مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے چھٹ پن میں ہماری والدہ مرحومہ ہرنماز کے بعدذکرکیا کرتی تھیں۔پہروں جائے نماز پر بیٹھ کراسمائے اللہ اوردرود ابراہیمی کا ورد کرتیں۔ چلتے پھرتے بھی ان کی زبان پراذکارکاسلسلہ جاری رہتا۔اسی طرح مساجد میں فرض نماز کی ادائیگی کے بعدلوگ خاموش اور بہ آواز بلندبھی کلمہ طیبہ کاذکرکیا کرتے تھے۔
انگلیوں کی پوروں پرگن کرنامِ اللہ کے ساتھ نامِ رسول کا تذکرہ اہتمام کے ساتھ کیا جاتا۔محلّے کے کچھ بزرگوں کے ہاتھ میں باقاعدہ تسبیح ہوا کرتی تھی اور ہر دانہ گرنے کے ساتھ’’ اللہ ہو‘‘ کی سرگوشی سنائی دے جاتی۔اُس زمانے میں مجھے بھی انگلیوں کی پوروں پراسمائے حسنہ کا وردسکھایا گیا۔ نماز پنج گانہ کے بعد اورفارغ اوقات کاواحد مصرف یہی ہوا کرتا تھا۔
ہمارے والد گرامی ( اللہ ان کی عمر دراز فرمائے) تو عشا ء کی نماز کے بعد اہتمام کے ساتھ وظائف پڑھایا کرتے تھے ۔رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم، امہات المومنین اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات بھی باقاعدگی سے سنایا کرتے تھے۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیدائش اور حضرت حلیمہ کے ہاں پرورش،خاندان کی طرف سے خوشی کا اظہار،والدہ کی جدائی، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دادا اورچچاکی محبت کی باتیں،حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غارِ حرا کے واقعات،پہلی وحی کاحال،اُم المومنین حضرت خدیجہ سے نکاح اوراس سے پہلے کاروباری معاملات،فاطمۃ الزہرا سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شفقت، حضرت علی المرتضیٰ سے خصوصی لگاؤ،
حضرت ابوبکرصدیق کے ساتھ تعلقِ خاص،حضرت عمرفاروق کی بہادری اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اللہ تعالیٰ سے اُن کو مانگنا، حضرت عثمان غنی کی سخاوت،حضرت بلال حبشی کی صدائے’’ احد،احد‘‘کی گونج کی منظرکشی،حضرت علی کی طرف سے بچپن میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز پر لبیک کہنا،حضرت عمرفاروق کے قبول اسلام سے پہلے اورفوری بعدکامنظرنامہ،ابوجہل اور اس کے حواریوں کی طرف سے ستم کی داستانیں، شعب ابی طالب کا دل دہلادینے والامعاملہ،طائف والوں کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پرپتھروں سے حملہ اورہجرت کے روح کو ہلادینے والے مصائب سمیت حضرت حسن اور حضرت حسین سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قلبی لگاؤ کی یادداشتیں۔
بوڑھی خاتون کاآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پرگندگی پھینکنااورآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے اُس کی بیماری پرسی کرنا،ایک اوربوڑھی کاآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مخالفوں کی طرف سے پھیلائے گئے خوف سے بستی چھوڑنا اورآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی نے اُس کا بوجھ اُٹھانا،مدینے کی گلیوں میں ننھی لڑکیوں کی طرف سے خوشی کا اظہار کرنا،انصار اور مہاجرین کے مابین مواخات قائم کرنا،یہودیوں اورمنافقین سے نبردآزما ہونا اور پھر مکے میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہونا۔
یہ سب کچھ چھٹ پن میں ہی ہم بھائیوں کو والدِ گرمی نے بتا دیا تھا۔کافروں کے مظالم اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جواں مردی کے واقعات بھی اُسی زمانے میں ہماری سماعتوں میں محفوظ ہوگئے تھے۔اسکول میں ایسے اساتذہ میسرآئے جو ٹاٹ پر ہمارے ساتھ بیٹھ کرقرآن کریم پڑھاتے اور پھراسلامیات اس دلچسپی سے پڑھاتے کہ سارامنظرنامہ آنکھوں میں گھوم جاتا۔ اسلام اور قبل ازاسلام کی کچھ باتیں اسی زمانے میںدماغ میںمحفوظ ہوئیں۔یوںحضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بہت سی باتوں سے بھی آگاہی نصیب ہوگئی۔اساتذہ خوبی اور خوش بیانی سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوصاف حمیدہ بیان فرماتے کہ منظربندھ جاتا۔
بہ قول حفیظ تائب
خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر،خیر البشر
خوش نژاد و خوش نہاد و خوش نظر، خیر البشر
خودجب پڑھنے سمجھنے کی توفیق ملی توسیرت نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پرکچھ کتابیں پڑھیں، شعرا کی لکھی گئی نعتیں بھی،خود بھی نعت کہی اورزمانہ طالب عملی سے کچھ ہی عرصہ بعد مجموعہ نعت کتابی صورت میں شائع بھی کروایا۔محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تومسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ایمان کی بنیاد یہی ایک نکتہ ہے۔ اس سے سرمو انحراف کرنے والاسوائے اپنی جاہلیت کے اور کچھ نہیں کرتا۔ لیکن یہاں خیال یہ رہے کہ محض زبان سے کہہ دینے سے بات نہیں بنتی۔
بہ قول شاعر ع
لازم ہے اتباع بھی مدح و ثنا کے ساتھ
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مکی زندگی،مدنی عہد اورپھرمکی دوریادداشت میں آئے تو انسان کو سمجھ آتی ہے کہ کس جہدِ مسلسل اوراخلاق حسنہ کے بعدوہ منزل نصیب ہوئی جس کے لیے 23برس کاطویل راستہ کاٹا۔کس طرح جہالت کی پرپیچ راہوںمیں علم کی روشنی سے سویرا کیا،کیسے بے کسوں اور بے بسوں کوقوتِ گویائی دی۔تاریخ عالم حیران ہے کہ عربوں جیسے نسل پرست اور سخت گیر معاشرے میںآدمیت کے لیے انقلاب کیسے آیا۔انسان کو انسان نہ سمجھنے والے لوگ ایک دوسرے کی محبت کا دَم کس طرح بھرنے لگے۔وہ فضا جس کی طرف شاعر نے یوں اشارہ کیا ۔
ع غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
کس طرح قائم ہوئی۔
آج چودہ سوسال سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے۔وہ تعلیمات جوآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انسانوں کے لیے چھوڑیں، آج بھی پوری طرح واضح ہیں اور قیامت تک یوں ہی موجود رہیں گی اورانسانوں کی نجات کا واحد ذریعہ بھی۔صلح حدیبیہ ہو یامیثاقِ مدینہ،فتح مکہ ہو یا ہجرت مدینہ، خطبہ طائف ہو یا خطبہ حجتہ الوداع ہر ہرمقام پرآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاظاہرہونے والا عمل انسانوں کے لیے نشانِ راہ ہے۔کوئی ابہام نہیں،کوئی گنجلک نہیں۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کی زندگیاں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی پشت پرلدا ہواغلہ بھی ہمیں یاد ہے اورحضرت عثمان غنی کا قحط کے دنوں میںمفت تقسیم کرنا بھی،ان اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دوستوں اور دشمنوں سے سلوک بھی۔
آج حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام لیوا دُنیا میں ایک عشاریہ پانچ بلین سے زائد ہیں۔زبوںحال،بے بال و پر،مضطرب و مضمحل،باہم برسرپیکار۔ اس لیے کہ ان میں سے اکثریت محض نام لیو اہے۔نہیں جانتی کہ کس موقع پرآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کاطرزعمل کیا تھا،کس موقع پرآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا پسند فرماتے تھے۔ جب تک اس حوالے مکمل معلومات اور پھر ان پر کاملیت کے ساتھ ایمان نہیں لایاجاتا، جب تک آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہر ہر ادا کو اپنی زندگی کاجزو نہیں بنایاجاتا۔
اضطراب،دنیا کی طرف سے حقارت، نفاق،بدامنی اوربے جہتی کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ہم زبان سے لاکھ دعوے کرتے رہیں،کچھ نہیں ہوگا۔آج اگرکچھ کرنا ہے تویہ کرنا ہے کہ انصار کا جذبہ ہم میں آجائے ، آج حضرت بلال حبشی جیسے جذبہ ایمانی کی ضرورت ہے،آج حضرت ابوبکرصدیق جیسے ایثاراورحضرت عمر فاروق جیسے اندازحکم رانی کی ضرورت ہے۔
آج خطبہ حجتہ الوداع کو پوری طرح اپنی زندگیوں میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔آج اخلاص کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، ہمارے معاشرے اس دولت سے محروم ہوچکے ہیں۔اپنے حق کے ساتھ فرائض بھی یاد رکھنا ہوں گے اور دوسروں کو اپنی جان سے زیادہ اہمیت دینا ہوگی۔جائیدادوں کی خواہش چھوڑ کرآپ کا وقتِ وصال یاد کرنا ہوگا۔اگرہم ایسی کوئی جدوجہد نہیں کرسکتے توتعداد اس سے دوگنا ہوجائے پھر بھی کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ عمل داری ستاون ملکوں سے بڑھ کر ایک سو ستاون پرہوجائے تو بھی حالات یہی رہیں گے۔.