15.10.2026, 05:28pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

اگر عوامی مینڈیٹ ہے تو پھر ڈر کیسا؟؟از۔۔۔۔ عالم آرا
19.08.2014, 04:10am , منگل (GMT+1)

عالم آرا ۔ وینکوور
آج کل ملک ھنڈولا بنا ہوا ھے ۔اور جھوٹے دینے والے پوری طاقت سے اسکو چکر پھیریاں دے رہے ہیں ۔جس میں ہمارے حکمران بری طرح چکرا گئے ہیں ۔ہماری سمجھ میں تو یہ ہی نہیں اآرہا کہ جب اتنا زبردست عوامی مینڈیٹ اآپ کو حاصل ہے بلکہ اآپ کے ہر وزیر مشیر اور کارکن تک کو حاصل ہے پھر ڈر کیسا ؟اور کس کا ؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ احمقوں کی جنت میں رہنے والے بہت کم اس سے باہر اآتے اور حالات کا ادراک کرتے ہیں ۔کیونکہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اُسکی نفی اندھوں کو بھی نظر اآرہی ہے جس قسم کا انتشار حکومت نے پھیلا رکھا ہے وہ بھی ایک لمحئہ فکریہ ہے ۔جب اآپ کو ڈر نہیں ہے کہ حکومت کو کوئی ہلا پائیگا پھر یہ کنیٹر کس کے لئے ؟پھر یہ راستے بند کیوں ؟پھر سارا شہر کیوں مفلوج کر کے لوگوں کو مشکل میں ڈالا ۔اآپ کے یہ ٹوٹ بٹوٹ جو روز کوئی نہ کوئی بے وقوفی کا بیان داغ دیتے ہیں یہ کس لئے ؟ اگر ایک شخص نادانی کرتا ہے تو سب کو اس کی ہاں میں ہاں نہ ملانا چاہئے جیسا کہ کچھ وزیر کر رہے ہیں ۔جھوٹ اس قدر ہے کہ ہم حیران ہیں کہ کس طرح سچی بات سامنے اآسکتی ہے ۔

کیا جمہوریت یہ ہی ہے جو اآج کل ہم دیکھ رہے ہیں ۔؟ اگر کوئی احتجاج کرنا چاہتا ہے تو اس کا یہ جمہوری حق ہے اُسے کوئی جمہوری حکومت کس طرح روک سکتی ہے ۔الزامات کے جواب دینے کے بجائے پلٹ کر الزام داغ دیا جاتا ہے گویا کوئی مقابلہ ہے بیت بازی کا کہ لو اس شعر کے جواب میں یہ شعر حاضر ہے ۔ ہمیں دُکھ ہے کہ ہم ایسی قوم بننے کے بجائے جو اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چل کر ایک باوقار اور طاقتور قوم بنتی ہم چوں چوں کا مربہ بنا دئے گئے ہیں ۔ہماری طاقت کو چھین کر ہمیں کمزور باتوں میں اُلجھا کر ہماری رہی سہی اہلیت کو بھی ختم کیا جارہا ہے ۔ہماری سوچ ہے کہ حکومت کو ہر محاز پر مدبرانہ اقدام اُٹھانے چاہئیں مگر ہمارے تو وزیرَ اعظم اتنے معصوم ہیں کہ ملک میں اتنی افرا تفری ہے وہ پوچھ رہے ہیں کہ ہوا کیا ہے ؟ اس درد کی دوا کیا ہے؟ ہمارا تو بے اختیار داد دینے کو دل چاہتا ہے جس قوم کا وزیرَ اعظم اتنا بے خبر ہو اس قوم کو تو واقعئی چادر اوڑھ سو جانا چاہئے کہ ہورہے گا جو ہونا ہے ۔مگر کچھ سر پھرے جوان جو ہمیشہ ہی قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں اب نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔اُنہیں جس طرح دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جھوٹ بول کر انکی کردار کشی کرکے یہ کسی بھی قوم کا المیہ ہوسکتا ہے ۔کیونکہ ہم پھر یہ ہی کہینگے کہ حکومت کو مدبر ہونا چاہئے اُسے مسئل کے حل تلاش کرنے چاہئیں نہ کہ مسئل خود کھڑے کرنے چاہئیں ؟ اآج ہمارا کالم سوالوں سے بھرا ہوا ہے کیا کریں کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں اآرہی کہ طوفان کدہر جائیگا ۔یہ قوم کا مسئلہ ہے یہ قوم کی بات ہے ۔ہم اس بات کے حق میں ہیں کہ انتخاب صاف ہونا چاہئے ایسا ہونا چاہئے جس پر بہت کم انگلیاں اُٹھیں ۔ملک میں کوئی بھی خوش نہیں لیکن اآنےوالےکہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ساری قوم ہے ۔حکومت تو ایسی ہونی چاہئے کہ حزبَ اختلاف کو بھی بہت کم اختلاف کا موقعہ ملے ۔

جانے والی حکومت کے لوگ اندر ہی اندر حکومت کو بھی لبھا رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور احتجاج کرنے والوں کی بھی کمر تھپک رہے ہیں ۔مولانا حکومت میں شامل ہو کر بس اُسی کا راگ الاپتے ہیں کہ بس وزارت انکے منہ پر تالا لگانے کو کافی ہوتی ہے ۔ہمیں کوئی بھی ملک کے بارے میں سوچتا نظر نہیں اآرہا جب ایک مسئلہ سارے سال سے سامنے تھا پھر اس پر توجہ کیوں نہیں دی گئی صحیح تھا یا غلط اسے اتنا پکنے کیوں دیا گیا ؟ یہ بھی ایک سوال ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ۔ ہماری حکومتوں کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ صرف اپنے لئے اپنی پارٹی کے لئے حکومت میں اآتے ہیں وہ جس طرح صوبوں کو الگ الگ کر کے بات کرتے ہیں ہمیں دکھ دیتی ہے کہ یہ سب کچھ اآپ کا ہوجاتا ہے جب اآپ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں ۔پھر اآپ انہیں الگ الگ کیسے کر سکتے ہیں یہ پارٹی تین دفعہ حکومت میں اور شاید چھہ دفعہ وزارتِ اعلیٰ میں رہی مگر افسو س انہوں نے ہمیشہ صرف ایک صوبے پر ارتکاز رکھا باقی تمام لوگوں کو اپنے زیرِ پا جانا جس نے انکی قلعئی کھول دی اور ایک ظلم یہ بھی ہوگیا کہ عوام خود کو بے بس سمجھنے لگی کہ توجہ صرف اور صرف ایک طبقے پر ہو جاتی ہے ۔یا پھر ملک سے باہر وقت گزرتا ہے جس سے نقصان صرف ملک کا نہیں اآپ کا پنا بھی ہوتا ہے کہ آپ مسئل کو سمجھنے میں دیر لگا دیتے ہیں ۔جس ملک میں اتنی پریشانیاں ہوں وہاں تو سربراہ کو ایک دن بھی باہر نہیں رہنا چاہئے ۔

ہماری دعا ہے کہ ملک میں امن و امان رہے اور ہمارے جوان اپنے مقاصد حاصل کریں ۔دھاندلیوں سے نجات ملے اور حکمران عقل کے ناخون لیں ۔جو لوگ دوسروں کو عقل کے ناخون لینے کی بات کرتے ہیں انہیں اپنے ناخون ضرور دیکھ لینے چاہئیں ۔کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے مصاحب اُسے لے ڈوبتے ہیں اپنے ارد گرد بھی ضرور دیکھیں ۔کہ وقت ہے ہوش میں رہنے کا در گزر کا اور اتفاق کا ۔اآج تقریر ہے دیکھیں کیا ہوتا ہے اور کیا نکلتا ہے اس تھیلی سے ۔

اللہ میرے ملک کو قائم رکھے ۔اآزادی مبارک ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ان تمام تکالیف کے باوجود ان تمام دھاندلیوں کے باوجود ہم زندہ قوم ہیں ۔

:دیگر مضامین
(22.07.2014) مسلمانوں پر مشکل وقت ۔۔۔۔ از: عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2014) بیک ڈور پچھلا دروازہ ۔۔۔۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.07.2014)  ٹانگ مت کھینچو حکومت کرنے دو ۔۔از:‌عالم آراء ۔ ویکوور ۔ کینیڈا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں