|
شبہائے قدر کس تاریخ کو ہوں گی کیا اس کی فضلیت ضد کی نزر نہیں کی گئی
30.06.2016, 07:15am , جعمرات (GMT+1)
خواہشات دنیا کی بنا پر اور نام نہاد علما کی اندھی پیروی میں اس رونق افروز دنیا میں عام فرد کو اس طرح الجھا دیا گیا ہے اور ان نام کے علما کے بنائے ہوئے اصولوں پر چل کر اپنے دامن کو گناہ سے آلودہ کر چکے ہیں اور اس گناہ آلود ماحول میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس دلدل سے دامن کو پاک کرئے دین کو ہم نے محمد و آل محمد کے بجائے اس جمعراتی مولوی سے حاصل کرنا شروع کر دیا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا اور کوئی ایسا رہبر بہظاہر نظر نہیں آتا جو اس بے راہ روی نکل کر اس معبود ھقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو سکین مگر ہر نا امیدی کے بعد ایک امید کی کرن ضرور ابھرتی ہے اور ہر اندھیری رات کے بعد ایک نیا سورج امید کی نئی کرن لے کر ابھرتا ہے جو زندگی کو ایک طرز نو سے شروع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے گناہوں آلود اور پست زندگی میں جانے کے بعدبھی رب العزت کی طرف پلٹنے اور اپنئ کو نیک بندوں کے قریب کرنے اور ان کی صف میں شامل ہونے کا موقع صرف اور صرف توبہ اور استغفار سے ملتا ہے اور ان نام نہاد ملاوں سے بھی چھٹکارہ مل جاتا ہے جو اندھی پیروی کی طرف انسانی خواہشات میں میں اس قدر محو ہو چکا ہے اور یہ نام نہاد مولوی ہی اس کا دین ایمان ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ ہماری غرض تخلیق صرف اسی وجہ سے ہوئی کہ صرف اس نام نہاد مولوی کی پیروی کی جائے اور خدا وند کریم کے فرامیں کو پس پشت ڈال کر صرف ان کی جی حضوری کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا مقصد اس فانی دنیا میں صرف اس کے رنگ بھنگ میں کھو جانا نہیں بلکہ اللہ اور رسول کے بنائے ہوئے قوانین میں اپنے کو پابند کر کے زندگی کو گزرانا ہے نہ کہ تمام تر دنیا کی رنگ و بو میں کھو جانا ہے ہمارا امتحان ہر قدم پر ہے جو کہ ماں کے پیٹ سے لے کر لحد کے بعد تک ہم کو اس امتحان سے گزرنا ہے اور صرف اور صرف اس کا جواب ہم کو ہی دنیا ہے نہ کہ جس کی پیروی اس دُنیا میں کر رہے ہیں وہ ہمارا جواب دے گا یہ ہمارا ایمان ہے کہ اگر دیں کی پیروی محمد و آل محمد کے بتائے ہوئے قوانین پر عمل پیرا رہیں تو دنیا کے کوئی طاقت ہم کو راہ راست سے ورغلا نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔ اور رب رحیم کی معرفت کے ساتھ اس کی عبادت میں صرف کی ہوئی زندگی اس کے برگزیدہ بندوں کے بتائے ہوئے قوانین کی پابندی کر کے ہی اس کی رحمت کاسلسلہ پا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ قران کریم نے غرض تخلیق کے بارے میں اس جانب کچھ اس طرح اشارہ کیا ہے کہ ‘‘ سورہ زاریات آیت ٥٦ کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو نہیں خلق کیا مر صرف اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں‘‘ یہ بیان اس کتاب کا ہے کہ نہ جس کو کہنے ولاے معا اللہ رد کر سکتے ہیں اور نہ ہی کتاب الہی کو اور اب اگر کوئی نام نہاد سربراہ عبادت گاہ یا ملا مافیا کا نمائندہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی رد کرتا ہے تو وہ اسلام کا دوست نہیں ہے بلکہ اسلام کا دشمن مانا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جب انسان کو اپنی اپنے وجود کی تخلیق کا علم یقین ہو گیا کہ اس کو کیوں تخلیق کیا گیا ہے تو اس کی زمہ داری اور فرائض منصبی کا تقاضہ ہے کہ اپنی رضا کو رضائے الہی میں اس طرح محو اور منحصر کرئے کہ خواہستا اپنا سر نہ بلند کر سکیں اور دنیا کے دکھاوے میں نہ الجھے سکے اپنی کمزوری کو سمجھنے کے لئے گریبوں سے حسن سلوک کے لئے بھوکوں کی جھوک کا نادازہ لگانے کے لئے بہرتیں عبادت خدا کی جانب سے روزہ عبادت کی شکل میں فرض کیا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔
ماہ صیام جس میں ایک عظیم کتاب قران کو نازل کیا گیا جو انسانیت کے لئے ایک مکمل رہنمائی ہے ہر خشک تر کو اس میں بیان کیا گیا ہے اور امتیاز حُس کو جس انداز سے سے کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اور باطل کی جگہ جگہ پر نشان دہی کی گئی ہے اس کا اشارہ قران کے شروع کے پارہ اول اور دوئم میں کچھ اس طرح سے آیات سورہ بقرہ ١٨٥ میں کیا گیا ہے ‘‘ جو شخص تم میں سے اس ماہ کو پائے تو وہ اس مین صیام رکھے اور جو پیمار یا مسافر ہو تو اتنے ہی روز کیس اور زمانہ میں اللہ تمہار ے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہیں مشکل میں گرفتار نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔ اور یہ بھی کہ تم تعداد پوری کو اس بات پر کہ اس نے تمہیں سچا راستہ دکھایا تم اللہ کے تقاضے کو پوار کرو اور شاید تما اس کے شکر گذار ہو‘‘
مندرجہ بالا فرمان خدا میں بہت صاف گوئی سے ارشارہ رب ہے کہ انسانی مخلوق اگر خدا کے بنائے ہوئے اصول پر گامزن رہے تو اس کو راہ راست کہا جائے گا اور انہی راہوں پر چلتے ہوئے اپنی عبادات کو انجام دے اور اس کا شکر گزار ہو جائے تو وہ اپنی زندہ رہنے کے ہدف میں کامیاب نظر آئے گا اور اگر اس کے بتائے ہوئے قوانین کے زرا سا بھی منحرف ہوا تو اس کا جان لینا ضروری ہے کہ اس کو سخت منازل کا سامنا کرنا پڑئے گا ۔۔۔۔۔
رمضان نصف منازل طے کرچکا ہے اور شبہائے عبادت قریب سے قریب تر ہوتی جا رہیں ہیں میری مراد سبہائے قدر سے ہے جس میں بے حساب رحمینں اور برکیتں نازل کی جاتی ہیں کتاب الہی کو کو قلب رسول پر اتاری گیا بپھر ایک بار اسی کتاب الہی میں ان شبہائے عبادت کا سلسلہ کچھ اس طرح سے بیان کیا گیا ہے ‘‘ کہ ہم نے قران کو نازل کیا کب‘‘یعنی ہم نے اس کو سب قدر میں نازل کیا ‘‘ اور شب قدر کیا ہے یہ وہ شب ہے جو یک ہزار مہینوں سے عمدہ ہے اور اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کے فرمان کے مطابق ہر حکم کا لیکر نازل ہوئے ہیں اور سلامیت ہی سلامتی ہے صبح صادق تک ( سورہء قدر)
آیات اور احادیث سے یہ بات کامل اور اکمل طور پر واضع ہے اور کتاب الہی میں ارشاد قدرت کی روشنی میں جو دلائل شب قدر کے بارے میں ملتے ہیں اس شبہادت عبادت کے لئے کافی طور پر موجود ہیں اور تمام افراد اس بات سے باخبر بھی ہیں کہ ان کی کیا فضلیت ہے خدا واند رحیم نے ان شبہائے عبادات کو کہیں لیلہ القدر اور کہیں لیلہ المبارکہ کہا ہے
اسی طرح جناب پیامبراکرم کا ارشاد کرگامی ہے کہ تمام ایام میں جمہع کو منتخب کیا اور تمام اسلامی سال کے ایام میں رمضاں کے ماہ کو تمام راتوں مین شبہائے قدر کا چنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امسال بھی گزشتہ سالوں کی طرح شیعہ مجلس علما یورپ کے نام کرتا دھرتا نے رمضان کا اعلان ایک روز قبل کیا اور بزرگ آیت اللہ سیستانی کے مقلیدین نے ایک روز بعد آغاز رمضان کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مومنین کو اس شش و بنچ میں ڈال دیا کہ رمضان المبارک کی آج چورہ تاریخ ہے یا پندرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور شب قدر کو سے شب ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔ جواب یہ عرض کیا جاتا ہے کہ تما م شب برابر ہیں اللہ نیت سے واقف ہے ۔۔۔۔۔۔ جی وہ بلکہ واقف ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عبادت کرنے والے کی نیت سے مگر فضلیت کہاں گئی جو کہ قران بار بار اس امر کی جانب اشارہ کر رہا ہے ۔۔۔۔۔ کیا قران کی بات کو معاذ اللہ بس پشت ڈال کر ان نام نہاد ملا وں کی بات کو تسلیم کر لیا جائے جا قران کو افضل جانا جائے فیصلہ آپ کو کریں کیوں کہ میرے پاس بہت سخت الفاظ ہیں لکھنے کو مگر میں فیصلہ آپ مقلیدیں پر چھوڑتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ شریعت کے ٹھیکے دار پھر مجھ پر فتوی صارد فرما دیں گے کہ یہ تقلید اور شیعہ مجلس علما یورپ کے خلاف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ میں ان تمام بزرگ حضرات کو چاند کے بارے میں جو ارشادت ہیں ان بھی خوب واقف ہوں ۔۔۔۔۔ جنہوں نے کبھی لندن دیکھا ہی نہیں وہ بھی لندن کے بارے میں چاند پر فتوی صادر کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب رسول خدا کا ارشاد گرامی مستند کتب میں ملتا ہے کہ سبح کو جب آفتاب اپنے جاہ جلال سے عرش پر نمودار ہوتا تو اس افتاب کی شعاعین نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اور اس فضیلت کی رات خوشگوار نہ سرد اور نہ گرم ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔
آئے ایک بار پھر اقول ائمہ کی جانب شبقدر کے حوالے سے بات کرتے ہیں امام جعرفر صادق کا فرمان نقل کرنے کی جسارت کررہا ہوں ایمان کو بختہ کرنے کے لئے کافی ہے ۔۔۔۔فرمان امام ہے کہ سب قدر کی علامت یہ ہے کہ اس کی ہوا خوشبو دار ہوتی ہے اگر موشم سردی کا ہے تو وہ رات زرا گرم ہو گی اور اگر موسم گرما ہو تو رات ذرا سرد ہو جائے گی ۔۔۔۔۔ شب قدر میں رحمن اور رحیم انتا کرم اور رحم عطا کرتا ہے اور گناہان کبرہ اور صیغرہ کو معاف کرتا ہے جتنا ماہ رجب و شعبان مین اور ماہ صیام میں در گزر کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
امام موسی کاظم علیہ السلام کا ارشاد گرامی کا قول مبارک ان سنہرے الفاط سے لکھا ہوا ملتا ہے کہ ‘‘ اس شب میں عالمین کا رب ، جو کریم رحمن اور قادرہ مطلق ہے مقرر فرماتا ہے وہ جو کچھ آنے والے سال میں ہونے والا ہے مثلا خیر و شر ، نقصان منفعت رزق ۔۔۔ حیات اور موت اسی لئے اس کو شبقدر کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
فرزند امام موسی کاظم علیہ السلام شہنشاہ ارض طوس امام رضا علیہ السلام اس شب کی فضیلت اپنی حدیث میں بیان فرمانے ہیں کہ ‘‘ عبادت کی شان اس سب کو دوبالا جاتی ہے ۔۔۔۔۔ بہ نسبت دوسری سبون کے بلکہ اس سب کے ساتھ ساتھ پورے مہینہ میں شان عبادت بدل جاتی ہے اور عابد کا منصب دوگنا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ یہاں تک کہ روزہ دار کا بستر استراحت پر قیام بھی عبادت میں شمار ہے ۔۔۔۔ اور اگر وہ خاموش رہے تو اس کا خاموش رہنا بھی عبادت اور تسبیح خدا کے برابر شمار کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور روزہ دار ے تمام اعمال شرف قبولیت کی منزلت پر فائز کئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
پیام بر اکرم صلی علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اگر قربتہ الی اللہ کی نیت کے ہمراہ صیام کی نیت کرو تو اس کو سات فوائد ہو گے
اس نے حضرت آدم بنی خدا کے ترک اولیٰ کا کفارہ ادا کیا
حرام چیزوں سے جو گوشت بنتا ہے وہ بگھلتا ہے
رحمت خدا سے دور نہیں رہتا
روز امان دیتا ہے قیامت کی بھوک و پیاس کا
خدا روزہ دار کو +تش جہنم سے معفی نام بخش دے گا
خدا وند کریم موت کی سختیوں کو آسان کرے گا
روزدار کو جنت کے بہتریں کھانے ملیں گے جیسا کہ قران میں کئی ایک مثالیں موجود ہیں بی بی مریم کا واقعہ پڑھ کر دیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔
اب انسان ناقص کو اس بات کا فیصلہ کرنا چاہئے کہ جس دین اسلام میں شب قدر کی اتنی فضلیت بیان کی گئی ہے ان علما نے اس کو اپنی فضلیت کے عہدے کی نذر کرنے ہوئے تمام انسانوں اور عبادت گزارون کو کسی شیطانی چرغے میں ڈال رکھا ہے ایک کہتا ہے کہ چاند ایک روز اپنی ہی اختیار پر فیصلہ کر کہ ایک عام مسلمان پر صادر کر دیتا ہے کہ آج روز ہو گیا ہے اور شب قدر کی فصلیت کی اہیمت اور قران کی بیان کردہ فضلیت کو پس بشت ڈال کر اور امر ربی کو نہ مان کر اعلان کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کل شب کے چاند سے ظاہر ہو رہا تھا کہ شیعہ مجلس علما کا فیصلہ غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرا یا عالمی اخبار کا فیصلہ نہیں ہے آپ خود اس میں فیصلہ کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور جو حقائق آپ کے سامنے ہیں وہ میں نے رکھ دیے ہیں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہیں سائنسی طور پر بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ چاند کو کب نظر آنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کہ عالمی اخبار اور دیگر سوشل میڈیا پر نظر آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس مضمون کو تیار کرنے میں مختلف رسائل اور انٹر نیٹ سے مدد لی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|