فیس بک کے اسٹیٹس “ دہشت گردوں کی نئی دہشت گردی، مزارات اور درگاہوں کی مسماری “ پر ہونے والی گفتگو کا ایک مثبت اثر
یہ ہوا کہ اکثر احباب نے ان باکس اور فون پر پوچھا کہ آخر یہ داعش کون ہیں ؟ اور کیا یہ القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک ہیں ۔۔ سوچا کہ اس مضمون کی صورت اپنے احباب کی تھوڑی سی مدد کر دوں ۔۔ میں پیشگی “ ابنا “ نیوز ایجنسی کی شکر گزار ہوں جنہوں نے یہ تاریخی معلومات فراہم کیں ۔
مسلہ یہ ہے کہ شا م کے بعد عراق پر حملہ آور تکفیری گروہ داعش کو مغربی ذرائع ابلاغ روز اول سے ہی ایک سنی انتہا پسند گروہ کے عنوان سے پرچار کر رہے ہیں اس پر اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل سنت بھی حیران رہ گئے کہ کیا واقعی داعش ، شام اور عراق میں مظلوم انسانوں کا خون بہانے والے خون خوار دہشت گرد سنی مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں؟
جب عراق کے علاقے موصل پر داعش کے تکفیری دہشت گردوں کے حملوں اور قبضے کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ اور ان کے زر خرید عرب ذرائع ابلاغ نے عراق میں تکفیری دہشت گردوں کے حملوں کو سنی مسلمانوں جہادیوں کا حملہ قرار دیا اور اس بات کو پھیلانے کی کوشش کی کہ عراق میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان کوئی جنگ شروع ہو چکی ہے۔
آیئے میں بتاتی ہوں کہ داعش دہشت پسند کون ہیں ۔۔۔ ؟
داعش ، القاعدہ کا باغی گروہ ہے جو آپس میں چند ہزار ڈالروں کی تقسیم کے معاملے پر ایک دوسرے سے جدا ہو گیا ہے۔
داعش: (دولۃ الاسلامیہ فی العراق والشاما)
یعنی “ د“ دولت ، “١“ اسلامیہ ، “ع“ عراق ، “ ش“ شام
اس دہشت گروہ نے شام اور عراق میں خلافت کے نظام پر مبنی اسلامی حکومت تشکیل دینے کو اپنا مشن بیان کر رکھا ہے۔ اس گروہ کی زیادہ تر سرگرمیاں انہیں دو اسلامی ممالک یعنی عراق اور شام میں مرکوز ہیں جہاں وہ قتل و غارت اور آبرو ریزی ک ابازار گرم کیئے ہوئے ہیں ۔ اورحالیہ دہشت گردی یہ کہ کچھ مزارات اور درگاہیں بدعت کا نام دے کر بموں سے مسمار کر دی گئی ہیں اور کچھ ان کی ہٹ لسٹ پر ہیں جس پر ناصرف عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے وہاں پر ہندو اور عیسائی بھی پریشان دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ایسے میں داعش کا حالیہ سربراہ ابوبکر البغدادی کی ایما پر پچاس بھارتی نرسوں کا اغوا انڈیا کی حالیہ گورمنٹ کے لیئے چیلنج بنا ہوا ہے ۔۔
وہی پر خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کا یہ بیان “ ہم ایک ایسی خلافت کی بناء ڈال رہے ہیں جو ہندوستان سے قوقاز تک وسیع ہو گی جس میں عرب، مصری، فرانسیسی،جرمن اور آسٹریلوی ایک پرچم تلے جمع ہوں گے"۔ ابوبکر البغدادی نے نئی "اسلامی ریاست" کی تعمیر میں حصہ لینے کے لیے علماء، عسکری ماہرین، ڈاکٹروں، معماروں اور دیگر پیشوں سے وابستہ ماہرین کو نئی مملکت کی طرف ھجرت کی دعوت دی ہے “ دنیا میں رہنے والی ہر مذہب ، مسلک کے عام عوام کو حیران سے زیادہ پریشان کر گیا ہے ۔
داعش کی تشکیل:
15 اکتوبر2006ء کو عراق میں سرگرم بعض تکفیری دہشت گرد گروہوں نے آپس میں اتحاد قائم کیا جس کا نام داعش رکھا گیا اور ابو عمر البغدادی کو اس کے سربراہ کے طور پر متعین کیا گیا۔
19 اپریل2010ء کو ابو عمر البغدادی کی ہلاکت کے بعد ابوبکر البغدادی کو اس گروہ کے نئے سربراہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ ابوبکر البغدادی کے سربراہ بننے کے بعد اس گروہ کی جانب سے عراق میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں انتہائی تیزی آ گئی اور جب2011ء میں شام میں سیاسی بحران رونما ہوا تو اس گروہ سے وابستہ تکفیری دہشت گرد بڑی تعداد میں شام پہنچنا شروع ہو گئے اور اس طرح شام میں بھی اس گروہ کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا۔
دو ہزار چار میں ابومصعب الزرقاوی نے عراق میں "توحید و جہاد" نامی دہشت گرد گروہ تشکیل دیا اور ساتھ ہی اسامہ بن لادن کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس طرح یہ گروہ ابومصعب الزرقاوی کی قیادت میں عراق میں القاعدہ کی ذیلی شاخ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ یہ گروہ بڑے پیمانے پر شدت پسندانہ کاروائیوں کی بدولت عراق میں ایک انتہائی خطرناک دہشت گروہ کی صورت اختیار کر گیا۔ 2006ء میں ابومصعب الزرقاوی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے "شورای مجاہدین" کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے عبداللہ رشید البغدادی کو اس کے سربراہ کے طور پر معین کر دیا۔ 2006ء میں ہی ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد ابوحمزہ المہاجر اس گروہ کے نئے سربراہ کے طور پر سامنے آیا۔ اس سال کے آخر میں ابوعمر البغدادی کی سربراہی میں کئی دہشت گرد گروہوں کے اتحاد سے "دولت الاسلامیہ فی العراق" کی بنیاد رکھی گئی۔
19 اپریل 2010ء کو عراقی سیکورٹی فورسز اور امریکی فوجیوں نے ایک مشترکہ کاروائی کے دوران "الثرثار" نامی علاقے میں

موجود ایک گھر پر حملہ کیا جہاں توقع کی جا رہی تھی کہ ابوعمر البغدادی اور ابوحمزہ المہاجر موجود ہیں۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد اس گھر پر ہوائی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں یہ دونوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ان دونوں کی لاشیں عام لوگوں کو دکھائی گئیں۔ تقریبا ایک ہفتے بعد اس دہشت گرد گروہ نے انٹرنیٹ پر اپنے ایک بیانئے کے ذریعے ان دونوں دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے ابوبکر البغدادی کو اپنے نئے سربراہ کے طور پر اعلان کیا۔ اس کے علاوہ الناصر لدین اللہ سلیمان کو وزیر جنگ کے طور پر معین کیا گیا۔
حال ہی میں ایک معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر جان اینڈریو مورو المعروف عبد العلیم اسلام نے اپنے ایک ریڈیو انٹر ویو میں کہا کہ مغربی قوتیں ہمیشہ سے اسلامی نام نہاد جہادی گروہوں کو استعمال کرتی رہی ہیں اور ان کا استعمال اپنے مفادات اور سامراجی نظام کو تحفظ دینے کے لئے کیا جاتا رہا ہے اور آج بھی وہی کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر مورو نے مزید کہا کہ داعش کا رویہ بالکل غیرا سلامی ہے،انہوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گرد دہشت گردی اور جرم کو فلم بندی کرتے ہیں اور مزے سے نشر کرتے ہیں جو کہ خود ایک غیر اسلامی فعل ہے،وہ انتہائی فخرکرتے ہیں اپنے جرائم اور ظالمانہ کاروائیوں پر ، اور یہ واقعاً اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات میں ایسا کہیں نہیں ملتا ہے۔
ڈاکٹر مورو کہتے ہیں کہ ایسی درجنوں ویڈیوز موجود ہیں جن میں داعش کے دہشت گرد مرے ہوئے سپاہیوں کے جگر نکال نکال کر کھا رہے ہیں،یہ وہی کام ہے جو مسلمانوں کی دشمن ہندہ نے اسلام کے اوائل ادوار میں کیا تھا،انہوں نے داعش کے دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نہ تو پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت پر ہو اور نہ ہے صحابہ کرام کی سیرت پر۔اسی طرح ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ایک اور ویڈیو میں ایک خاتون کو اللہ اکبر کے نعرے لگا کر آبرو ریز کیا جا رہا ہے کیا یہ اسلام ہے؟ ایسا ہر گز نہیں اسلام ان شیطانی کاموں کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گردوں نے اپنی حالیہ وڈیو میں عراقی فو ج کے سترہ سو افراد کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، داعش نے صرف شیعہ مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ سنی اماموں کو بھی قتل کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے داعش کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔
ڈاکٹر مورو کہتے ہیں کہ داعش ایک سلفی اور وہابیت کی انتہا پسند شاخ کا نام ہے جسے تکفیری کہا جانا درست ہے۔ان تکفیری
دہشت گردوں نے اسلام کے پانچوں مکاتب فکر میں سے کسی ایک کو بھی قبول نہیں کیا ہے جبکہ چار مکاتب تو سنی مسلمان ہیں جب یہ چاروں کو ہی نہیں مان رہے تو پھر کس طرح سنی مسلمان کہلوانے کے حق دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ وہابی سلفی ہیں جنہوں نے اپنے وجود کے روز اول سے ہی اسلام کے اصل چہرہ کو مسخ کرنے کے لئے ہر وہ اقدام کیا جو یہ کر سکتے تھے اور ان اقداما ت کی زندہ مثالیں آج اکیسویں صدی میں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ان سلفی وہابی دہشت گردوں نے اسلام سے بالکل بر عکس اصول اور قواعد بنا لئے ہیں ، جیسا کہ ان کے اصولوں کے مطابق شیعہ اور عیسائی خواتین کی بے حرمتی اور آبرو ریزی جائز ہے ، اسی طرح انسانوں کے جگر نکال نکال کر کھانا بھی ان کے نزدیک حرام نہیں ہے،ان کے نزدیک جہاد النکاح جیسی لعنت بھی جائز ہے جس میں اپنے جسم کی بھوک کی خاطر خواتین کا استعمال اور پھر تیس منٹ بعد طلاق دے دیا جانا ، اس طرح کے کئی خرافات ہیں جو ان سلفی اور وہابی مذہب کے پیروکاروں نے ایجاد کئے ہیں۔
تاریخ میں کوئی بھی سنی یا شعیہ مسلمان اس قسم کے مکتب اور اسلام کو سنی مسلمان قرار نہیں دے سکتا۔
پاکستانی اسکالر زید حامد کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ کچھ سنی عقیدہ مسلمانوں نے داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ لوگ کون ہیں؟ یہ لوگ درا صل صدام کی باقیات ہیں جو ملک میں افراتفری کا موقع ملنے پر سر نکال رہے ہیں، صدام کی جماعت ایک سیکولر اور اسلام مخالف جماعت تھی اور صدام کے مظالمکی تاریخ سے عراقی تاریخ بھری پڑی ہے،صدام خود بھی اسلامی بیداری سے خوف میں مبتلا تھا اور یہ وجہ ہے کہ سنہ1979ء میں امام خمینی (رح) کی قیادت میں آنے والے اسلامی انقلاب کی راہوں کو عراق میں روکنے کے لئے صدام نے ایران پر آٹھ سال تک جنگ مسلط کی۔لہذٰا صدام حسین کے سنی حامیوں کی جانب سے اگر داعش میں شمولیت کا عمل اور داعش کے دہشت گردوں کی مدد کی جا رہی ہے تو اسے غلط نظریہ سے نہیں لینا چاہئیے کہ سنی مسلمان داعش کے ساتھ ہیں۔ صدام کے حامی بھی داعش کی طرح ہیں کہ جنہوں نے شیعہ اور سنی اسلام کو قبول کرنے سے انکار کیا اور دونوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے۔“
انہوں نے مزید کہا “ سوچئے آخر کیوں آج مغربی میڈیا نے داعش کے لئے سنی مسلمان ہونے کی رٹ الاپ رکھی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں داعش بنیادی طور پر شیعہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اگر مغربی ذرائع ابلاغ اپنی سازش میں کامیاب ہو گئے تو وہ یقیناپھر دنیا میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کو باہم دست و گریباں کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یہ درا صل عالمی سامراجی اور عالمی صیہونزم کی سازشوں کا ایک حصہ ہے۔
(حالیہ داعش کا سربراہ ابو بکر البغدادی کون ہیں ؟ (بشکریہ آصف ناصر
ابو بکر البغدادی 1971 میں عراق کے شہر سامراء میں ایسے سلفی گھرانے میں پیدا ہوا ور پھر بغداد اسلامی یونیورسٹی سے بیچلر ،

ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شروع میں پڑھانے لکھانے کے شعبے سے منسلک ہوا اور پھر بعد میں چھوٹی چھوٹی جہادی تنظیموں کے ذریعہ سے مختلف دہشت گردی کی کاروائیوں میں مشغول ہوتے ہوتے شدت پسند گروپ داعش میں شامل ہوگیا کہا جاتا ہے کہ وہ ابو مصعب الزرقاوی کا شاگرد بھی ہے ۔
ابوبکر بغدادی کے نمایاں کارنامے
ابوبکر البغدادی کو 19 اپریل 2010 میں اس شدت پسند گروپ کا سربراہ مقرر کیا گیا اس نے آتے ہی اس میں جو تبدیلیاں کیں ان میں سے ایک اہم تبدیلی بنیادی عہدوں کا حذف کرنا تھا جیسے وزیر دفاع کے عہدے کو ختم کر کے فوجی نظام کی بنیاد رکھی اسی طرح صوبہ دیالی اور بغداد کے حکام کو معذول کرکے ریٹائر فوجی افسروں کو ان عہدوں پر مقرر کیا ۔
جنگی کمیٹی کی تشکیل
حکومت اسلامی عراق و شام کے نام سے موسوم شدت پسند گروپ داعش کی طاقت جنگی کمیٹی کی تشکیل میں تھی جس کے ممبران ولید جاسم محمد معروف ابو احمد العلوانی اور تین سابقہ حکومت کے افسر ہیں جو 2006 میں اس گروپ میں شامل ہوئے تھے اس کمیٹی کے سربراہ کا انتخاب ہمیشہ ابوبکر بغدادی کے توسط سے ہوتا ہے ۔
مشاورت کمیٹی کی تشکیل
اس مشاورت کمیٹی کا سربراہ ابو ارکان العامری ہے جس کا کام ابوبکر البغدادی ، جنگی کمیٹی اور ولایت کمیٹی کے درمیان ارتباط قائم کرنا ہے اس کمیٹی کے ارکان کی تعداد 9 سے 11 افراد ہیں اور ان کا انتخاب بھی ابوبکر بغدادی کے ذریعے ہی ہوتا ہے ۔
سیکیورٹی اور اطلاعاتی کمیٹی کی تشکیل
سیکیورٹی اور اطلاعاتی کمیٹی کا سربراہ بھی سابقہ حکومت کا ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ابو علی الانباری ہے جس کا کام ابوبکر بغدادی کیلئے سیکیورٹی اور اس کی رفت وآمد کے انتظامات کرنا ہے اورالبغدادی کے ان پروگراموں کے بارے میں جو ولایت کمیٹی کی طرف سے جاری ہوتے ہیں تفتیش کرنا ہے اس کمیٹی کے ممبران کی تعداد بھی 3 ہے جن کا انتخاب بھی البغدای کے ذریعے ہی ہوتا ہے اس کمیٹی کا کام عدالتی فیصلوں اور جس کیلئے حد مقرر کی گئی ہے کو جاری کرنا ہے سیاسی دہشت گردوں اور پیسے جمع کرنے والوں کی ایک ٹیم کی نگرانی بھی اسی کمیٹی کے ذمے ہے اسی طرح عہدوں سے مربوط کام ، داعش کے ارکان کے درمیان تعاون اور ارتباط بھی اسی کمیٹی کے ذمے ہے ۔
اس شدت پسند گروپ داعش کے ساتھ مربوط تمام افراد کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلے وہ لوگ ہیں جو دولت اور ثروت کے طلبگار ہیں ،دوسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جن کاتعلق سابقہ حکومت کے افسروں سے ہے یہی وہ لوگ ہیں جو البغدادی کے ساتھ زیادہ وفادار ہیں اور تیسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو جو کسی نہ کسی مشکل کی وجہ سے اس گروپ میں شامل ہو گئے ہیں لیکن اب وہ ان سے جدا ہونا چاہتے ہیں ۔
واضح رہے داعش کی اصلی طاقت کا راز یہی افسر اور بعث پارٹی ہے جو خم ٹھونک کر اسکے ساتھ کھڑی ہے۔یہ وہی علاقہ ہےجہاں امریکہ کی موجودگی میں بھی ہر روز بم دھماکے اور فوجی آپریشن ہوتے رہے ہیں لیکن پھر بھی امریکہ وہاں مکمل طور پر امن قائم کرنے میں ناکام رہا۔
یہاں یہ کہنا کہ سنی اقلیت کو کنارے لگا دیا گیا تھا اس لیے سنی اپنے دفاع کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں یہ بے وقت کی راگنی ہے

کیونکہ وہاں سنی اس سے قبل صدام کے دور میں بھی اتنے آسودہ خاطر نہیں تھے ۔ اس وقت بھی صرف صدامی ور بعثیوں کیلئے ہی تمام آسائشوں سے لطف لینے کے مواقع فراہم تھے تو
سوال یہ ہے کہ صدام کے دور میں اور جب امریکی آپریشنوں میں سنی پس رہے تھے تو اس وقت انہوں نے کیوں ہتھیار نہ اٹھا ئے؟؟ اب ہی کیوں ؟؟
معلوم ہوتا ہے کہ یہ سنی نہیں جو خود مظلوم ہیں بلکہ یہ خارجی اور امریکی ہیں جو اسلام اور مسلمانوں پر بھڑک رہے ہیں اور سنی شیعہ کے اختلاف کا نام دے رہے ہیں ۔
اگر سنی لڑنے پر آمادہ تھے تو کیوں پانچ لاکھ سے زائد سنی جہاد سے منہ موڑ کر اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں ہجرت کرگئے؟؟
سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ ان کی ڈوریاں کن خفیہ ہاتھوں میں ہیں۔ وہی جو اسی نفرت کی بنا پہ اسلحہ بیچتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ سب سے زیادہ اسلحہ امریکہ بیچتا ہے۔
مسلمانوں ہمارا دشمن واضح ہے ۔۔۔۔
معروف کالم نگار سید مصباح حسین جیلانی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔
“ چند ذرائع سے یہ خبر ملی ہے کہ کراچی میں چند افراد نے تازہ خلیفہ ابوبکر بغدادی کے حق میں مظاہرہ کیا ہے، جبکہ سپاہ صحابہ نے بھی انکی اطاعت کا دم بھرا ہے۔ پاکستان کی زمین میں خوب نم موجود ہے اور بیج بھی موجود ہیں۔ اس لئے یہ زمین دہشت گردی یا خلافت کےپنپنے کے لئے خوب موزوں جگہ ہے۔
ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ معلومات کے لئے “امام مسجد“ تک دوڑنے والے لوگوں کو خبر دار کیا جائے کہ موصل اور صوبہ

الانبار سنی اکثریت کے صوبے ہیں، جہاں کی عوام کو وہاں کی قیادت (خاص طور پر بعث پارٹی کی باقیات) یہ احساس دلاتی رہی ہے کہ سنیوں کے ساتھ نورالمالکی کی شیعہ حکومت زیادتی کر رہی ہے اور انکے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ شیعوں کے خلاف نفرت اور حکومت سے رنجیدگی نے القائدہ کو موقع دیا کہ نینوہ اور الانبار میں قدم جمائے۔ تاہم داعش نے القائدہ کی بھی چھٹی کرا دی اور ان صوبوں میں اپنے قدم مضبوط کر لئے۔
جس وقت داعش نے شام کے شہر رقہ سے موصل پر حملہ کیا تو انہوں نے اعلان کیا کہ جو لڑے گا اس سے ہماری جنگ ہے اور جو گھر بیٹھ جائے گا یا اطاعت کرے گا، اسے امان ہے۔ چنانچہ فوج نے بھی عدم مزاحمت میں خیریت جانی کر راہ فرار اختیار کی اور مقامی آبادی نے باقاعدہ خوش آمدید کہا۔
رات کو خلیفہ کے حکم پرانکے کئی اصحاب لوگوں کے گھروں میں دانہ پانی بھی دے آئے جس سے لوگوں کو اور بھی تسلی ہوئی کہ یہ لوگ تو حکومت کی نسبت بہت نیک اور امن پسند ہیں۔ اگلے دن جب موصل شہر کا کنٹرول مکمل ہوچکا تو لوگوں کے گھروں میں داعش کی فوجی آئے اور آن کر ان گے گھروں میں عورتوں کی تعداد معلوم کی، اور پوچھا کہ کون باکرہ ہے اور کون نہیں۔ لوگ ابھی بھی نہیں سمجھے تو انہیں بتایا گیا کہ “اسلامی افواج“ کی خدمت کے لئے جہاد النکاح کے تحت عورتیں درکار ہیں تا کہ “اسلامی افواج“ اپنی ہوس بھجا سکیں۔
کچھ گھروں نے مزاحمت اور موت کو ترجیح دی اور کچھ لاچار تھے جو کچھ نہ کر پائے۔ جو بچ گئے وہ ان شروں سے بھاگ نکلے، جن میں زیادہ تر سنی ہیں ہیں اور کل مہجورین کی تعداد بارہ لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
اب اگر پاکستان کی باری آتی ہے اور صحابہ کرام کی فوج اور طالبان مل کر انکا استقبال کرتے ہیں، ایسے میں جو مزاحمت کرے گا، وہ تو اپنا انجام موت اور دربدری کے بعد پھر موت کی صورت میں جانتا ہے۔ لیکن جو انہیں خؤش آمدید کہے گا، وہ اپنے اپنے گھر کی خواتین کی عصمت کی فکر چھوڑ دے۔“
سچ بات تو یہی ہے ہم تمام مسلکی فرق کو بالائے طاق رکھ کر اب بھی اگر نہیں جاگے تو کب جاگیں گے ۔۔ ظلم پر خاموشی خود
عذاب الٰہی کو پکار لیا کرتی ہے۔
حالات کی نزاکت اور ضرورت کو سمجھتے ہوئے تمام سنی مسلمانوں کو چاہئیے کہ اس وقت اپنی آواز بلند کریں اور اپنے موقف کو واضح کریں کہ سنی مسلمانوں کا داعش اور اس جیسی کسی اور دہشت گرد جماعتوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ، بلکہ داعش جیسے دہشت گروہوں کا مذہب خود اپنا ایجاد کردہ مذہب ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔
( مضمون کے لیئے انٹرنیٹ کے کئی مضامین سے مدد کر لی )