|
اردو کی نامور افسانہ نگار اور ناول نگار قرة العین حیدر کا یوم وفات
22.08.2014, 12:15am , جمہ (GMT+1)
اردو کے افسانہ نگاروں اور ناول میں قرة العین حیدر کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ مشہور انشا پرداز سید سجاد حیدر بلدرم کی صاحبزادی ہیں۔ قرةالعین حیدر 20 جنوری 1926ءکو علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھیں۔بچپن کا زمانہ جزائر انڈمان میں گزارا جہاں ان کے والد ریونیو کمشنر تھے۔ اس کے بعد ڈیرہ دون کانونٹ میں تعلیم حاصل کی اور 1947ءمیں لکھنو یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
قرة العین حیدر نے تقریباً اسی زمانے میں افسانہ نویسی کا آغاز کیا ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”ستاروں سے آگے“ تھا، جسے جدید افسانہ کا نقطہ آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔ 1947ءمیں وہ پاکستان چلی آئیں جہاں وہ حکومت پاکستان کے شعبہ اطلاعات و فلم سے وابستہ ہوگئیں۔ یہاں ان کے کئی ناول شائع ہوئے جن میں میرے بھی صنم خانے، سفینہ غم دل اور آگ کا دریا قابل ذکر ہیں۔ آخرالذکر ناول کی اشاعت پر پاکستانی پریس نے ان کے خلاف تناسخ کے عقیدے کے پرچار پر بڑی سخت مہم چلائی جس پر وہ واپس ہندوستان چلی گئیں۔
ہندوستان جانے کے بعد قرة العین حیدر کے کئی افسانوی مجموعے، ناولٹ اور ناول شائع ہوئے جن میں ”ہاﺅسنگ سوسائٹی، پت جھڑ کی آواز، روشنی کی رفتار، گلگشت، ستیا ہرن ،چائے کے باغ، اگلے جنم موہے بٹیانہ کیجو، جہانِ دیگر، دلربا ، گردشِ رنگ چمن اورچاندنی بیگم قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا سوانحی ناول ”کار جہاں دراز ہے“ بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ 1989ءمیں انہیں حکومت ہندوستان نے گیان پیٹھ ایوارڈ عطا کیا جو ہندوستان کا ایک بہت بڑا ادبی ایوارڈ ہے۔ 2005ءمیں حکومت ہند نے انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا۔
قرة العین حیدر نے 21 اگست 2007ءکو دہلی کے نزدیک نوئیڈا کے مقام پر وفات پائی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔
|