پاکستان نام نہاد اسلام پسندوں کے ہاتھوں ایک عرصے سے تختہ مشق بنا ہوا ہے لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے خاص طور پر طالبان سے بظاہر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سے صورت حال انتہائی گھمبیر ہو گئی ہے اورموجودہ صورتحال نے جیسے ہر پاکستانی کے اعصاب شل کر دیئے ہیں ۔ایسے حالات میں حکومت جیسے مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور ایک لمحے کے لیئےب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گرد حملہ آور اپنی مرضی کے مطابق جب چاہیں، جہاں چاہیں اور جیسے چاہیں حملے کر رہے ہیں
حکومت ایک عرصے سے دو دھڑوں میں منقسم ہے۔ ایک دھڑا اب بھی دہشت گردوں سے مذاکرات کا حامی ہے لیکن دوسرا دھڑا ایک جامع اور مکمل فوجی کاروائی کا حامی ہے۔ موجودہ حالات میں دوسرے دھڑے کی طاقت سرکاری ایوانوں میں بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جو فوجی کاروائی چاہتے ہیں۔
پاکستان کی یہ سلامتی کی صورت حال انتہائی الجھی ہوئی ہے اور شاید ہی دنیا کا کوئی بہترین مبصر بھی ان حالات کا تجزیہ نہ کر پائے۔ کچھ صائب الرائے حلقوں کا خیال ہے کہ ملکی کے خفیہ اداروں کا بھی اس صورت حال کو خراب کرنے میں ہاتھ ہے اور کچھ حلقے بہت کھل کر کہتے ہیں کہ فوج، خفیہ اداروں اور دیگر سیکورٹی اداروں میں طالبان کے ہمدرد گھسے ہوئے ہیں اور اس قسم کے حملے اندرونی معلومات کے بغیر نہیں کیئے جا سکتے
کراچی میں جناح ہوائی اڈے کے فوری بعد اگلے دن اے ایس ایف کی اکیڈیمی پر ہونے والے حملے نے محب وطن عناصر کو سراسیمہ کر دیا ہے
ہر سیاسی جماعت اپنی اپنی ڈفلی بجا رہی ہے یہاں تک کہ جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی میں ہونے والے حملے جعلی کھیل تھا یا میڈیا نے ڈراما بنایا ذمے دار حکومت ہے، 18 کروڑعوام کوپریشان کیاگیا،حقائق قوم اورسیاسی جماعتوں کوبتانا ہوں گے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ ذمے دارانہ طرز عمل اپنانا ہوگا، جو بھی ذمےدار ہے اس کا پتا لگانا ہوگا، کراچی میں جو کچھ ہوا اس سے قوم کے مورال کو ڈاؤن کرنے کا پیغام مل رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ ایک الگ سُر میں بول رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے منگل کے روز کہا ہے کہ وزارت داخلہ نے نومبر سے اب تک سندھ حکومت کو چھ سیکورٹی الرٹس جاری کیے جن میں سے دو کراچی کے لیے تھے۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ جس گیٹ سے حملہ کیا گیا اس راستے کو مارچ میں ہی سیکیورٹی رسک قرار دیا جاچکا تھا ۔
وزیر داخلہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ دہشت گرد کس طرح بھاری اسلحہ اور راکٹ لانچر لے کر کراچی میں گھومتے رہے اور ان کا مقصد جہازوں کو نشانہ بنانا تھا۔
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے بتایا کہ کراچی ائیر پورٹ پر حملے کے بعد ساڑھے گیارہ بجے دہشتگروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا اور پونے دو بجے تک سیکیورٹی فورسز نے بھر پور جوابی کارروائی کرتے ہوئے سات دہشت گردوں کو مار گرایا
وفاقی وزیر داخلہ کا یہ فقرہ پاکستان کے عوان کے حوصلے ختم کرنے اور کمر توڑنے کے لیئے کافی ہے کہ ،،،،پاکستان کا ہر علاقہ، ہر بلڈنگ دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔
قارئین کرام۔ وطن ہوتا ہی ماں جیسا ہے جس کو نہ بدلا جا سکتا ہے اور نہ چھپایا جا سکتا ہے ۔ حتیٰ کے چہروں تک پر لکھا رہتا ہے ۔ مورخہ نو جون کو کراچی ائر پورٹ پر دہشت گردوں کادستی بموں سے حملہ، اور اس میں دس دہشت گردوں سمیت انتیس ہلاکتوں نے کچھ ایسا اثر ڈالا کہ گھر اور باہر ہر کام متاثر ہو رہا ہے ۔ گھبرا کر امی کو پاکستان فون کیا تو وہ گھبرائی ہوئی اواز میں بار بار یہی دہرائے جا رہی تھیں کہ “ یوں لگ رہا ہے جیسے اکہتر کی جنگ لگ گئی ہو “ ۔۔۔ آپ خیر سے ہیں نا ۔۔ میرے پوچھنے پر رندھی ہوئی آواز میں بولی کہ خیر کیسی بیٹی جب خاک اڑتی ہو دھواں دور سے دیکھائی دیتا ہو ۔۔ کان میں دہشت سیٹی بجاتی ہو تب خیر کیسی ۔۔
ہائے میری ماں جس کو اپنے وطن میں جینا مرنا ہے ۔۔ کیسے وقت سے پہلے موت دیکھ رہی تھیں ۔۔ ایک دہائی ہے جو سینہ توڑ کر باہر نکلنا چاہتی ہے ۔۔ دہشت گردی سے گل ہونے والے ہر چراغ پر ماتم کرنا چاہتی ہوں ۔۔ امی جی نے اچانک میری خاموشی کو توڑ دیا ۔۔ “ بیٹی یہ سب ہمارے اعمال ہیں ۔۔ قوموں کے زوال کی وجہ ہوتی ہے “ ۔۔ اللہ سے توبہ استغفار میں ہی ہماری رہائی ہے ۔۔ “ امی جی کی باتیں آج سارا دن میرے ساتھ رہیں ۔۔ ہوسپٹل ڈیوٹی سے گھر پہنچی تو ایک اور افسوسناک خبر جیسے منتظر تھی ۔۔ اس بار کراچی میں ایئر پورٹ سے ملحقہ اے ایس ایف اکیڈمی پر دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا گیا ۔۔۔۔۔ شکر خدا کا ۔۔۔ پر دہشت گرد آئے کیسے ؟ اور کیوں آئے ؟
یہ سچ ہے کہ بغیر اتمام حجت کے خدا پاک کسی پر پریشانی ، پکڑ اور عذاب نہیں ڈالتا ۔ سوال یہ پیدا ہو رہا کہ دنیا کے ہر کونے میں ہم مسلمانوں کو زوال کا سامنا کیوں ہے؟ قران پاک میں یہ بات ثابت ہے کہ خدا پاک کے نزدیک کوئی انسان ، کوئی قوم اپنے حسب نسب کی بنا پر عظیم اور بام عروج پر نہیں ہوا کرتی بلکہ ان کے انفرادی اور اجتماعی اعمال انہیں عروج اور بلندیوں پر لے جاتے ہیں ۔ جیسے بنی اسرائیل ایک وقت میں اللہ پاک کی پسندیدہ ترین قوم تھی ، بعد میں یہی قوم زلت کا شکار ہوئی ۔ اسی طرح قوم لوط ، عاد اور ثمود کی قومیں ہیں جو صفحہ ہستی سے مٹ گئیں ۔
تاریخ گواہ ہے جو قومیں اپنی پچھلی قوموں کی غلطیوں سے سبق نہیں لیتی ہیں وہ آنے والی قوموں کے لیئے عبرت کا نشان ہو جاتی ہیں ۔ اس بات کو مولائے کائینات حضرت علی کرم اللہ وجہہ
نے امام حسن علیہ السلام کو اپنی وصیت میں یوں واضح کیا ہے ۔۔
“ بیٹا اگر چہ میں نے گزشتہ امتوں کے ساتھ زندگی بسر نہیں کی لیکن ان کی تاریخ اور ان کے حالات زندگی کا بغور مطالعہ ضرور کیا ہے گویا یہ سمجھو کہ میں بھی انہیں قوموں کاایک فرد ہوں (نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر٦٤ )
ہمیں اپنی تباہی کی وجوہات جاننے کے لیئے گزشتہ تاریخ انسانی کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔۔ تاکہ ہم آنے والے زوال سے بچ سکیں ۔۔اور اس تاریخ سے پہلے یہ جاننا ہو گا کہ “ قوم“ کسے کہتے ہیں ۔قرآن پاک میں لفظ قوم گروہ اور جماعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے (سورۂ بقرہ/٥٤،مائدہ/٢٠اور انعام/ ٧٨) ، جوعقیدہ کے لحاظ سے ایک مرکز رکھتے ہوں چاہے ان کا آپس میں کوئی نسبی رشتہ ہو یا نہ ہو ۔
سو اس طرح سے یہ بات طے ہوئی کہ قوموں کی زوال کے لیئے اسباب کا ہونا ضروری ہے نا کہ مسلمان ہونا ۔
قران پاک کی روشنی میں مسلمانوں کے زوال کا سبب دیکھتے ہیں جو پاکستان پر بھی اطلاق ہوتا ہے ۔۔
“ ایمان اور فکر آخرت سے بے خبری “
حکمرانوں کا معاملہ ہو یا عوام کا، انفرادی زندگیاں ہوں یا اجتماعی، نظم، یقین قوت، کردار وعمل کی طاقت، خوفِ خدا اور فکرِ آخرت سے ہم انفرادی اوراجتماعی طور پر بے خبر ہوگئے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جب امت دنیا سے محبت کرنے لگے گی اور موت کی ناپسندیدگی کا شکار ہوجائے گی تو پھرزوال سے دو چار ہوجائے گی۔
“ راہبر کا نہ ہونا “
جس قوم کو غیور ، تجربہ کار راہبر نہیں ملتا اس قوم کے زوال کو کوئی نہیں روک سکتا ۔۔ افراد میں تفرقہ و اختلافات کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ حضرت یوسف علیہ السلام جنہوں نے دیانت، کفایت شعاری اور منصوبہ بندی کر کے پورے مصر کو قحط سالی سے بچا لیا تھا ، تجربہ کار راہبر بھی ان تینوں چیزوں یعنی دیانتداری، کفایت شعاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے پورے عالم اسلام کو فقر وافلاس اور زوال وانحطاط سے بچا سکتا ہے ۔
“ ظلم و جور پر خاموشی “
قوموں کی تباہی میں ظلم کا اہم کردار رہا ہے ۔۔ مولائے کائینات فرماتے ہیں “ معاشرے کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتے ہیں، لیکن ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتے“۔۔ قرآن پاک میں ہے
“ ہم کسی بستی کو تباہ کرنے والے نہیں ہیں مگر یہ کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں “ ( قصص ، ٥٩ ) ۔انصاف اور مساوات کے تصور کو نئی سانسیں دینی ہوگی ۔ اس مسلے کی بڑی بنیاد ”احساس کمتری“ ہے جو مرعوبیت، دوسروں کی غلامی اور حاشیہ نشینی ہے جو بیرونی قوتوں کی مداخلت اور ڈکٹیشن قبول کر وا لیتی ہے ۔ جیسے آجکل اپنی اقدار وروایات کو ترک کرکے دوسروں کی تہذیبوں کو فخر کے ساتھ اپنانے کی جو روش چل نکلی ہے، وہ کسی پر ہونے والے ظلم پر خاموشی کی راہ فرار سکھا رہی ہے ۔۔
“تفرقہ وطبقاتی اختلاف“
مسلمانوں میں وحدت و اشتراک کی کمی کا ہونا ۔۔ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے کہ ۔۔
اللہ ورسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کروکہ کمزور پڑجاؤگے اور تمہاری تدبیر بگڑ جائے گی ( سورۂ انفال،٤٦ ) ۔تاریخ گواہ ہے کہ کافر باطل پر بھی متحد رہتے ہیں اور مسلمان حق پر بھی ایک نہیں ہو پاتے ۔ جیسے اسپین میں مسلمانوں نے َآٹھ سو سال تک حکومت کی لیکن جب ان کے اندر تفرقہ کا ہو ا تو آہستہ آہستہ ان کی حکومت جاتی رہی ، اور آج اسی اسپین میں مسلمان دہشت کا شکار ہے ۔ہمارے ہاں مذہبی ، مسلکی ، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر نفرتوں کے ایسے بیج بوئے گئے ہیں کہ ان کی فصل آئے دن کٹتی رہتی ہے ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے” عصبیت“ کے جن کلموں کو بدبودار باتیں کہہ کر چھوڑنے کا حکم دیا تھا، آج انہی باتوں نے مسلم امہ کو بانٹ رکھاہے۔ ”اختلافِ رائے“ اب ”رحمت“ کی بجائے مخالفت اور مخاصمت کی صورت ”زحمت“ ہو چکی ہے ۔ انہی تفرقہ اور اختلافات کی وجہ سے اسلامی دنیا ابھی تک یورپی یونین ، افریقی ممالک ، سارک ممالک کی طرح متحد ہوکر اپنا بلاک نہیں بنا سکی ہے ۔
اس کے علاوہ وی آئی پی کلچر، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام اور بیوروکریسی کی مختلف شکلوں کے ساتھ قواعد وضوابط اور قوانینِ جزا وسزا حسب نسب کے ساتھ ہرایک کے لئے الگ الگ یعنی امیر اور طاقتور ہرقسم کے قاعدے اور ضابطے سے مستثنیٰ ہے اور غریب ہر ظلم وزیادتی کا شکار ہیں ۔ اسی اخلاقی ابتری کو حضور پاک صلہ اللہ علیہ وسلم نےگزشتہ قوموں کی تباہی وبربادی کی وجہ بتایا تھا۔
“ سہل پسندی “
یعنی قوموں میں “ جہاد “ کے مفہوم کا بدل جانا اور اسے غلط اغراض و مقاصد کے لئے لڑنا ۔امت مسلمہ کے مسائل میں سے بڑا مسئلہ ہماری اجتماعی اور انفرادی سطح پر سہل پسندی ہے جس نے سب کو محنت اور ایمان سے دور کر دیاہے ۔جس طرح ہم وقت اور انسانی صلاحیتوں کو بے دریغ ضائع کرتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر ہم قدرتی وسائل کو بھی ضائع کررہے ہیں۔
“ امانت میں خیانت کرنا یعنی کرپشن “
انسان جس کی سب سے بڑی شان تھی کہ وہ اللہ کا امین ہے آج خیانت کاشکار ہے ۔ انفرادی ، اجتماعی ، ملکی اور سماجی سطح پر ہر طرح کی خیانت (چوری ) کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ اس خیانت کا اثر نہ صرف اخلاق پر بلکہ پورے معاشرہ پر پڑتا ہے ۔جس کی واضح مثال اشعث ابن قیس ہے جس نے اپنی قوم کے ساتھ خیانت کی اور قلعہ کا دروازہ کھول کر پوری قوم کودشمن فوج کے حوالے کر دیا اسی بناء پر اس کا لقب عرف النار پڑ گیا ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشن گوئی فرمائی تھی کہ قرب قیامت میں دیانت وامانت کو اٹھالیا جائے گا، لوگ کہیں گے کہ فلاں قبیلے یا فلاں علاقے میں ایک شخص ہے جو بڑا امانت دار اور دیانت دار ہے۔مسلمان امت کو ایک امانت دار نہیں بلکہ آج ریاستیں، معاشرہ، ادارے ، انفرادی زندگی کرپشن اور بددیانتی سے پاک چاہیئے ۔
“ الزام تراشیاں “
یہ بھی ایک عجب تماشا ہے کہ انسان اصلاح کا عمل دوسروں سے شروع کرتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے ۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قوموں اور حکمرانوں کو بہترین قرار دیا جو ایک دوسرے سے محبت کریں، ایک دوسرے کے لئے دعا گو رہیں اور ایک دوسرے کی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے سرگرم اور فکر مند رہیں اور ان لوگوں اور ان حکمرانوں کو بُرا اور موجب لعنت قرار دیا جو ایک دوسرے پر لعن طعن کریں۔ یقین جانئے عدم اعتماد اور الزام تراشیاں صرف عوام اور حکمرانوں کے درمیان ہی نہیں ہیں پورا مسلمان معاشرہ قول و فعل کے تضاد میں الجھا ہوا ہے ۔
“ تعلیم و تربیت کافقدان “
ایک ایسی امت جس کی پہلی وحی کا آغاز ”اقرا “سے ہوتا ہے، ایک ایسی امت جس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ”قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْماً“ کا حکم ہوتا ہے، ایک ایسی امت جس کی شناخت اور پہچان ہی تعلیم وتعلم ہے، اگر وہ امت تعلیم کے میدان میں دنیا سے پیچھے رہ جائے تو اس پر افسوس کے اظہار کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے؟۔مسلمانوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کے زمیدار جہاں حکمران ہیں کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام، تعلیم کے لئے بہتر بجٹ مختص کرنے کے معاملے میں ہمیشہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، وہیں عوام نے بھی انفرادی طور پر اس معاملے میں افسوسناک حد تک خاموشی اختیار کی ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہمارے درمیان کوئی بڑا سائنسدان نہیں ہے ؟
پوری مسلم امہ جیسے مفلوج ہو چکی ہے۔ تعلیم و تحقیق سمیت زندگی کے اکثر شعبوں میں ہم دوسرے غیر ممالک کی طرف دیکھتے ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جن ۔۔ملکوں کو ہم منہہ کھول کر کافر کہتے ہیں ان سے قرضے بھی لیتے ہیں اور ان ہی کی ایجادات سے فائدے بھی اٹھاتے ہیں
دوستو !
سچ تو یہ پوری امت مسلمہ اسوقت کسی نہ کسی طرح سے کسی نہ کسی قسم کی دہشت گردی کا شکار ہے
(حوالہ جات کے لیئے کئی کتب اور مضامین سے استفادہ کیا گیا )