ہمیں یاد ہے کہ ہمارے گھروں میں چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے ایک پچھلا دروازہ ضرور ہوتا تھا ۔جو کام کرنے والوں کے لئے مختص تھا کہ وہ پچھلے دروازےسے اآئیں کام کریں اور چلے جائیں ۔یہ دروازہ بہت احتیاط سے بند رکھا جاتا تھا کہ کسی چور اُچکے یا ایسے کے لئے نہ کھول دیا جائے جو گھر والوں کے لئے نقصان کا باعث بنے لہزا کچھ احتیاط پسند تو اس پر تالا بھی ڈالے رکھتے تھے ۔لیکن اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہ دروازہ ہر سیاسی لیڈر کے محل میں بھی ہوتا ہے جس سے اندر اآنے والوں کو راز میں رکھا جاتا ہے اور یہ بیک ڈور بڑے بڑے مسائل جو سیاست دانوں وزیروں اور مشیروں کو پیش اآتے ہیں ان کے حل کا وسیلہ بن جاتا ہے ۔ویسے تو یہ سیاست دان بہت کم ہی کسی ایسی مصیبت میں اآتے ہیں کہ جن پر یہ حکومت کرتے ہیں ان کا حال تو ایسا ہوگیا ہے کہ وہ اب ہر بات پر‘ مٹی پاؤ‘ کہتے نظر اآتے ہیں کیونکہ انہیں لاشیں اُٹھانے اور گولیاں کھانے ہی سے فرصت نہیں مل رہی ۔انہیں تو اپنے گھروں کے ماتم ہی سے نجات نہیں مل رہی ۔کچھ لوگ ہیں جو اپنی مشکلوں سے گھبرا کر ہر اس شخص کا ساتھ دینے کو نکل رہے ہیں جو انہیں ان عزابوں سے نکالنے کی بات کر رہا ہے ۔جو ملک کوسچی جمہوریت دینے کی بات کر رہا ہے ۔جو یہ بتا رہا ہے کہ تمہارے حقوق کیا ہیں انہیں کس طرح حاصل کر سکتے ہو؟
یہ بیک ڈور بڑے بڑے مسائل کو حل کر کے حاکموں کی پھر چاندی کر دیتا ہے آج کل سنا ہے کہ یہ بیک ڈور چوپٹ کھلے ہیں ۔اور حکومت کو جو مسائل در پیش ہیں انپر بات کرنے کے لئے وہ لوگ جو ان دروازوں سے اآنے کے ماہر ہیں بڑی تندہی سے ان دروازوں کی طرف رواں ہیں ۔اور سنتے ہیں کہ بہت سے روٹھے منائے بھی جاچکے ہیں ۔ہمارے ایک بڑے لیڈر کے بارے میں بھی یہ ہی باتیں کی جارہی ہیں کہ انہیں دھکیل کر اس دروازے تک لانے کی پوری پوری کوشش جاری ہے ۔کیونکہ انہوں نے چودہ اگست یعنی اآزادی کے دن کو منتخب کیا ہے ۔اگر انکے مطالبات جو وہ ڈیڑھ سال سے کر رہے ہیں ان کا حل نہ کیا گیا تو۔
ایک اور لیڈر جو مزہبی شہرت بھی رکھتے ہیں اور اپنے بہت سے معصوم کارکن گنوا بیٹھے ہیں جو ایک عظیم سانحہ ہے کیونکہ وہ لوگ پاکستانی تھے نہتے تھے اور اپنے لیڈر کے لئے وہاں موجود تھے ۔پھر جہاز کا رُخ موڑ دیا گیا یا شاید پہلے کی گئی ایک حرکت کو دُہرایا گیا ۔جس پر ایک چیف جسٹس سوار تھا مگر ہماری یاد داشت تو بس موقعے محل کے ساتھ ساتھ ہی چلتی ہے اور ہم سب کچھ بھلا دیتے ہیں ۔صرف اپنی ہی بات یاد رکھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا کیا گیا ۔؟ ہم بات کر رہے تھے بیک ڈور کی سنا ہے کہ وہ بڑی بڑی ہستیوں کو شرافت سے شریفوں کی طرف لے جا رہا ہے ۔اور وہاں بیٹھے بزنس میںن بزنس میں مصروف ہیں ۔ایسے موقعوں پر ملک اور ملک سے محبت کس بیک ڈور مین چلی جاتی ہے ہماری عقل اس کو سمجھنے سے معزور ہے ۔کیونکہ یا تو اآپ محب وطن ہیں یا نہیں ہیں ۔یہ جو بیچ میں بیک ڈور بزنس اآتی ہے یہ ہی تباہی کا حصہ ہے ۔
اکثر ان بیک ڈور سے جانے والے لوگ جب سامنے کے دروازوں سے داخل ہوتے ہیں تو خود پر ایسا ملمعہ چڑھائے ہوتے ہیں کہ مّعصوم عوام پھر گھیرے میں اآجاتی ہے ۔وہ رمق یا روشنی جو نظر اآنا شروع ہوتی ہے وہ پھر معدوم ہو جاتی ہے اور مایوسیاں پھر مقدر ہو جاتی ہیں ۔
ہم نے ایک جاپانی کو دھاڑیں مار کر روتے دیکھا جو ایک اعلیٰ منصب پر تھا لیکن عوام کا پیسہ اپنے دوروں میں خرچ کر بیٹھا تھا ہمیں لگا وہ شاید اس دنیا کی مخلوق نہیں کہ اگر پیسہ اسکے ہاتھ میں تھا اور اس نے خرچ کر لیا تو رونے کی کیا بات ہے ؟ ہمارے لیڈر تو خرچ ہی ہمارا پیسہ کرتے ہیں اور دھونس بھی ہمیں ہی دیتے ہیں اآج تک شرمندہ نہیں ہوتے کہ انہوں نے قوم کا پیسہ خود پر اپنے دوروں پر خرچ کر لیا ہے ۔اپنی ضرورتوں پر خرچ کر لیا اپنے خاندان پر خرچ کرلیا ۔یا کسی بیک ڈور ڈیل پر لگا دیا وہ تو کبھی حساب دینے کو تیار ہی نہیں ہوتے نا کہ شرمندہ ہوں ہمیں لگا غیر ممالک کے لیڈر مریخ سے اآئے ہوئے ہیں کیونکہ ان میں ہمارے یہاں کے لیڈروں کی کوئی بات ہی نظر نہیں اآتی ۔وہ غلط کرتے ہیں تو عہدہ چھوڑ دیتے ہیں ۔عوام کے سامنے اپنی غلطی کو مانتے ہیں تائب ہو جاتے ہیں ۔یہ ہوتے ہیں جمہوری لیڈر جنہیں عوام کے ہاتھوں پٹتا دکھاتا ہے ہمارا میڈیا کہ اگر وہ جواب دہ تھا عوام کے سامنے اور انہیں اعتماد نہ دے سکا تو وہ عوام سے سب کے سامنے پٹتا ہے ۔لیکن ہمارے لیڈروں کے بیک ڈور انہیں سب کو بچانے کے کام بھی اآتے ہیں جو ایساکچھ کر بیٹھتے ہیں ۔ہمارے لیڈروں کے بیک ڈور استعمال ہوتے ہیں ہر ایسے کو خریدنے کے لئے جن کی کچھ تھوڑی سی بھی دُکھتی رگ ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔
علامہ صاحب کی باتیں ہم نے سنیں وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں حق ہے کیونکہ جمہوریت واقعئی نہیں ہے کیونکہ جمہوریت میں عوام پر اس طرح گولیاں نہیں چلتیں جیسے ماڈل ٹاؤن میں چلیں اور اس پر کسی کو بھی زمے دار نہیں ٹہرایا جا رہا ۔بلکہ جو کچھ سامنے ہے اس سے اس طرح صرفِ نظر کیا جارہا ہے کہ حیرت سے سبکی اآنکھیں کھلی کی کھلی ہیں کہ اسی طرح شواہد کو بھی ختم کر دیا جائیگا شاید ۔
سنتے ہیں کہ ہر سیاسی جماعت اور خاص طور پر حکمران جماعت کے پچھلے دروازے بڑی آب و تاب سے کھلے رہتے ہیں اور ان پر وہ درباری کھڑے رہتے ہیں جو بریف کیس ہاتھوں میں لئے ہر مسئلے کا حل اندر داخل ہونے والے کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں اور معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے ۔کہ دور جمہوری ہے اور جمہوریت میں ہر شخص کو اازادی ہوتی ہے اپنے مسائل حل کرنے کی سوائے عوام اور بے کس لوگوں کے کہ وہ قربانی کے بکرے ہیں قصائیوں کی چھری تلے ۔بلکہ یہ سیاسی قصائی تو عام قصائی سے بھی بر تر ہیں کہ وہ قصائی کم از کم چھری تو تیز رکھتا ہے کہ زبح ہونے والے کو زیادہ تکلیف نہ ہو ۔یہ جمہوری قصائی تو چھری بھی کُھنڈی استعمال کرتے ہیں ۔کہ زبح ہونے والا تڑپ تڑپ کر جان دے ۔
جس کے مخالفت ہو جائے کسی چینل یا حکومت سے تو پھر بیک ڈور بڑے فعال ہوجاتے ہیں اور ایسے ایسے ٹٹ پونجیوں کو بیانات کے لئے لایا جاتا ہے جو ہر بات کو اپنی سوچ کے تحت کرنا چاہتے ہیں ۔وہ حق بات کر ہی نہیں سکتے بس انکے سامنے تو پوٹلی ہوتی ہے پیسوں کی ۔کہ یہ معرکہ سر کر لیا سامنے والے کے بخئے اُدھیڑ دئے تو بس سمجھو تم ہمارے نورِ نظر بن گئے اور ایسے نورِ نظر ہی حکومت کے لئے ستون بن جاتے ہیں کہ وہ پانچ سال تک جس طرح چاہے جیسے چاہے وعدوں کے جھانسے دے دے کر اپنی ایمپائر بڑی سے بڑی کر لیتے ہیں اور جب حکومت کو چھوڑتے ہیں تو انکے تعلقات چائینا ،جاپان اور باقی ممالک سے اتنے ہوجاتے ہیں کہ ہر جگہ انکی بزنس چل رہی ہوتی ہے ۔کیونکہ وہ اپنے دور حکومت میں بیک ڈور سے جو بزنس کرتے ہیں وہ بھی بس انکی ہی ہوتی ہے اس میں ملک کا کوئی شئیر نہیں ہوتا ۔جیسے جو جہاز خریدے گئے ان میں بزنس کلاس کی سیٹیں نہیں ہیں اب یہ سیٹیں بیک ڈور سے لگوائی جائینگی اور اس پر سفر کرینگے ہمارے بڑے ۔
بیک ڈور زندہ باد کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ اگست میں بھی یہ دروازہ بہت مصروف رہیگا بلکہ شاید ابھی سے ہوگیا ہو ۔
اللہ میرے ملک کو ان بیک ڈوروں سے نجات دے اور ایمانداری اور سچائی سے حکومت کرنے والوں کے لئے دروازے کھول دے ۔اآمین
اللہ ہمیں لیڈروں کی پرکھ بھی عطا کرے تاکہ ہم کامیاب ہو سکیں اچھی جمہوریت لانے میں ۔اور ان پچھلے دروازوں کو توڑ نے میں جہاں سے دھوکے دئے جاتے ہیں