نُطق کو جؤتِ اِظہارِ صداقت دیجے
اپنی آواز کو اِلہام کی طاقت دیجے
ذہن اور قلب کو اِیماں کی حرارت دیجے
شب میں آنکھوں کے لئے اشکِ ندامت دیجے
آج تک سارے زمانے سے چھپا رکھا ہے
اب تو گُمراہ زمانے کو ہدایت دیجے
فکر بے سمت ہے منزل سے ہے محروم نظر
بے عمل قوم کو پیغام رسالت دیجے
کوئی شاعر کا یا کاہن کا نہیں قولِ فضول
یہ ہے قرآنِ مبیں ذوقِ تلاوت دیجے
کس لئے آج بھی ریشم کے غلافوں میں رہے
یہ امانت ہے زمانے کی امانت دیجے
چِھن گیا آپ سے دُنیا کی امامت کا مقام
اپنی نسلوں کو کم از کم یہ سعادت دیجے
کیا نئی نسل اندھیروں میں بھٹک جائے گی
تیرگی اب تو چھٹے نورِ بصارت دیجے
سارے محکوم ہوں حاکم ہو فقط ذات اُس کی
اِس کی بنیاد پہ پاکیزہ قیادت دیجے
تم سے ممکن نہیں قرآن کی توصیف عزیزؔ
اپنے احباب سے کہدو کہ اجازت دیجے