ہم جو آزاد ہیں۔۔۔
آزاد نسلوں کی تعریف کے ہر پیمانے پہ پورے اترتے ہوءے لوگ
آزاد ہیں
ہم تو آزاد ہیں
ایک خطہ بھی ہے
ایک پرچم بھی ہے
اور اک زباں
ایک آئین بھی
ٹکڑوں میں بکھرے ہوئے ایک خطے کو مربوط رکھنے کی کوشش میں
ہم مارتے اور مر جاتے ہیں
خود کو برا کہتے
تاریخ کو گالیوں کی زباں میں سکھاتے ہوئے
ہجرتوں کے لہو سے آلودہ۔۔
جو چھینٹے پڑے ہم نے دھوئے نہ تھے
ہم جو آزاد ہیں
قوم کی جو مروجہ وضاحت ہے۔۔۔ ہر شق پہ پورے اترتے ہیں ہم
ہم بھی آزاد ہیں
سڑسٹھ بہاریں گزاری ہیں ہم نے
کبھی مڑ کے دیکھِیں
تعاقب میں بھاگی چلی آتی ہیں خون کی وہ لکیریں خطے کی ہر شاہراہ پر جو ندیاں بچھاتی گئیں
ہم جو آزاد ہیں
ہم میں ہی بعض اونچے مقامات پر بیٹھ کر
اپنی رنگین دنیا کے پر عیش کمروں سے باہر کبھی جھانک لیں
زندگی خاک اور خوں میں غلطاں
گھٹنوں کے بل رینگتی
حشرات ہی کی طرح
لا تعداد لاشوں کی صورت۔۔۔ گولیاں کھاتی
گرتی ہے اک دوسرے پر
وہ جو آزاد ہیں
کمروں کو بند کر کے روک دیتے ہیں مردہ تعفن کو باہر
تقدس بھرے چند لمحوں کی
روحانی
تجارت میں احرام پہنے ۔۔۔ معطر زمیں کو رواں ہوتی آزاد رو حیں
قوم کی ایک تعریف
پرچے پہ ہم لکھ کے ہاتھوں میں لہراتے جانے کہاں جا رہے ہیں
ایک خطہ ہے ۔۔
خطے میں بے سر دھڑوں کی کئی فصلیں پیدا ہوئی جا رہیں
ایک پرچم ہے ۔۔۔ جو سرنگوں مضمحل
بجھتا ہی رہتا ہے وہ چاند تارہ
اک زباں۔۔۔۔۔۔ جس کی دھجی کہیں اونچے کیکر پہ باندھی ہے ہم نے
ایک آئین۔۔۔۔۔۔ چوڑی کی مانند ۔۔۔ جسے توڑتے ہی چلے جا رہے ہیں
جنگ میں جھونک ڈالی ہے جوانی کی شاداب فصلیں
ماتم کیے جا رہے ہیں
بازو کٹا ۔۔۔ پٹیان باندھ کر قوم نے پھر بیساکھی نئی مانگ لی
معبدوں میں کھڑے لاشے گرتے رہے
ساتھ جو نہ چلے۔۔۔ ہم صدا جو نہ ہو
وہ تو کٹ کٹ کے ریزوں میں گرتا رہے
میرے معبود سن۔۔۔۔
لوحِ محفوظ میں بھی تو بھی تحریر کر
ہم بھی آزاد ہیں
ہم بھی آزاد ہیں