جون 15 لکھنؤ،تبظیم علی کانگریس کی ہفتہ وار میٹنگ کا آغاز سورہ نساء کی آیت نمبر135 کی تلاوت سے ہوا۔ ارشاد ہو رہا کہ ’اے ایمان والوں . مکمل طور پر عدالت کے ساتھ قیام کرو. اللہ کے لئے گواہی دو اگر چہ یہ خود تمہارے لیے یا تمہارے والدین

کے لئے یا تمہارے اقرباء کے لئے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اگر وہ غنی یا فقیر ہوں تو اللہ حق رکھتا ہے کہ ان کی حمایت کرے اس لیے ہوا و ہوس کی ہیروی نہ کرو. اس طرح تو حق سے منحرف ہو جاؤ گے۔ اور اگر حق میں تحریف کرو گے یا اس کے اظہار سے اعراض کروگے تو جو کچھ تم انجام دیتے ہوتو اللہ اس سے آگاہ ہے۔
مذکورہ آیت میں قوامین کو لفظ استعمال ہو ا ہے اس طرح ہر مقام ، دور اور موقع پر عدالت کے ساتھ قیام کرنے کا حکم ہے تاکہ یہ عمل ہمارے اخلاق اور عادات کا حصّہ بن جائے۔ اگر آیت پرغور و فکر کیا جائے تو صاف عیاں ہو جاتا ہے کہ اسلام قیام عدالت کو ا یک ایسی اجتماعی اور عمومی شکل دینا چاہتا ہے جس میں کسی بھی جانب تھوڑا سا بھی جھکاؤ نظر نہ آئے اور اس کے اجراء میں رتّی برابر انحراف بھی نہ ہو۔یہ آیت حقیقی اسلام کے ان اصولوں کو پیش کر تی ہے جواجتماعی عدالت کی بازیابی کے لئے اشد ضروری ہیں۔ اسلام ہمیں اس تعلق سے ایک حساس فرد بنانا چاہتا ہے۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں نے نظام عدل و انصاف کو اپنے معاشرہ و نظام میں وہ جگہ نہ دی جس کی متواتر تاکید کی گئی ہے۔ مسلمانوں کے عمل اور اسلام کے اس بلند پایہ حکم کے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ نظرآتاہے اور مسلمانوں کے پچھڑے پن کی ایک اہم وجہ اس مسئلہ پر ان کا غیر اسلامی طرز عمل بھی ہے۔اس معاملہ میں صرف تاریخ کے اوراق پلٹنے بھر کی دیر ہے کہ کس طرح عدل و انصاف کو فراموش کر کے ذاتی حکومتیں قائم کی گئیں جہاں بادشاہ کا حکم ہی انصاف کامترادف ہوا کرتا تھا۔اگر بین القوامی سطح پر دیکھا جائے تو عالم اسلام عدل انصاف کوبالکل فراموش کر چکا ہے، اس کی سوچ ایک دائرہ میں محدود ہے وہ اپنے مسلک سے آگے نہیں سوچ رہا ہے۔آج جب کہ خوارج کا ایک طبقہ خون ریزی پر آمادہ ہے، مسلم دنیا ان سب کو صرف مسلکی چشمہ سے دیکھ کر ردعمل ظاہر کر رہی ہے ۔ اسے یہ پرواہ نہیں کہ اس کے ہم مسلک کیسے کیسے مظالم ڈھا رہے ہیں۔لیکن اگر اس طرح اکا کوئی واقعہ ہندوستان میں ایک مسلمان کے ساتھ بھی ہو تا ہے تو عدل و انصاف کی دہائی دی جاتی ہے۔ مسلمانان ہند کو اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کر نا ہے کہ ظلم ظلم ہے اور جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ کفر برداشت کر ساکتا ہے ظلم نہیں۔لہٰذا مسلمانوں کو عدل و انصاف کی قدروں کو اپنے سماج میں صحیح مقام دلانا ہو گا۔
میٹنگ میں کہا گیا کہ تحریک دین فہمی اور تحفظ اوقاف کے بانی الحاج مرحوم جاوید مرتضیٰ کی زندگی ایک تحریک ، مشن اور ادارا کی حیثیت رکھتی ہے ۔آپ نے مختلف نظریات کا مطالعہ کیا اور اپنے وسیع مطالعہ کی بنا پر ایک منفرد نظریہ قائم کیا جس کی بنیاد قرآن و سنت ، اقوال آئمہ پر تھی۔ فکر اور مطالعہ نے آپ کو دین کے حقیقی تصور کی جانب پہونچا دیا جہان دین قرآن میں موجود ہے جس کی تبلیغ رسول اکرم نے کی، جس پر پیرا ہو کر ائمہ طاہرین علیہ ا لسلام نے نمونہ عمل پیش کیا اور جس دین کی جھلکیاں حقیقی علماء کرام کی تحریروں اور تقاریر میں ملتی ہیں۔ آپ کے مشن کویاد رکھنے اور اسکی تشہیر کے لئے ضروری ہے کہ ان کی یاد میں علمی سرگرمیاں جاری و ساری رکھی جائیں. لہٰذا جاوید مرتضیٰ میمورئیل ایجوکیشنل اینڈ ولفیر ٹرسٹ، اور تنظیم علی کانگریس کے زیر اہتمام ایک سیمینار بعنوان’اسلام اور عدل و انصاف‘ کے انعقاد کا فیصلہ لیا گیا ہے۔27 ستمبر2014 کو منعقد ہونے والا سیمینار علی کانگریس کی تحریک کا ایکاہم پڑاؤ ہے۔ اس سیمینار کے تھیم ہیں : اسلام میں فلسفہ عدل، اسلام اور اجتماعی عدل؛ اسلام اور معاشی عدل؛ اسلام اور صنفی عدل؛ اسلام اور سیاسی عدل؛ اسلام اور نسلی عدل؛ اسالام اور مسلکی عدل، اسلام اور عدل کا نظم و نسق۔سیمینار کے تعلق سے سوینیر میں 1 ستمبر تک موصول ہونے والے مقالہ اور مضامین کو شامل کیاجائے گا۔ اشتہارات کے ساتھ عوت نامہ بھی بھیجے جا رہے ہیں ہیں۔ ممبران نے عوام سے بین تعامل کے تحت شرکت کی اپیل کی۔اخیر میں مرحوم جاوید مرتضٰی کو ایصال ثواب ہدیہ کیا گیا۔