
اس مہینے اردو کے دو ادیبوں کی کتابوں کی رسمِ اجرا برلن میں کی گئی۔ یہ کتا بیں ہیں عارف نقوی کی نصف صدی جرمنی میں اور ڈاکٹر خالد علوی کی انگارے (انگریزی اڈیشن)۔
جرمنی میں نصف صدی
جرمنی میں رہنے والے اردو ادیب و صحافی عارف نقوی کی تازہ کتاب نصف صدی جرمنی میں کی جو دو ہفتے قبل ہندوستان میں شائع ہوئی ہے رسمِ اجرا یکم جون کو جرمن راجدھانی برلن میں کی گئی اور اسے اردو ادب کے خزانے میں ایک اہم

اضافہ بتایا گیا۔ یہ اس مضمون اور عنوان کی اردو میں پہلی کتاب ہے۔ اردو انجمن برلن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر کے الفاظ میں عارف نقوی کے جرمنی میں پچاس سالہ قیام کے مشاہدات اور تجربات کا نچوڑ ہے۔ جس میں یہاں کی زندگی کے مسائل اور تاریخ کے اتار چڑھائو نیز اہم ادیبوں ، فنکاروں اور دانشوروں سے عارف نقوی کی ملاقاتوں اور ان کی ذاتی زندگی کے تجربات اور تاثرات کو اتنے دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ پڑھنے میں مزا آتا ہے اور جرمنی کی زندگی اور مسائل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یکم جون 2014 کو نصف صدی جرمنی میں کی رسمِ اجرا کے موقع پر انور ظہیر نے ان الفاظ سے اس کی اہمیت پر زور دیا۔
کتاب کی رسمِ اجرا دہلی یونیورسٹی کے اردو استاد ڈاکٹر خالد علوی کے ہاتھوں ہوئی، جو مہمان اعزازی کی حیثیت سے تقریب میں شریک تھے۔ ڈاکٹر خالد علوی نے اس بات پر زور دیا کہ نصف صدی جرمنی میں اردومیں اپنی نوعیت کی نئی اور انوکھی کتاب ہے، جو جرمنی کے بارے میں بہت سی اہم اور دلچسپ معلومات سے بھری ہے اور خاص طور سے اردو قارئین کے لئے بہت اہم ہے۔ نصف صدی جرمنی میں ایک خوبصوت فلم کی طرح ہے۔
خالد علوی نے بتایا کہ عارف نقوی نے اس کتاب کی ابتدا مثبت انداز میں کی ہے، جو بہت خوش آئند عمل ہے۔ اولین باب کا عنوان بھی انسان زندہ ہے ہے۔ یہ زندہ انسان عارف نقوی کے نظریات، ان کے ذہن و دل اور ان کی کتاب میں ہر مقام پر آتا ہے۔
322 صفحات کی یہ کتاب ّنصف صدی جرمنی میںٗ ہندوستان کے عرشیہ پبلیکیشنز نے شائع کی ہے۔
عارف نقوی 1961 میں جرمنی آ ۤئے تھے۔ جرمنی میں اپنے 53 برس کے دورانِ قیام میں انھوں نے ہمبولٹ یونیورسٹی برلن میں باقاعدہ استاد کی حیثیت سے پڑھانے کا کام کیا، برلن ریڈیو پر ہندوستانی پروگراموں کے مدیر کی حیثیت سے کام کیا، کئی برس آل انڈیا ریڈیو کے برلن میں نمائندے رہے، برسوں ہندوستانی پریس ایجنسی پی ٹی آئی کے نمائندے رہے، انٹر پریس سروس کے ، جس کا صدر دفتر روم، اٹلی میں تھا، برلن میں بیورو کے انچارج رہے، نیشنل ہیرالڈ کے یوروپین نمائندے رہے اور کئی دیگر اخبارات کی بھی نمائندگی کی۔ انھوں نے افسانے، ڈرامے، نظمیں اور غزلیں لکھیں، جو کتابوں کی صورت میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے ڈرامے برلن اور لیوٹن، برطانیہ میں بھی کامیابی سے کھیلے گئے اور پسند کئے گئے ہیں۔ وہ جرمنی کی سماجی و ثقافتی زندگی میں بھی کافی فعال رہے ہیں اور جرمنی و یورپ میں کیرم کے کھیل کو فروغ دینے کے لئے پہل کی ہے۔ مشرقی جرمنی میں کیرم فیڈریشن قائم کی اور پھر دونوں ملکوں کے الحاق کے بعد مشترکہ جرمن کیرم فیڈریشن کے دس برس صدر رہے، 1996 میں یوروپین کیرم کنفیڈریشن قائم کی اور2005 سے انٹرنیشنل کیرم فیڈریشن کے صدر ہیں۔ (کتاب میں ایک باب عالمی کیرم کے بارے میں بھی ہے)وہ کئی برس مشرقی جرمنی میں انڈین فیڈریشن کے صدر رہے ہیں۔ 1996 میں انھوں نے اردو انجمن برلن کی بنیاد رکھی تھی اور تب سے اس کے صدر ہیں۔ اردو انجمن برلن کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہندوستانی، پاکستانی اور جرمن مل کر انسانیت و ترقی پسند اردو ادب کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں۔
عارف نقوی نے 1964 میں ایک خاتون سے شادی کی تھی جس کے ساتھ وہ پچاس برس سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ کی والدہ مشرقی جرمنی میں اور والد مغربی جرمنی میں تھے اور دونوں کے درمیان برلن کی دیوار حائل تھی۔ اس کتاب میں اس پہلو سے بھی ان کے ذاتی تجربات اور مسائل کا ذکر ملتا ہے۔ غرضیکہ کتاب نصف صدی جرمنی میں جرمنی کے بارے میں ان کی ایسی داستانوں کا خزانہ ہے، جو ہماری معلومات میں بے حد اضافہ کرتا ہے۔
خالد علوی کے انگارے کا انگریزی اڈیشن
ڈاکٹر خالد علوی کی کتاب انگارے کے انگریزی اڈیشن کی رسمِ اجرا یکم جون 2014 کو برلن میں اردو انجمن کی طرف سے اہتمام سے کی گئی۔ اردو انجمن کے صدر عارف نقوی نے کتاب کا اجرا کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کتاب ترقی پسند ادیبوں کی تحریک کے ابتدائی مرحلے کے مزاج کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ انھوں نےترقی پسند تحریک کے تاریخی پس منظر، انگارے کے فنی جائزے اور انگارے کے مصنفین کے بارے میں ڈاکٹر خالد علوی کی تحقیقی تحریروں اور معلوماتی دستاویزوں کی فراہمی کے لئے کاوشوں کی خاص طور سے تعریف کی۔ عارف نقوی نے اردو انجمن برلن کی طرف سے ڈاکٹر خالد علوی کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں اردو انجمن کے اعزاز سے نوازا۔رسمِ اجرا کے وقت پاکاستانی ادیب مبشر علی زیدی اور اردو انجمن کے نائب صدر انور ظہیراور سکریٹری اُووے فائلباخ بھی اسٹیج پر موجود تھے۔
ڈاکٹر خالد علوی نے اردو، ہندی اور پنجابی زبان کے ادیبوں اور دانشوروں کے سامنے بولتے ہوئے انگارے کے پس منظر اور اس کی اہمیت کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جرمنی، خصوصاً برلن میں اردو ادب کے اتنے شیدا موجود ہیں۔