میانمارمیں عالمی ایجنسیوں پر حملے کے بعد کیمپوں میں مقیم مسلمانوں کی حالت مزید خستہ ہوگئی۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مغربی میانمار میں روہنگيا مسلمانوں کے لئے ایک سنگين طبی بحران پیدا ہو رہا ہے۔

سات ہفتے قبل روہنگیا کے دارالحکومت ستوے میں بدھ بلوائیوں نے عالمی ایجنسیوں کے دفاتر پر حملے کئے جس کے بعد انہیں علاقہ چھوڑ کر جانا پڑا اور امدادی کام رک گیا۔ روہنگیا مسلمان طبی امداد کے فقدان کی وجہ سے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ خاص طور پر کيمپوں ميں پيدا ہونے والے نوزائیدہ بچے بے حد تکليف کا شکار ہيں۔
یک مہینے میں جاں بحق بچوں کی افراد سات ہو گئی ہےجبکہ ہزاروں مسلمانوں کو طبی رسائی حاصل نہیں۔ امدادی ایجنسیوں کے جبری انخلا کے بعد برما کے سرکاری ڈاکٹروں نے صرف تین بار یہاں کا دورہ کیا ہے۔ لوگ علاج کروانا چاہتے ہیں لیکن انہیں خدشہ ہے کہ وہ علاج کروانے جائیں گے تو بدھ ان پر حملےکریں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے روہنگیا کیمپوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے اس مسلمانوں کی سست رفتار نسل کشی قرار دیا ہے۔