پاکستان کی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پچھلے تین سالوں میں 950 سے زائد لوگ فرقہ ورانہ حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
خطرناک بات یہ ہے کہ اس رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت ان واقعات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2011 میں فرقہ ورانہ حملوں میں197 ، 2012 میں 370 جبکہ گزشتہ سال 2013 کے دوران 387 افراد ہلاک ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ فرقہ ورانہ ہلاکتوں میں صوبہ بلوچستان 528 ہلاکتوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں ماضی قریب میں شیعہ ہزارہ برادری کے خلاف سب سے زیادہ سنگین حملے ہوئے۔
دوسرے نمبر پر سندھ ہے، جہاں وزارت داخلہ کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد 207 ہے۔ اس کے بعدپنجاب (86)، گلگت-بلتستان (62)، فاٹا (62) اور خیبر پختونخوا (22) جبکہ اسلام آباد میں تین ہلاکتیں ہیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ فرقہ واریت کے حوالے سے آزاد کشمیر سب سے محفوظ ہے جہاں گزشتہ تین سالوں کے دوران ایک بھی ایسی ہلاکت نہیں ہوئی۔
وعدے اور وعدے وزارت نے اپنی رپورٹ میں فرقہ ورانہ تشدد ختم کرنے کے لیے پانچ ایسے اقدامات بھی بتائے ہیں جن پر حکومت عمل درآمد کر رہی ہے۔
تاہم، تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ان اقدامات میں سے ایک بھی مذہب کے نام پر لوگوں کی ہلاکتیں روکنے میں ناکام رہا۔
رپورٹ میں بیان کیے گئے اقدامات میں سے کچھ پہلے ہی پالیسی کے طور پر استعمال ہو چکے ہیں تاہم ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
پہلا (اور سب سے پرانا) قدم پولیس، انٹیلجنس محکموں اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ایسی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھنا ہے۔
دوسرے اقدام کے طور پر حکومت نے نئی قومی داخلہ سیکورٹی پالیسی میں پرتشددفرقہ ورانہ عناصر کی جانب سے لاحق خطرات کو قومی داخلہ سیکورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
پالیسی کے تحت حکومت اس معاملے سے جامع انداز میں نمٹے گی۔
تیسرے قدم میں فرقہ ورانہ ہلاکتوں کوایک ایسے جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے تحفظ پاکستان آرڈیننس (پی پی او)کے تحت نمٹا جائے گا۔
حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام کے ذریعے بروقت تحقیقات اور انصاف فراہم کیا جا سکے گا۔

خیال رہے کہ حکومت نے حال ہی میں قومی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور کر کے اس آرڈیننس کی معیاد اگلے 120 دنوں تک بڑھا دی ہے۔
تاہم اس آرڈیننس کا مستقبل غیر یقینی ہے کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس میں نمایاں ترامیم ہونے تک وہ اس کی حمایت نہیں کریں گے۔
حکومت نے چوتھے قدم کے طور پرنفرت پھیلانے والی فرقہ ورانہ تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم، موجودہ حکومت نے اپنے دور میں ایک بھی تنظیم پر پابندی نہیں لگائی، حالانکہ کئی کالعدم گروپ دوسرے ناموں کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ صحیح نگرانی اور پابندی کے موثر اطلاق کے بغیر ایسی تنظیموں پر پابندی لگانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔
چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں وزارت داخلہ کی جانب سے آخری قدم میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نفرت آمیز مواد کی اشاعت اور تقسیم پر کارروائی کرے گی۔
یہ اقدام بھی نیا نہیں، کیونکہ دہائیوں سے ماہرین کہتے آئے ہیں کہ اس طرح کے مواد پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔