آئے روز قتل غارت گری اور قیمتی جانوں کا ضیاؑ ع وطن عزیز میں معمول ھے حالات جتنے بھی خراب ھوں بم دھماکے کہیں بھی ھوں مرتے تو غریب لوگ ھی ھیں ، کسی بھی انسان کا قتل ھو یہ ھے تو انسانیت کا قتل نا اور قتل اور ظلم اللہ کو غضب

ناک کرنے والے عمل میں سر فہرست ھے
ھمیں مسلک علاقئی نسل زات پات جنس ہر بات سے قطعی نظر بس ایک انسان ھونے کے ناطے ھی ایک دوسرے کا احساس کرنا چاھئیے اور انسانی رشتہ کے ناطے دوسرے انسان کا خیال کرنا اس کا احساس کرنا چاھئے کہ مسلمانوں کے تو دین کی بنیاد ھی اعلی اخلاق کی تکمیل کے لئے رکھی گئی تھی
آج جو ملک کے حالات ھیں اس میں ھماری ساری قوم ھی اضطراب کا شکار ھے سوائے چند ظالم فرعون صفت حکمرانوں کے ، حکمران اپنے گھمنڈ اور اقتدار کے نشے میں اتنا کھوئے ھیں یا نشے میں چور ھیں کہ انھیں ھوش نھیں کہ وہ اپنے انجام کے بارے میں سوچ سکیں ، ہر عروج کو یقینا زوال آنا ھوتا ھے عقل مند وہ ھے جو آپنے آئندہ آنے والے وقت کی پیشگی منصوبہ بندی کرے ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچے سمجھیں کہ اصل میں اس دنیا کا حاکم اللہ ھے اس کی اصل بادشاہی ھے وہ ہر چیز پر قادر ھے اور اس کی پکڑ بڑی سخت ھے
اس کی مثال سے تاریخ بھری پڑی ھے قران میں بھی ایسے گھمنڈی رعونت والے انسانوں ، حکمرانوں کا زکر صاف صاف الفاظ میں کر کے اللہ نے مزمت کی ھے کہ خبردار کسی پر ظلم نا کرو اور خود کو دوسرے انسانوں سے بر تر نا جانو - دو دن پہلے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ ھے جس میں فرعون صفت حکمرانوں کو محسوس ھوا کہ ایک جماعت جو ان سے سیاسی میدان میں ٹکر لینے کو تیار ھو رھی ھے کو ڈرایا دھمکایا جائے اپنا رعب دبدبہ ڈالا جائے اور اپنی طاقت دکھائی جائے یہ سوچ کر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں -
ایسا ھی گھمنڈ اور رعونت کا ایک واقعہ قران میں بھی بیان ھوا ھے ایک شداد نامی انسان رائے ونڈ جیسے محل باغات بنا رہا تھا جس نے وہ اپنی اعلی شان و امارت کا مطاہرہ کرنا چاھتا تھا ، اس نے اللہ کے پیغمبروں کی زبان سے اللہ کی جنت کے قصے سن رکھے تھا اس نے سوچا وہ زمین پر اللہ کی جنت سے بھی بہتر جنت اسی زمین پر بنائے گا اس نے ایک بہت بڑا عالیشان شہر تعمیر کرایا جس میں محل عمارات سونے چاندی سے تعمیر کی گئیں - قیمتی پتھر زبر جد اور یاقوت سے ستون تعمیر کئے گئے ، سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ، ہر محل کے ارد گرد جواہرات سے پر نہریں جاری کی گئیں - قسم قسم کے درخت اور پودے زینت کے لئے لگائے گئے
جب یہ عالیشان جنت تیار ھوئی تو شداد اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس جنت کو دیکھنے گیا لیکن اللہ نے اپنا غضب ڈھا یا او تیز آندھی چلی اور سب کچھ تحس نہس ھو گیا کیونکہ بزرگی اور بادشاہی صرف اسی اللہ کی ھے جس نے یہ دنیا بنائی ھے اور اس کو چلانے کے لئے ایک طریقہ کار وضع کیا ھے جو انصاف اور برابری کی بنیا د پر رکھا گیا ھے ، اللہ ظلم اور بربریت اور تکبر کو پسند نھیں کرتا تو اللہ سے ڈرے ہر وہ شخص جو تکبر میں مبتلا ھو کر انسانوں پر اللہ کی بنائئی مخلوق پر ظلم کرتا اور اس کی بنائی زمین پر اکڑ اکڑ کر چلتا ھے اور خود کو ناقبل تسخیر سمجھتا ھے ، اس کو چاھئیں جلد نھیں تو کچھ دیر میں ضرور اس کا احتساب ھونا ھے ۔ اور وہ حساب اسے کائنات کے خالق کو دینا ھے