گروپ نمبر 2۔ قدرت الٰہی
یہ گروپ اللہ کی قدرت سے متعلق صفات کا احاطہ کرتا ہے۔ قدرت کا مادہ القدر ہے جس کے لغوی معنی کسی چیز کی انتہا ، طاقت و قوت، عزت او روقار ہے جبکہ القدرۃ کا مفہوم فعل یا ترک فعل کی طاقت ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ ہر کام کے کرنے پر قادر ہے۔ نیز وہ ہر شے ، فعل یا ارادے کو ایک متعین پیمانے کے مطابق پورا کرنے پر قادر ہے۔لیکن اس کا ہر کام اسکی حکمت کے مطابق ہوتا ہے چنانچہ اس قسم کے لایعنی سوالات کی اس ضمن میں کوئی گنجائش نہیں کہ اللہ کیا اپنے ہی جیسا کوئی پیدا کرناپر قادر ہے یا نہیں۔
قدرت الہی کے ذیلی گروپ دو ہیں ایک عظمت اور دوسرا طاقت و غلبہ کی صفات :
1۔ عظمت کی صفات
قدرت الٰہی کا ایک اہم پہلو عظمت شان اور شوکت ہے۔ یعنی جب وہ ہستی کچھ بھی کرنے پر قادر ہے تو لازماََ وہ انتہائی عظیم ، بلند اور شان و شوکت والی ذات ہے۔اس عظمت اور بلندی میں اس کی قدرت کی شانیں پوری طرح نمایاں ہیں۔
1۔الملك۔
اس کے معنی بادشاہ، فرمانروا اور سلطا ن کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بادشاہ ہیں بادشاہ سے مراد ایک صاحب تخت و تاج، خود مختار حکمران ہے جو کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔چونکہ اللہ فرمانروا ہیں لہٰذا وہ اپنا فرما ن یعنی حکم نامہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے اور اپنی مخلوق سے ان احکامات کو ماننے کا تقاضا کرتے ہیں۔ وہ سلطان ہیں یعنی مقتدر اور بااختیار حاکم چنانچہ وہ اپنی مخلوق پر ہر قسم کا تصرف رکھتے ہیں ، انہیں کسی مخالف کا خوف نہیں، انہیں کسی رعایا کی بغاوت کا اندیشہ نہیں وہ اپنی سلطنت کے ایک ایک پتے اور ہر ذرے پر مکمل اقتدار رکھتے ہیں۔
2۔۔العظيم۔
اس کا مفہوم بڑا، بزرگ، صاحب عظمت، شاندار، جاہ و جلال والی ہستی کے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ لامتناہی شان و شوکت کے مالک ہیں۔
3۔۔المتکبر
۔تکبر کرنے والی اور کمالِ بزرگی والی ذات اس کا مفہوم ہے۔ تکبر کرنے کا مطلب خود کو بڑا سمجھنا، اپنی صفت میں خود کو دوسروں سے برتر محسوس کرنا بھی شامل ہیں۔ تکبر اللہ کے سوا ہر دوسرے کے لئے ایک منفی اور جھوٹا دعویٰ ہے۔ اللہ اپنی ذات اور صفا ت میں ہر لحاظ سے مطلق طور پر برتر ہیں اور ان کا یہ تکبر ذاتی ہے ناکہ کسی کا عطا کردہ۔چنانچہ یہ تکبر اللہ کوزیبا بھی ہے اور ان کا حق بھی۔ کوئی دوسر ااگر تکبر کرتا ہے تو وہ خدا کی ہمسری کا دعویٰ کرتا ہے۔
4۔العلی۔
بہت بلند و برتر کہ جس سے اوپر کسی کا مرتبہ نہیں ہو۔
5۔الوكيل۔
اس کا مطلب مددگار، معتمد، کارساز ، کام بنانے والے اور وکالت کرنے والے کے ہیں۔ ایک وکیل کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ معاملے کا علم و ادراک رکھتا ہو، اس مسئلے کو حل کرنے میں ماہر ہو، اپنے مؤکل سے ہمدردی رکھتا ہو،مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہو، مسئلہ حل کرنے کی طاقت اور قدرت رکھتا ہو وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ان تما م امور میں کامل ترین صفات رکھتے ہیں ۔ چنانچہ ان سے بہتر کام بنانے والا اور اعتماد کے قابل کوئی نہیں ہوسکتا ۔ شرط یہ ہے کہ اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کام کیا جائے۔
6۔۔الكبير۔
بہت بڑا اور بلند ۔
7۔۔المجيد
بڑا بزرگ۔ وہ اپنی ذات ، صفات اور افعال میں بزرگ ہے۔
8 ۔الغنی۔
اس کے معنی بے نیاز، بے پروا، ہر احتیاج سے ماورا ہستی کے ہیں۔چونکہ زیادہ تر ضروریات کا تعلق دولت سے ہوتا ہے اس لئے دولت مند آدمی کو بھی غنی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام ضرورتوں اور احتیاجات سے بے نیاز ہیں جو انسان کے تصور میں آسکتی ہیں۔ یعنی اللہ کو نہ تو مال کی ضرورت ہے نہ لوگوں کی عبادت کی، نہ اولاد کی نہ بیوی کی نہ کسی مددگار کی۔ وہ بے نیاز ہیں کہ کسی کی اچھائی سے کوئی فائدہ ہو یا کسی کی برائی انہیں نقصان پہنچائے۔
9۔القدوس
۔اس کا مطلب ہر نقص، عیب، برائی سے پاک اور منزہ ہستی کے ہیں۔یعنی اللہ کسی بھی غلط تصور یا عیب داری سے پاک ہے۔ چنانچہ شریک ہونا عیب ہے۔ اسی طرح اللہ ہر قسم کے ظلم، ناانصافی، بدیانتی ، بے حکمتی ، جذبات کی مغلوبیت اور ہر غلط صفت یا فعل سے پاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہر حال میں ہر عیب سے پاک ماننا بالخصوص ناموافق حالات میں اسے قدوس سمجھنا ہی اس صفت کا تقاضا ہے۔
10۔القيوم
قیوم، قیام سے نکلا ہے، قیام کے معنی کھڑا ہونا، قائم کھڑا ہونے والے کو کہتے ہیں۔لیکن قیوم مبالغہ کا صیغہ ہے اس کا مطلب قائم بالذات، بہت قائم ہونے والا، ہمیشہ رہنے والا، بہت اصلاح امور کرنے والا کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قائم ہیں یعنی وہ دیگر مخلوقات کے برخلاف خود سے قائم ہیں اور انہیں کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں جبکہ باقی ساری مخلوق قائم ہونے کے لئے اللہ کے سہارے کی مرہون منت ہے۔قائم ہونے کا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ مسلسل اپنی مخلوق کی نگرانی، حفاظت، پرورش اور انتظام کررہے ہیں اور اس تسلسل کے باوجود وہ تھکتے نہیں ہیں اور نہ ہی کسی اونگھ اور غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔نیز ان کا یہ قیام کوئی عارضی نہیں جیسے درخت اپنی جوانی میں تو قائم و دائم رہتا ہے لیکن ایک مدت کے بعد زمیں بوس ہوجاتا ہے۔ اللہ قیام کے عارضی ہونے سے پاک ہیں۔
11۔المميت ۔
موت دینے والا۔
12۔ الحئی۔
اس کا مطلب زندہ ہستی ہے۔ ایک زندہ ہستی کی خصوصیات میں بولنا، دیکھنا، سننا، سمجھنا، فیصلہ کرنا، محسوس کرنا ، جواب دینا، تخلیق کرنا، اپنی ملکیت کی چیزوں پر تصرف کرنا سب شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان معنوں میں بھی زندہ ہیں اور انکی ہر صفت لامتناہی ہے۔ دوسری جانب انکی زندگی کسی کی عطا کردہ اورعارضی نہیں بلکہ وہ ازل سے ہیں اور ابد تک زندہ رہیں گے۔ تیسرے یہ کہ وہ زندہ ہیں اس شان سے کہ تمام مخلوقات کی حیات انکی زندگی کے سبب ہے۔چوتھا یہ کہ مخلوقات کی ناقص زندگی کے برخلاف انکی حیات کسی نیند، غفلت، اونگھ، جذبات سے مغلوبیت ، بے ہوشی وغیرہ سے پاک ہے۔
13۔۔ذوالجلال
۔اس کا مفہوم رعب داب، وجاہت، صفت قہاری، عظمت، بزرگی، بڑائی، شان اورشوکت والی ہستی کے ہیں۔جلال میں ایک طرح کے رعب دبدبے کے ساتھ شان و شوکت اور بڑائی کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی جتنی طاقت، عظمت اور ستودہ صفات کی حامل ہے اس کے سامنے شعور کے ساتھ کھڑے ہونے پر لامحالہ ایک دبدے اور رعب کا احساس ہوتا اور اپنی کم مائگی کی بنا پر خشیت، تذلل اور پستی کا ادراک ہوتا ہے۔
14۔المتعال
۔ بہت بلند ہستی
15۔ الاول
۔ اللہ تعالیٰ اول ہیں یعنی ان سے پہلے زمانی لحاظ سے کسی کا وجود نہ تھا نیز ہر شے کی ابتدا سے پہلے آپ موجود تھے چنانچہ ہر شے کے خالق اور مالک آپ ہی ہیں۔
16۔الآخر۔
زمانی اعتبار سے اللہ تعالیٰ آخر ہیں یعنی جب سب کچھ فنا ہوجائے گا تو اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی۔
17۔الظاہر۔
اس کے لفظی معنیٰ صاف، واضح، کھلا ہوا اور عیاں ہستی کے ہیں۔ اللہ کی ذات کسی بھی نمایاں شے کے مقابلے ،میں واضح ہے۔کسی شخصیت کے نمایاں یا ظاہر ہونے کے لئے اس کی کسی تخلیق یا کارنامے کو بنیا د بنا کر اس کے ظہور کو نمایا ں کیا جاتا ہے۔یہ زندگی کی چہل پہل، چرند پرند، نباتات وجمادات، نت نئے جانور، مختلف شکلوں کے انسان، سب کچھ اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں چنانچہ اللہ اپنی تخلیق کے ذریعے سب سے نمایاں ، اعلیٰ اور ارفع ہیں۔
18۔ الباطن
۔ اس سے مراد وہ ذات ہے جو مخفی، پوشیدہ، پنہاں، چھپی ہو اور جو نظر نہ آ سکے ۔ کسی ذات کے باطنی یعنی مخفی یا پوشیدہ ہونے کا ایک پہلو تو یہ ہوتا ہے کہ وہ مادی طور پر لوگوں کی نگا ہوں سے اوجھل ہو۔ جبکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسکی صفات،کارنامے، باتیں، منصوبے اور حکمتیں مکمل طور پر حیطۂ ادراک میں نہ سما پائیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ان دونوں معنوں میں باطن ہے کہ نہ اسے کوئی دیکھ سکتا ہے اور نہ کوئی اس کی صفات کا مکمل احاطہ کرسکتا ہے۔
2۔ طاقت و غلبے کی صفات
1۔العزيز
۔اسکا مفہوم ، عزت والی، زبردست، صاحب قوت و اختیار، غالب اور قادر ہستی کا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ غالب اور قوی ہیں یعنی ان پر کوئی حاوی نہیں آسکتا، ان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ حاوی دو صورتوں میں ہوا جاتا ہے ایک عزت، شرف یا اسٹیٹس کی بنیاد پر اور دوسرا طاقت کی بنیاد پر ۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے سے بڑا صا حب حیثیت اور عزت دار شخص کمتر ہے چنانچہ اس حیثیت میں تو غلبہ ممکن نہیں۔رہی بات طاقت کی تو اللہ اپنی طاقت اور اقتدار میں زبردست ہیں اور وہ قادر مطلق ہیں لہٰذا وہ کبھی زیر دست نہیں ہوسکتے۔کوئی لشکر، کوئی جنتر منتر، کوئی بدروح، اور کسی بادشاہ کی طاقت ان پر اپنا غلبہ نہیں کرسکتی بلکہ تمام طاقتیں ان کے ماتحت ہیں۔
2۔ الجبار
۔قوت و شوکت کا مالک، زورآور، قوی، قاہر وغیرہ اس کے مفہوم میں آتے ہیں۔ عربوں نے جبار یا جبارہ اس کھجور کے درخت کو کہا ہے جس پر چڑھنے کی ضرورت واقع ہو یا بغیر کسی سیڑھی کے اس کے خوشوں تک ہاتھ نہ پہنچ سکے۔" [ 1907ء، فلاحۃ النخل،۵۶]۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ تصور سے زیادہ طاقتور، گمان سے زیادہ قوی اور شان و شوکت کے مالک ہیں اور کسی سرکش، بڑے سے بڑے طاقتور اور باجبروت بادشاہ کا ناپاک ہاتھ اللہ کی عظمت اور طاقت کی بلندی کو چھو بھی نہیں سکتا۔ اسی جبار ہونے کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ سرکش اور فساد پھیلانے والوں کو تنبیہ کرتے اور نہ ماننے کی صورت میں اپنی لامتناہی طاقت کے ذریعے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں فنا کرتے ہیں۔
3۔القهار
۔ غلبہ رکھنے والا، قابو اور کامل کنٹرول کرنے والا
4۔القاہر ۔
غلبہ والا۔
5۔القوی۔
بہت زور آور۔
6۔المتين۔
شدید قوت والا جس میں ضعف اضمحلال اور کمزوری کا امکان نہیں اور اسکی قوت میں کوئی اس کا مقابل اور شریک نہیں۔
7۔القادر۔
قدرت والا۔ اسے اپنے کام میں کسی آلہ کی بھی ضرورت نہیں اور وہ عجز اور لاچارگی سے پاک اور منزہ ہے۔
8۔المقتدر
۔عظیم قدرت والا
9۔القدیر
۔اس کا مفہوم قدرت یا طاقت کا مالک؛ توانا کے ہیں۔ ایک شخص کی قدرت اسکے اختیارات، طاقت، برتری اور اسٹیٹس کا اظہار ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ بادشاہ مطلق ہیں اس لئے وہ ہر کا م کرنے پر قادر ہیں۔ وہ طاقت کے لحاظ سے کسی بھی مشکل اور ناممکن کام کو کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ وہ حکمت کے لحاظ مشکل ترین گتھی کو سلجھناے پر قادر ہیں۔ وہ خزانوں کے مالک ہونے کے لحاظ سے امیر کو غریب اور غریب کو امیر بنانے پر قادر ہیں وہ بانجھ کو اولا د دینے، بن باپ تولید کا سلسلہ چلانے اور اسباب و علل سے ماورا ہر وہ کام کرنے پر قادر ہیں جو بظاہر مشکل لگتا ہے۔ لیکن وہ اپنے کاموں کی قدرت کا اظہار اپنی حکمت کے ساتھ کرتے ہیں۔
10۔المالک
۔اس کے لفظی معنی میں کسی چیز کی ملکیت رکھنے والا ،والی ، آقا، صاحب ، حاکم ، بااختیار، قابض، متصرف کے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام حیثیتوں میں مالک ہیں یعنی وہ زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی ملکیت رکھتے ہیں۔چونکہ وہ مالک ہیں تو ان سب پر حاکم بھی ہیں مزید یہ سب کچھ ان کے قبضے میں ہے اور کسی کو مطلقا انہوں نے کچھ نہیں دیا۔وہ ان چیزوں پر تصرف بھی رکھتے ہیں۔
11۔الجامع
۔ جمع کرنے والا یعنی اللہ ایک روز تمام لوگوں کو زندہ کرکے ایک جگہ پر جمع کرنے والے ہیں تاکہ ان کا حساب کتاب لیا جاسکے۔
12۔الوارث۔
یعنی باقی رہ جانے والی ذات۔مطلب یہ ہے کہ جب سب فنا ہوجائے گا تو تنہا وارث اللہ ہی کی ذات ہوگی۔
13۔الحکم ۔
فیصلہ کرے والا
14۔الحاکم
۔ حکم نافذ کرنے والا
15۔الحق۔
سچا ۔ انصاف کرنے والا
16۔۔قائم بالقسط
۔قسط یعنی انصاف کے ساتھ قائم ہونے والا
جاری ہے
( مضمون کی تیاری کے لئے نیٹ کے کئی مضامین اور کتب سے مدد لی گئی )