولوی سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس قسم کی حرکتوں سے باز آئے اور اپنے اس عمل کی فوری طور پر قوم اور ان بچیوں سے معافی مانگے جن کی اس بارے میں تشہیر کی گئی ہے ورنہ اور سربراہاں ادارہ سے گزراش ہے کہ اس قسم کے کم از کم عبادت گاہوں میں پروگرام مت کئے جائیں۔ ۔۔۔کیوں کہ ان کی یہ مکمل زمہ داری ہے اور وہ اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں اس قسم کے جشن آتش پرست ہندو وں میں منائے جاتے ہیں ۔۔۔۔
گزشتہ دنوں میں نے ایک تصویر جو کہ ایک مسلکی ٹیلی ویژن سے لی گئی اور ایک پروگرام نشر کیا گیا اس میں ای پی جی پر صاف ظا ہر تھا کہ مجلس

علما کا کوئی بروگرام نشر کیا جا رہا ہے میرے ایک دوست جو ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں اور مسلمان نہیں مگر میرے مذہب اور گردنواح کے افراد کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں بڑی حیرانگی سے اس پروگرام کو دیکھتے رہے اور اچانک بولے کہ برادرم کیا یہ کوئی نئی مجلس علما کمیٹی کے رکن ہیں
میں نے اس سے عرض کی کہ نہیں یہ پروگرام کچھ اور نشر کیا جا رہا ہے مگر وہ شدت سے اس بات پر اڑے رہے کہ نہیں یہ کوئی مجلس علما نے اپنے نئے عہدہ دار کو معتارف کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات تو قابل توجہ تھی کہ ایک غیر مذہب بھی اس بات کا شعور رکتھا ہے کہ جو کچھ دیکھایا جا رہا ہے وہ درست نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے فورا عرض کی کہ نہیں بھائی ایسا ہرگز نہیں ہے یہ تو ٹیلی ویژن کے عملے کی بے عملی کا ایک ثبوت ہے ۔۔۔۔ اور اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ جو کچھ نشر کیا جا رہا ہے وہ سب جعلی طور پر کیا جا رہا ہے قوم کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے اور مالکان ٹیلی ویژن صرف اور صرف قوم کے رقم بٹوارنے کے حق دار ہیں مگر اپنی کارکردگی کو درست نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دنوں کے بعد مغرب کی ازان نشر ہوئی تو یہ صاحب میرے ساتھ موجود تھے اذان کو بغور سنتے رہے اور پھر ایک اعتراض اٹھایا کہ ایک طرف

تو ٹیلی ویژن کا مونوگرام صاف نظر آ رہا ہے اور دوسری طرف جہاں پر چاند کی تاریخ دی جا رہی ہے اس کے نیچے جو بلاک میں ایک چھوٹی سے سکرین نظر آ رہی ہے وہ تو اسی کی ہی تصویر نظر آ رہی ہے جو بڑی سکرین پر نشر کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔ بڑے نقطہ کی بات انہوں نے کی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروگرام کو کہیں سے جوری کیا گیا ہے اور اس پر اس داراے کا نام ہو گا جو انہوں نے بڑی چالاکی سے چھپانا چاہا ہے ۔۔۔۔
۔ میں بالکل سکتے میں آ گیا کہ یہ صاحب نے جو ایک غیر مسلم ہیں ہمارے پروگرام کو کتنی باریکی سے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر میری سوچ کسی اور جانب چلی گئی کہ کیا یہ جو ازان اور نماز نشر کی جاتی ہے یہ چوری کے زمرے میں نہیں آتی یہ ادارہ جس نے یہ فلم بنائی اس نے اپنے حقوق محفوظ رکھے ہوئے ہیں اس کی اجازت کے بغیر اس میں رد و بدل کر کے اپنے نام سے منسوب کر کے نشر کیا جا رہا ہے کیا یہ غصب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ کام شرعی طور پر جائز ہے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس وسائل موجود ہیں اور ہر طرح کی تکنیکی سہولیات موجود ہونے کے باوجود آپ محنت نہیں کرنے جو یہ غصب کے اشیاء سے اپنی نشریات کو جاری رکھا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔ افسوں تو اس بات کا ہے کہ محنت کا معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے جو کہ مالکان نہیں چاہتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ دین محمد اب جولاہوں اور موچیوں اور سبزیاں پیچنے والوں اور ڈھول تاشے بجانے والوں کے ہاتھ میں ہے جاہئے جدھر مرضی موڑ لیں۔ عزت سادات کو روز ازل سے پایال کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آج کل عبادت خانوں میں جو بازار سیاست گرم ہے میرے اگلا مضمون اس موضع پر ہو گا انشا اللہ
مسلمانوں کے فرقے جو کہ حنفی حمام میں دیوبندی اور بریلوی سب کے سب ننگے
ایک شخص اپنے سگے بھائی کو ماں کی گالیاں دے رہا تھاایک عقلمند نے اسے سمجھایا کہ تو اپنی ماں کو کیوں گالیاں دے رہا ہے؟ اس شخص نے اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ میں اپنی ماں کو نہیں بلکہ اس کی ماں کو گالیاں دے رہاہوں۔ اس بھلے مانس نے انہیں سمجھایا کہ تم دونوں کی ماں ایک ہی ہے اور ایک کا دوسر ے کی ماں کو گالیاں دینا اصل میں اپنی ہی ماں کو گالیاں دینا ہے۔
ہمیں نہیں معلوم کہ اس بھلے مانس کی بات اس بھائی کو سمجھ میں آئی یا نہیں۔ لیکن یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ اسی عادت بد میں مبتلا دیوبندیوں اور بریلویوں کو یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں کیونکہ یہ باتیں انہیں سمجھ میں آتیں ہیں جن کا دماغ تقلید کی لعنت سے بالکل ہی بیکار اور کنڈم نہ ہو گیا ہواور جن لوگوں میں کچھ غیرت اور شرم باقی ہو لیکن جن کا کشکول حیا اور غیرت سے بالکل ہی خالی ہوگیا ہو وہ یہ معقول باتیں سمجھنے سے بالکل قاصر رہتے ہیں اور انہیں کو توحنفی کہا جاتا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو دنیا میں دو چیزیں ایسی نظر آئیں گی جو اس عالم کی بقا اور تعمیر وترقی میں عمود اور بنیادی کردار کا درجہ رکھتی ہیں ، ایک عورت ، دوسری دولت ، لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو یہی دونوں چیزیں دنیا میں فساد وخون ریزی اور طرح طرح کے فتنوں کا سبب بھی ہیں ، جب کہ یہ دونوں چیزیں دنیاوی تعمیر وترقی اور اس کی رونق کا ذریعہ ہیں ، لیکن جب کبھی ان کو ان کے اصلی مقام وموقف سے اِدھر اُدھر کر دیا جاتا ہے تو یہی چیزیں دنیا میں سب سے زیادہ مہلک بھی بن جاتی ہیں