پوری کائینات اپنے ظاہر اور باطن سےمعرفت الہی کا اظہار ہے ۔ معرفت کے لغوی اور اصطلاحی معنی لفظ ’’عرف‘‘ سےمشتق ہے اور لغت میں اس کا معنی ہے ’’کسی چیز کی ذات، آثار اور خصوصیات کے بارے میں علم حاصل کرنا۔" انسانی تکمیل میں معرفت پروردگار کا بنیادی کردار ہے ،اگر انسانی ذہن کسی معبود کے تصور سے خالی ہوتو نہ اطاعت کا سوال پیدا ہوتا ہے اور نہ کسی آئین کی پابندی کا ۔ کیونکہ جب کوئی منزل سامنے نہ تو منزل کی سمت بڑھنا بے معنی لگتا ہے ، اور جب کوئی ہدف پیش نظر نہ ہو تو اس کےلۓ تگ ودو کرنے کا کیا مطلب ؟
جیسے ہی انسان کی عقل و فطرت ، اور اس کا ذوق پرستاری و جذبہ عبودیت اسے کسی معبود کے آگے جھکا دیتا ہے تو وہ من مانی نہیں کرتا اور اپنے آپ کو قانون کے دائرہ میں محدود کرلیتا ہے ،اسی قانون کا نام دین ہے۔ جس کا نقطہ آغاز خالق کی معرفت ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:
1۔ دین کی ابتدا اس کی معرفت ہے ۔
2۔ جس نے اللہ کو پہچانا اس کی معرفت کامل ہوئی ۔
3۔ اللہ تعالی کی معرفت سب سے برتر معرفت ہے۔
4۔ بے شک معرفت الہی کو باقی تمام علوم سے وہی نسبت حاصل ہے جو سر کو بدن سے ۔
اگر معرفت الہی کو علوم سے جدا کردیا جائے تو علم ایک نامکمل وجود کی طرح رہ جائے گا جو قدرت تعقل و تفکر سے عاری ہوگا اور ایسا عالم ، انسانی شکل میں ایک ایسے آدم خور کی مانند ہے جس کے منہ میں مردار ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان صنعتی ترقی کے دور میں معرفت الہی سے بے بہرہ ہونے کے سبب انسانی قدروں کو روندتے ہوئے ، اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی و بربادی کی وجہ بنا ہوا ہے۔
اللہ کا وجود اس کائنات کی ایک کھلی حقیقت ہے۔ اس دنیا کے نباتات، جمادات ، حیوان، چرند، پرند اور انسان اپنے ظاہر و باطن سے اعلان کررہے ہیں کہ وہ اپنے آپ وجود میں نہیں آئے بلکہ انہیں کسی نے پیداکیا ہے۔ چنانچہ ہرزی روح کا اپنے رب سے پہلا رشتہ مخلوق اور خالق کا ہے۔
انسان کا اپنے پروردگار سے تعارف دو بنیادوں پر ہے۔ ایک بنیاد تو داخلی ہے اور دوسری خارجی۔ داخلی طور پر ہر انسان کی فطرت میں اللہ نے اپنے وجود اور توحید کے تصور کو پنہاں کردیا ہے ۔
سورہ حشر میں یوں بیان ہے
" ترجمہ "
"وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب و حاضر (سب) کا جاننے والا، وہ سراسر رحمت ہے ، اسکی شفقت ابدی ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، وہ منزہ ہستی، سراسر سلامتی،امن دینے والا، نگہبان، غالب،بڑے زور والا،بڑائی کا مالک۔ پاک ہے اللہ ان سے جو یہ شریک بتاتے ہیں ۔وہی اللہ ہے نقشہ بنانے والا، وجود میں لانے والا،صورت دینے والا سب اچھے نام اسی کے ہیں۔ اسی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں ہیں اور جوزمین میں ہیں۔ اور زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے"۔(سورہ الحشر۵۹ ۔۲۲:۲۴)
جب ایک انسان اپنے باطن میں جھانکتا ہے تو اپنے اندر ایک خالق اور مالک ہستی کو محسوس کرتا اور اسے تسلیم کرکے اپنی پیاس بجھاتا ہے۔ دوسری جانب جب انسان خارجی ماحول میں نظر دوڑاتا ہےتو اسے کائنات کی رنگینی، ہم آہنگی،نظام ربوبیت اور نظم یہ ماننے پر مجبور کردیتا ہے کہ کوئی برتر و بالا ہستی موجود ہے جو اس کائنات کو تخلیق کرکے تدبیر کے ساتھ چلا رہی ہے۔
اللہ کے ظاہری وجود کے بارے میں جاننے کا انسان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ۔اللہ تعالیٰ کے معاملے میں مشاہدہ اور تشبیہ دونوں ناممکن ہیں۔ انسان کی آنکھ اپنی محدودیت کی بنا پر اللہ کی تجلی کا براہ راست مشاہدہ نہیں کرسکتی(سورۂ انعام ۱۰۳:۶)۔ یہاں تک کہ جب اللہ کے اپنے چنے ہوئے اور برگزیدہ پیغمبر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دیدار الٰہی کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نرمی سے سمجھادیا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے (سورۂ اعراف ۱۴۳:۷)۔ جہاں تک اللہ کو کسی شے سے تشبیہ دینے کا معاملہ ہے تو یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ اللہ کے مثل کوئی شے موجود ہی نہیں جس کی مثال دے کر اللہ کے وجود کو بیان کیا جاسکے ۔ (الشوریٰ ۱۱:۴۲) ۔
اس دنیا میں ہر شخص اللہ پاک کو کسی نہ کسی نام سے جانتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ خدا کی صفا ت کیا کیا ہیں ؟ چنانچہ انسان کی یہ لاعلمی یا کم علمی اپنے خالق سے تعلق میں کمزوری اور بالآخر دوری کا سبب بن جاتی ہے۔
معرفت الہی تین طریقوں سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔
1۔ مقام ذات کی معرفت
مقام ذات کی گہرائی یعنی حقیقت ذات اور مرتبہ غیب الغیوب کی معرفت ناممکن ہے ۔ یہ مرتبہ انبیاۓ مرسلین اور مقرّب ملائکہ کی طاقت سے بھی باہر ہے ۔ نہ حکمائے عقول یہاں پہنچ سکتے ہیں اور نہ عرفا کے قلبی شہود ۔لہذا یہ مرتبہ دائرہ کار سے باہر ہے ۔
2: صفات ذات کی معرفت
حقیقی معرفت صفات ذات پاک کا مقام بھی مقام ذات کی معرفت ہی کے زمرے میں آتا ہے اس لۓ کہ صفات ذات ،عین ذات ہی ہیں۔ یہ مرتبہ بھی احکام شریعت اور واجب الہی کے دائرہ سے بہت اوپر کا ہے اور ناممکن ہے ۔
3۔ صفات فعلی کی معرفت
اگرچہ صفت فعلی اسی ذات کا ظہور ہے لیکن چونکہ مقام ذات سے جدا ہے لہذا عقلی استدلال اور فکرو کشف کے ذریعہ ان کا ادراک ممکن ہے۔ البتہ ہر انسان اپنی طاقت اور ذہنی وسعت کے مطابق ان مراتب کو سمجھ پاتا ہے۔ انسان ، آیات الہی پر جتنا تدبر کرے گا ، معرفت یعنی اللہ پاک کی زات مبارک سے آگہی کی منازل طے کرتا جائے گا۔ اس مقام معرفت میں بھی ،معرفت الہی وہی تک واجب ہے جہاں تک انسانی ذہن کی رسائی ممکن ہے۔ معرفت کی یہ قسم فقط اسماء حسنٰی اور صفات علیا (صفات فعلی) سے
مخصوص ہے ۔ انسان اسی آگہی میں کمال کا سفر طے کرسکتا ہے۔
معزز قارئین یہاں تک یہ بات طے ہوئی کہ معرفت الہی کا ذریعہ خدا پاک کا ظاہری وجود نہیں بلکہ اس کی صفات ہیں۔
یاد رکھنے کہ اب جو بات ہے وہ یہ ہے کہ معرفت کی بلندیاں طے کرنے والے انبیاء ، آئمہ اور اولیاء جب معرفت الہی کی تعریف اور تفصیل بتاتے ہیں تو "انکساری اور عاجزی "کو ہی " اوج معرفت " بیان کرتے ہیں ۔
جیسا کہ پیغمبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔
" خدایا تیری معرفت کا حق ،معرفت سے عاجزی کا اعتراف ہے "
محترم قارئین ! معرفت الہی کا وہی ذریعہ معتبر ہوگا جس کی تو ثیق خود اللہ پاک نے کی ہو۔ چنانچہ اللہ پاک نے معرفت الہی کا علمی مواد قرآن پاک میں رکھ دیا اور اسکی عملی تصویر نبی پاک نور مجسم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت میں رکھ دی ۔ اب جو جو ازن خداوندی سے معرفت الہی طے کرتے جائیں گے وہ مقربین میں شامل ہوتے جائیں گے ۔
جاری ہے
( مضمون کی تیاری کے لئے نیٹ کے کئی مضامین اور کتب سے مدد لی گئی )