14.10.2026, 03:25pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار46ویں قسط ۔سید اکمل حسین
28.05.2014, 07:05am , بدھ (GMT+1)

سید اکمل حسین لندن

گزشتہ تحقیقاتی رپورٹ جو لندن میں ہونے والے جشن تکلیف کے حوالے سے تھی اسکی اشاعت کے بعد مسلسل دونوں قسم کے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ بہت زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو اس پر خوش ہیں کہ ایسی روایات کو طشت از بام کیا جا رہا ہے جبکہ کچھ لوگ اسکی اشاعت کے بعد سے سیخ پا ہیں اور گالم گلوچ کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے فیس بک پر ایسے مذہبی عناصر کے خلاف نہایت سخت اور غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کی ہے جسے ہمارے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے جسکی میں سختی سے تردید کرتا ہوں کیونکہاخبار یا کسی اور جگہ آج تک کسی بھی رپورٹ  میں اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ رہی بات تحقیقات کے ذریعے دین فروشوں کو اور انکے کردار کو طشت از بام کرنے کا کام تو وہ ہم کسی خوف، طمع ،لالچ اور دھونس دھمکی کے بغیر جاری رکھیں گے
London School of Science and Technology
برطانیہ کے نہایت موقر انگریزی روزنامے گارڈین کی اکیس فروری کی اشاعت میں ایک تحقیقاتی رپورٹ وڈیو سمیت شائع ہوئے ہے جس میں تعلیم کے نام پر بڑی رقوم بٹورنے والے ایک ایسے گروہ کو ننگا کیا گیا ہے جو لندن میں ایک مسلکی ٹی وی چینل بھی چلا رہے ہیں اور یہاں سے بھی امام زمانہ اور آل رسول کے نام پر پیسہ بٹور رہے ہیں۔ ہم کسی قسم کے تبصرے کے بغیر اخبار گارڈین کی رپورٹ کا لنک ذیل میں لگا رہے ہیں اسے کلک کیجئے اور پڑھئے سفید رنگ کے لوگوں کے کالے کارنامے اور سادات کو بدنام کروانے والوں کے کردار



ِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الۡاَسْبَابُ﴿ سورہ بقرہ آیت166﴾
جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں 

‎آج صبح جب سو کر اُٹھا تو خلیل جبران نے اپنے پیام میں سورہ بقرہ کی مندرجہ بالا آیت ارسال کی تھی کافی دیر تک اس پر سوچتا رہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا 
ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہے وہ ایک اندھی تقلید کے حوالے سے کر رہے ہیں اور ہم اپنے عمل کے خود زمہ دار ہیں ۔۔۔۔۔۔
جو تصاویر آپ کی نظر سے اخبار میں جاری کی گئی ہیں یہ ہماری ملکیت نہیں بلکہ ان کو ایک سوشل میڈیا سے حاصل کر کے شائع کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ٓکوئی نہ کوئی تو وہاں پر موجود تھا جو تصاویر بنا رہا تھا ۔
 اس کی تفسیر کے لئے  قران  کی تفسیر دیکھنے کے لئے ہاتھ بڑھایا پہی تھا کہ اچانک ایک فون کال نے تمام کا تمام ماحول خراب کر دیا اور پھر سے وہی سوال دوہرایا جانے لگا کہ یہ جشن تکلیف کیا ہے میں نے عرض کی برادر محترم جس نے اس جشن کو منایا ہے ان سے پوچھے یا اگر گھر میں کوئی  والدہ یا ہمشیرہ موجود ہے تو اس اسے معلوم کر لیں وہ صاحب مجھ پر درہم برہم ہونے لگے میں نے عرض کی کے برادر عزیز مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں میں لا علم ہوں یا کسی ایسی خاتون  سے پوچھیے جو شرعی مسائل سے واقف ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ وہ واقعہ ہے جو اج صبح ہی صبح میرے ساتھ پیش آیا ۔۔۔۔۔۔ اب تمام دن کیسے گزرے گا یہ مجھے معلوم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ 

SHIA Defence League

شیعہ ڈیفس لیگ کے صفحہ پر جو کچھ روداد لکھی گئی اور ایک فرضی اور بد زبانی اور کندں زہن کی اخترا ہے ایک علمی اور ادبی موضع کو جہالت کا انبار بنا کر پیش کیا گیا اور جس رنگ سے انہوں نے اس موضوع کی دہجیاں بکھری ہیں اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے بہر حال یہ اس صغحہ کے انتظامیہ کی ذمہ داری ہے وہ اس کو احسن طریقے سے  بھی شائع کر سکتے تھے اور جس رنگ میں انہوں نے پیش کیا اس سے  بہت سے مخالفین تلملا اٹھے۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ان کی ذات پر حملہ کیا گیا ہے افسوس کہ ایک علمی اور ادبی ماحول میں رہ کر گفتگو کو جاری نہ رکھے سکے اور  جس اوچھے اور بند زبانی کی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری نظر میں یہ ایک معاشرتی پہلو سے بات کرنا مقصود تھا نہ کہ بد نیتی کی بنا پر شر کی نیت سے اس بات کو آگے نہیں بڑھایا گیا ۔۔۔۔۔ اور اس کو یہاں پر ہی روک دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ 
مگر اس دوران میری گفتگو چند صاھبانِ علم اور ادبی  اور مزہبی محقق افراد سے بھی اس موضع پر ہوئی ان سے دوران گفتگو جو ہوئی وہ آپ بھی پڑھ لیں تا کہ جوغلط رنگ دیا گیا ہے اس کا ازلہ بھی ہو سکے اور جو شبہات اس دوران سامنے آئے ان کو بھی دور کیا جا سکے ۔۔۔۔۔۔ اور یہ ہی طریقہ ہی بڑھے لکھے  افراد کو ہوا کرتا ہے ہو سکتا ہے کہ میرے علم میں معاشرتی طور پر اس بات کا علم نہ ہو جو کچھ دیکھنے کو ملا اور عملی طور پر کیا گیا میرے تجربہ سے باہر ہو ۔۔۔۔۔۔۔
  
حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر نے اپنی گفتگو کے دوران مجھے جو علمی معلومات ملی وہ درج ذیل ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور چشن تکلیف کے معنی کسی تکلیف پر جشن کے نہیں ہیں جس سے اذہان ماہواری تکلیف کی جانب چلے جائیں اور ہم یہ کہیں کہ ماہواری تکلیف پر چشن منایا جا رہا ہے، جبکہ چشن تکلیف کے معنی واجبات کے واجب ہونے پر چشن منانے کے ہیں، آپ نے عربی میں لفظ  مکلف  ملاظہ کیا ہوگا جس کے معنی اس شخص کے ہیں جس پر واجباب واجب ہوئے ہوں، لہذا فقہی اصطلاح میں لفظ تکلیف کے معنی واجبات کے ہیں اور جن پر یہ واجبات لاگو ہوں انہیں مکلف کہتے ہیں، اس بیان کے پیش نظر چشن تکلیف سے مراد واجبات کے واجب ہونے پر چشن منانے کے ہیں نہ کہ تکلیف پر چشن منانا مراد ہو۔

آغا مجھے معلوم ہے کہ یہ سب کیا ہے یہ سکینہ ٹرسٹ میں نہیں ہوا بلکہ مشرقی لندن کے کیس اور ادارہ میں ہوا ہے  جہاں پر آپ جمعہ کی نماز امامت کرواتے ہیں  ہیں وہاں پر منایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کہ کہا جا رہا ہے کہ یہ جشن ایران میں منایا جاتا ہے اس لئے ہم بھی منا رہے  ہیں اگر کہیں تو میں اسی فین بک پر سے اور بھی تصاویر مہیا کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ پھر اگر واجبات ہی بتانے مطلوب ہیں تو بھائی بہن ان واجبات کی تعلیم دے سکتا ہے   اور اس تقریب میں تو بلا امتیاز ایک چار سالہ کی بچی کو بھی دعوت دی گئی تھی کہ وہ شرکت کرے افسوس تو اس بات کا ہے کہ خواتین کے مسائل خواتین ہی بچیوں کو بتاتی ہیں نہ کہ مسجد کا مولوی  ۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک غیر مرد بھی وہ خواتین مین موجود ہے تصاویر دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔کچھ افراد اس کو غلط رنگ دے رہے ہیں میری ریسرچ تو یہ ہے کہ ایران کا کلچر تو زرتشت (آتش پرست ) کا ہے اور وہ اس کو بہ احسن طریقے سے مناتے ہیں منارے ہیں ہندوستان میں باقاعدہ ہندو اس پر بہت بڑے بڑے جشن مناتے ہیں اگر ایسا ہی کرنا ہے تو مساجد سے باہر پرائیویت فنکشن کر کے منایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کا تعلق بھی تو بھارت سے ہے آپ مجھے سے پہتر جاتنے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس معاملے کو
حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر 
جی آپ درست فرما رہے ہیں کہ دیگر ادیان میں بھی یہ کام ہوتا ہے لیکن وہاں مقصود و مطلوب مادیات ہیں اور ایران میں واجبات کے واجب ہونے پر یہ چشن منایا جاتا ہے اور جنسی پہلو مقصود نہیں ہے

اس تعریف کے پیش نظر جو اوپر میں نے عرض کی ہے اور ام سی ای کا مقصد وہی عبادتی پہلو کو اجاگر کرنا تھاتاکہ لڑکیوں کو ہدایا دیکر انہیں واجبات کی ادئیگی کی طرف ترغیب دلائی جائےآپ کی خدمت میں میں نے اسلامک سنٹر کا لنگ بھیجا ہے اس میں بھی یہی بات ملحوظ نظر ہےآغا نعوذ باللہ ہم میں سے کوئی بھی گھرانہ ناشائستہ نیتوں کے تحت اپنی بیٹیوں کو سنٹر نہیں بھیجتا جن لوگوں نے اپنی بیٹیاں اس پروگرام میں بھیجی ہیں ان کی نیت میں شر نہیں تھا
akmal syed
گزشتہ ساٹھ سال میں ہم نے پاکستان ہندوستان اور یہاں لندن میں اس قسم کا جشن  کسی مسجد اور امامبارگاہ میں  ایسا کوئی جشن  تکلیف مناتے نہیں دیکھا ہے انتہائی ادب سے عرض کرتا ہوں اس سے پہلے ہمارے پاس عزادری کتنے بے شمار  اعتراضات موجود ہیں جس کے جواب اس قوم کے پڑھے لکھے علماکو دینا پڑتا ہے ایسے ہی پاک ہند میں ایک اور رسم کو جاری کر لیا جائے  اس میں تو کوئی قباحت نظر نہیں آتی مجھ کو مگر اس جہالت کا کیا کریں کے اور کس کس کو جواب دیں گے یہ صاھبان علم ۔۔۔۔۔ میری کس سے کوئی زاتی مخالفت نہیں ہے اگر اس رسم کو بھی جاری کر لیا جائے تو جناب قاسم علیہ السلام کی مہندی اٹھانے میں کیا حرج ہے ۔ یا علم کو سجدہ کرنے مٰن کیا حرج ہے اور ضریح اقدس کو سجدہ کرنے میں کیا قباحت محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ کیوں بدعت قرار دی جاتی ہے   ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ تعظیمی سجدہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر 
بہت سارے پروگرامز ہمارے لئے اگر پسندیدہ نہ ہوں تو ہم سنٹر والوں سے بات کرکے یا اسے رکوا سکتے ہیں یا اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے
اب میں عربی سے تو اتنا واقف بھی نہیں ہوں کیس کس کو بواب دو کہ یہ جشن تکلیف صاحبان علم و دانش سے معلوم کریں کہ کیا ہے اور صاحب علم دانش ہر وقت تو مہیا نہیں ہو گا جشن تو منایا گیا مگر بہت سے سوالات اپنے پیچھے چھور گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ بچیان جو اج تک عمل سے خوف زادہ ہیں کل اپنی اصل زندگی میں کیا عمل کرے گی ۔۔۔۔۔۔ سن بلوغت تک تو وہ آ چکی ہے مگر اس سے آتھ کے مراحل میں اس کو ساتھ کون دے گا ۔۔۔۔۔

جی آغا آپ میرا یقین فرمائیں اس چشن سے مراد صرف اور صرف واجبات ۔تکلیف۔ کی ادائیگی کا چشن ہے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں کسی بھی مسئلہ کے جواب کے لئے
حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر 
میں آپ پر باکل یقین رکھتا ہون اور اگزشتہ تین ہفتہ سے اس پر تحقیق کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔بس میری ملتمسانہ عرض و گزارش یہ ہے کہ اس موضوع کو آپ ختم فرمادیں چونکہ سنٹر کی اس چشن سے نیت خیر کی تھی
akmalsyed 
میں گزشتہ تین ہفتوں سے اس موضع پر تحقیق کر رہا ہوں مگر اب تک اسی نتیجے پہچا ہوں کہ یہ آتش پرستوں ہندوںاور غیر مسلموں کا تہوار ہے جسے نوروز ۔۔۔۔۔۔مگر جیسے ہی کوئی تحقیق مکمل ہوئی آپ کی خدمت عالی میں پیش کروں گا ویسے مجھے جیسا علم طالب فارسی نہیں جانتا ورنہ یہ مسلہ تین روز کا تھا مجھے جیسے طالب علم سے80 کےلگ بھگ افراد نے فون پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی کہ یہ کیا جشن ہے اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں کچھ بتا پاتا افسو س کہ لا علمی آڑے آئی اور درست جواب نہ دے پایا ان افراد کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر 
نو کے معنی نئے کے ہیں اور روز کے معنی دن کے ہیں چونکہ ایرانی کیلنڈر اس دن سے شروع ہوتا ہے اسی لئے اسے نوروز یعنی نیا دن کہتے ہیں اور new year پر جس طرح یہاں خوشیاں منائی جاتی ہیں اسی طرح نوروز جوکہ ایرانی new year ہے اس پر ایران میں خوشیاں منائی جاتی ہیں ایران میں نوروز کچھ سال پہلے عین محرم میں آیا تھا تو سارے مراجع نے تاکید کی تھی کہ کوئی نوروز نہیں منائے گا ہم بھی اگر یہاں new year یکم جنوری کو خوشی منالیں اور اس میں کوئی غیر شرعی یا غیر اخلاقی عمل نہ کیا جائے تو اسلام اس کی ممانعت نہیں کرتا یہا٘ں اگر یہ کہا جائَے کہ new year اسلامک دن ہے تہ یہ بدعت ہوگا
حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر 
آغا میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا اگر کوئی بات ہو تو میں حاضر خدمت ہوں
akmalsyed
آغا جی بیس برس سے  اسی لندن میں قیام کئے ہو چکے ہیں اج تک تو لندن میں کسی ادارے یا عبادت خانہ میں اس قسم کا جشن نہیں منایا گیا اور دوسری بات کہ کیا ایران شیعت کے لئے حجت آخر ہے کہ جو کچھ وہا ن پر ہو گا وہ ہمارے لئے حجت کہلاے ایران ایک ایسا ملک ہے جو کہ میرے زاتی تجربہ میں بھی ہے کہ وہاں کے لوگ پاکستان اور ہندوستان کے افراد کو اچھا نہین جانتے نفرت کرتے ہیں وہ لوگ ہم سےمیں اس بات کو یہیں پر روک رہا ہوں اور آپ نے جو دالائل پیش کئے انشا اس کو اگلی قسط میں سامل کرکے شائع کروں گا اور اپنی تھقیق کے نتائج بھی انشا اللہ  طالب دعا ہوں ۔۔۔۔۔
حجت الاسلام و المسلمین مولانا میرزا محمد جواد شبیر 
جی ضرور، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے، اور دین کے فروغ میں ہمیں توفیق و تدبیر دے، التماس دعا، حقیر میرزا
Hashim Raza  .مولانا ہاشم رضا غدیری نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ 
اصل مسئلہ جشن تکلیف نہیں ہے بلکہ دو اہم امور ہیں... ایک یہ کہ غیر مسلم اور غیر اخلاقی رسومات کی اندھی پیروی ... اور دوسرا جذبئہ غیرت کا فقدان .... علما کے روپ میں چاھے درباری ملاں اور ان کی اسلام سے نا آشنائی کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے... ایسے ہی ناہنجار قسم کے ملاوٹی ملا ازم کا میں بہت بڑا شکار بن چکا ہوں... دوسری طرف غیرت نہ ہونے اور جنسی ہوس کو تسکین پہنچنانے کے لئے مذہب کو استعمال کرنا مذہبی ناسوروں کی پرانی عادت ہے.. افسوس ہے دین کے لبادے میں پوشیدہ جہل پر ... افسوس اندھی تقلید کے باعث اپنی معصوم بیٹیوں کو ایسے اجلاس میں بھیجنے والوں پر...‎"
Nighat Nasim
 اکمل بھائی سخت صدمے میں ہوں کہ اب " ہفتہ تکلیف " بھی مولوی بتائیں گے ۔۔ اس یں کل یہ بھی ہو گا کہ مولوی ہی بچے بھی پیدا کروائیں گے کہ عورت بیچاری تو اللہ کی ایسی خوش بخت مخلوق ہے کہ نا اس پرعلم آیا ہے اور نہ ہی سمجھ داری ۔۔ نا حیا اور نا اس کی پاسداری ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اس بد بخت مولوی سے زیادہ ان ماؤں پر غصہ ہے جن میں اتنی حیا اور تمیز نہیں کہ اچھی اور بری بات میں فرق جان سکیں اور ماں ہونے کا ہنر و تمیز سیکھ سکیں ۔ ۔۔ خدایا بچیوں کوکیسی کیسی نہ شرم آئی ہو گی ۔۔ یہ بھی تو سوچا ہو گا کہ جب مولوی ان کو سب باتیں بتا سکتا ہے تو ان کے والد اور بھائی بھی بتا سکتے ہیں ۔۔ توبہ میرے مالک ۔۔ کل کو ان سے کس بات کی پردہ داری ہو گی ۔۔۔۔ آ ہ میری قوم کا زوال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل دکھ سے بھر گیا اس جہالت پر ۔۔ اور قبیح تقلید پر ۔۔۔۔۔‎"

شاہین رضوی جو ایک معروف قلم کار اور محقق ادیب سماجی کارکن  ہیں انہوں نے لکھا 
یا اللہ یہ کس روایات کی ابتدا کی جاری ھے ،، اور جشن تکیلف کا نام دیکر اس بات سے کم عمر اور کم سن اور کم فہم بچیوں کو کس طرح کی تعلییم دی جا رھی ھے ،، ھم کو اس طرح کی جاھلانہ رسومات کی پررز مذمت کرنی چاھیے میں آپکے ساتہھ ھوں 

میری گفگتو چند اور صاھبا ن علم سے بھی ہوئی جب میں اپنی معلومات کے لئے یہ سوال کرتا تھا تو وہ اصحاب میرے منہ تکتے تھے میری سوال مسلسل یہ ہی تھا یہ جشن تکلیف کیا ہے ‘‘ متعجب ہو کر میرا منہ تکتے اور کہتے کہ تکلیف کا جشن کیا ہوتا ہے کچھ نے تو یہ بھی کہا کہ لفظ غلط بول رہے ہو  یہ لفظ تکلف ہو سکتا ہے ‘‘ مگر ہجے کرنے پر بات ان کی سمجھ میں آئی اور جوابا عرض کی کہ ہمیں نے آج تک ایسا کوئی جشن نہیں دیکھ جو تکلیف پر منایا جاتا ہو۔۔۔۔۔۔۔ مزید خواتین کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ یہ عورت کی بردہ داری اور شرم حیا کا ایک تار جو مرد اور عورت مین بندھا ہے اس کو قایم رہنا چاہئے نہ کہ اس قسم کے جشن منا کر بے غیرتی کے مثال قایم کی جائے ۔۔۔۔۔ 
اور کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ ہمارے معاشرے میں اس کو گھروں میں مردوں سے چھپایا جاتا ہے تاکہ  شرم حیا کا جو زیور خواتین کو اسلام کی جانب سے ملا ہے وہ قایم رہے اور بے حیائی نہ پھیلے ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے ایک فکری سوال آپ کے سامنے رکھا تھا ‘‘کیا یہ ضروری ہے جو کچھ ایران میں مذہبی طور پر ہو رہا ہے اسے ہم اپنے عبادت خانوں اور گھروں میں مذہبی رسومات کے طور پر اپنائیں‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے جواب میں بہت سی باتیں سامنے آئیں وہ اپ بھی پڑھ چکے ہیں اور جن حضرات نے نہیں دیکھیں ان کے لئے پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ کسی صاھب کا اس متفق ہونا ضروری نہٰن ہے  اور ہر ایک کا اس فکری بحث میں شامل ہوا ضروری بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ٢٥ افراد نے اس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا 

Syed Shabbir Ali zaidi  بلیجم  سے لکھا  
Salaam, jab hum hindo rasomat per ammal kar te han to irani rasum per ammal ker na per koie herj nahe.

Sam Rizvi
 Jo bhi kuch apnaen woh masoomeen a.s ki hidayat ke mutabiq hona zaroori hai, iran or any 

 Syed Zaidi
 Nope not at all, Iran is not the standard, standard is Islam...

Syed Zaidi Zarori nahi hai.
Safdar Hamadani
اکمل برادر ایک نہایت اہم سوال۔۔۔۔ لیکن کیا کریں کہ اس پر بھی کافر اور شیعت دشمنی کا فتوی لگ سکتا ہے۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ایران اور سعودی عرب نے دنیابھر میں اپنے مہرے رکھے ہوئے ہیں جنکو سعودی عرب سرکاری عمرے اور حج کی صورت میں اور ایران سرکاری زیارات کی صورت میں باقاعدہ رشوت دیتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر برطانیہ اور پاکستان سمیت متعدد ممالک میں ایسے تنخواہ دار مولوی حضرات اور میڈیا کے کچھ لوگوں سے واقف ہوں۔ یہ انہی دونوں ممالک کی جنگ ہے جس نے پاکستان میں شیعت کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔ اسلام صرف اللہ کے حبیب رسول آخر کا اسلام ہے اور اسکے بعد خانوادہ رسول کا اسلام جو براہ راست اللہ کے حبیب سے حاصل کردہ ہے۔ اسلام کسی صورت میں بھی ایران یا سعودیہ کا نہیں۔ تمام شیعہ دین اور فقہ کے معاملے میں ایران کو حرف آخر نہیں سمجھتے ۔ ایسی سوچ کے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن چونکہ ان میں نوے فیصد مولوی لوگ ہیں اس لیئے انکے مقلدین اس ضمن میں پروپیگنڈے کا کام کرتے ہیں۔ میں نے ایران میں رہ کر ایرانی قیادت کو اور انکے نظام کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ایران کسی صورت بھی اسلام اور شیعت کے لیئے واحد قیادت نہیں ہے۔ ہاں اچھی بات جہاں سے ملے قبول کرنی چاہیئے۔ ایرانی رسومات کو دیگر ممالک میں باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے اور اسمیں بھی ہراول دستے کا کردار مولوی لوگ کرتے ہیں۔ دین مولائے کائینات علی علیہ السلام کے الفاظ میں عقل ہے اور ہمیں اسی عقل کو استعمال کرنا

Tabassum Warraich
یہ مسئلہ عوام کا نہیں بلکہ ان مولویوں کا ھے جنکے گھر اور مدرسے ایرانی پیسے سے چلتے ھین تو ظاھر ھے وہ انہی کے ایجنڈے کو ھی یہان رو بہ عمل لائینگے

Safdar Hamadani
تبسم جی متفق ہوں آپ سے۔ بس اسمیں سعودیہ کو بھی شامل کر لیتے ہیں

Tabassum Warraich
سر صفدر ھمدانی سوال چونکہ ایران تک محدود تھا تو ایران تک ھی بات کی ورنہ بندہ آپ سے سو فیصد متفق ھے اور مجھے اسکا زاتی تجربہ بھی ھے۔جبتک ھمارے گھرون مین تحفتہ العوام رھی ھماری صفین فکری انتشار کا شکار نہین ھوئین لیکن تواضیح المسائل کے آتے ھی شیعہ صفون مین انتشار در آیاایرانی انقلاب نے بھی وھان کے مولوی کی زندگی مین مالی انقلاب برپا کیا ھے ورنہ عام آدمی اب بھی وھان بنیادی مسائل کا شکار ھے


Mudasar Nazir Joiya
 Iran mai at least koi b hindu culture ki rasm ni manai jati jo hm log pak o hind mai Azadaari k nam py mnaty hn

Jeffer Raza
ایران ایک واحد ملک ہے جہاں شیعہ ۔آئین رائج ہے- اس لئے کسی اورملک ۔میں اُن کی جیسی رسومات آزادی سے نہیں منائی جا سکتی ہیں

Safdar Hamadani
جعفر رضا برادر۔ کیا آئین بھی شیعہ سنی ہوتے ہیں؟ آئین تو ریاستوں کے ہوتے ہیں مسالک کے نہیں

Jeffer Raza
جی ہاں، میری ناقص رائےمیں آپ دریافت کرکے میری بھی اصلاح کیجیئے شکریہ-
Akmal Syed
محترم بلال قطب نے لکھا ہے کہ جب میں ایران گیا تو مجھے خاتون ایئرپورٹ سے باہر نہیں جانے دے رہی تھیں ..
میں نے تین گھنٹے اس خاتون سے زبان لڑائی کہ آخر کیا وجہ ہے جو یہ چند "میگزین" آپ مجھے نہیں لے جانے دے رہیں؟
خاتون نے کہا تم واپس کوئٹہ جاؤ اور وہاں سے *AK-47* خرید کر لے آؤ میں تمہیں ایران میں داخل ہونے دونگی .. مگر ان رسالوں کے ساتھ ہرگز نہیں ..
میں نے پوچھا کیا بات ہے خاتون آپ مجھے ہتھیار لے جانے دینگی مگر چند رسالے نہیں؟ خاتون نے کہا: تم ہتھیار سے سو ایرانی مار دوگے .. مگر ان رسالوں میں موجود جو برہنہ خواتین کی عجیب و غریب تصاویر ہیں انکی وجہ سے میری پوری قوم کے نوجوان اور انکی نسلیں برباد ہونگی ... اس لئے یہ رسالے مملکت اسلامی ایران میں داخل نہیں ہوسکتے ..بلال قطب ، سماء

Akmal Syed Jeffer Raza محترم جعفر رضا صاحب کیا کہتے ہیں آپ عراق کے متعلق وہ اور دوسری بات یہ ہے کہ ایران کا ایک اپنا کلچر ہے اور وہ اپنے کلچر کو کبھی بھی نہیں چھوڑتے شاید آپ کو معلوم ہی ہو کہ پاک ہند کے رہنے والوں کو وہ تسیرے درجہ سے بھی کم جانتے ہیں اور یہ میرا بھی تجربہ ہے کہ سعودی عرب میں جب دعائے کمیل ہوتی ہے اور ایرانی گروپ پاکستانی کو جس طرھ سے ذلیل کرتے ہیں اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ نے دعائے کمیل میں حصہ لینا ہے تو آپ اُس کونے میں چلے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس کہ ہم دم ہلاتے ہوئے ان کے کلچر کو اپنانے چلے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ میں اس بات سے بھی خوب واقف ہوں کہ ہمارا کلچر کوئی بھی نہیں ہے ہم نے مختلف کلچرل کو اپنایا ہوا ہے ۔۔۔۔۔............

Tabassum Warraichاکمل سید بھائی اس میں ایران والوں کا قصور کم ھے زیادہ ھم خود ھی اس خراب صورتحال کے زمہ دار ھین 
ھمارے مولوی حضرات وھان جاکر جو گُل کھلاتے ھین اور جسطرح مالی مفادات کے حصول کی خاطر کردار کی غلیظ پستیون مین گرتے ھین مزید برأن یہاں بھی مولوی انکے فراھم کردہ فنڈز کا جو حشر کرتے ھین اس کے نتیجے مین ظاھر ھے ایرانی ھمین اچھا تو نہین سمجھین گے

Jeffer Raza
مذہب کلچر پر حاوی ہوتا ہے ہمیں حلال اور حرام کی تمیز مذہب کراتا ہے ماں باپ بچہ کو مذہب اور کپڑے دیتے ہیں جن پروہ بڑے ہو عمل کرتا ہے-

Safdar Hamadani
جعفر بھائی مذہب اور دین میں فرق کیجئے

Jeffer Raza
آپ بہتر جانتے ہیں اسلئے رہنمائی فرمائیں-

Safdar Hamadani
مذہب دین کا عباداتی حصہ ہے. دین کا صرف پانچ فیصد

Safdar Hamadani
میں سخت حیران ہوتا ہوں بڑے بڑے نام نہاد علمائے دین اور پڑھے لکھے لوگوں پر جب وہ اسلام کو مذہب اسلام کہتے ہیں۔ اسلام دین ہے قرآن میں بارہا اسلام کو دین کہا گیا ہے لیکن ایک جگہ بھی مذہب نہیں کہا گیا۔ ایک اہم بات اور ۔۔۔۔ قرآن بھی بیس فیصد عبادات ہے اور اسی فیصد معاملات ہے۔ یہاں بھی دین اور مذہب کا فرق واضع ہے
Nighat Nasim
اکمل بھائی آپ نے کیا دکھ بھری داستان چھیڑ دی ۔۔۔ ان دونوں ملکوں نے کوئی مذہب کا ٹهیکہ لیا ہے ۔۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں ملکوں مسالک کے ساته دین میں تفرقہ ڈال رہے ہیں. دین اللہ اور اسکے رسول کا ہے. ان دونوں ملکوں میں عام انسان غلاموں کی طرح ہیں ۔ میں نے ایرانی لوگوں ک وبہت قریب سے دیکھا ہے ۔۔ اس کے باوجود کہ وہ رفیوجی اسٹیٹس پر نقل مکانی کر کے سڈنی پہنچے ہیں لیکن ان کی ہم جیسے بقول ان کے شعیت سے خارج ہیں ۔ ان کی دسیوں وجوہات میں " ہفتہ تکلیف " جیسے بدعتیں اور مجوسی ایرانی اندھی تقلید ہے جو کوئی بھی اپنے خدا رسول سے پیار کرنے والا ، ان کو اپنا ہادی برحق سمھنے والا نہیں کر سکتا ۔ 

خاص طور پر بکے ہوئے مولوی اور کم علم مسلمان انکے ایجنڈے کو مکمل کر رہے ہیں ۔۔ میرے لیئے اللہ پاک ، رسول پاک ص ، قران پاک اور آئیمہ پاک کی ذات مبارک کے بتائے ہوئے رستے پر چلنے کے لیئے ایران اور عراق کی تقلید دراصل اپنے مذہب کی توہین ہے ۔ جو مذہب آسمانی ہو اور اسے تفسیر اور عمل سے مکمل کر دیا گیا ہو وہاں پر سوائے ہادی برحق کے علاوہ کسی کی بھی تقلید اپنی ہی تباہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہی تباہی آج ہم ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں ۔۔ جس کی حالیہ مثال " ہفتہ تکلیف " منانے جیسی مکروہ اور قبیح تقلید کا آغا زہے ۔۔۔ توبہ توبہ

Safdar Hamadani
ڈاکٹر نگہت نسیم آپکی فکر سے بالکل اتفاق ہے۔ نہ جانے کچھ لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ ایران دنیائے شیعت کا قائد ہے۔ شیعت آل رسول کا تسلسل ہے اور آئمہ و معصومین سے منسلک ہے۔ اسے کسی عام ملک کی قیادت کی ضرورت نہیں۔ یہ تصور بھی سراسر غلط ہے کہ ایران میں امام زمانہ کی حکومت ہے۔

Sam Rizvi 
durust fermaya qibla Safdar Hamadani sahib, Imam e Zamana a.s ki hujjat iss puray kurrah e arz par hai warna yeh zameen bahzam hojaye.....

 Muntazir Rab E Wafa
Asws Hamain deen maula se mila hai mula se nahi so maula ki maanain iran iraq kisi hauza e ilm ki nahi

Jeffer Raza
براہِ مہربانی واضح فرمائیے کہ مذہب کالفظ کیسے وارد یا رائج ہوا- دُنیائےاسلام میں جوعقائد پراختلاف ہے...براہِ مہربانی واضح فرمائیے اُسےکیا کہیں گے؟

Ansar Termazi  
no hamay sirf imam -haq ke he hadayat per amal kzrana chaiya asa karnay say hum rahey hadyat par rah saktay hayn

 ایک اورحضرت جن کے والدین نے نام تو  محمد حسینن حیدر رکھا ہوا ہے اور ان صاحب کی اخلاقی اور بست کرداری کا ایک نمونہ ان درج زیل تصاویر سے ظاہر ہو رہا ہے اور ان کی تربیت جیسےماحول میں ہوئی ہو گی ان کی اس تحریر سے اس کو اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

 لندن کے علی کاظمی نے اور بھی چند غیر ضروری اور زاتی عناد کی بنا پر لکھا ہے مگر اخلاقی طور پر جس کا شائع کرنا لازم نہیں ہے کیوں کہ اس میں غیر شائستہ زبان کا استمعال کیا گیا تھا اگر کوئی صاحب اس مکمل متن کو دیکھنا چاہیں تو وہ میں ای میل کے زریعے روانہ کر ستکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ افسو س کے میرے نقطہ نظر کو علی کاظمی نے میری اور صفدر ہمدانی کی زاتی عناد جان کر لکھا ہے جبکہ کہ ایک میں نے ایک اہم مسلہ کی جانب توجہ دلوانے کی کوشیش کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہر حال ان کا نقطہ نظر سر آنکھوں پر کہ ان کی تحریر سے ان کی مطالعہ کی کمی علمی کا انداہ بہ خوبی ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
علی کاظمی کی زاتی عناد کا ایک نمونہ پیش کر رہا ہوں اس سے ان کی علمی سوچ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے  کہ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے علما کا لفظ اپنی تحریر استعمال کیا ہے شاید ان کی  نظر میں علما وہ ہیں جو مساجد میں خمس اور صدقہ کھانے والے افراد نظر آتے ہیں ان کو علما کہتے ہیں شاید ان کے یہ علم میں ہی نہیں ہے کہ لفظ عالم کا کیا مطلب ہے اور میں تو علما کی جوتیاں اٹھانے پر فخر محسوس کرتا ہوں  اور بہت سے علما جو مجھے ذاتی طور پر بھی جانتے ہیں اور میں ان کے اسماء گرامی لکھنے لگوں تو ایک بہت بہت دفتر بن جائے بہر حال یہ موقع نہیں اس بات کو کرنے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ میں ان جو یہ وردی پوش ملا ہیں اور خمس اور صدقہ  فطر کھانے والے افراد اور شادیاں اور متعہ کے نام پر معاشرتی خرابی پیدا کرنے والے افراد کو اچھا نہیں جانتا اور نہ ہی زیارات حج اور عمرہ کے نام پر لوٹنے والوں کو پسند ہرگز نہیں کرتا اور نہ ہی ان کے پیچھے نماز ادا کرتا ہوں کیوں کہ یہ افراد عادل نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جہاں تک بات ہے ایران کی وہ سب پر عیاں ہے  عراق کو کی پیروی کیوں نییں کرتے 
 "Agar hum logg saab unbaised ho kaar opinion day tu masla ka solution koi mushkil nahi hai. Main Safdar & Akmal sahab ko personally taur per janta ho aur unkee ulema doshmani bhi kisi say choopi nahi hai. Lakin main baat 'aqal' aur daleel say karna chahatah ho aur bilkul unbaised ko karna chatah ho. Iran kay motlaq kuch basic facts hamaey jannay chahay. Iran aik wahid Shia country hai. Hazart Mokhtar Saqeefi kay baad ko hukmat shia ko mille wo Iran hai. Inqalbe Iran aik pure aur matured shia thoughts ka nateejah hai. Duniya ka wahid country bhi is lehaz say hai wah ka 'inqalab' religious inqalab tha, aur 'Nafaz e Islam' kay liay jo hukmat banaii gee tu is baat ka lehaz rakha gya kay hukmat ka ultimate control aik 'Faqeeh' kay pass ho ga jisay 'Shurah' choonay gee. Chorah kay tamaam members bhi 'jamiah shariyaat Mujtaheed' ho ga. Is maqdamay kay baad ab main ka questions ko different aspects say answer karna chahoo ga"
Ali wrote: "Ki bhi cheez agar quran aur shariyat say nahi takratee wo haram nahi hai. Iran ka apna culture aur 'saadat Barah ho ya Ambala ho Lahore ho' us ka apna culture hai. Hamari Imam bargahs bhoot niyazeein Indian pakistani culture kee tarah hoti hai. Hamareh 'Meyaar' quran aur sunnah hai bass. App kisii culture ko bora khay gay tu logg Pakistan aur Indian culture ko bhi criticise karay ga aur ya masla ha haal nahi hai. if something is happening which is against the Quran, Sunnah and teachings of Ahlulbayt a.s, you have a every right to say against it but if there is a cultural thing but it is not giving harm to our Deen why we turn against it??"

Tabassum Warraich ‎
  نے لکھا اکمل سید بھائی اس مین ایران والون کا قصور کم ھے زیادہ ھم خود ھی اس خراب صورتحال کے زمہ دار ھین ھمارے مولوی حضرات وھان جاکر جو گُل کھلاتے ھین اور جسطرح مالی مفادات کے حصول کی خاطر کردار کی غلیظ پستیون مین گرتے ھین مزید برأن یہان بھی مولوی انکے فراھم کردہ فنڈز کا جو حشر کرتے ھین اس کے نتیجے مین ظاھر ھے ایرانی ھمین اچھا تو نہین سمجھین گے‎"
شاہین رضوی کویت سے ۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نگہت نسیم نے لکھا جو ایک ماہر نفسیات بھی ہیں اکمل بھائی سخت صدمے میں ہوں کہ اب " ہفتہ تکلیف " بھی مولوی بتائیں گے ۔۔ اس یں کل یہ بھی ہو گا کہ مولوی ہی بچے بھی پیدا کروائیں گے کہ عورت بیچاری تو اللہ کی ایسی خوش بخت مخلوق ہے کہ نا اس پرعلم آیا ہے اور نہ ہی سمجھ داری ۔۔ نا حیا اور نا اس کی پاسداری ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اس بد بخت مولوی سے زیادہ ان ماؤں پر غصہ ہے جن میں اتنی حیا اور تمیز نہیں کہ اچھی اور بری بات میں فرق جان سکیں اور ماں ہونے کا ہنر و تمیز سیکھ سکیں ۔ ۔۔ خدایا بچیوں کوکیسی کیسی نہ شرم آئی ہو گی ۔۔ یہ بھی تو سوچا ہو گا کہ جب مولوی ان کو سب باتیں بتا سکتا ہے تو ان کے والد اور بھائی بھی بتا سکتے ہیں ۔۔ توبہ میرے مالک ۔۔ کل کو ان سے کس بات کی پردہ داری ہو گی ۔۔۔۔ آ ہ میری قوم کا زوال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل دکھ سے بھر گیا اس جہالت پر ۔۔ اور قبیح تقلید پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سید علی رضا نقوی نے اپنے خیالات اس طرح لکھے 

کب تک چھپے رھیں گے یہ سب "مار آستین " ؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انٹرنیٹ کو ذرائع ابلاغیات کی ترقی کا عروج کہنا مبالغہ نہ ھو گا تاھم  اس پر استعمال ھونے والا ایک سوشل میڈیا "فیس بک " جو کہ بہت مقبول عام ھے۔ اس فیس بک پر ھر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنا اکاؤنٹ بناتے ھیں ۔اور اس سے استفادہ پاتے ھیں ۔ کہا جاتا ھے کہ فیس بک اپنے استعمال کنندگان کے اصل چہرے سامنے لاتا ھے ۔۔ ظاہری چہرے بھی اور باطنی چہرے بھی ۔ اس گلوبل ویلج کے تمام مکینوں کے ظاھری چہرے ایک جیسے  نہ ھونا بھی ایک حقیقت ھے اور ان کے باطنی چہرے بھی مختلف ھونا بھی عین حقیقت ھے ۔ لیکن اس تمہید کا حاصل یہی ھے کہ جن لوگوں کے باطنی چہرے منافق، اور مکروہ ھوتے ھیں ،فیس بک ان کو بھی بخوبی عیاں کر دیتا ھے ۔
میں سوشل میڈیا پر تفرقہ بازی یا نفرتوں کو رواج دینے کا ھر گز قائل نہیں ھوں تاھم میں محب دین اور محب وطن ضرور ھوں ۔ ۔اور ایسے ھر قدم کو حق بجانب سمجھتا ھوں جو منافق اور مرتد کی سازشوں کو ناکام بناۓ ۔ وہ منافق اور مکروہ چہرے جو ننگ دین اور ننگ وطن کہلاۓ جانے کے قابل ھیں ۔   اور ان کو مزید بے نقاب کرنا اشد ضروری ھے ۔
 خصوصا اھل پاکستان کے لیۓ، کیونکہ یہاں ھم پچھلے پانچ چھے سال سے ریڈیو ٹی، وی پر بم دھماکوں کی خبروں  ، لاشوں کی فوٹیج ، رٹے رٹاۓ مذمتی بیانات کو دیکھ دیکھ کر جب اکتا کر فیس بک پر آتے ھیں تو یوں محسوس ھوتا ھے کہ فیس بک پر بھی فکری تخریب کاری کا ایک میدان جنگ سجا ھوا ھے ۔۔۔۔۔۔۔ 
مسلکوں کے نام سے بے شمار پیجز بنے ھوۓ ھیں ۔ جن پر تعمیری سوچ عام کرنے  کی بجاۓ ھر مڈل پاس میٹرک فیل نے ایک دوسرے کے مسلکوں پر بے بنیاد الزامات اور عقائد پر جھوٹی تہمتوں کا طوفان گرم کر رکھا ھے ۔  اور اسی فیس بک پر جو پڑھا لکھا طبقہ دکھائ دیتا ھے ،اس میں سے بھی مکروہ عزائم والے چہرے الگ سے فیس بک پر اپنی طے شدہ ڈیہاڑی لگا رھے ھوتے ھیں ۔ ۔ ۔ ۔
  اول الذکر طبقہ تو اپنی کم علمی کو عین شریعت جان کر اور فرقہ پرستی کو موضوع بنا کر اپنی بھڑاس نکال کر جنت کمانے کے چکروں میں ھوتا ھے ۔۔۔ لیکن ثانی الذکر طبقہ بہت ھی مکروہ اور پلید طبقہ ھے ۔۔۔ یہ ان منافقین اور مرتد لوگوں پر مشتمل ھے جن کے باپ یا دادا کسی زمانے میں یورپ اور امریکہ جا کر آباد ھوۓ تھے ۔ اور وھاں کی شہریت پانے کے لیۓ اپنے ایمان کو چند ٹکوں میں بیچ ڈالا تھا ۔ ان کی اولادیں وھاں آج بھی بظاہر اسلامی ناموں کےساتھ   صحافت اور وکالت سے لیکر ماڈلنگ تک کے شعبوں میں گھسے ھوۓ ھیں مگر ان کی تمام وفاداریاں اسلام مخالف قوتوں کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیۓ ھیں ۔ ۔ ۔۔ 
 یہ لوگ بھی ایک ناسور کی مانند نیٹ پر پھیلے ھوۓ ھیں ، ان کا طریقہ واردات یہ ھے کہ بظاہر ایک مولوی مخالف مسلمان  کی حیثیت سے کسی مولوی کے تازہ ترین فتوے سے فیس بک پر اپنی بحث کا آغاز کرتے ھیں ۔ ۔۔ لیکن مولوی پر تنقید سے بڑھتے بڑھتے یہ لوگ  نبی پاک (ص)  اور اھل بیت (ع) کے بارے میں بھی غلط زبان استعمال کرنے میں کوئ عار نہیں محسوس کرتے کیونکہ وہ کون سا پاکستان میں بیٹھے ھوتے ھیں کہ ان کی شامت آۓ ۔ انہیں تو بس یہ پتہ ھے کہ آزادی راۓ کے نام پر اسلام اور بانی اسلام( ع)  کے بارے میں جتنی حقیر زبان استعمال کریں گے ان کو اتنے ھی زیادہ ڈالر اور پونڈ بطور معاوضہ ملیں گے ۔ ۔
 اور جب بھی یہ منافق چہرے فیس بک پر کوئ ایسی بے ھودہ بحث چھیڑتے ھیں تو انکے سکھاۓ ھوۓ  ھم نوا اکثر  ان ناموں  کے ساتھ شامل بحث ھوتے ھیں ۔مثلا مولوی استرا ،حافظ صفوان ، ملا ملعون وغیرہ وغیرہ   ۔  یہ فیک آئ ۔ڈی والے تو پھر بھی اپنی غلیظ گفتگو سے صرف اپنا نالہ اعمال بدبودار کرتے ھیں لیکن اصل مسئلہ ان حقیقی  آئ ڈیز کا ھے جو زیادہ تران ناموں سے ھیں جن کے اھل خانہ کے ناموں کی فہرست  میں شیعہ ناموں والی بے شمار آئ ۔ ڈیز ملتی ھیں۔ چاھے وہ گھرانہ شیعہ ھو نہ ھو لیکن ان کے نام دیکھ کر  پاکستان میں بیٹھا اول الذکر جاھل مذھبی ٹولہ یہ نعرہ بلند کرتا ھے کہ دیکھو یورپ میں بیٹھے فلاں شیعہ نے توھین رسول (ص) کی ھے ۔۔۔۔۔۔ اور شامت پھر پاکستان میں رھنے والے شیعوں کی آ جاتی ھے  ۔ ایسے ھالات میں کوئ ان مذھبی جنونی لوگوں کو کیسے روکے ؟۔ انہیں کون سمجھاۓ کہ فیس بک آئ ڈی جس کسی کی بھی ھے ۔ تم اس کو ذاتی طور پر تو نہیں جانتے کہ وہ مسلمان ھی ھے یا مرتد ھو چکا ھے ۔ اگر اس کے خاندان کا نام شیعہ ناموں سے بھرا ھوا ھے ۔ تو پھر کیا ھوا  ، اتنا بھی تو سوچو کہ مرتد ھمیشہ ڈرپوک  ھوتا ھے اور کبھی بھی علی الاعلان اپنا نیا  مذھب بتانے کی ھمت نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔
میں نے یہاں بطور خاص شیعہ مسلک کا ذکر اس لیۓ کیا ھے کہ پچھلے پانچ سالوں میں سب سے زیادہ نسل کشی بھی شیعان علی کی ھوئ ھے ۔ ۔میں جانتا ھوں کہ مارنے والے کا کوئ مذھب نہیں ھوتا وہ صرف ظالم ھوتا ھے ، مگر جب ایک خاص فرقے کو ھدف بنا کراس سے متعلق منفی پروپیگینڈا پھیلانے والوں کو ضرور بے نقاب کیا جاۓ ، چاھے وہ سوشل میڈیا پر شیعہ ناموں سے ھی سرگرم عمل کیوں نہ ھو 

نوٹ۔ عالمی اخبار نے یہ رپورٹ مفاد عامہ کے لیئے شائع کی ہے اور ادارے کا اس سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی شخص یا مسلکی ادارہ یا  مسلکی ٹی وی چینل اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہے تو وہ اشاعت کے لیئےعالمی اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے


:دیگر مضامین
(26.05.2014) میرا جی کی برسی اور جنم دن آتا اور خاموشی سے گزر جاتا ہے
(18.05.2014) لندن کی ایک عبادت گاہ میں ہونے والے جشن تکلیف نے عوام کو حیرت زدہ کر دیا
(16.05.2014) دو مرتے جوان بچوں کے علاج کا بندوبست نہیں ہو سکتا
(14.05.2014) سفیر خدا، نفس رسول ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔از نگہت نسیم
(12.05.2014) مئی ١١ ۔۔۔ عالمی مدرز ڈے: پیاری ماں سلامت رہو
(10.05.2014) میرا پیمبر عظیم تر ہے ۔ ثنا خوان مصطفیٰ مظفر وارثی کا نذرانہ عقیدت
(30.04.2014) دور حاضرکی عبادت گاہوں کے سربراہان وقائدین کا کردار44ویں قسط ۔سید اکمل حسین
(25.04.2014) صفدر ہمدانی سڈنی سفر کی مختصر یادیں۔۔۔۔۔ از؛ سید مصباح حسین جیلانی ۔ آسٹریلیا
(19.04.2014) ایران: تختہ دار پر مجرم کو ایک ماں نے معاف کر دیا
(16.04.2014) تین جمادی الثانی خاتون جنت،دختر رسول سیدہ فاطمہ سلام اللہ کا یوم شہادت
(12.04.2014) مولوی کی اولاد عموماً نیک نہیں ہوتی ۔۔۔ نیک اولاد کیلئے رزقِ حلال کی شرط
(10.04.2014) فرینکفورٹ میں شریف اکیڈمی کی پانچویں سالگرہ منائی گئی
(08.04.2014)  اپریل 8کو لکھنؤ میں آیت اﷲسید علی نقی عرف نقّن صاحب پر عظیم سیمینار
(03.04.2014) دوستی کا بھرم اور ایک شاعر۔فرحت شہزاد ۔۔۔۔از ۔۔۔۔۔۔اکمل سید لندن
(02.04.2014) اپریل فول کی تاریخی حقیقت۔ یہ فول بنانا کب سے جاری ہے؟
(30.03.2014) ظالم یک بار پھر سے ہار گیا اور باب کرو حق کی آواز بلند کر کے جیت گیا
(24.03.2014) قرار داد پاکستان سے قیام پاکستان تک کا سفر ایک حقیقت
(22.03.2014) خشونت سنگھ ننانوے برس کی عمر میں دہلی میں انتقال کرگئے۔
(16.03.2014) پاکستان میں اکسیس ہزار سے زیاد اہل تشیع کو قتل کیا جا چکا ہے
(08.03.2014) ڈاکٹر نگہت نسیم کا سڈنی پار لیمنٹ میں خواتین کے عالمی دن پر خطاب۔۔۔۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں