گزشتہ ساتویں قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ‘‘جعفر بھائی کے بعد اب کچھ تذکرہ بھائی سائیں رحمت علی ناتھن شاہی کا کہ شاہی تو نہ جانے انکے نام کا حصہ کیوں ہے کیونکہ رحمت تو ہر سمت سے ہر رخ سے اور ہر مزاج سے فقیر آدمی ہے‘‘
رحمت علی سٹاک ہوم کی ان فعال شخصیات میں سے ہیں جنکے بغیر بہت سی محافل نامکمل رہتی ہیں۔ رحمت کو عام طور پر سچل سائیں کے نام سے پکارا جاتا ہے اور اسمیں سچل اور سائیں کی دونوں خصوصیات ہیں۔ رحمت کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ سے ہے جہاں انکی ولادت ضلع دادو کے شہر خیر پور ناتھن شاہ میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور بی ایس سی نواب شاہ سے کی۔ 1978 میں رحمت پاکستان سےگوتھم برگ آئے اور 1992 تک وہیں مقیم رہے ۔اس دوران انہوں نے شماریات میں ایم ایس سی لین شو پنگ یونیورسٹی سے کی۔مختلف کام کیئے سویڈش اسٹیٹ بنک،لیبر کی وزارت میں اور مقامی طور پر مختلف تقریبات کی منصوبہ بندی کرنے اور انکی نظامت کرنےکے حوالے سے بھی رحمت علی کا بڑا نام ہے۔
رحمت علی عالمی اخبار کے مستقل کالم اور بلاگ لکھنے والوں میں شامل ہیں اور بلاگ میں انہوں ‘‘کھوتا کہانی‘‘ کی جو بنیاد ڈالی ہے وہ ایک منفرد سی بات ہے۔

آئیے ذرا ایک لمحے کے لیئے سائیں رحمت علی کا انداز تحریر بھی ملاحظہ کرتے چلیں جو عالمی اخبار کے بلاگ سے ایک اقتباس ہے۔
‘
‘میرا نام غریب ہے اور میری ذات غربت- روز مرنا اور روز جینا میرا پیشا ہے- مجھے مارنے کی بسیار کو ششیں کی گئی ہیں مگر میں مرتا بھی نہیں- میں نے خو د بھی کئی دفع خود کشی کی ہے مگر میں مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جاتا ہوں- اسی وجہ سے یہ میرا پیشا بن گیا ہے- میں صبح اٹھ کر مزدوری کی تلاش میں نکلتا ہوں- اگر مزدوری نا ملے تو میں اپنے جسم کا کوئی حصہ بیچنے کی کو شش کرتا ہوں کیوںکہ گھر میں میرے بہت سے ہمنام غریب میرے ہاتھوں میں آٹا دیکھنے کے منتظر ہوتے ہیں- لیکن دنیا کو اس پہ بھی اعتراض ہے- میرے جسم پہ حق تصرف مجھے ہے کسی اور کو نہیں-میں نے کئی دفعہ خود کشی کی لیکن یہ مالدار بھی عجیب لوگ ہیں کہ مجھے دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں- اگر میں مر گیا تو ان کی نوکری کون کرے گا؟ شاید یہ سوچ کر یہ لوگ مجھے زندہ رکھنے پہ مجبور ہیں- میں نے کئی مرتبہ اپنے بچے بھی فروخت کئے اور کافی بچوں کو اپنے ھاتھ سے بھی ذبح کر ڈالا تا کہ وطن عزیز میں اگر غربت ختم نہیں ہوتی تو کم ہی یو جائے- میں تو ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہوں مگر میری ذات اتنی ڈھیٹ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی-صاحبان دولت جب مجھے نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے - اگر میں نہ رہا تو یہ شاہان وقت کس سے نفرت کریں گے؟ میں کسی کے کام تو آتا ہوں- میری زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں مگر میں تو زندہ بھی اوروں کے لئے ہوں-اے فراعین وقت! جتنا آپ زکوات اور خیرات کے نام پہ خرچ کرتے ہیں اگر اتنی رقم کا کوئی زود اثر زہر سب غریبوں کو کھلا دیں تو میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ غربت سے میرا وطن پاک ہو جائے گا‘‘۔۔۔۔
سائیں رحمت علی کو اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورت آواز سے نوازا ہے اور وہ یورپ بھر میں سوز خوانی اور نوحہ خوانی کرتے ہیں۔رحمت علی گائیکی کے رموزسے بھی واقف ہیں اور موسیقی کے ساتھ اچھی شاعری بھی انکی کمزوری ہے اور انہیں اردو،پنجابی اور سرائیکی زبان کے متعدد اشعار یاد ہیں اور مختلف تقاریب کی نظامت کرتے ہوئے وہ مناسب اشعار کا استعمال کرتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ اس مثلث کے تیسرے کونے یعنی نوید بٹ کا ذکر کیا جائے یہ عرض کرنا ہے کہ مجھے سویڈن سے برادرم جعفر مغل بلتستانی کا ای میل ملا ہے جس میں انہوں نے اپنی روایتی کسر نفسی کا کام لیا ہے اور یہ بھی فرمائش کی ہے کچھ بلتستان اور شمالی علاقوں کے بارے میں بھی لکھا جائے۔جی بھائی جعفر مغل آپکی فرمائش سر آنکھوں پر اور میں حتی القمدور کوشش کرؤں گا کہ جتنی معلومات مجھے میسر ہوں آپ تک پہنچا دوں۔
یہ بھی عرض کرتا چلوں میں نے خود شمالی علاقہ جات میں کچورا جھیل،گلگت،سکردو۔بلطورا گلیشئر،بلتستان اور ایسے ہی متعدد مقامات دیکھے ہوئے ہیں اور اس بات کا شدید افسوس ہے کہ پاکستان کی کسی حکومت نے ان علاقوں کی طرف توجہ نہیں دی اور یہاں کے قدرتی حسن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاحت کی ترقی کے لیئے کوئی کام نہیں کیا۔
شمالی علاقہ جات پاکستان کے شمال میں واقع علاقوں کو کہتے ہیں۔ ان میں ہنزہ، گلگت اور بلتستان شامل ہیں۔ ان علاقوں میں کئی ریاستیں تھیں۔ 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ سردار نے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور انہیں کشمیر کا حصہ بنا دیا تھا چنانچہ پاکستان کی آزادی کے وقت وہ کشمیر کا حصہ سمجھے جاتے تھے مگر انہوں نے اپنی علیحدہ حیثیت برقرار رکھی ہے۔
ان علاقوں بالخصوص بلتستان نے بھارت سے اپنی آزادی کی جنگ خود لڑی اور خود پاکستان میں شامل ہوئے۔ یہاں کے لوگوں میں شیعہ، آغا خانی اور کچھ اہلِ سنت شامل ہیں۔ بلتستان کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ چلاس میں زیادہ اہل سنت ہیں۔ گلگت میں شیعہ اور آغا خانی ہیں۔ یہاں کے لوگ اچھے مسلمان اور مہمان نواز ہیں۔ جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ تمام علاقے قدرتِ الٰہی کا نمونہ ہیں۔ دنیا کی کئی اونچے پہاڑ یہاں واقع ہیں۔
ہنزہ شمالی پاکستان کا ایک علاقہ ہے۔ اسے وادی ہنزہ بھی کہتے ہیں۔ یہ گلگت سے شمال میں نگر کے ساتھ اور شاہراہ ریشم پر واقع ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی بستیوں کا مجموعا ہے۔ سب سے بڑی بستی کریم آباد ہے۔ سیاحوں کا یہ بڑا مرکز ہے۔ نگر میں واقع راکاپوشی کا نظارہ بہت دلفریب ہے۔ یہاں کے لوگ آغاخانی ہیں۔ پاک فوج میں ملازمت اور سیاحوں کی خدمت سب سے بڑا زریعہ روز گار ہے۔ دریاۓ ہنزہ اسکے ساتھ سے گزرتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی زبان بروشسکی ہے۔ بلتت قلعہ دیکھنے کی جگہ ہے۔گلگت (Gilgit) پاکستان کے شمالی علاقوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شاہراہ قراقرم کے قریب واقع ہے۔ دریاۓ گلگت اس کے پاس سے گزرتا ہے۔ دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کا سنگم اس کے قریب ہی ہے۔ یہاں کی زبان شینا ہے لیکن اردو عام سمجھی جاتی ہے۔ چین سے تجارت کا مرکز ہے۔ کے ٹو، نانگا پربت، راکاپوشی اور شمال کی دوسری بلند چوٹیاں سر کرنے والے یہاں آتے ہیں۔
 |
| کچورا جھیل |
بلتستان
بلتستان (بلتی زبان میں' بلتیول') ایک قدیم ریاست ہے جو آج کل پاکستان کے شمالی علاقہ میں شامل ہے اگرچہ اس کے کچھ حصہ پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ بلتستان کی سرحدیں چین اور بھارت سے ملتی ہیں۔ بلتستان پر 1848ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ حکمرانوں نے قبضہ کیا تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت بلتستان کے لوگوں نے اپنی
جنگِ آزادی لڑی اور1948ء میں پاکستان نے اس کطے پر جبری قبجہ جما ےا ۔ اگرچہ بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین مسئلہ کشمیر کے مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک نہیں ہوا اور نہ ہی انہیں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ بلتستان میں دنیا کے تیس سے زیادہ اونچے ترین پہاڑ واقع ہیں جن میں کے۔ٹو شامل ہے۔ بلتستان کا تقریباً تمام علاقہ پہاڑی ہے جس کی اوسط اونچائی گیارہ ہزار فٹ ہے۔ لداخ بھی قدیم تاریخ سے بلتستان کا حصہ رہا ہے جو آج کل بھارت، چین اور پاکستان میں تقسیم ہو چکا ہے۔ گلگت و ہنزہ بھی تاریخ کے مختلف ادوار میں بلتستان سے ملحق رہے ہیں۔ بلتستان کی غالب اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سکردو بلتستان کا سب سے بڑا شہر اور دارالخلافہ ہے
بلتستان کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں سکردو، روندو، شِگر، کھرمنگ، گلتری اور خپلو شامل ہیں۔
صوبہ سرحد کے مختلف شہری اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور ذرائع ابلاغ میں انہیں شمالی پاکستان کہنے سے ’شمالی علاقہ جات‘ میں سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔متعدد سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو یہاں نہ آنے کا مشورہ دیاہے۔ مقامی باشندوں کا کہناہے کہ اس خطے کو شمالی علاقہ جات کے بجائے گلگت بلتستان کے اصل نام سے پکارا جائے تاکہ ان پر نام کے ابہام کے باعث منفی اثرات نہ پڑسکیں۔
شمالی علاقہ جات کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ حیدر رضا بتاتےہیں ’قیامِ پاکستان کے چند ماہ بعد ہی گلگت بلتستان کے باشندوں نے اپنے بل بوتے پر ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرکے سولہ نومبر 1947ء کو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔
تاریخی طور پر بھی یہ خطہ گلگت بلتستان ہی کہلاتا رہا ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ صوبہ سرحد میں دہشتگردی کی خبروں کو شمالی پاکستان کے حوالے سے بیان کیا جارہا ہے۔ جس کے سبب بیرونِ ملک تاثر یہ ملتا ہے کہ بدامنی گلگت بلتستان والے شمالی علاقہ جات میں ہورہی ہے۔ یوں پاکستان میں قائم بعض غیر ملکی سفارت خانوں نے بھی اپنے شہریوں کو یہاں نہ آنے کا مشورہ دیا جس کے سبب مقامی سیاحتی صنعت پر شدید منفی اثر ات مرتب ہوئے ہیں۔‘
شمالی علاقہ جات کہلانے والا گلگت بلتستان کا خطہ اپنے خوبصورت نظاروں، دلکش وادیوں، بُلند و بالا برفیلے پہاڑوں، روح فنا کردینے والی گہری گھاٹیوں، ہزاروں سال قدیم انداز میں مقامی باشندوں کی بود و باش کی بدولت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔ دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، ہمالیہ اور ہندو کش کا سنگم گلگت میں ہوتا ہے۔ اسی سرزمین پر’ایورسٹ‘ کے بعد دنیا کی دوسری بُلند ترین چوٹی کے ٹو واقع ہے۔ یہیں
نانگا پربت کھڑا ہوا ہے جسے قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔انہی علاقوں میں قطبین کے بعد دنیا کے طویل ترین اور بڑے گلیشیر پائے جاتے ہیں جن میں پاکستان اور بھارت کے مابین متنازع سیاچن کے علاوہ ہسپر، بتورہ اور بلتورو قابلِ ذکر ہیں۔ یہیں دنیا کی آٹھ بُلند ترین چوٹیاں واقع ہیں جن میں کے ٹو، نانگا پربت اور راکا پوشی کے علاوہ گشا بروم، براڈ پیک اور مشابروم چوٹیاں بھی شامل ہیں جن کی بُلندی دو ہزار سے آٹھ ہزار میٹر کے درمیان ہے۔ جنہیں سر کرنے کے لیے ہر سال ہزاروں عیر ملکی کوہ پیما اور سیاح یہاں کا رُخ کرتے رہے ہیں۔
پھر 1978میں شاہراہ قراقرم کی تکمیل کے بعد ذرائع آمدورفت میں بہتری، نیز فضائی سفر کی سہولتوں کے سبب اپریل سے ستمبر تک کے چھ مہینوں میں یہاں غیر ملکی سیاحوں کی ریل پیل رہتی تھی، مگر اس برس صورتِ حال اچھی نہیں ہے جس سے نوادرات، قالین، روایتی ملبوسات اور سچے موتیوں سے تیار کردہ زیورات کی تجارت پر بہت برا اثر پڑا ہے۔
گلگت بازار میں دستی طور پر تیار کردہ شالیں، روایتی بلتی ٹوپیاں اور دیگر اشیا فروخت کرنے والے افراد کے مطابق ’ان دنوں یہاں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا ہجوم ہوتا تھا مگر اس برس تو اکا دُکا ہی نظر آرہے ہیں۔
ہمارا کاروبار انہی کے دم سے ہے۔ سال کے یہی چھ سات ماہ کماتے ہیں اور سردیوں میں بیٹھ کر کھاتے ہیں، مگر اس سال کاروبار اتنا ٹھنڈا ہے کہ فکر ہے کہ سردیوں میں کیسے گذارا کریں گے؟‘
جعفر بھائی لیجئے آپکے حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔میں نے چونکہ بلتستان کا حسن دیکھا ہوا ہے اس لیئے مجھے اگر
سویڈن کے حسن سےاسکی مماثلت بیان کرنے کو کہا جائے تو میں کسی کم و کاست کے بغیر کہوں گا کہ ان دونوں کا حسن چونکہ ایک ہی خلاق کائنات کی تخلیق ہے اس لیئے کئی مقامات ہر اسمیں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
فرق اگر کوئی ہے تو وہ اس ترقی کا ہے جسے انسانی ترقی کہا جائے گا اور ظاہر ہے کہ اسمیں سویڈن اور بلتستان کا تقابل کوئی عقل مندی کی بات نہیں
لیکن قدرتی حسن کے حوالے سے جعفر بھائی آپ سویڈن میں رہ کر بھی بلتستان میں ہی مقیم ہیں۔ واہ ایک ٹکٹ میں دو دو مزے۔
۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔