15.10.2026, 03:24pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم نے ہر بات کو مزاق بنا لیا ہے۔از ۔عالم آرا
26.08.2014, 09:40am , منگل (GMT+1)

عالم آرا ۔ وینکوور
اتنے خطرناک حالات میں ہمارے وزیرِ اعلیٰ پنجاب چائنا جا رہے ہیں یاشاید جا چکے ہیں اب اس صورتِ حال میں اس سے بڑا مزاق شاید ہی قوم کے ساتھ کیا جاسکے ۔دوسری طرف حکومتی ارکان اور نون لیگ بھی ریلیاں نکال رہے ہیں جو اس کھنچے دھاگے کو توڑنے کے لئے کچھ وقت بھی نہ لے گی کیونکہ تصادم کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے ۔کوئی بھی ہوش سے کام نہیں لے رہا خاص کر حکومت کو اس وقت بہت برد باری سے کام لینا چاہئے نہ کہ ملک سے بھاگ جانا چاہئے ۔اور گیارہ لوگوں کا وفد لے کر چائنا کا رُخ کر لینا چاہئے ۔ہم اس انتظار میں ہیں کہ وزیرِ اعظم کدہر جانے کا مژدہ سنائینگے ۔؟؟؟؟؟یا یہ سب مزاق ہی ہو رہا ہے لیکن کہیں مزاق مزاق میں بہت بڑا نقصان نہ ہو جائے ۔؟؟؟؟؟؟
........................
آج کل ہمارے عوام جس کرب اور ازیت سے گزر رہے ہیں اپنے ملک کو بے ایمانیوں ، جھوٹ اور بے حسی کے عزاب سے بچانے کے لئے ہم اُسے سراہتے بھی ہیں اور انکے لئے دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ انکی حفاظت فر مائے ،آمین
........................
ہم ان لوگوں سے ناراض ہیں جو اپنے اپنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھے صرف اور صرف ٹی وی کے پروگراموں پر بحثیں کر رہے ہیں ۔یا پھر مذاحیہ پروگرام دیکھ رہے ہیں حالانکہ یہ وہ طبقہ ہے جو ہر طرح سے ان قربانیوں سے فائدہ اُٹھاتا ہے جو یہ کمزور بے بس اور با حس عوام کے خون اور انکی کاوشوں سے حاصل ہوتی ہیں ۔ہمارا یہ طبقہ شاید مزے لوٹنے کے لئے ہی پیدا ہوتا ہے ۔ہمیں دُکھ ہے اُن بے حس لوگوں پر جو ان بیٹیوں کا ساتھ نہیں دے رہے جو ایک حق بات یعنی ملک سے بے ایمانی اور دھاندلیوں کی بیخ کنی کے لئے نکلی ہیں ننھے ننھے بچوں کے ساتھ بوڑھی ماؤں کے ساتھ ۔جوان بیٹوں کے ساتھ ۔ وہ بیٹے جو جب جاگ جاتے ہیں تو بڑے بڑے سورما بھی چھپتے پھرتے ہیں ۔ہمیں دُکھ ہے کہ جو لوگ ملک کے بنانے کے لئے نکلے ہیں اب چاہے کسی کے مطابق غلط یا صحیح انکی اپنی سوچ مگر جب نکل کھڑے ہوئے تو انکا ساتھ کم از کم اسی صورت دے دینا چاہئے کہ کچھ سہولتیں انہیں پہنچا دی جائیں کہ یہ سب پاکستانی ہیں اور پاکستان ہی کے لئے نکلے ہیں ۔انہیں پانی پہنچا دیں کچھ خشک کھانے کی چیزیں پہنچا دیں چاہے ان سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو مگر ہیں تو یہ سب ہمارے ہی ۔کوئی کسی دوسرے ملک سے تعلق نہیں رکھتا ۔یہ وہ ہیں جو ظلم کا شکار ہوئے ۔اور ہم جو ملک جانے کا پچاس بار سوچتے ہیں کہ کہیں کوئی لوٹ نہ لے کہیں کوئی پکڑ نہ لے کہیں کوئی اغوا نہ کر لے کوئی گولی ہماری طرف نہ اآجائے !!! یہ وہی ملک ہے جہاں جانے کا نام آتے ہی دل خوشی سے جھوم اٹھتا تھا کہ اپنوں سے ملاقات ہوگی ،شاپنگ کی لسٹ بنتی تھی اور اب جانے والے بتاتے ہیں کہ گھر سے نکلتے ہوئے جان جاتی ہے بس صرف اور صرف ضروری کام کئے جاسکتے ہیں ۔تو کیا یہ جمہوریت ہے ،کیا یہ ترقی ہے ،کیا یہ تعلیم ہے ،کیا یہ ایمانداری ہے کہ کہ کوئی کام بغیر پیسہ دئے نہیں ہوتا لے کر چھوٹے سے بڑا تک سب منہ کھولے کھڑے رہتے ہیں ۔کیا اس ظلم کے خلاف اُٹھنا ٹھیک نہیں کیا اپنے ملک کی تقدیر کو بدلنے کے لئے کاوش کرنا درست نہیں کیا ان غلط رویوں کے خلاف احتجاج صحیح نہیں ؟
........................
ہمیں بہت دُکھ ہے مذہبی جماعتوں پر اور اُن مولاناؤں پر جو عورتوں کی اس احتجاج میں شمولیت پر اتنی غلط باتیں کر رہے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ ہے ۔یہ خواتین بھی کسی کی بیٹیاں ہیں کسی کی بہنیں کسی کی مائیں ہیں اور اکثر شھیدوں کے خاندان بھی اس دھرنے میں شامل ہیں ۔تو یہ کس لحاظ سے ایسی غلیظ باتیں کر رہے بہیں جنہیں سُن کر شر شرمندگی سے جھک جاتے ہیں ۔یہ کیسے مولانا ہیں جو خواتین کی عزت نہیں کرتے یہ کیسے مزہب کے رکھوالے ہیں جو بات کرتے ہوئے اتنے جزباتی ہو جاتے ہیں کہ انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں ۔کیا یہ اتنے بے علم ہیں کہ برداشت اور رواداری تک کو پس پشت رکھ دیتے ہیں ۔ہمارا احتجاج ہے اُن مولانا کے خلاف جو ایسی باتیں کرتے ہیں جو نا زیبا ہی نہیں بلکہ نا قابل برداشت بھی لگیں ۔خواتین ہر مرحلے اور ہر قربانی کے لئے اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں ۔انکی قربانیوں اور انکے صبر کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔جو لاشوں کو اآٹھاتی اور صبر کرتی ہیں ۔جو جوان بیوہ ہوجاتی ہیں کہ شوہر گولی کا نشانہ بن جاتا ہے اور وہ تنہا مقابلہ کرنے کو رہ جاتی ہے ۔بہنیں بھائیوں سے محروم ہو جاتی ہیں ۔باپ سے محروم ہو جاتی ہیں اور سنبھالتی ہیں پورے پورے گھرانے ۔وہ بھی نکلی ہوئی ہیں ۔تو اآپ کیسے انہیں لعن طعن یا اپنی سوچ کا نشانہ بنا سکتے ہیں ۔ہم اس بات پر سخت احتجاج کرتے ہیں ۔
........................
ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم نے ہر بات کو مزاق بنا لیا ہے ۔اس پورا ہفتہ ہم نے حکمرانوں اور انکے چمچوں کی جو باتیں سُنی ہیں انہوں نے ہمیں بہت تکلیف پہنچائی ۔کہ کس طرح وہ اپنے ہی عوام کا مزاق اُڑا رہے ہیں انہیں برا بھلا کہہ رہے ہیں ۔یہ کسی طور بھی حکمرانوں کا کام نہیں ہونا چاہئے ۔کیونکہ ہر کسی مسئلے سے نمٹنا انکا کام ہے اور انہیں ان مسائل سے احسن طریقے سے گزرنا چاہئے تاکہ لوگوں کو یہ اعتماد ہو کہ ہم محفوظ ہیں ۔جس طرح ہر دوسرے دن کنٹینر لگا کر انکا حقہ پانی بند کیا جا رہا ہے وہ کوئی اچھی سوچ نہیں ہے زیادہ تر چینلوں پر مزاق اُڑایا جا رہا ہے ہم حیران ہیں کہ یہ قوم کی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس پر اتنی بے توجہی ۔جو لوگ سڑکوں پر بیٹھے ہیں یہ میرے اور اآپ کے لئے بیٹھے ہیں کہ ہم جو حالات کی وجہ سے اپنے پیاروں سے ملنے نہیں جا سکتے ۔ہم جو رشوت اور بے ایمانی کی وجہ سے اپنے کاروبار وہاں نہیں کر سکتے ۔ہم جو بجلی اور پانی کا رونا سُن سُن کر وہاں جانے کی ہمت نہیں کرتے ۔ہم جو اپنے پیاروں سے ملنے جائیں تو لُٹ کر اآتے ہیں ۔جہاں پولیس کا اعتبار بھی کھو دیا گیا ہے اور اداروں کا بھی ۔اگر اس ماحول کو ٹھیک کرنے یا اسکو بدلنے کے لئے بھلائی کی طرف لانے کے لئے کوئی اُٹھتا ہے تو ہم اسکا ساتھ نہیں دیتے ،بے شک کچھ بچپنا ہے جزباتیت ہے کچا پن بھی ہے لیکن ہے تو ہم سب کے بھلے کے لئے ۔کون نہیں چاہتا کہ ہمارا ملک کرپشن اور دھاندلیوں سے جھوٹ اور فریب سے پاک ہو کون نہیں چاہتا کہ ملک میں بے دھڑک جہاں چاہپے اآئے جائے اُسے کوئی خوف نہ ہو کون نہیں چاہتا کہ اسکا کاروبار سکون اور بھتے کی پرچی کے بغیر چلے ۔کون نہیں چاہتا کہ اسکے بچے تعلیم حاصل کریں اور اپنے ملک و قوم کی خدمت کریں تو اس سب کے ٹھیک کرنے کو اگر لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں تو ان پر طنز اور طعنوں کے تیر چلانا حکمت عملی نہیں بلکہ بے حسی ہے ۔سانحئہ لاہور کی آج تک ایف آئی آر نہ کٹی ۔دھاندلی پر اب تک بات کرنے کو تیار نہیں ۔یہ سب کس کی کمزوری ہے ۔؟
........................
اور ہمیں تو یہ سُن کر بھی بہت لطف آیا کہ صدر صاحب نے پوچھا ہے کہ کیا ہو رہا ہے ؟جہاں صدر اور وزیرِ اعظم اتنے بے خبر ہوں وہاں کچھ بھی ہوتا رہے کیا جاتا ہے ۔حکومتیں تو اپنے ملک کے لئے دن رات کام کرتی ہیں نہ کہ اپنے دوروں میں مست رہتی ہیں ابھی کچھ دور نہیں جب آپ سنینگے کہ وزیر اعظم حج کے لئے روانہ ہوگئے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شاید یہ لوگ ہی ہیں جو گھیر کر حکومتوں کو برے دنوں تک لے آتے ہیں ۔سب کے ٹھکانے دبئی میں ہیں چاہے وہ حزب اختالف میں ہوں یا حزب اقتدار میں پریشان تو وہ ہوتے ہیں جن کا ملک کے علاوہ کوئی ٹھکانہ نہیں ۔مصیبتیں تو ان کا مقدر ہوتی ہیں جو اپنے ملک میں رہنا اور اسے ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔
........................
آج وزیر اعظم صاحب نے مذدہ سنایا ہے کہ جب تک چاہے بیٹھے رہو ۔ہم کوئی رکاوٹ نہیں ڈالینگے ؟ ہم حیران ہیں یہ ہماری حکومت ہے جسے یہ پرواہ تک نہیں کہ وہ گفت و شنید کرے اور اس قسم کی جزباتی باتوں سے گریز کرے ،انہیں طتو چاہئے تھا کہ وہ دونوٍ لیڈروں سے پہلے دن ہی وفد کے زریعے بات چیت کرتے انکی گزارشات سنترے ان پر ہمدردی سے غور کرت اور انکی تشفی کی صورت نکالتے ۔مگر اتنا وقت گزار کر بھی ان لوگوں نے کچھ نی سیکھا سوائے بے وقوفی کے ۔ہمیں تو یہ ڈر ہے کہ میاں صاحب کہیں اپنے رفقاء کے جھانسے مکیں اآکر کوئی غلط قدم نہ اُٹھا لیں اور رہی سہی بھی جائے ۔بہتر تو یہ ہی ہے کہ گفت وشنید سے معاملات کو سلجھایا جائے اور ایسے لوگ جو جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں انہیں ان ٹیموں میں شامل نہ کیا جائے جو بات چیت کے لئے جا رہی ہیں ۔
........................
اپنے وزراء کو لگام ڈال کر رکھنا چاہئے تاکہ وہ جو حالات کو اپنی بے جا لن ترانیوں سے خراب کرتے ہیں اس کا سد باب ہو سکے ۔ساری دنیا کی نظریں ہم پر ہیں اور ہماری نظریں صرف کرسی پر ہیں اکثر زیادہ کی چاہ جو کچھ پاس ہوتا ہے اس سے بھی محروم کر دیتی ہے اس لئے حکومت کو سوچنا چاہئے جن کے پاس کچھ نہیں انکا جائے گا بھی کچھ نہیں لیکن جن کے پاس سب کچھ ہے انکا نقصان زیادہ ہو جائیگا ۔زات سے اوپر اُٹھیں معاملات کی رگ پر ہاتھ رکھیں ۔نہ امرکہ کو آنے دیں نجہ برطانیہ کو کہ نہ عراق کا انجام کچھ دور ہے نہ لیبیا کا ؟
........................
اپنے ملک کی حٍاظت ہماری زمے داری ہے اُسے احسن طریقے سے نبھائیں ۔ایک دوسرے پر کیچڑ مت اُچھالیں کہ اکثر تھوکا ہوا منہ پر ہی اآگرتا ہے ۔اور اآج کل تو بہت ہی جلد سب کچھ سامنے اآجاتا ہے ۔خدا را بولتے ہوئے اور الزام لگاتے ہوئے احتجاج کرنے والے بھی حد پار نہ کریں اور اقتدار ،میں بیٹھے لوگ بھی ۔
........................
اللہ ہمارے جوانوں ،عورتوں ، بچوں بزرگوں اور اُن سب کی حفاظت کرے جو دھرنوں میں بیٹھے ہیں اور ملک کی تقدیر بدلنے کی بات کر رہے ہیں ۔
........................
اللہ میرے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھے اور ہمیں اچھے حکمران عطا فرمائے آمین ۔

:دیگر مضامین
(19.08.2014) اگر عوامی مینڈیٹ ہے تو پھر ڈر کیسا؟؟از۔۔۔۔ عالم آرا
(22.07.2014) مسلمانوں پر مشکل وقت ۔۔۔۔ از: عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2014) بیک ڈور پچھلا دروازہ ۔۔۔۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.07.2014)  ٹانگ مت کھینچو حکومت کرنے دو ۔۔از:‌عالم آراء ۔ ویکوور ۔ کینیڈا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں